🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
827. حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20333
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلِمَةَ ، قَالَ: كُنَّا عَلَى حَاضِرٍ، فَكَانَ الرُّكْبَانُ , وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ مَرَّةً: النَّاسُ يَمُرُّونَ بِنَا رَاجِعِينَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَدْنُو مِنْهُمْ فَأَسْمَعُ، حَتَّى حَفِظْتُ قُرْآنًا، وَكَانَ النَّاسُ يَنْتَظِرُونَ بِإِسْلَامِهِمْ فَتْحَ مَكَّةَ، فَلَمَّا فُتِحَتْ، جَعَلَ الرَّجُلُ يَأْتِيهِ فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا وَافِدُ بَنِي فُلَانٍ، وَجِئْتُكَ بِإِسْلَامِهِمْ , فَانْطَلَقَ أَبِي بِإِسْلَامِ قَوْمِهِ، فَرَجَعَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدِّمُوا أَكْثَرَكُمْ قُرْآنًا" , قَالَ: فَنَظَرُوا وَأَنَا لَعَلَى حِوَاءٍ عَظِيمٍ، فَمَا وَجَدُوا فِيهِمْ أَحَدًا أَكْثَرَ قُرْآنًا مِنِّي، فَقَدَّمُونِي وَأَنَا غُلَامٌ، فَصَلَّيْتُ بِهِمْ وَعَلَيَّ بُرْدَةٌ، وَكُنْتُ إِذَا رَكَعْتُ أَوْ سَجَدْتُ قَلَصَتْ فَتَبْدُو عَوْرَتِي، فَلَمَّا صَلَّيْنَا تَقُولُ عَجُوزٌ لَنَا دَهْرِيَّةٌ غَطُّوا عَنَّا اسْتَ قَارِئِكُمْ! قَالَ: فَقَطَعُوا لِي قَمِيصًا، فَذَكَرَ أَنَّهُ فَرِحَ بِهِ فَرَحًا شَدِيدًا .
حضرت عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ شہر میں رہتے تھے جب لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے واپس آتے تو ہمارے یہاں سے ہو کر گذرتے تھے میں ان کے قریب جاتا اور ان کی باتیں سنتا یہاں تک کہ میں نے قرآن کا کچھ حصہ بھی یاد کرلیا لوگ فتح مکہ کا انتظار کررہے تھے تاکہ اسلام قبول کریں چنانچہ جب مکہ مکرمہ فتح ہوگیا تو لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے لگے وہ کہتے تھے کہ یا رسول اللہ میں فلاں قبیلے کا نمائندہ ہوں اور ان کے قبول اسلام کا پیغام لے کر آیا ہوں۔ میرے والد صاحب بھی اپنی قوم کے اسلام کا پیغام لے کر بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے تھے اور وہ واپس آنے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امامت کے لئے اس شخص کو آگے کرنا جو سب سے زیادہ قرآن پڑھا ہوا ہو میں اس وقت قریب قریب بہت سے گھروں کے محلے میں رہتا تھا لوگوں نے غور کیا تو انہیں مجھ سے زیادہ قرآن پڑھا ہوا کوئی آدمی نہ مل سکا چنانچہ انہوں نے نوعمر ہونے کے باوجود مجھ ہی کو آگے کردیا۔ اور میں انہیں نماز پڑھانے لگا میرے جسم پر ایک چادر ہوتی تھی میں جب رکوع یا سجدے میں جاتا تو وہ چھوٹی پڑجاتی اور میرا ستر کھل جاتایہ دیکھ کر ایک بوڑھی خاتون لوگوں سے کہنے لگی کہ اپنے امام صاحب کا ستر تو چھپاؤ چنانچہ لوگوں نے میرے لئے ایک قمیض تیار کی جسے پاکر مجھے بہت خوشی ہوئی۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20333]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4302
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20334
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، قَالَ: خَالِدٌ الْحَذَّاءُ أَخْبَرَنِي، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلِمَةَ ، قَالَ: كَانَتْ تَأْتِينَا الرُّكْبَانُ مِنْ قِبَلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَسْتَقْرِئُهُمْ، فَيُحَدِّثُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لِيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا" .
حضرت عمرو بن سلمہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہمارے پاس کچھ سوار آتے تھے ہم ان سے قرآن پڑھتے تھے وہ ہم سے یہ حدیث بیان کرتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے جو شخص زیادہ قرآن جانتا ہو اسے تمہاری امامت کرنی چاہئے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20334]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
828. حَدِيثُ الْعَدَّاءِ بْنِ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20335
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَجِيدِ أَبُو عَمْرٍو ، حَدَّثَنِي الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ , قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ عَرَفَةَ عَلَى بَعِيرٍ قَائِمًا فِي الرِّكَابَيْنِ" .
حضرت عداء بن خالد سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یوم عرفہ کے موقع پر اپنے اونٹ پر دونوں رکابوں میں کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20335]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20336
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْيَشْكُرِيُّ ، حَدَّثَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ مِنْ بَنِي عُقَيْلٍ , يُقَالُ لَهُ: عَبْدُ الْمَجِيدِ الْعُقَيْلِيُّ ، قَالَ: انْطَلَقْنَا حُجَّاجًا لَيَالِيَ خَرَجَ يَزِيدُ بْنُ الْمُهَلَّبِ، وَقَدْ ذُكِرَ لَنَا أَنَّ مَاءً بِالْعَالِيَةِ يُقَالُ لَهُ: الزُّجَيْجُ، فَلَمَّا قَضَيْنَا مَنَاسِكَنَا جِئْنَا حَتَّى أَتَيْنَا الزُّجَيْجَ، فَأَنَخْنَا رَوَاحِلَنَا، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى بِئْرٍ عَلَيْهِ أَشْيَاخٌ مُخَضَّبُونَ يَتَحَدَّثُونَ , قَالَ: قُلْنَا هَذَا الَّذِي صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيْنَ بَيْتُهُ؟ قَالُوا: نَعَمْ صَحِبَهُ، وَهَذَاكَ بَيْتُهُ , فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا الْبَيْتَ فَسَلَّمْنَا، قَالَ: فَأَذِنَ لَنَا، فَإِذَا هُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ مُضْطَجِعٌ يُقَالُ لَهُ: الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدٍ الْكِلَابِيُّ ، قُلْتُ: أَنْتَ الَّذِي صَحِبْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَوْلَا أَنَّهُ اللَّيْلُ لَأَقْرَأْتُكُمْ كِتَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ , قَالَ: فَمَنْ أَنْتُمْ؟ قُلْنَا: مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ , قَالَ: مَرْحَبًا بِكُمْ، مَا فَعَلَ يَزِيدُ بْنُ الْمُهَلَّبِ، قُلْنَا: هُوَ هُنَاكَ يَدْعُو إِلَى كِتَابِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَإِلَى سُنَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: فِيمَا هُوَ مِنْ ذَلكَ، فِيمَا هُوَ مِنْ ذَلكَ، قَالَ قُلْتُ: أَيًّا نَتَّبِعُ هَؤُلَاءِ أَوْ هَؤُلَاءِ يَعْنِي أَهْلَ الشَّامِ، أَوْ يَزِيدَ؟ قَالَ: إِنْ تَقْعُدُوا تُفْلِحُوا وَتَرْشُدُوا، إِنْ تَقْعُدُوا تُفْلِحُوا وَتَرْشُدُوا، لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ وَهُوَ قَائِمٌ فِي الرِّكَابَيْنِ يُنَادِي بِأَعْلَى صَوْتِهِ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَيُّ يوم يَوْمِكُمْ هَذَا؟" قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ:" فَأَيُّ شَهْرٍ شَهْرُكُمْ هَذَا؟" قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ:" فَأَيُّ بَلَدٍ بَلَدُكُمْ هَذَا؟" قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ: يَوْمُكُمْ يَوْمٌ حَرَامٌ، وَشَهْرُكُمْ شَهْرٌ حَرَامٌ، وَبَلَدُكُمْ بَلَدٌ حَرَامٌ" قَالَ: فَقَالَ: أَلَا إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، إِلَى يَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، فَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ" قَالَ: ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ:" اللَّهُمَّ اشْهَدْ عَلَيْهِمْ، اللَّهُمَّ اشْهَدْ عَلَيْهِمْ" ذَكَرَ مِرَارًا، فَلَا أَدْرِي كَمْ ذَكَرَهُ؟.
عبدالمجید عقیلی کہتے ہیں کہ ہم لوگ اس زمانے میں حج کے لئے روانہ ہوئے جب یزید بن مہلب نے خروج کیا تھا ہمیں بتایا گیا تھا کہ عالیہ میں رجیح نامی پانی کا کنواں موجود ہے جب ہم مناسک حج سے فارغ ہوئے تو رجیح پہنچ کر اپنی سواریوں کو بٹھایا پھر خود کنویں کے پاس پہنچے وہاں کچھ خضاب لگائے ہوئے معمر افراد بیٹھے باتیں کررہے تھے ہم نے ان لوگوں سے پوچھا کہ یہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رہتے ہیں ان کا گھر کہاں ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں ایک صحابی یہاں رہتے ہیں جن کا وہ گھر ہے۔ ہم چلتے ہوئے ان کے گھر پہنچے اور باہر کھڑے ہو کر سلام کیا انہوں نے ہمیں اندر آنے کی اجازت دی گھر میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک بہت بوڑھے آدمی لیٹے ہوئے ہیں جنہیں عداء بن خالد کلابی کہا جاتا تھا ہم نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہم نشینی پائی ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں اگر رات کا وقت نہ ہوتا تو میں تمہیں وہ خط بھی پڑھواتا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے لکھا تھا۔ پھر ہم سے پوچھا کہ تم کون لوگ ہو ہم نے بتایا کہ اہل بصرہ میں سے ہیں انہوں نے ہم کو مرحبا کہا اور پوچھا کہ یزید بن مہلب کا کیا بنا؟ ہم نے کہا وہ وہاں کتاب اللہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی دعوت دے رہا ہے انہوں نے پوچھا کہ یزید بن مہلب موجودہ حکمران کی نسبت کیسا ہے میں نے عرض کیا ہم کسی کی پیروی کریں اہل شام کی یا یزید بن مہلب کی انہوں نے تین مرتبہ یہی فرمایا اگر تم خاموش سے بیٹھے رہو گے تو کامیاب ہوجاؤ گے میں نے عرفہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اونٹ کی دونوں رکابوں پر کھڑے ہوئے دیکھا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بلند آواز سے فرما رہے تھے اے لوگو آج کا دن کون سا ہے؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ آج کا مہینہ کون سا ہے؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ شہر کون سا ہے لوگوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج کا دن حرمت والا ہے اور مہینہ بھی حرمت والا ہے اور یہ شہر بھی حرمت والا ہے یاد رکھو تمہاری جان اور مال ایک دوسرے کے لئے اس طرح حرمت والے ہیں جیسا آج کا دن کہ اس مہینے اور اس شہر میں حرمت ہے یہاں تک کہ تم اپنے رب سے آملو۔ وہ تم سے تمہارے اعمال کے متعلق سوال کرے گا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر کئی مرتبہ فرمایا اے اللہ تو گواہ رہ۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20336]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، عمر بن إبراهيم إن لم يكن هو العبيدي البصري، فلا يعرف، وهو متابع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
829. وَمِنْ حَدِيثِ أَحْمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20337
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا أَحْمَرُ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنْ كُنَّا لَنَأْوِي لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا يُجَافِي بِيَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ إِذَا سَجَدَ ..
حضرت احمر بن جزء سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدے میں جاتے تو ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اس وقت ترس آتا تھا کیونکہ آپ اپنی کہنیوں کو اپنے پہلوؤں سے جدا کرنے میں بہت مشقت اٹھاتے تھے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20337]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد لأجل عباد بن راشد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20338
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، حَدَّثَنِي أَحْمَرُ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كُنَّا لَيَأْوِي لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا يُجَافِي بِيَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ إِذَا سَجَدَ".

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد لأجل عباد بن راشد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
830. وَمِنْ حَدِيثِ صُحَارٍ الْعَبْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20339
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صُحَارٍ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي رَجُلٌ مِسْقَامٌ، " فَأْذَنْ لِي فِي جَرِيرَةٍ أَنْتَبِذُ فِيهَا , قَالَ: فَأَذِنَ لَهُ فِيهَا" .
حضرت صحار عبدی سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی میں بیمار آدمی ہوں مجھے مٹکے میں نبیذ بنانے کی اجازت دے دیں چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دیدی۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20339]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة حال عبدالرحمن بن صحار
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20340
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صُحَارٍ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُخْسَفَ بِقَبَائِلَ، حَتَّى يُقَالَ: مَنْ بَقِيَ مِنْ بَنِي فُلَانٍ؟ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ يَعْنِي الْعَرَبَ، لِأَنَّ الْعَجَمَ إِنَّمَا تُنْسَبُ إِلَى قُرَاهَا" .
حضرت صحار عبدی سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک کچھ قبائل کو زمین میں دھنسا نہ دیا جائے اور لوگ پوچھنے لگیں کہ فلاں قبیلے میں سے کتنے لوگ باقی بچے؟ میں نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قبائل کا ذکر کرتے ہوئے سنا تو میں سمجھ گیا کہ اس سے مراد اہل عرب ہیں کیونکہ عجمیوں کو ان کے شہروں کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20340]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة حال عبدالرحمن بن صحار
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
831. حَدِيثُ رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْمُزَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20341
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُشْمَعِلُّ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ سُلَيْمٍ الْمُزَنِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَافِعَ بْنَ عَمْرٍو الْمُزَنِيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: وَأَنَا وَصِيفٌ , يَقُولُ: " الْعَجْوَةُ وَالشَّجَرَةُ مِنَ الْجَنَّةِ" .
حضرت رافع بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ عجوہ کھجور اور درخت جنت سے آئے ہیں۔ فائدہ۔ بعض روایات میں درخت کے بجائے صخرہ بیت المقدس کا تذکرہ بھی آیا ہے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20341]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20342
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , وَأَبُو النَّضْرِ ، وَعَفَّانُ , قَالُوا: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مِنْ بَعْدِي مِنْ أُمَّتِي قَوْمًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَلَاقِيمَهُمْ، يَخْرُجُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَخْرُجُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، ثُمَّ لَا يَعُودُونَ فِيهِ، شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ" , قَالَ ابْنُ الصَّامِتِ: فَلَقِيتُ رَافِعًا , قَالَ بَهْزٌ: أَخَا الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو فَحَدَّثْتُهُ هَذَا الْحَدِيثَ، قَالَ: وَأَنَا أَيْضًا قَدْ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے بعد میری امت میں ایک قوم ایسی بھی آئے گی جو قرآن تو پڑھے گی لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا وہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے پھر وہ دین میں کبھی واپس نہیں آئیں گے وہ لوگ بدترین مخلوق ہوں گے۔ ابن صامت کہتے ہیں کہ پھر میں حضرت رافع سے ملا اور یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے فرمایا یہ حدیث میں نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20342]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1067
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں