سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
91. بَابُ: مَنْ يُقَدَّمُ
باب: قبر میں پہلے کون رکھا جائے؟
حدیث نمبر: 2020
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، قال: قُتِلَ أَبِي يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" احْفِرُوا وَأَوْسِعُوا وَأَحْسِنُوا وَادْفِنُوا الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي الْقَبْرِ وَقَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا" , فَكَانَ أَبِي ثَالِثَ ثَلَاثَةٍ، وَكَانَ أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا فَقُدِّمَ.
ہشام بن عامر انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ (غزوہ) احد کے دن میرے والد قتل کئے گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(قبریں) کھودو اور انہیں کشادہ اور اچھی بناؤ، اور (ایک ہی) قبر میں دو دو تین تین کو دفنا دو، اور جنہیں قرآن زیادہ یاد ہو انہیں پہلے رکھو“، چنانچہ میرے والد تین میں کے تیسرے تھے، اور انہیں قرآن زیادہ یاد تھا تو وہ پہلے رکھے گئے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2020]
حضرت ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جنگِ احد کے دن میرے والد شہید ہو گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبریں کھودو، کشادہ کھودو اور اچھی طرح کھودو، اور دو دو، تین تین کو ایک ایک قبر میں دفن کرو اور جس نے قرآن مجید زیادہ پڑھا ہو، اسے آگے رکھو۔“ میرے والد تین میں سے ایک تھے (جو ایک ہی قبر میں دفن کیے گئے، یعنی ان کے ساتھ دو اور آدمی دفن کیے گئے۔) چونکہ وہ (میرے والد) قرآن مجید زیادہ پڑھے ہوئے تھے، لہٰذا انہیں (قبلے کی طرف) آگے رکھا گیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2020]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2012 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن