🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
995. وَمِنْ حَدِيثِ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22375
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا عَادَ الرَّجُلُ أَخَاهُ، فَإِنَّهُ فِي أَخْرَافِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَ" .
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کوئی مسلمان آدمی اپنے مسلمان کی عیادت کرتا ہے تو وہ واپس آنے تک جنت کے باغات کی سیر کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22375]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، أبو قلابة لم يسمعه من أبى أسماء ، بينهما أبو الأشعث
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22376
حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً، فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ شَهِدَ دَفْنَهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ" , قِيلَ: وَمَا الْقِيرَاطَانِ؟ قَالَ:" أَصْغَرُهُمَا مِثْلُ أُحُدٍ" .
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جنازے میں شریک ہو اسے ایک قیراط ثواب ملتا ہے اور جو تدفین کے مرحلے تک شریک رہے اسے دو قیراط ثواب ملتا ہے کسی نے پوچھا کہ قیراط کیا ہوتا ہے؟ فرمایا اس کا کم از کم پیمانہ جبل احد کے برابر ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22376]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 946
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22377
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُعَيْطِيُّ ، حَدَّثَنِي مَعْدَانُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيُّ ، قَالَ: لَقِيتُ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ أَعْمَلُهُ يُدْخِلُنِي اللَّهُ بِهِ الْجَنَّةَ، أَوْ قَالَ: قُلْتُ: بِأَحَبِّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ فَسَكَتَ، ثُمَّ سَأَلْتُهُ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: سَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ " عَلَيْكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ، فَإِنَّكَ لَا تَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَكَ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةً" , قَالَ مَعْدَانُ: ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ لِي: مِثْلَ مَا قَالَ لِي ثَوْبَانُ.
معدان یعمری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی تو میں نے عرض کیا کہ مجھے اللہ کے نزدیک پسندیدہ کوئی ایسا عمل بتا دیجئے جس کی برکت سے اللہ مجھے جنت میں داخل فرما دے، اس پر وہ خاموش رہے، تین مرتبہ سوال اور خاموشی کے بعد انہوں نے فرمایا کہ یہی سوال میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کثرت سجدہ کو اپنے اوپر لازم کرلو کیونکہ تم اللہ کی رضا کے لئے ایک سجدہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے تمہارا ایک درجہ بلند کر دے گا اور ایک گناہ معاف فرما دے گا۔ معدان کہتے ہیں کہ پھر میں حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے بھی یہی سوال کیا تو انہوں نے بھی مجھے وہی جواب دیا جو حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے دیا تھا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22377]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 488
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22378
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْتَقِيمُوا وَلَنْ تُحْصُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ خَيْرَ أَعْمَالِكُمْ الصَّلَاةُ، وَلَنْ يُحَافِظَ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ" .
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ثابت قدم رہو تمام اعمال کا تو تم کسی صورت احاطہ نہیں کرسکتے البتہ یاد رکھو کہ تمہارا سب سے بہترین عمل نماز ہے اور وضو کی پابندی وہی کرتا ہے جو مؤمن ہو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22378]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، سالم لم يسمع من ثوبان، لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22379
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا الطَّلَاقَ مِنْ غَيْرِ مَا بَأْسٍ، فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ" .
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو عورت بغیر کسی خاص وجہ کے اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرتی ہے اس پر جنت کی مہک بھی حرام ہوگی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22379]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد صحيح، الرجل المبهم: هو أبو أسماء الرحبي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22380
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَفْضَلَ دِينَارٍ دِينَارٌ أَنْفَقَهُ رَجُلٌ عَلَى عِيَالِهِ، أَوْ عَلَى دَابَّتِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ عَلَى أَصْحَابِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ" .
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے افضل دینار وہ ہے جو آدمی اپنے اہل عیال پر خرچ کرے یا اللہ کے راستہ میں اپنی سواری پر خرچ کرے یا اللہ کے راستہ میں اپنے ساتھیوں پر خرچ کرے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22380]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 994، وهذا إسناد صحيح، الرجل المبهم: هو أبو أسماء الرحبي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22381
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ مَعْدَانَ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَاءَ فَأَفْطَرَ" , قَالَ: فَلَقِيتُ ثَوْبَانَ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: أَنَا صَبَبْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضُوءَهُ.
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قے آگئی جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا روزہ ختم کردیا، راوی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مسجد نبوی میں حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوگئی تو میں نے ان سے بھی اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے وضو کا پانی ڈال رہا تھا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22381]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وقد اختلف فى إسناده، والخلاف كله يدور على الثقات
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22382
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى رَجُلٍ يَحْتَجِمُ فِي رَمَضَانَ، فَقَالَ " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ" .
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک آدمی پر ہوا جو رمضان کے مہینے میں سینگی لگوا رہا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سینگی لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22382]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22383
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ثَوْرٍ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً فَأَصَابَهُمْ الْبَرْدُ، فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكَوْا إِلَيْهِ مَا أَصَابَهُمْ مِنَ الْبَرْدِ،" فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَمْسَحُوا عَلَى الْعَصَائِبِ وَالتَّسَاخِينِ" .
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر کہیں روانہ فرمایا راستے میں سردی کا موسم آگیا جب وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس پہنچے تو سردی کی شدت سے پہنچنے والی تکلیف کی انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عماموں اور موزوں پر مسح کرنے کا حکم دے دیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22383]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22384
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: شُعْبَةُ حَدَّثَنَا، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ مَعْدَانَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ، فَلَهُ قِيرَاطٌ، فَإِنْ شَهِدَ دَفْنَهَا، فَلَهُ قِيرَاطَانِ، الْقِيرَاطُ مِثْلُ أُحُدٍ" .
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جنازے میں شریک ہو اسے ایک قیراط ثواب ملتا ہے اور جو تدفین کے مرحلے تک شریک رہے اسے دو قیراط ملتا ہے اور ایک قیراط کا پیمانہ جبل احد کے برابر ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 22384]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 946
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں