مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
908. حَدِيثُ أَبِي رِفَاعَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 20753
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، قَالَ: قَالَ أَبُو رِفَاعَةَ ، انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجُلٌ غَرِيبٌ جَاءَ يَسْأَلُ عَنْ دِينِهِ، لَا يَدْرِي مَا دِينُهُ!! قَالَ:" فَأَقْبَلَ إِلَيَّ، فَأَتَى بِكُرْسِيٍّ فَقَعَدَ عَلَيْهِ، فَجَعَلَ يُعَلِّمُنِي مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ تَعَالَى"، قَالَ: ثُمَّ أَتَى خُطْبَتَهُ فَأَتَمَّ آخِرَهَا .
حضرت ابورفاعہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے میں نے عرض کی یا رسول اللہ ایک مسافر آپ کے پاس اپنے دین کے متعلق پوچھنے کے لئے حاضر ہوا ہو جو اپنے دین کے متعلق کچھ نہیں جانتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور ایک کرسی لائی گئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بیٹھ گئے اور مجھے وہ باتیں سکھانے لگے جو اللہ نے انہیں سکھائی تھیں پھر اپنے خطبے کی طرف آئے اور اسے مکمل کیا۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20753]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 876
909. حَدِيثُ الْجَارُودِ الْعَبْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 20754
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، قَالَ: حَدِيثَانِ بَلَغَانِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدْ عَرَفْتُ أَنِّي قَدْ صَدَّقْتُهُمَا، لَا أَدْرِي أَيُّهُمَا قَبْلَ صَاحِبِهِ؟ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْجَذْمِيُّ جَذِيمَةُ عَبْدِ الْقَيْسِ ، حَدَّثَنَا الْجَارُودُ ، قَالَ:" بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ وَفِي الظَّهْرِ قِلَّةٌ، إِذْ تَذَاكَرَ الْقَوْمُ الظَّهْرَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ عَلِمْتُ مَا يَكْفِينَا مِنَ الظَّهْرِ، فَقَالَ:" وَمَا يَكْفِينَا؟"، قُلْتُ: ذَوْدٌ نَأْتِي عَلَيْهِنَّ فِي جُرُفٍ فَنَسْتَمْتِعُ بِظُهُورِهِمْ، قَالَ:" لَا، ضَالَّةُ الْمُسْلِمُ حَرَقُ النَّارِ، فَلَا تَقْرَبَنَّهَا، ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ، فَلَا تَقْرَبَنَّهَا، ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ، فَلَا تَقْرَبَنَّهَا" . وَقَالَ فِي اللُّقَطَةِ " الضَّالَّةُ تَجِدُهَا فَانْشُدَنَّهَا، وَلَا تَكْتُمْ، وَلَا تُغَيِّبْ، فَإِنْ عُرِفَتْ فَأَدِّهَا، وَإِلَّا فَمَالُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ" .
مطرف کہتے ہیں کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے دو حدیثیں معلوم ہوئی ہیں جن کے بارے میں یہ تو مجھے یقین ہے کہ میں ان میں سچا ہوں لیکن مجھے یاد نہیں ہے کہ ان میں سے مقدم کون سی ہے؟ ابومسلم نے حضرت جارود کے حوالے سے ہمیں یہ حدیث سنائی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر میں تھے سواریوں کی قلت تھی لوگ سواریوں کا تذکرہ کررہے تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں سمجھتا ہوں کہ سواریوں کے معاملے میں کون سی چیز ہماری کفایت کرسکتی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ وہ کیا ہے میں نے عرض کیا ہم مقام جرف میں جا کر وہاں سے اونٹ حاصل کریں اور ان پر سواری کا فائدہ اٹھائیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں مسلمان کی گمشدہ چیز آگ کی لپٹ ہوتی ہے اس کے قریب نہ جانا مسلمان کی گمشدہ چیز آگ کی لپٹ ہوئی ہے اس کے قریب بھی نہ جانا۔ اور گمشدہ گری پڑی چیز کے متعلق فرمایا کہ اگر وہ تمہیں مل جائے تو اس کا اعلان کرو اسے چھپاؤ اور نہ غائب کرو اگر کوئی اس کی شناخت کرلے تو اسے دے دو ورنہ وہ اللہ کا مال ہے وہ جسے چاہتا ہے دے دیتا ہے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20754]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 20755
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، وَأَحْمَدُ الْحَدَّادُ ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنِ الْجَارُودِ الْعَبْدِيِّ ، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ فَلَا تَقْرَبَنَّهَا" .
حضرت جارود رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ مسلمان کی گم شدہ چیز آگ کی لپٹ ہوتی ہے اس کے قریب بھی نہ جانا۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20755]
حدیث نمبر: 20756
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْجَذْمِيِّ ، عَنِ الْجَارُودِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ" .
حضرت جارود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مسلمان کی گم شدہ چیز آگ کی لپٹ ہوتی ہے اس کے قریب بھی نہ جانا۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20756]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 20757
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْجَذْمِيِّ ، عَنِ الْجَارُودِ بْنِ مُعَلَّي الْعَبْدِيِّ ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الضَّوَالِّ، فَقَالَ: " ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ" .
حضرت جارود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مسلمان کی گم شدہ چیز آگ کی لپٹ ہوتی ہے اس کے قریب بھی نہ جانا۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20757]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 20758
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ ، عَنِ الْجَارُودِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ" .
حضرت جارود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مسلمان کی گم شدہ چیز آگ کی لپٹ ہوتی ہے اس کے قریب بھی نہ جانا۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20758]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 20759
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْجَذْمِيِّ ، عَنِ الْجَارُودِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ" .
حضرت جارود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مسلمان کی گم شدہ چیز آگ کی لپٹ ہوتی ہے اس کے قریب بھی نہ جانا۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20759]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
910. حَدِيثُ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 20760
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ حُضَيْنٍ أَبِي سَاسَانَ الرَّقَاشِيِّ ، عَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذِ بْنِ عُمَيْرِ بْنِ جُدْعَانَ، قَالَ: سَلَّمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ وُضُوئِهِ، قَالَ: " لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ إِلَّا أَنِّي كُنْتُ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ" .
حضرت مہاجر بن قنفذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت وضو فرما رہے تھے اس لئے جواب نہیں دیا جب وضو فرماچکے تو میرے سلام کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں جواب دینے سے کوئی چیز مانع نہ تھی لیکن میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ بےوضو ہونے کی حالت میں اللہ کا نام لوں۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20760]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20761
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ حُضَيْنٍ أَبِي سَاسَانَ ، عَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ ابْنُ عُمَيْرِ بْنِ جُدْعَانَ أَنَّهُ سَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ وُضُوئِهِ، قَالَ:" إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ إِلَّا أَنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَذْكُرَ اللَّهَ إِلَّا عَلَى طَهَارَةٍ" .
حضرت مہاجر بن قنفذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت وضو فرما رہے تھے اس لئے جواب نہیں دیا جب وضو فرماچکے تو میرے سلام کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں جواب دینے سے کوئی چیز مانع نہ تھی لیکن میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ بےوضو ہونے کی حالت میں اللہ کا نام لوں۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20761]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي صحيح
حدیث نمبر: 20762
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبُولُ أَوْ قَدْ بَالَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ حَتَّى تَوَضَّأَ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيَّ" .
حضرت مہاجر بن قنفذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کررہے تھے یا کرچکے تھے میں نے انہیں سلام کیا لیکن انہوں نے جواب نہیں دیا یہاں تک کہ وضو کرلیا اور پھر مجھے جواب دیا۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20762]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمعه من حضين ماشرة