مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
835. حَدِيثُ مُرَّةَ الْبَهْزِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 20353
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا كَهْمَسٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ ، حَدَّثَنَا هَرَمِيُّ بْنُ الْحَارِثِ , وَأُسَامَةُ بْنُ خُرَيْمٍ , وَكَانَا يُغَازِيَانِ، فَحَدَّثَانِي حَدِيثًا، وَلَا يَشْعُرُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَنَّ صَاحِبَهُ حَدَّثَنِيهِ , عَنْ مُرَّةَ الْبَهْزِيِّ ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ , فَقَالَ: " كَيْفَ فِي فِتْنَةٍ تَثُورُ فِي أَقْطَارِ الْأَرْضِ كَأَنَّهَا صَيَاصِي بَقَرٍ؟" قَالُوا: نَصْنَعُ مَاذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ:" عَلَيْكُمْ هَذَا وَأَصْحَابَهُ" أَوْ" اتَّبِعُوا هَذَا وَأَصْحَابَهُ" , قَالَ: فَأَسْرَعْتُ حَتَّى عَطَفْتُ عَلَى الرَّجُلِ , فَقُلْتُ: هَذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ:" هَذَا" فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
ہمارے نسخے میں صرف یہاں لفظ حدثنا لکھا ہوا ہے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20353]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين
836. حَدِيثُ زَائِدَةَ أَوْ مَزِيدَةَ بْنِ حَوَالَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 20354
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ عَنَزَةَ , يُقَالُ لَهُ: زَائِدَةُ أَو مَزِيدَةُ بْنُ حَوَالَةَ , قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ مِنْ أَسْفَارِهِ، فَنَزَلَ النَّاسُ مَنْزِلًا، وَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ظِلِّ دَوْحَةٍ، فَرَآنِي وَأَنَا مُقْبِلٌ مِنْ حَاجَةٍ لِي، وَلَيْسَ غَيْرُهُ وَغَيْرُ كَاتِبِهِ، فَقَالَ:" أَنَكْتُبُكَ يَا ابْنَ حَوَالَةَ؟" قُلْتُ: عَلَامَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: فَلَهَا عَنِّي، وَأَقْبَلَ عَلَى الْكَاتِبِ، قَالَ: ثُمَّ دَنَوْتُ دُونَ ذَلِكَ، قَالَ: فَقَالَ:" أَنَكْتُبُكَ يَا ابْنَ حَوَالَةَ؟" قُلْتُ: عَلَامَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: فَلَهَا عَنِّي وَأَقْبَلَ عَلَى الْكَاتِبِ، قَالَ: ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ عَلَيْهِمَا، فَإِذَا فِي صَدْرِ الْكِتَابِ أَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ فَظَنَنْتُ أَنَّهُمَا لَنْ يُكْتَبَا إِلَّا فِي خَيْرٍ، فَقَالَ:" أَنَكْتُبُكَ يَا ابْنَ حَوَالَةَ؟" فَقُلْتُ: نَعَمْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ , فَقَالَ:" يَا ابْنَ حَوَالَةَ، كَيْفَ تَصْنَعُ فِي فِتْنَةٍ تَثُورُ فِي أَقْطَارِ الْأَرْضِ كَأَنَّهَا صَيَاصِي بَقَرٍ؟" قَالَ: قُلْتُ: أَصْنَعُ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" عَلَيْكَ بِالشَّامِ" ثُمَّ قَالَ:" كَيْفَ تَصْنَعُ فِي فِتْنَةٍ كَأَنَّ الْأُولَى فِيهَا نَفْجَةُ أَرْنَبٍ" قَالَ: فَلَا أَدْرِي كَيْفَ قَالَ فِي الْآخِرَةِ، وَلَأَنْ أَكُونَ عَلِمْتُ كَيْفَ قَالَ فِي الْآخِرَةِ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا .
حضرت ابن حوالہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت آپ ایک درخت کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے پاس ایک کاتب تھا جسے آپ کچھ لکھوا رہے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابن حوالہ کیا ہم تمہیں بھی نہ لکھ دیں۔ میں نے عرض کی مجھے معلوم نہیں اللہ اور اس کے رسول نے میرے لئے کیا پسند فرمایا ہے چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اعراض فرمالیا چنانچہ وہ دوبارہ کاتب کو املا کر انے کے لئے جھک گئے کچھ دیر بعد یہی سوال جواب ہوئے اس کے بعد میں نے دیکھا تو تحریر میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے نام لکھے ہوئے تھے میں نے اپنے دل میں میں سوچا کہ ان دونوں کا نام خیر کے ہی کام میں لکھا جاسکتا ہے چنانچہ تیسری مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ اے ابن حوالہ کیا ہم تمہیں بھی نہ لکھ دیں۔ میں نے عرض کی جی ہاں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابن حوالہ جب زمین کے اطراف واکناف میں فتنے اس طرح ابل پڑیں گے جیسے گائے کے سینگ ہوتے ہیں تو تم کیا کرو گے؟ میں نے عرض کی مجھے معلوم نہیں اللہ اور اس کے رسول میرے لئے کیا پسند فرمائیں گے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شام کو اپنے اوپر لازم کرلو پھر اگلا سوال پوچھا کہ اس کے بعد جب دوسرا فتنہ فورا ہی نمودار ہوگا جو خرگوش کی رفتار جیسا ہوگا تب کیا کرو گے میں نے حسب سابق جواب دیا اب مجھے یاد نہیں ہے کہ اس مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا مجھے اس جواب کا معلوم ہونا فلاں فلاں چیز سے بھی زیادہ محبوب ہے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20354]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
837. حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 20355
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ لَقِيطٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ نَجَا مِنْ ثَلَاثٍ، فَقَدْ نَجَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: مَوْتِي، وَالدَّجَّالِ، وَقَتْلِ خَلِيفَةٍ مُصْطَبِرٍ بِالْحَقِّ مُعْطِيهِ" .
حضرت عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص تین چیزوں سے نجات پا گیا وہ نجات پا گیا تین مرتبہ فرمایا میری موت، دجال اور حق پر ثابت قدم خلیفہ کے قتل سے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20355]
الحكم على الحديث:
حديث حسن، ليس هذا الحديث بمصر من حديث يحيى بن أيوب لكنه
حدیث نمبر: 20356
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ , وَهَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، حَدَّثَنَا مَكْحُولٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " سَيَكُونُ جُنْدٌ بِالشَّامِ وَجُنْدٌ بِالْيَمَنِ" فَقَالَ رَجُلٌ: فَخِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا كَانَ ذَلِكَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَيْكَ بِالشَّامِ، عَلَيْكَ بِالشَّامِ ثَلَاثًا عَلَيْكَ بِالشَّامِ فَمَنْ أَبَى فَلْيَلْحَقْ بِيَمَنِهِ، وَلْيَسْقِ مِنْ غُدُرِهِ، فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَدْ تَكَفَّلَ لِي بِالشَّامِ وَأَهْلِهِ" ، قَالَ أَبُو النَّضْرِ مَرَّتَيْنِ: فَلْيَلْحَقْ بِيَمَنِهِ.
حضرت عبداللہ بن حوالہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب ایک لشکر شام میں ہوگا اور ایک یمن میں ایک آدمی نے پوچھا کہ یا رسول اللہ جب ایساہو تو میرے لئے کسی ایک کو ترجیحا دیجیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا شام کو اپنے اوپر لازم کرلو جو شخص ایسا نہ کرسکے وہ یمن چلا جائے اور اس کے کنوؤں کا پانی پیے کیونکہ اللہ نے شام اور اہل شام کا میرے لئے ذمہ لیا ہے۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20356]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، مكحول لم يسمع هذا الحديث من أين حوالة
838. حَدِيثُ جَارِيَةَ بْنِ قُدَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 20357
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَمٍّ لَهُ يُقَالُ لَهُ: جَارِيَةُ بْنُ قُدَامَةَ السَّعْدِيّ : أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْ لِي قَوْلًا يَنْفَعُنِي، وَأَقْلِلْ عَلَيَّ لَعَلِّي أَعِيهِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَغْضَبْ" فَأَعَادَ عَلَيْهِ، حتى أعاد عليه مِرَارًا، كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ:" لَا تَغْضَبْ" ..
حضرت جاریہ بن قدامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ مجھے کوئی مختصر نصیحت فرمادیجیے شاید میری عقل میں آجائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غصہ نہ کیا کرو اس نے کئی مرتبہ اپنی درخواست دہرائی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مرتبہ یہی جواب دیا کہ غصہ نہ کیا کرو۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20357]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20358
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَمٍّ لَهُ يُقَالُ لَهُ: جَارِيَةُ بْنُ قُدَامَةَ : أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْ لِي قَوْلًا وَأَقْلِلْ عَلَيَّ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ , حَدَّثَنَا يَحْيَى: قَالَ هِشَامٌ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَهُمْ يَقُولُونَ لَمْ يُدْرِكْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ! يَعْنِي: يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ: وَهُمْ يَقُولُونَ..
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20359
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ جَارِيَةَ بْنِ قُدَامَةَ ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي عَمٌّ لِي: أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي شَيْئًا يَنْفَعُنِي وَأَقْلِلْ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
839. حَدِيثُ رَجُلٍ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 20360
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ ، قَالَ: وَقَفَ عَلَيْنَا رَجُلٌ فِي مَجْلِسِنَا بِالْبَقِيعِ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي أَوْ عَمِّي : أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَقِيعِ وَهُوَ يَقُولُ: " مَنْ يَتَصَدَّقُ بِصَدَقَةٍ، أَشْهَدُ لَهُ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ" قَالَ: فَحَلَلْتُ مِنْ عِمَامَتِي لَوْثًا أَوْ لَوْثَيْنِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِهِمَا، فَأَدْرَكَنِي مَا يُدْرِكُ بَنِي آدَمَ، فَعَقَدْتُ عَلَيَّ عِمَامَتِي، فَجَاءَ رَجُلٌ وَلَمْ أَرَ بِالْبَقِيعِ رَجُلًا أَشَدَّ سَوَادًا أَصْفَرَ مِنْهُ، وَلَا آدَمَ بَعْينٍ بِنَاقَةٍ لَمْ أَرَ بِالْبَقِيعِ نَاقَةً أَحْسَنَ مِنْهَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَدَقَةٌ؟ قَالَ:" نَعَمْ" قَالَ: دُونَكَ هَذِهِ النَّاقَةَ , قَالَ: فَلَزِمَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: هَذَا يَتَصَدَّقُ بِهَذِهِ! فَوَاللَّهِ لَهِيَ خَيْرٌ مِنْهُ , قَالَ: فَسَمِعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" كَذَبْتَ، بَلْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ وَمِنْهَا" ثَلَاثَ مِرَارٍ، ثُمَّ قَالَ:" وَيْلٌ لِأَصْحَابِ الْمِئِينَ مِنَ الْإِبِلِ" ثَلَاثًا , قَالُوا: إِلَّا مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" إِلَّا مَنْ قَالَ بِالْمَالِ هَكَذَا وَهَكَذَا" وَجَمَعَ بَيْنَ كَفَّيْهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ، ثُمَّ قَالَ:" قَدْ أَفْلَحَ الْمُزْهِدُ الْمُجْهِدُ , ثَلَاثًا , الْمُزْهِدُ فِي الْعَيْشِ، الْمُجْهِدُ فِي الْعِبَادَةِ" .
ابوسلیل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ بقیع میں ہماری مجلس پر ایک آدمی کھڑا ہو اور کہنے لگا کہ میرے والد یا چچا نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جنت البقیع میں دیکھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے جو شخص کوئی چیز صدقہ کرتا ہے میں قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی دوں گا یہ سن کر میں اپنے عمامے کا ایک دو پرت کھولنے لگا کہ انہیں صدقہ کروں گا پھر مجھے بھی وہی وسوسہ آگیا جو عام طور پر ابن آدم کو پیش آتا ہے اس لئے میں نے اپناعمامہ واپس باندھ لیا۔ تھوڑی دیر بعد ایک آدمی جس کی مانند سیاہ اور گندمی رنک کا کوئی آدمی میں نے جنت البقیع میں نہیں دیکھا تھا وہ ایک اونٹنی کو لئے چلاآرہا تھا جس سے زیادہ حسین کوئی اونٹنی میں نے پورے جنت البقیع میں نہیں دیکھی اس نے آکرعرض کی یا رسول اللہ کیا میں صدقہ پیش کرسکتا ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اس نے کہا پھر یہ اونٹنی قبول فرما لیجیے پھر وہ آدمی چلا گیا میں نے کہا ایسا آدمی یہ صدقہ کررہا ہے واللہ یہ اونٹنی اس سے بہتر ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سن لی اور فرمایا تم غلط کہہ رہے ہو بلکہ وہ تم سے اور اس اونٹنی سے بہتر ہے تین مرتبہ فرمایا پھر فرمایا سینکڑوں اونٹ رکھنے والوں کے لئے ہلاکت ہے سوائے۔۔۔۔۔۔۔۔ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ سوائے کس کے؟ فرمایا سوائے اس شخص کے جو مال کو اس اس طرح خرچ کرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھیلی بند کرکے دائیں بائیں اشارہ فرمایا پھر فرمایا وہ شخص کامیاب ہوگیا جو زندگی میں بےرغبت اور عبادت میں خوب محنت کرنے والا ہو۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20360]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة الراوي عنه أبو السليل، وإذا كان هذا مجهولا فأبوه أو عمه مجهول مثله
840. حَدِيثُ قُرَّةَ الْمُزَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 20361
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا فَسَدَ أَهْلُ الشَّامِ، فَلَا خَيْرَ فِيكُمْ، وَلَنْ تَزَالَ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي مَنْصُورِينَ، لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ، حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ" .
حضرت قرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب اہل شام میں فساد پھیل جائے تو تم میں کوئی خیر نہ رہے گی اور میرے کچھ امتی قیام قیامت تک ہمیشہ مظفر ومنصور رہیں گے اور انہیں کسی کے ترک تعاون کی کوئی پرواہ نہ ہوگی۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20361]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20362
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " مَسَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَأْسِي" .
حضرت قرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا۔ [مسند احمد/أول مسند البصريين/حدیث: 20362]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح