🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
995. وَمِنْ حَدِيثِ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22365
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ شَدَّادٍ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنْصَرِفَ مِنْ صَلَاتِهِ، اسْتَغْفَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: " اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ" .
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوتے تو تین مرتبہ استغفار کرتے اور پھر یہ دعاء کرتے کہ اے اللہ! تو ہی حقیقی سلامتی والا ہے اور تیری ہی طرف سے سلامتی مل سکتی ہے اے بزرگی اور عزت والے! تیری ذات بڑی بابرکت ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22365]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 591
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22366
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ يَتَكَفَّلُ لِي بِوَاحِدَةٍ وَأَتَكَفَّلُ لَهُ بِالْجَنَّةِ؟" قَالَ ثَوْبَانُ: أَنَا، قَالَ:" لَا تَسْأَلْ النَّاسَ" , يَعْنِي شَيْئًا، قَالَ: نَعَمْ , قَالَ: فَكَانَ لَا يَسْأَلُ.
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مجھے ایک چیز کی ضمانت دے دے میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں؟ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو پیش کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں سے کسی چیز کا سوال مت کرنا انہوں نے عرض کیا ٹھیک ہے چنانچہ انہوں نے اس کے بعد کبھی کسی سے کچھ نہیں مانگا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22366]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ، وقد توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22367
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ المُهَاجِرِ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَالِمٍ اللَّخْمِيِّ ، قَالَ: بَعَثَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى أَبِي سَلَّامٍ الْحَبَشِيِّ ، فَحُمِلَ إِلَيْهِ عَلَى الْبَرِيدِ يَسْأَلُهُ عَنِ الْحَوْضِ، فَقُدِمَ بِهِ عَلَيْهِ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ ثَوْبَانَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ حَوْضِي مِنْ عَدَنَ إِلَى عَمَّانَ الْبَلْقَاءِ، مَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، وَأَكَاوِيبُهُ عَدَدُ النُّجُومِ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ شَرْبَةً لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا، أَوَّلُ النَّاسِ وُرُودًا عَلَيْهِ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ" , فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ: مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" هُمْ الشُّعْثُ رُءُوسًا، الدُّنْسُ ثِيَابًا، الَّذِينَ لَا يَنْكِحُونَ الْمُتَنَعِّمَاتِ وَلَا تُفْتَحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السُّدَدِ" , فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: لَقَدْ نَكَحْتُ الْمُتَنَعِّمَاتِ، وَفُتِحَتْ لِي السُّدَدُ إِلَّا أَنْ يَرْحَمَنِي اللَّهُ، وَاللَّهِ لَا جَرَمَ أَنْ لَا أَدْهُنَ رَأْسِي حَتَّى يَشْعَثَ، وَلَا أَغْسِلَ ثَوْبِي الَّذِي يَلِي جَسَدِي حَتَّى يَتَّسِخَ.
حضرت عمربن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ڈاکیے کے ذریعے ایک مرتبہ ابو سلام حبشی رحمہ اللہ کی طرف پیغام بھیجا وہ ابو سلام سے حوض کوثر کے متعلق پوچھنا چاہتے تھے چنانچہ وہ آگئے حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ان سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے میرے حوض کی لمبائی چوڑائی اتنی ہے جتنی عدن اور عمان بلقاء کے درمیان ہے اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ شیریں ہوگا اس کے کٹورے آسمان کے ستاروں کے برابر ہوں گے جو اس کا ایک گھونٹ پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا سب سے پہلے اس حوض پر فقراء مہاجرین آئیں گے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! وہ کون لوگ ہوں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ وہ لوگ ہوں گے جن کے سروں کے بال بکھرے ہوئے اور کپڑے میلے ہوں گے جو نازونعم میں پلی ہوئی عورتوں سے نکاح نہیں کرسکے ہوں گے اور نہ ہی ان کے لئے بند دروازے کھولے جاتے ہوں گے۔ حضرت عمربن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے یہ سن کر فرمایا کہ میں نے تو نازونعم میں پلی ہوئی عورتوں سے نکاح کیا ہے اور میرے لئے تو بند دروازے بھی کھولے جاتے ہیں اب اللہ ہی مجھ پر رحم فرمائے واللہ اب میں اس وقت تک اپنے سر پر تیل نہیں لگاؤں گا جب تک وہ پراگندہ نہ ہوجائے اور اپنے جسم پر پہنے ہوئے کپڑے اس وقت تک نہیں دھوؤں گا جب تک وہ میلے نہ ہوجائیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22367]

الحكم على الحديث:
صحيح دون قوله: أول الناس المهاجرين....، وهذا إسناد ضعيف، العباس بن سالم لم يسمع الحديث من أبى سلام، لكنه توبع، وأبو سلام لم يسمع من ثوبان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22368
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ مِنْ كِتَابِهِ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا شَيْخٌ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ قَتَلَ صَغِيرًا أَوْ كَبِيرًا، أَوْ أَحْرَقَ نَخْلًا، أَوْ قَطَعَ شَجَرَةً مُثْمِرَةً، أَوْ ذَبَحَ شَاةً لِإِهَابِهَا، لَمْ يَرْجِعْ كَفَافًا" .
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص (میدان جہاد میں کسی نابالغ بچے یا انتہائی عمر رسیدہ آدمی کو قتل کرے یا کسی باغ کو آگ لگا دے یا کسی پھل دار درخت کو کاٹ ڈالے یا کھال حاصل کرنے کے لئے کسی بکری کو ذبح کر ڈالے تو وہ برابر سرابر واپس نہیں آیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22368]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ، وشيخه لم يسمّه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22369
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , وَأَبَانُ , قَالَا: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ مَعْدَانَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ فَارَقَ الرُّوحُ الْجَسَدَ وَهُوَ بَرِيءٌ مِنْ ثَلَاثٍ، دَخَلَ الْجَنَّةَ الْكِبْرِ، وَالدَّيْنِ، وَالْغُلُولِ" .
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کی روح اس کے جسم سے اس حال میں جدا ہو کہ وہ تین چیزوں سے بری ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگا، تکبر، قرض اور مال غنیمت میں خیانت۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22369]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22370
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، قَالَ: قِيلَ لِثَوْبَانَ , حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: تَكْذِبُونَ عَلَيَّ! وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً، أَوْ حَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً" .
سالم بن ابی الجعد رحمہ اللہ کہتے ہیں کسی شخص نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث سنائیے تو انہوں نے فرمایا تم لوگ میری طرح جھوٹی نسبت کرتے ہو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو مسلمان بھی اللہ کی رضا کے لئے ایک سجدہ کرتا ہے اللہ اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے اور ایک گناہ معاف فرما دیتا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22370]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 488، وهذا إسناد ضعيف ، سالم لم يلق ثوبان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22371
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ" .
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سینگی لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22371]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22372
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي الْجُودِيِّ ، عَنْ بَلْجٍ ، عَنْ أَبِي شَيْبَةَ الْمَهْرِيِّ ، قَالَ: وَكَانَ قَاصَّ النَّاسِ، قَالَ: قِيلَ لِثَوْبَانَ : حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاءَ فَأَفْطَرَ" .
ابو شبیہ مہری رحمہ اللہ جو قسطنطنیہ میں وعظ گوئی کیا کرتے تھے " کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث سنائیے تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے دیکھا ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قئی آئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا روزہ ختم کردیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22372]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، بلج وشيخه مجهولان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22373
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا عَادَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ، فَهُوَ فِي مَخْرَفَةِ الْجَنَّةِ" .
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کوئی مسلمان آدمی اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو وہ جنت کے باغات کی سیر کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22373]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، أبو قلابة لم يسمعه من أبى أسماء، بينهما أبو الأشعث
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22374
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي الْعَالِيَةِ : مَا ثَوْبَانُ ؟ قَالَ: مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ يَتَكَفَّلَ لِي أَنْ لَا يَسْأَلَ شَيْئًا، وَأَتَكَفَّلُ لَهُ بِالْجَنَّةِ؟" , فَقَالَ ثَوْبَانُ: أَنَا , فَكَانَ لَا يَسْأَلُ أَحَدًا شَيْئًا.
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مجھے ایک چیز کی ضمانت دے دے میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں؟ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو پیش کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں سے کسی چیز کا سوال مت کرنا انہوں نے عرض کیا ٹھیک ہے چنانچہ انہوں نے اس کے بعد کبھی کسی سے کچھ نہیں مانگا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22374]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں