🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
472. حَدِیث المِقدَامِ بنِ مَعدِی كَرِبَ الكِندِیِّ اَبِی كَرِیمَةَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه ...
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17186
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ الْكِنَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ جَابِرٍ الطَّائِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمِقْدَامَ بْنَ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مَلَأَ ابْنُ آدَمَ وِعَاءً شَرًّا مِنْ بَطْنٍ، حَسْبُ ابْنِ آدَمَ أُكُلَاتٌ يُقِمْنَ صُلْبَهُ، فَإِنْ كَانَ لَا مَحَالَةَ، فَثُلُثُ طَعَامٍ، وَثُلُثُ شَرَابٍ، وَثُلُثٌ لِنَفْسِهِ" .
سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ابن آدم نے پیٹ سے زیادہ بدترین کسی برتن کو نہیں بھرا، حالانکہ ابن آدم کے لئے تو اتنے لقمے ہی کافی ہیں جو اس کی کمر کو سیدھا رکھ سکیں، اگر زیادہ کھانا ہی ضروری ہو تو ایک تہائی کھانا ہو، ایک تہائی پانی ہو اور ایک تہائی سانس لینے کے لئے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17186]

الحكم على الحديث:
رجاله ثقات، إن صح سماع يحيى ابن جابر من المقدام بن معدي كرب فالحديث صحيح، وإلا فمنقطع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17187
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُوصِيكُمْ بِأُمَّهَاتِكُمْ، إَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُوصِكُمْ بِأُمَّهَاتِكُمْ، إِنَّ اللَّهَ يُوصِيكُمْ بِآبَائِكُمْ، إِنَّ اللَّهَ يُوصِيكُمْ بِالْأَقْرَبِ فَالْأَقْرَبِ" .
سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ تمہیں وصیت کرتا ہے کہ اپنی ماؤں کے ساتھ، اپنے باپوں کے ساتھ اور درجہ بدرجہ قریبی رشتہ داروں سے حسن سلوک کرو۔“ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17187]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17188
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرِيزٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَيْسَرَةَ الْحَضْرَمِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمِقْدَامَ بْنَ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيَّ ، قَالَ: " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوءٍ، فَتَوَضَّأَ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ ظَاهِرِهِمَا وَبَاطِنِهِمَا، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا" .
سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کا پانی لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے وضو کیا، دونوں ہاتھوں کو تین مرتبہ دھویا، چہرے کو تین مرتبہ دھویا، دونوں بازوؤں کو تین تین مرتبہ دھویا، پھر تین مرتبہ کلی کی اور تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا پھر سر کا اور کانوں کا ظاہری اور باطنی حصوں کا مسح کیا اور تین تین مرتبہ دونوں پاؤں دھو لیے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17188]

الحكم على الحديث:
حديث ضعيف لنكارة فيه، فالصحيح أن المضمضة والاستنشاق إنما تكونان عقب غسل اليدين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17189
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنَا بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، قَالَ: وَفَدَ الْمِقْدَامُ بْنُ مَعْدِي كَرِبَ، وَعَمْرُو بْنُ الْأَسْوَدِ، إِلَى مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لِلْمِقْدَامِ: أَعَلِمْتَ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ تُوُفِّيَ؟ فَرَجَّعَ الْمِقْدَامُ، فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: أَتُرَاهَا مُصِيبَةً؟ فَقَالَ: وَلِمَ لَا أَرَاهَا مُصِيبَةً وَقَدْ وَضَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِهِ، وَقَالَ:" هَذَا مِنِّي وَحُسَيْنٌ مِنْ عَلِيٍّ" ، رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا.
ایک مرتبہ سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمرو بن اسود رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے مقدام رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ کے علم میں ہے کہ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے ہیں؟ یہ سنتے ہی سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ نے انا للہ وانا الیہ راجعون کہا: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا آپ اسے عظیم مصیبت سمجھتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: میں اسے مصیبت کیوں نہ سمجھوں؟ جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی گود میں بٹھا کر فرمایا تھا کہ یہ مجھ سے ہے اور حسین علی سے ہے (رضی اللہ عنہ)۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17189]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، بقية بن الوليد يدلس ويسوي، وقد عنعن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17190
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاسِطًا يَدَيْهِ، يَقُولُ: " مَا أَكَلَ أَحَدٌ مِنْكُمْ طَعَامًا فِي الدُّنْيَا خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَأْكُلَ مِنْ عَمَلِ يَدَيْهِ" .
سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انسان نے اللہ کی نگاہوں میں اپنے ہاتھوں کی کمائی سے زیادہ محبوب کوئی کھانا نہیں کھایا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17190]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17191
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا أَطْعَمْتَ نَفْسَكَ، فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ، وَوَلَدَكَ وَزَوْجَتَكَ وَخَادِمَكَ" .
سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم جو اپنے آپ کو کھلا دو وہ صدقہ ہے، جو اپنے بچوں کو کھلا دو وہ بھی صدقہ ہے، جو اپنی بیوی کو کھلا دو وہ بھی صدقہ ہے اور جو اپنے خادم کو کھلا دو وہ بھی صدقہ ہے۔“ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17191]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17192
حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " عَلَيْكُمْ بِغِذَاءِ السَّحَرِ، فَإِنَّهُ هُوَ الْغِذَاءُ الْمُبَارَكُ" .
سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سحری کا کھانا ضرور کھایا کرو کیونکہ وہ بابرکت کھانا ہوتا ہے۔“ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17192]

الحكم على الحديث:
حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف، فيه بقية بن الوليد، يدلس تدليس التسوية، وقد عنعن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17193
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكِنْدِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمِقْدَامَ بْنَ مَعْدِي كَرِبَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ، وَعَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ" .
سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھوں کے گوشت اور کچلی سے شکار کرنے والے ہر درندے کو کھانے کی ممانعت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17193]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، أبو عبدالرحمن مجهول، لكنه متابع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17194
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَزَيْدُ بْنُ حُبَابٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ جَابِرٍ ، قَالَ زَيْدٌ فِي حَدِيثِهِ: حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْمِقْدَامَ بْنَ مَعْدِي كَرِبَ ، يَقُولُ: حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ أَشْيَاءَ، ثُمَّ قَالَ: " يُوشِكُ أَحَدُكُمْ أَنْ يُكَذِّبَنِي وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى أَرِيكَتِهِ يُحَدَّثُ بِحَدِيثِي، فَيَقُولُ: بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللَّهِ، فَمَا وَجَدْنَا فِيهِ مِنْ حَلَالٍ اسْتَحْلَلْنَاهُ، وَمَا وَجَدْنَا فِيهِ مِنْ حَرَامٍ حَرَّمْنَاهُ، أَلَا وَإِنَّ مَا حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلُ مَا حَرَّمَ اللَّهُ" .
سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن کئی چیزوں کو حرام قرار دیا، پھر ارشاد فرمایا: ”عنقریب ایک آدمی آئے گا جو اپنے تخت پر بیٹھ کر یہ کہے گا کہ قرآن کو اپنے اوپر لازم کر لو، صرف اس میں جو چیز تمہیں حلال ملے اسے حلال سمجھو، جو حرام ملے اسے حرام سمجھو، یاد رکھو! جس طرح اللہ نے کچھ چیزوں کو حرام قرار دیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کچھ چیزوں کو حرام قرار دیا ہے۔“ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17194]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، الحسن بن جابر - وهو أبو عبدالرحمن - مجهول، لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17195
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ الْمِقْدَامِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ: الْمِقْدَامُ أَبُو كَرِيمَةَ الشَّامِيُّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَلَيْلَةُ الضَّيْفِ قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ: حَقٌّ وَاجِبَةٌ، فَإِنْ أَصْبَحَ بِفِنَائِهِ، فَهُوَ دَيْنٌ عَلَيْهِ، فَإِنْ شَاءَ اقْتَضَى، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ" .
سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”مہمان کی رات ہر مسلمان پر (اس کی خبرگیری کرنا) واجب ہے، اگر وہ اپنے میزبان کے صحن میں صبح تک محروم رہا تو وہ اس کا مقروض ہو گیا چاہے تو ادا کر دے اور چاہے تو چھوڑ دے۔“ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 17195]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں