مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
782. وَمِنْ حَدِيثِ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 19251
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، فَقَالَ: " أَمَا إِنَّكُمْ سَتُعْرَضُونَ عَلَى رَبِّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ، فَتَرَوْنَهُ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا الْقَمَرَ لَا تُضَامُونَ فيه، فَإِنْ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا تُغْلَبُوا عَلَى صَلَاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا، فَافْعَلُوا" ثُمَّ قَرَأَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ سورة ق آية 39 .
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ چاند کی چود ہویں رات کو ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے عنقریب تم اپنے رب کو اس طرح دیکھوگے جیسے چاند کو دیکھتے ہو تمہیں اپنے رب کو دیکھنے میں کوئی مشقت نہیں ہوگی اس لئے اگر تم طلوع آفتاب سے پہلے اور غروب آفتاب سے پہلے والی نمازوں سے مغلوب نہ ہونے کی طاقت رکھتے ہو تو ایساہی کرو (ان نمازوں کا خوب اہتمام کرو) پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ " اپنے رب کی تعریف کے ساتھ اس کی تسبیح کیجئے سورج طلوع ہونے سے پہلے اور سورج غروب ہونے کے بعد۔ " [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19251]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 554، م: 633
حدیث نمبر: 19252
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ وَهُوَ الضَّرِيرُ ، قَالَ: حدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ الْعَبْسِيِّ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ يُحْرَمْ الرِّفْقَ يُحْرَمْ الْخَيْرَ" .
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص نرمی سے محروم رہاوہ خیروبھلائی سے محروم رہا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19252]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2592
حدیث نمبر: 19253
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ قَوْمٍ يُعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي هُمْ أَعَزُّ مِنْهُمْ وَأَمْنَعُ، لَا يُغَيِّرُونَ إِلَّا عَمَّهُمْ اللَّهُ تَعَالَى بِعِقَابِهِ" ..
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو قوم بھی کوئی گناہ کرتی ہے اور ان میں کوئی باعزت اور باوجاہت آدمی ہوتا ہے اگر وہ انہیں روکتا نہیں ہے تو اللہ کا عذاب ان سب پر آجاتا ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19253]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 19254
حَدَّثَنَاه حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ..
الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، وقد خولف
حدیث نمبر: 19255
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ..
الحكم على الحديث:
حديث حسن، ولا يدري هل سمع معمر من أبى إسحاق قبل الاختلاط أم بعده؟ لكنه توبع
حدیث نمبر: 19256
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنِي شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْمُنْذِرِ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ: أَظُنُّهُ، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا عَمِلَ قَوْمٌ" فَذَكَرَهُ..
الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، وقد خولف
حدیث نمبر: 19257
حَدَّثَنَاه أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَهُ.
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 19258
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: " بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاشْتَرَطَ عَلَيَّ النُّصْحَ لِكُلِّ مُسْلِمٍ، فَإِنِّي لَكُمْ لَنَاصِحٌ" .
زیاد بن علاقہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جریربن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیعت کے لئے حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سامنے ہر مسلمان کی خیرخواہی کی شرط رکھی میں تم سب کا خیرخواہ ہوں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19258]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2714، م: 56
حدیث نمبر: 19259
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْتَنْصِتْ النَّاسَ، لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ" .
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم نے حجۃ الوداع میں ان سے فرمایا اے جریر! لوگوں کو خاموش کراؤ پھر اپنے خطبے کے دوران فرمایا میرے پیچھے کافر نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو،۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19259]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 121، م: 65
حدیث نمبر: 19260
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ: بَلَغَنَا أَنَّ جَرِيرًا قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْتَنْصِتْ النَّاسَ"، ثُمَّ قَالَ عِنْدَ ذَلِكَ: " لَأَعْرِفَنَّ بَعْدَ مَا أَرَى تَرْجِعُونَ بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ" .
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم نے حجۃ الوداع میں ان سے فرمایا اے جریر! لوگوں کو خاموش کراؤ پھر اپنے خطبے کے دوران فرمایا میرے پیچھے کافر نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو،۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19260]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 121، م: 65