مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
941. حَدِيثُ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 21213
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا إِنَّ لَكَ مَا احْتَسَبْتَ".
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 663
حدیث نمبر: 21214
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ بِالْمَدِينَةِ، لَا أَعْلَمُ رَجُلًا كَانَ أَبْعَدَ مِنْهُ مَنْزِلًا، أَوْ قَالَ: دَارًا مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْهُ، فَقِيلَ لَهُ: لَوْ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا فَرَكِبْتَهُ فِي الرَّمْضَاءِ وَالظُّلُمَاتِ، فَقَالَ: مَا يَسُرُّنِي أَنَّ دَارِي أَوْ قَالَ: مَنْزِلِي إِلَى جَنْبِ الْمَسْجِدِ، فَنُمِيَ الْحَدِيثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَا أَرَدْتَ بِقَوْلِكَ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ مَنْزِلِي أَوْ قَالَ دَارِي، إِلَى جَنْبِ الْمَسْجِدِ؟" قَالَ: أَرَدْتُ أَنْ يُكْتَبَ إِقْبَالِي إِذَا أَقْبَلْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ، وَرُجُوعِي إِذَا رَجَعْتُ إِلَى أَهْلِي، قَالَ:" أَعْطَاكَ اللَّهُ تَعَالَى ذَلِكَ كُلَّهُ" أَوْ" أَنْطَاكَ اللَّهُ مَا احْتَسَبْتَ أَجْمَعَ" أَوْ" أَنْطَاكَ اللَّهُ ذَلِكَ كُلَّهُ مَا احْتَسَبْتَ أَجْمَعَ" .
حضرت ابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک آدمی کا گھر مسجد نبوی سے دور تھا میرے خیال میں اس سے زیادہ دور کسی کا گھر نہیں تھا کسی نے اس سے کہا کہ اگر تم کوئی گدھا وغیرہ لے لیتے تو اچھا ہوتا اس نے کہا کہ مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میرا گھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے ملا ہوا ہو میں نے اس کے منہ سے اس سے زیادہ کوئی کراہت آمیز جملہ نہیں سنا تھا لیکن پھر پتہ چلا کہ اس کی مراد مسجد کی طرف دور سے چل کر آنے کا ثواب حاصل کرنا ہے چنانچہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے ہر قدم کے بدلے ایک درجہ ملے گا اور تمہیں وہی ملے گا جس کی تم نے نیت کی ہو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21214]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 663
حدیث نمبر: 21215
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ يَأْتِي الصَّلَاةَ، فَقِيلَ لَهُ: لَوْ اتَّخَذْتَ حِمَارًا يَقِيكَ الرَّمْضَاءَ وَالشَّوْكَ وَالْوَقْعَ! قَالَ شُعْبَةُ: وَذَكَرَ رَابِعَةً، قَالَ: مَحْلُوفَةً، مَا أُحِبُّ أَنَّ طُنُبِي بِطُنُبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لَكَ مَا نَوَيْتَ" أَوْ قَالَ:" لَكَ أَجْرُ مَا نَوَيْتَ"، شُعْبَةُ يَقُولُ ذَلِكَ .
حضرت ابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک آدمی کا گھر مسجد نبوی سے دور تھا میرے خیال میں اس سے زیادہ دور کسی کا گھر نہیں تھا کسی نے اس سے کہا کہ اگر تم کوئی گدھا وغیرہ لے لیتے تو اچھا ہوتا اس نے کہا کہ مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میرا گھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے ملا ہوا ہو میں نے اس کے منہ سے اس سے زیادہ کوئی کراہت آمیز جملہ نہیں سنا تھا لیکن پھر پتہ چلا کہ اس کی مراد مسجد کی طرف دور سے چل کر آنے کا ثواب حاصل کرنا ہے چنانچہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے ہر قدم کے بدلے ایک درجہ ملے گا اور تمہیں وہی ملے گا جس کی تم نے نیت کی ہو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21215]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 663
حدیث نمبر: 21216
حَدَّثَنَا عَبْد الله، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ الْعَنْبَرِيِّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ: قَالَ أَبِي : حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مَا أَعْلَمُ مِنَ النَّاسِ مِنْ إِنْسَانٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِمَّنْ يُصَلِّي الْقِبْلَةَ أَبْعَدَ بَيْتًا مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْهُ، قَالَ: فَكَانَ يَحْضُرُ الصَّلَوَاتِ كُلَّهُنَّ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: لَوْ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا تَرْكَبُهُ فِي الرَّمْضَاءِ وَالظَّلْمَاءِ! قَالَ: وَاللَّهِ مَا أُحِبُّ أَنَّ بَيْتِي يَلْزَقُ بِمَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، لِكَيْمَا يُكْتَبَ أَثَرِي، وَرُجُوعِي إِلَى أَهْلِي، وَإِقْبَالِي إِلَيْهِ، أَوْ كَمَا قَالَ، قَالَ: " أَنْطَاكَ اللَّهُ ذَلِكَ كُلَّهُ"، أَوْ" أَعْطَاكَ مَا احْتَسَبْتَ أَجْمَعَ"، أَوْ كَمَا قَالَ .
حضرت ابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک آدمی کا گھر مسجد نبوی سے دور تھا میرے خیال میں اس سے زیادہ دور کسی کا گھر نہیں تھا کسی نے اس سے کہا کہ اگر تم کوئی گدھا وغیرہ لے لیتے تو اچھا ہوتا اس نے کہا کہ مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میرا گھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے ملا ہوا ہو میں نے اس کے منہ سے اس سے زیادہ کوئی کراہت آمیز جملہ نہیں سنا تھا لیکن پھر پتہ چلا کہ اس کی مراد مسجد کی طرف دور سے چل کر آنے کا ثواب حاصل کرنا ہے چنانچہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے ہر قدم کے بدلے ایک درجہ ملے گا اور تمہیں وہی ملے گا جس کی تم نے نیت کی ہو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21216]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 663
حدیث نمبر: 21217
حَدَّثَنَا عَبْد الله، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، بَيْتُهُ أَقْصَى بَيْتٍ فِي الْمَدِينَةِ، فَكَانَ لَا تَكَادُ تُخْطِئُهُ الصَّلَاةُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَتَوَجَّعْتُ لَهُ، فَقُلْتُ: يَا فُلَانُ، لَوْ أَنَّكَ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا يَقِيكَ مِنْ حَرِّ الرَّمْضَاءِ، وَيَقِيكَ مِنْ هَوَامِّ الْأَرْضِ! قَالَ: وَاللَّهِ مَا أُحِبُّ أَنَّ بَيْتِي بِطُنُبِ بَيْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَحَمَلْتُ حِمْلًا، حَتَّى أَتَيْتُ بِهِ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ فَدَعَاهُ، فَقَالَ: مِثْلَ ذَلِكَ، وَذَكَرَ أَنَّهُ يَرْجُو فِي أَثَرِهِ الْأَجْرَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لَكَ مَا احْتَسَبْتَ" .
حضرت ابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک آدمی کا گھر مسجد نبوی سے دور تھا میرے خیال میں اس سے زیادہ دور کسی کا گھر نہیں تھا کسی نے اس سے کہا کہ اگر تم کوئی گدھا وغیرہ لے لیتے تو اچھا ہوتا اس نے کہا کہ مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میرا گھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے ملا ہوا ہو میں نے اس کے منہ سے اس سے زیادہ کوئی کراہت آمیز جملہ نہیں سنا تھا لیکن پھر پتہ چلا کہ اس کی مراد مسجد کی طرف دور سے چل کر آنے کا ثواب حاصل کرنا ہے چنانچہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے ہر قدم کے بدلے ایک درجہ ملے گا اور تمہیں وہی ملے گا جس کی تم نے نیت کی ہو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21217]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 663
حدیث نمبر: 21218
حَدَّثَنَا عَبْدُ الله، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَبَّاسِ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أُبَيٍّ ، أَنَّ رَجُلًا اعْتَزَى فَأَعَضَّهُ أُبَيٌّ بِهَنِ أَبِيهِ، فَقَالُوا: مَا كُنْتَ فَحَّاشًا! قَالَ: إِنَّا أُمِرْنَا بِذَلِكَ .
ابو عثمان کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی کی طرف اپنی جھوٹی نسبت کی تو حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے اسے اس کے باپ کی شرمگاہ سے شرم دلائی لوگوں نے ان سے کہا کہ آپ تو ایسی کھلی گفتگو نہیں کرتے؟ انہوں نے فرمایا ہمیں اسی کا حکم دیا گیا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21218]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
942. حَدِيثُ أَبِي الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيِّ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 21219
حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُيَسَّرٍ الصَّاغَانِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ ، عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنَّ الْمُشْرِكِينَ قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا مُحَمَّدُ، انْسُبْ لَنَا رَبَّكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، اللَّهُ الصَّمَدُ، لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ سورة الإخلاص آية 1 - 1" .
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اے محمد! ہمارے سامنے اپنے رب کا نسب نامہ بیان کرو اس پر اللہ تعالیٰ نے سورت اخلاص نازل فرمائی کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دیجئے کہ وہ اللہ اکیلا ہے اللہ بےنیاز ہے، اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ ہی کوئی اس کا ہمسر ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21219]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف أبى سعد وأبي جعفر الرازي
حدیث نمبر: 21220
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَشِّرْ هَذِهِ الْأُمَّةَ بِالسَّنَاءِ وَالرِّفْعَةِ، وَالدِّينِ، وَالنَّصْرِ، وَالتَّمْكِينِ فِي الْأَرْضِ" وَهُوَ يَشُكُّ فِي السَّادِسَةِ، قَالَ:" فَمَنْ عَمِلَ مِنْهُمْ عَمَلَ الْآخِرَةِ لِلدُّنْيَا، لَمْ يَكُنْ لَهُ فِي الْآخِرَةِ نَصِيبٌ" ، قَالَ عَبْد اللَّهِ، قَالَ أَبِي: أَبُو سَلَمَةَ هَذَا الْمُغِيرَةُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَخُو عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُسْلِمٍ الْقَسْمَلِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْد الله، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ الْخُرَاسَانِيِّ ، عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس امت کو عظمت و رفعت، دین ونصرت اور زمین میں اقتدار کی خوشخبری دے دو (چھٹی چیز میں راوی کو شک ہے) سو جو ان میں سے آخرت کا عمل دنیا کے لئے کرے گا اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہوگا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21220]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي
حدیث نمبر: 21221
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ: (٥) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرِ الْمُقَدَّمِيُّ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ الْخُرَاسَانِي عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ عَنِ النبي مِثْلَهُ
الحكم على الحديث:
إسناده قوي
حدیث نمبر: 21222
وحَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد، قَالَ: وحَدَّثَنِي أَبُو الشَّعْثَاءِ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سُليْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُغِيرَةَ السَّرَّاجِ ، عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَشِّرْ هَذِهِ الْأُمَّةَ بِالسَّنَاءِ، وَالرِّفْعَةِ، وَالنَّصْرِ، وَالتَّمْكِينِ فِي الْأَرْضِ، فَمَنْ عَمِلَ مِنْهُمْ عَمَلَ الْآخِرَةِ لِلدُّنْيَا، لَمْ يَكُنْ لَهُ فِي الْآخِرَةِ نَصِيبٌ"، وَهَذَا لَفْظُ الْمُقَدَّمِيِّ .
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس امت کو عظمت و رفعت، دین و نصرت اور زمین میں اقتدار کی خوشخبری دے دو (چھٹی چیز میں راوی کو شک ہے) سو جو ان میں سے آخرت کا عمل دنیا کے لئے کرے گا اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہوگا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21222]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن