🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
911. حَدِیث قَتَادَةَ بنِ ملحان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20763
حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ: وَحَدَّثَ أَبِي ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ عُمَيْرٍ الْجُرَيْرِيِّ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ قَتَادَةَ بْنِ مِلْحَانَ حِينَ حَضَرَ، فَمَرَّ رَجُلٌ فِي أَقْصَى الدَّارِ، قَالَ: فَأَبْصَرْتُهُ فِي وَجْهِ قَتَادَةَ، قَالَ: وَكُنْتُ إِذَا رَأَيْتُهُ كَانَ عَلَى وَجْهِهِ الدِّهَانُ، قَالَ:" وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ وَجْهَهُ" ..
ابوعلاء بن عمیر کہتے ہیں کہ میں اس وقت حضرت قتادہ بن ملحان کے پاس موجود تھا جب ان کے انتقال کا وقت قریب آیا اس لمحے گھر کے آخری کونے سے ایک آدمی گذرا میں نے اسے حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ کے سامنے دیکھا کہ میں حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ کو جب بھی دیکھتا تو یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ان کے چہرے پر روغن ملا ہوا ہو دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چہرے پر اپنا دست مبارک پھیرا تھا۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20763]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20764

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
912. حَدِيثُ رَجُلٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20765
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خَالِدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا قِلَابَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَقْرَءُونَ وَالْإِمَامُ يَقْرَأُ؟" أَوْ قَالَ" تَقْرَءُونَ خَلْفَ الْإِمَامِ وَالْإِمَامُ يَقْرَأُ؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: " فَلَا تَفْعَلُوا، إِلَّا أَنْ يَقْرَأَ أَحَدُكُمْ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ فِي نَفْسِهِ إِنْ شَاءَ"، قَالَ خَالِدٌ: وَحَدَّثَنِي بَعْدُ، وَلَمْ يَقُلْ" إِنْ شَاءَ"، فَقُلْتُ لِأَبِي قِلَابَةَ إِنْ شَاءَ؟ قَالَ: لَا أَذْكُرُهُ .
ایک صحابی فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا شاید تم لوگ امام کی قرأت کے دوران قرأت کرتے ہو دو تین مرتبہ یہ سوال دہرایا تو صحابہ نے عرض کی یا رسول اللہ واقع ہی ہم ایسا کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا نہ کیا کرو الاّ یہ کہ تم میں سے کوئی سورت فاتحہ پڑھنا چاہے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20765]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
913. حَدِيثُ أَبِي عَسِيبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20766
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ يَعْنِي الْجَوْنِيَّ ، عَنْ أَبِي عَسِيبٍ أَوْ أَبِي عَسِيمٍ ، قَالَ بَهْزٌ:" أَنَّهُ شَهِدَ الصَّلَاةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قَالُوا: كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْهِ؟ قَالَ:" ادْخُلُوا أَرْسَالًا أَرْسَالًا"، قَالَ:" فَكَانُوا يَدْخُلُونَ مِنْ هَذَا الْبَابِ، فَيُصَلُّونَ عَلَيْهِ، ثُمَّ يَخْرُجُونَ مِنَ الْبَابِ الْآخَرِ"، قَالَ: فَلَمَّا وُضِعَ فِي لَحْدِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ الْمُغِيرَةُ:" قَدْ بَقِيَ مِنْ رِجْلَيْهِ شَيْءٌ لَمْ يُصْلِحُوهُ"، قَالُوا: فَادْخُلْ فَأَصْلِحْهُ، فَدَخَلَ وَأَدْخَلَ يَدَهُ، فَمَسَّ قَدَمَيْهِ، فَقَالَ:" أَهِيلُوا عَلَيَّ التُّرَابَ"، فَأَهَالُوا عَلَيْهِ التُّرَابَ حَتَّى بَلَغَ أَنْصَافَ سَاقَيْهِ، ثُمَّ خَرَجَ، فَكَانَ يَقُولُ" أَنَا أَحْدَثُكُمْ عَهْدًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
