مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
946. حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 21263
حَدَّثَنَا عَبْدُ الله، حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ ، وَأَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُمْرَانَ الْحُمْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي جَعْفَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " يُوشِكُ الْفُرَاتُ أَنْ يَحْسِرَ، عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ.." فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21263]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 2895، وهذا إسناد حسن
947. حَدِيثُ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 21264
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جَمْرَةَ ، حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ قَتَادَةَ ، عَنْ قَيْسٍ يَعْنِي ابْنَ عُبَادٍ ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَسْقَطْتُهُ مِنْ كِتَابِي، هُوَ عَنْ قَيْسٍ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ إِيَاسَ بْنَ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ لِلُقِيِّ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَكُنْ فِيهِمْ رَجُلٌ أَلْقَاهُ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أُبَيٍّ ، فَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، وَخَرَجَ عُمَرُ مَعَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُمْتُ فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ فَجَاءَ رَجُلٌ، فَنَظَرَ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ، فَعَرَفَهُمْ غَيْرِي، فَنَحَّانِي وَقَامَ فِي مَكَانِي، فَمَا عَقِلْتُ صَلَاتِي فَلَمَّا صَلَّى، قَالَ: يَا بُنَيَّ لَا يَسُؤْكَ اللَّهُ، فَإِنِّي لَمْ آتِكَ الَّذِي أَتَيْتُكَ بِجَهَالَةٍ، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَنَا: " كُونُوا فِي الصَّفِّ الَّذِي يَلِينِي وَإِنِّي نَظَرْتُ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ فَعَرَفْتُهُمْ غَيْرَكَ"، ثُمَّ حَدَّثَ، فَمَا رَأَيْتُ الرِّجَالَ مَتَحَتْ أَعْنَاقَهَا إِلَى شَيْءٍ مُتُوحَهَا إِلَيْهِ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: هَلَكَ أَهْلُ الْعُقْدَةِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، أَلَا لَا عَلَيْهِمْ آسَى، وَلَكِنْ آسَى عَلَى مَنْ يَهْلِكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَإِذَا هُوَ أُبَيٌّ، وَالْحَدِيثُ عَلَى لَفْظِ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُد .
قیس بن عباد کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کر امی رضی اللہ عنہ سے ملاقات کے شوق میں ایک مرتبہ مدینہ منورہ حاضر ہوا ان میں سے جس سے ملنے کی مجھے سب سے زیادہ خواہش تھی وہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی کے متعلق نہ تھی چنانچہ اقامت ہوئی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ باہر نکلے تو میں پہلی صف میں کھڑا ہوگیا اسی دوران ایک آدمی آیا اور سب لوگوں کے چہروں کو دیکھا تو اس نے میرے علاوہ سب کو شناخت کرلیا چنانچہ اس نے مجھے ایک طرف کیا اور خود میری جگہ کھڑا ہوگیا مجھے اپنی نماز کی کچھ سمجھ نہ آئی کہ میں نے وہ کس طرح پڑھی۔ نماز سے فارغ ہو کر اس نے مجھ سے کہا بیٹا! برا نہ منانا میں نے تمہارے ساتھ یہ معاملہ کسی جہالت کی وجہ سے نہیں کیا بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا ہے کہ میرے قریب کی صف میں کھڑے ہوا کرو میں نے جب لوگوں کو دیکھا تو تمہارے علاوہ سب کو پہچان لیا پھر انہوں نے ایک حدیث بیان کی جس کے دوران میں نے لوگوں کی گردنیں ان کی طرف جس طرح متوجہ ہوتے ہوئے دیکھیں کسی اور چیز کی طرف نہیں دیکھیں انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے رب کعبہ کی قسم اہل حل و عقد ہلاک ہوگئے یاد رکھو مجھے ان پر کوئی افسوس نہیں مجھے افسوس تو ان مسلمانوں پر ہے جو ان کی وجہ سے ہلاک ہوگئے بعد میں پتہ چلا کہ وہ آدمی حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہی تھے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21264]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
948. حَدِيثُ أَبِي بَصِيرٍ الْعَبْدِيِّ وَابْنهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَصِيرٍ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 21265
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي بَصِيرٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنَّهُ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ، فَقَالَ شَاهِدٌ فُلَانٌ؟ فَقَالُوا: لَا، فَقَالَ:" شَاهِدٌ فُلَانٌ"، فَقَالُوا: لَا، فَقَالَ:" شَاهِدٌ فُلَانٌ"، فَقَالُوا: لَا، فَقَالَ: " إِنَّ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ مِنْ أَثْقَلِ الصَّلَوَاتِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا، لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا، وَالصَّفُّ الْمُقَدَّمُ عَلَى مِثْلِ صَفِّ الْمَلَائِكَةِ، وَلَوْ تَعْلَمُونَ فَضِيلَتَهُ، لَابْتَدَرْتُمُوهُ، وَصَلاةُ الرَّجُلُ مَعَ الرَّجُلُ أَزْكَى مِنْ صَلاَتِهِ وَحَدَهُ، وَصَلَاتُهُ مَعَ رَّجُلَيْنِ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِهِ مَعَ رَجُلٍ، وَمَا كَانَ أَكْثَرَ فَهُوَ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ" .
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھائی تو نماز کے بعد باری باری کچھ لوگوں کے نام لے کر پوچھا کہ فلاں آدمی موجود ہے؟ لوگوں نے ہر مرتبہ جواب دیا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دونوں نمازیں (عشاء اور فجر) منافقین پر سب سے زیادہ بھاری ہوتی ہیں اگر انہیں ان کے ثواب کا پتہ چل جائے تو ضرور ان میں شرکت کریں اگرچہ انہیں گھسیٹ کر ہی آنا پڑے اور پہلی صف فرشتوں کی صف کی طرح ہوتی ہے اگر تم اس کی فضیلت جان لو تو اس کی طرف سبقت کرنے لگو اور انسان کی دوسرے کے ساتھ نماز (تنہا نماز پڑھنے سے اور دو آدمیوں کے ساتھ نماز پڑھنا) ایک آدمی کے ساتھ نماز پڑھنے سے زیادہ افضل ہے اور پھر جتنی تعداد بڑھتی جائے وہ اتنی ہی اللہ کی نگاہوں میں محبوب ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21265]
الحكم على الحديث:
حديث حسن، عبدالله بن أبى بصير توبع
حدیث نمبر: 21266
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَصِيرٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ، فَلَمَّا صَلَّى، قَالَ:" شَاهِدٌ فُلَانٌ؟" فَسَكَتَ الْقَوْمُ، قَالُوا: نَعَمْ، وَلَمْ يَحْضُرْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَثْقَلَ الصَّلَاةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ صَلَاةُ الْعِشَاءِ وَالْفَجْرِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا، لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا، وَإِنَّ الصَّفَّ الْأَوَّلَ عَلَى مِثْلِ صَفِّ الْمَلَائِكَةِ، وَلَوْ تَعْلَمُونَ فَضِيلَتَهُ لَابْتَدَرْتُمُوهُ، إِنَّ صَلَاتَكَ مَعَ رَجُلَيْنِ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِكَ مَعَ رَجُلٍ، وَصَلَاتَكَ مَعَ رَجُلٍ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِكَ وَحْدَكَ، وَمَا كَثُرَ فَهُوَ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ"، قَالَ وَكِيعٌ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَصِيرٍ عَنْمِيٌّ..
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھائی تو نماز کے بعد باری باری کچھ لوگوں کے نام لے کر پوچھا کہ فلاں آدمی موجود ہے؟ لوگوں نے ہر مرتبہ جواب دیا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دونوں نمازیں (عشاء اور فجر) منافقین پر سب سے زیادہ بھاری ہوتی ہیں اگر انہیں ان کے ثواب کا پتہ چل جائے تو ضرور ان میں شرکت کریں اگرچہ انہیں گھسٹ کر ہی آنا پڑے اور پہلی صف فرشتوں کی صف کی طرح ہوتی ہے اگر تم اس کی فضیلت جان لو تو اس کی طرف سبقت کرنے لگو اور انسان کی دوسرے کے ساتھ نماز (تنہا نماز پڑھنے سے اور دو آدمیوں کے ساتھ نماز پڑھنا) ایک آدمی کے ساتھ نماز پڑھنے سے زیادہ افضل ہے اور پھر جتنی تعداد بڑھتی جائے وہ اتنی ہی اللہ کی نگاہوں میں محبوب ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21266]
الحكم على الحديث:
حديث حسن، عبدالله بن أبى بصير توبع
حدیث نمبر: 21267
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَصِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ، وَمِنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ، يَقُولُ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ يَوْمًا، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ..
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21267]
الحكم على الحديث:
حديث حسن، عبدالله بن أبى بصير توبع
حدیث نمبر: 21268
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوْنٍ الزِّيَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَصِيرٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ..
الحكم على الحديث:
حديث حسن، عبدالله بن أبى بصير توبع
حدیث نمبر: 21269
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ مُظَفَّرُ بْنُ مُدْرِكٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَصِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَلَقِيتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، فَقُلْتُ أَبَا الْمُنْذِرِ، حَدِّثْنِي أَعْجَبَ حَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: صَلَّى بِنَا أَوْ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْغَدَاةِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ:" شَاهِدٌ فُلَانٌ؟" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ..
الحكم على الحديث:
حديث حسن، عبدالله بن أبى بصير توبع
حدیث نمبر: 21270
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَصِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَلَقِيتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، فَذَكَرَ مِثْلَ ذَلِكَ..
الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف يحيى بن عبدالله
حدیث نمبر: 21271
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بَصِيرٍ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: صَلَّى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَدَاةَ، ثُمَّ قَالَ:" شَاهِدٌ فُلَانٌ؟" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 21272
حَدَّثَنَا عَبْدُ الله، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَصِيرٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي الْعِشَاءِ وَصَلَاةِ الْغَدَاةِ مِنَ الْفَضْلِ فِي جَمَاعَةٍ، لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا"..
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر لوگوں کو نماز عشاء اور نماز فجر جماعت کے ساتھ پڑھنے کا ثواب کا پتہ چل جائے تو ضرور ان میں شرکت کریں اگرچہ انہیں گھسٹ کر ہی آنا پڑے۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھائی تو نماز کے بعد باری باری کچھ لوگوں کے نام لے کر پوچھا کہ فلاں آدمی موجود ہے؟ لوگوں نے ہر مرتبہ جواب دیا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دونوں نمازیں (عشاء اور فجر) منافقین پر سب سے زیادہ بھاری ہوتی ہیں اگر انہیں ان کے ثواب کا پتہ چل جائے تو ضرور ان میں شرکت کریں اگرچہ انہیں گھسٹ کر ہی آنا پڑے۔۔۔۔۔۔۔ پھر روای نے پوری حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21272]
الحكم على الحديث:
حديث حسن، عبدالله بن أبى بصير توبع