حضرت عسیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ کے وقت مدینہ منورہ میں موجود تھے لوگ کہنے لگے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ کس طرح پڑھیں حضرت صدیق اکبر نے فرمایا کہ ایک گروہ ایک گروہ کی شکل میں داخل ہوں چنانچہ لوگ ایک دروازے سے داخل ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے درود وسلام پڑھتے اور دوسرے دروازے سے نکل جاتے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر میں اتارا گیا تو حضرت مغیرہ کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں مبارک کی جانب کچھ حصہ رہ گیا ہے جسے صحیح نہیں کیا گیا لوگوں نے کہا پھر آپ ہی قبر میں اتر کر صحیح کردیں چنانچہ وہ قبر میں اترے اور اپنا ہاتھ قبر میں ڈالا جب قدم مبارک کو چھوا تو کہنے لگے کہ آج میری طرف سے مٹی ڈالو لوگوں نے مٹی ڈالنا شروع کردی یہاں تک کہ وہ ان کی آدھی پنڈلیوں تک پہنچ گیا۔ پھر وہ باہر نکلے اور کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ قریب کا زمانہ مجھے ملا ہے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20766]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20767
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ عُبَيْدٍ أَبُو نُصَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَسِيبٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام بِالْحُمَّى وَالطَّاعُونِ، فَأَمْسَكْتُ الْحُمَّى بِالْمَدِينَةِ، وَأَرْسَلْتُ الطَّاعُونَ إِلَى الشَّامِ، فَالطَّاعُونُ شَهَادَةٌ لِأُمَّتِي، وَرَحْمَةٌ وَرِجْسٌ عَلَى الْكَافِرِينَ" .
حضرت ابوعسیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعد جبرائیل بخار اور طاعون کو لے کر آئے میں نے بخار کو مدینہ منورہ ہی میں روک لیا اور طاعون کو شام کی طرف بھیج دیا اب طاعون میری امت کے لئے شہادت اور رحمت ہے اور جب کہ کافروں کے لئے عذاب ہے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20767]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20768
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا حَشْرَجٌ ، عَنْ أَبِي نُصَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي عَسِيبٍ ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلًا فَمَرَّ بِي، فَدَعَانِي إِلَيْهِ فَخَرَجْتُ، ثُمَّ مَرَّ بِأَبِي بَكْرٍ، فَدَعَاهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ، ثُمَّ مَرَّ بِعُمَرَ فَدَعَاهُ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ، فَانْطَلَقَ حَتَّى دَخَلَ حَائِطًا لِبَعْضِ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: لِصَاحِبِ الْحَائِطِ" أَطْعِمْنَا بُسْرًا"، فَجَاءَ بِعِذْقٍ فَوَضَعَهُ فَأَكَلَ، فَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ بَارِدٍ، فَشَرِبَ، فَقَالَ:" لَتُسْأَلُنَّ عَنْ هَذَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، قَالَ: فَأَخَذَ عُمَرُ الْعِذْقَ فَضَرَبَ بِهِ الْأَرْضَ حَتَّى تَنَاثَرَ الْبُسْرُ قِبَلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَئِنَّا لَمَسْئُولُونَ عَنْ هَذَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ:" نَعَمْ، إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ خِرْقَةٍ كَفَّ بِهَا الرَّجُلُ عَوْرَتَهُ، أَوْ كِسْرَةٍ سَدَّ بِهَا جَوْعَتَهُ، أَوْ حَجَرٍ يَتَدَخَّلُ فِيهِ مِنَ الْحَرِّ وَالْقُرِّ" .
حضرت ابوعسیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلے تو میرے پاس سے گذرتے ہوئے مجھے بھی بلا لیا میں ہمراہ ہولیا پھر حضرت ابوبکر کی طرف گذرے تو انہیں بھی بلالیا وہ بھی ساتھ ہولیے پھر حضرت عمر کے پاس سے گزرے تو انہیں بھی بلالیا وہ بھی ساتھ ہولیے چلتے چلتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اکرم ایک انصاری کے باغ میں داخل ہوئے اور باغ کے مالک سے کہا ہمیں کچی پکی کھجوریں کھلاؤ وہ ایک خوشہ لے کر آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ساتھیوں نے اسے تناول فرمایا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھنڈا پانی منگوا کر وہ نوش فرمایا اور فرمایا کہ قیامت کے دن تم سے اس کے متعلق بھی سوال ہوگا یہ سن کر حضرت عمر نے وہ خوشہ پکڑا اور زمین پردے مارا جس سے کھجوروں کے دانے بکھر گئے اور ان سے کچھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھی چلے گئے پھر وہ کہنے لگے کہ یا رسول اللہ قیامت کے دن ہم اس کے متعلق بھی پوچھا جائے گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں سوائے تین چیزوں کے ایک وہ کپڑا جس سے آدمی اپنی شرمگاہ کو چھپائے روٹی کا وہ ٹکڑا جس سے اپنی بھوک مٹائے یا وہ سوراخ جس میں گرمی، سردی سے بچاؤ کے وہ داخل ہوجائے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20768]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
914. حَدِيثُ الْخَشْخَاشِ الْعَنْبَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20769
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، أَخْبَرَنِي مُخْبِرٌ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ أَبِي الْحَرِّ ، عَنِ الْخَشْخَاشِ الْعَنْبَرِيِّ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي ابْنٌ لِي، فَقَالَ:" ابْنُكَ؟" قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ" .
حضرت خشخاش سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنے بیٹے کو ساتھ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ تمہارا بیٹا ہے میں نے عرض کی جی ہاں میں اس کی گواہی دیتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے کسی جرم کا ذمہ دار تمہیں یا تمہارے جرم کا ذمہ دار اسے نہیں بنایا جائے گا۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20769]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، والمخبر المبهم فى هذا الإسناد هو الوليد بن مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
915. حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20770
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ، قَالَ: تَرَوْنَ هَذَا الشَّيْخَ؟ يَعْنِي نَفْسَهُ كَلَّمْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَكَلْتُ مَعَهُ، وَرَأَيْتُ " الْعَلَامَةَ الَّتِي بَيْنَ كَتِفَيْهِ، وَهِيَ فِي طَرَفِ نُغْضِ كَتِفِهِ الْيُسْرَى، كَأَنَّهُ جُمْعٌ يَعْنِي الْكَفَّ الْمُجْتَمِعَ، وَقَالَ بِيَدِهِ فَقَبَضَهَا عَلَيْهِ خِيلَانٌ كَهَيْئَةِ الثَّآلِيلِ" .
حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ اپنے متعلق فرمایا کہ اس شیخ کو دیکھ رہے ہو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کی ہیں آپ کے ہمراہ کھانا کھایا ہے دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی ہے جو بائیں کندھے کے کونے میں مٹھی کی طرح تھی انہوں نے ہاتھ سے مٹھی کاشارہ کیا اور اس پر مہر نبوت پر مسوں کی طرح ابھرے ہوئے تل تھے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20770]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2346
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20771
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مُسَافِرًا يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ، وَالْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْرِ، وَدَعْوَةِ الْمَظْلُومِ، وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ" .
حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر روانہ ہوتے تو یہ دعا پڑھتے اے اللہ میں سفر کی پریشانیوں، واپسی کی تکلیفوں، ترقی کے بعد تنزلی، مظلوم کی بددعا اور اہل خانہ یا مال دولت میں کسی برے منظر کے دیکھنے سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20771]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1343
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20772
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ بِالْكُوفَةِ فَلَمْ أَكْتُبْهُ، فَسَمِعْتُ شُعْبَةَ يُحَدِّثُ بِهِ، فَعَرَفْتُهُ بِهِ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَافَرَ قَالَ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ، وَالْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْرِ، وَدَعْوَةِ الْمَظْلُومِ، وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ" .
حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر روانہ ہوتے تو یہ دعا پڑھتے اے اللہ میں سفر کی پریشانیوں، واپسی کی تکلیفوں، ترقی کے بعد تنزلی، مظلوم کی بددعا اور اہل خانہ یا مال دولت میں کسی برے منظر کے دیکھنے سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20772]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1343
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں