🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1115. حَدِيثُ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23798
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مَعْرُوفٌ الْمَكِّيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ عَامِرَ بْنَ وَاثِلَةَ ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ، " يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عَلَى رَاحِلَتِهِ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِمِحْجَنِهِ" .
حضرت ابوالطفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے اس وقت میں بالکل نوجوان تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے اور اپنی چھڑی سے حجر اسود کا استلام کر رہے تھے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23798]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، م: 1275 ، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23799
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُمَيْعٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: قَالَ لِي أَبُو الطُّفَيْلِ : " أَدْرَكْتُ ثَمَانِ سِنِينَ مِنْ حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَوُلِدْتُ عَامَ أُحُدٍ" .
حضرت ابوالطفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کے آٹھ سال پائے ہیں اور میں غزوہ احد کے سال پیدا ہوا تھا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23799]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23800
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أخبر مَعْمَرٌ ، عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، وَذَكَرَ بِنَاءَ الْكَعْبَةِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَ:" فَهَدَمَتْهَا قُرَيْشٌ، وَجَعَلُوا يَبْنُونَهَا بِحِجَارَةِ الْوَادِي تَحْمِلُهَا قُرَيْشٌ عَلَى رِقَابِهَا، فَرَفَعُوهَا فِي السَّمَاءِ عِشْرِينَ ذِرَاعًا، فَبَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُ حِجَارَةً مِنْ أَجْيَادٍ وَعَلَيْهِ نَمِرَةٌ، فَضَاقَتْ عَلَيْهِ النَّمِرَةُ، فَذَهَبَ يَضَعُ النَّمِرَةَ عَلَى عَاتِقِهِ، فَيُرَى عَوْرَتُهُ مِنْ صِغَرِ النَّمِرَةِ، فَنُودِيَ: يَا مُحَمَّدُ، خَمِّرْ عَوْرَتَكَ، فَلَمْ يُرَى عُرْيَانًا بَعْدَ ذَلِكَ" .
حضرت ابوالطفیل رضی اللہ عنہ سے (زمانہ جاہلیت میں بناء کعبہ کا تذکرہ کرتے ہوئے) مروی ہے کہ جب بیت اللہ کی تعمیر شروع ہوئی (تو قریش نے پہلے اسے مکمل منہدم کیا اور وادی کے پتھروں سے اس کی تعمیر شروع کردی) لوگ وہ پتھر اٹھا اٹھا کر لارہے تھے جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی شامل تھے (قریش نے اسے بیس گز لمبا رکھا تھا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونی چادر پہن رکھی تھی لیکن پتھر اٹھانے کے دوران اسے سنبھالنا مشکل ہوگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چادر کو اپنے کندھے پر ڈال لیا اس وقت کسی نے پکار کر کہا کہ اپنا ستر چھپائیے چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پتھر پھینکا اور اپنی چادراوڑھ لی۔ صلی اللہ علیہ وسلم [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23800]

الحكم على الحديث:
إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23801
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنِّي أَنْزِعُ أَرْضًا، وَرَدَتْ عَلَيَّ وَغَنَمٌ سُودٌ وَغَنَمٌ عُفْرٌ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ وَفِيهِمَا ضَعْفٌ، وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ فَنَزَعَ فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا فَمَلَأَ الْحَوْضَ وَأَرْوَى الْوَارِدَةَ، فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا أَحْسَنَ نَزْعًا مِنْ عُمَرَ، فَأَوَّلْتُ أَنَّ السُّودَ الْعَرَبُ، وَأَنَّ الْعُفْرَ الْعَجَمُ" .
حضرت ابوالطفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے میں ایک علاقے میں ہوں اور میرے پاس کچھ سیاہ اور کچھ سفید بکریاں آئی ہیں تھوڑی دیر بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے ایک دو ڈول کھینچے جن میں کچھ کمزوری تھی اللہ انہیں معاف کر دے پھر عمر رضی اللہ عنہ آئے اور وہ ان کے ہاتھ میں ڈول بن گیا اور انہوں نے حوض بھر دیا اور آنے والوں کو سیراب کردیا میں نے عمر سے زیادہ اچھا ڈول کھینچنے والا کوئی عقبری آدمی نہیں دیکھا اور میں نے اس خواب کی تعبیر یہ لی ہے کہ سیاہ بکریوں سے مراد عرب ہیں اور سفید بکریوں سے مراد اہل عجم ہیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23801]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23802
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَمَلَ مِنَ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ" .
حضرت ابوالطفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود سے حجر اسود تک تین چکروں میں رمل کیا تھا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23802]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل عبيدالله بن أبى زياد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23803
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ مُظَفَّرُ بْنُ مُدْرِكٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ ، أَنَّ رَجُلًا مَرَّ عَلَى قَوْمٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، فَرَدُّوا عَلَيْهِ السَّلَامَ، فَلَمَّا جَاوَزَهُمْ، قَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأُبْغِضُ هَذَا فِي اللَّهِ، فَقَالَ أَهْلُ الْمَجْلِسِ: بِئْسَ وَاللَّهِ مَا قُلْتَ، أَمَا وَاللَّهِ لَنُنَبِّئَنَّهُ، قُمْ يَا فُلَانُ رَجُلًا مِنْهُمْ فَأَخْبِرْهُ، قَالَ: فَأَدْرَكَهُ رَسُولُهُمْ، فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَ، فَانْصَرَفَ الرَّجُلُ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَرَرْتُ بِمَجْلِسٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فِيهِمْ فُلَانٌ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِمْ فَرَدُّوا السَّلَامَ، فَلَمَّا جَاوَزْتُهُمْ أَدْرَكَنِي رَجُلٌ مِنْهُمْ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ فُلَانًا، قَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأُبْغِضُ هَذَا الرَّجُلَ فِي اللَّهِ، فَادْعُهُ فَسَلْهُ عَلَى مَا يُبْغِضُنِي؟ فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَمَّا أَخْبَرَهُ الرَّجُلُ، فَاعْتَرَفَ بِذَلِكَ، وَقَالَ: قَدْ قُلْتُ لَهُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَلِمَ تُبْغِضُهُ؟" قَالَ: أَنَا جَارُهُ وَأَنَا بِهِ خَابِرٌ، وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُهُ يُصَلِّي صَلَاةً قَطُّ إِلَّا هَذِهِ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ الَّتِي يُصَلِّيهَا الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ، قَالَ الرَّجُلُ: سَلْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ: هَلْ رَآنِي قَطُّ أَخَّرْتُهَا عَنْ وَقْتِهَا، أَوْ أَسَأْتُ الْوُضُوءَ لَهَا، أَوْ أَسَأْتُ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فِيهَا؟ فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: لَا، ثُمَّ قَالَ: وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُهُ يَصُومُ قَطُّ إِلَّا هَذَا الشَّهْرَ الَّذِي يَصُومُهُ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ رَآنِي قَطُّ أَفْطَرْتُ فِيهِ، أَوْ انْتَقَصْتُ مِنْ حَقِّهِ شَيْئًا؟ فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَا، ثُمَّ قَالَ: وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُهُ يُعْطِي سَائِلًا قَطُّ، وَلَا رَأَيْتُهُ يُنْفِقُ مِنْ مَالِهِ شَيْئًا فِي شَيْءٍ مِنْ سَبِيلِ اللَّهِ بِخَيْرٍ إِلَّا هَذِهِ الصَّدَقَةَ الَّتِي يُؤَدِّيهَا الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ، قَالَ: فَسَلْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ: هَلْ كَتَمْتُ مِنَ الزَّكَاةِ شَيْئًا قَطُّ، أَوْ مَاكَسْتُ فِيهَا طَالِبَهَا؟ قَالَ: فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: لَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُمْ، إِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ خَيْرٌ مِنْكَ" ..
حضرت ابوالطفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی کچھ لوگوں کے پاس سے گذرا اس نے انہیں سلام کیا لوگوں نے اس کے سلام کا جواب دیا جب وہ آدمی آگے بڑھ گیا تو ان لوگوں میں سے ایک نے کہا کہ بخدا! میں اللہ کی راہ میں اس سے بغض رکھتا ہوں اہل مجلس نے اس سے کہا کہ تم نے بہت بری بات کی ہے بخدا! ہم اسے یہ بات ضروربتائیں گے، پھر ایک آدمی سے کہا کہ اے فلاں! کھڑا ہو اور جا کر اسے یہ بات بتادے چناچہ قاصد نے اسے جالیا اور یہ بات بتادی وہ آدمی وہاں سے پلٹ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! مسلمانوں کی ایک مجلس پر میرا گذر ہوا میں نے انہیں سلام کیا ان میں فلاں آدمی بھی تھا ان سب نے میرے سلام کا جواب دیا جب میں آگے بڑھ گیا تو ان میں سے ایک آدمی میرے پاس آیا اور اس نے مجھے بتایا کہ فلاں آدمی کا یہ کہنا ہے کہ میں اس سے بغض فی اللہ رکھتا ہوں آپ اسے بلا کر پوچھئے کہ وہ مجھ سے کس بنا پر بغض رکھتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور اس بات کے متعلق دریافت فرمایا اس نے اپنی بات کا اعتراف کرلیا اور کہا کہ یا رسول اللہ! میں نے یہ بات کہی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس سے بغض کیوں رکھتے ہو؟ اس نے کہا کہ میں اس کا پڑوسی ہوں اور اس کے حالات سے باخبر ہوں بخدا! میں نے اسے اس فرض نماز جسے نیک اور فاجر لوگ ہی پڑھتے ہیں کے علاوہ کبھی کوئی نماز نہیں پڑھتے ہوئے دیکھا اس شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس سے پوچھئے کہ کیا اس نے مجھے کبھی بھی نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ وضو غلط کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ یا رکوع و سجود میں کبھی غلطی کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پوچھنے پر اس نے کہا نہیں پھر کہنے لگا میں نے اسے کبھی روزہ رکھتے ہوئے نہیں دیکھا سوائے اس مہینے کے جس کا روزہ نیک اور فاجر ہی رکھتے ہیں اس نے کہا یا رسول اللہ! اس سے پوچھئے کہ کیا کبھی اس نے مجھے اس مہینے میں کسی دن روزے کا ناغہ کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ یا میں نے اس کے حق میں کوئی کمی کی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا نہیں۔ پھر اس نے کہا کہ واللہ میں نے اسے کبھی کسی سائل کو کچھ دیتے ہوئے نہیں دیکھا اور میں نے اسے اپنے مال میں سے اللہ کے راستہ میں کچھ خرچ کرتے ہوئے نہیں دیکھا سوائے اس زکوٰۃ کے جو نیک اور فاجر ہی ادا کرتے ہیں اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ اس سے پوچھئے کہ کی میں نے زکوٰۃ کا مال چھپایا ہے؟ یا اسے طلب کرنے والے کو کم دیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پوچھنے پر اس نے کہا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معترض سے فرمایا کہ اٹھ جاؤ میں نہیں جانتا شاید یہی تم سے بہتر ہو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23803]

الحكم على الحديث:
ضعيف لإرساله، فالصواب أنه من مراسيل الزهري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23804
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَجُلًا فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى قَوْمٍ.... وَلَمْ يَذْكُرْ أَبَا الطُّفَيْلِ، قَالَ عَبْد اللَّهِ: بَلَغَنِي أَنَّ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدٍ حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ مِنْ حِفْظِهِ، وَقَالَ: عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، حَدَّثَ بِهِ ابْنُهُ يَعْقُوبُ، عَنْ أَبِيهِ فَلَمْ يَذْكُرْ أَبَا الطُّفَيْلِ، فَأَحْسِبُهُ وَهِمَ، وَالصَّحِيحُ رِوَايَةُ يَعْقُوبَ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23804]

الحكم على الحديث:
ضعيف لإرساله، فالصواب أنه من مراسيل الزهري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23805
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، أَنَّ رَجُلًا وُلِدَ لَهُ غُلَامٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَأَخَذَ بِبَشَرَةِ وَجْهِهِ وَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ"، قَالَ: فَنَبَتَتْ شَعَرَةٌ فِي جَبْهَتِهِ كَهَيْئَةِ الْقَوْسِ، وَشَبَّ الْغُلَامُ، فَلَمَّا كَانَ زَمَنُ الْخَوَارِجِ أَحَبَّهُمْ، فَسَقَطَتْ الشَّعَرَةُ عَنْ جَبْهَتِهِ، فَأَخَذَهُ أَبُوهُ فَقَيَّدَهُ وَحَبَسَهُ مَخَافَةَ أَنْ يَلْحَقَ بِهِمْ، قَالَ: فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فَوَعَظْنَاهُ، وَقُلْنَا لَهُ فِيمَا نَقُولُ: أَلَمْ تَرَ أَنَّ بَرَكَةَ دَعْوَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ وَقَعَتْ عَنْ جَبْهَتِكَ؟ فَمَا زِلْنَا بِهِ حَتَّى رَجَعَ عَنْ رَأْيِهِمْ، فَرَدَّ اللَّهُ عَلَيْهِ الشَّعَرَةَ بَعْدُ فِي جَبْهَتِهِ وَتَابَ .
حضرت ابوالطفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عہد نبوت میں ایک آدمی کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا وہ شخص اپنے بچے کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پیشانی پر ہاتھ پھیرا اور اس کے لئے برکت کی دعا کی چناچہ اس بچے کی پیشانی پر کمان کی طرح ایک بال اگ آیا وہ لڑکا جوان ہوگیا جب خوارج کا زمانہ آیا تو وہ خوراج سے محبت رکھنے لگا جس کی نحوست یہ ہوئی کہ اس کی پیشانی کا وہ بال جھڑ گیا اس کے باپ نے اسے پکڑ کر اسے پاؤں میں بیڑی ڈال کر بند کردیا تاکہ وہ خوارج کے ساتھ ہی جا نہ ملے ایک دن ہم لوگ اس کے پاس گئے اور اسے سمجھایا اور بہت ساری باتوں کے علاوہ اس سے یہ بھی کہا کہ تم یہ نہیں دیکھ رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی برکت تمہاری پیشانی سے جھڑگئی ہے ہم اسے مسلسل سمجھاتے رہے حتٰی کہ وہ ان کی رائے سے باز آگیا اور کچھ عرصے بعد اللہ نے اس کی پیشانی پر دوبارہ وہ بال اگا دیا اور اس نے توبہ کرلی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23805]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف على بن زيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23806
حَدَّثَنَا يَعْمَرُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَمَلَ ثَلَاثًا مِنَ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ" .
حضرت ابوالطفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود سے حجر اسود تک تین چکروں میں رمل کیا تھا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23806]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل عبيدالله بن أبى زياد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1116. حَدِيثُ نَوْفَلٍ الْأَشْجَعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23807
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: دَفَعَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَةَ أُمِّ سَلَمَةَ، وَقَالَ:" إِنَّمَا أَنْتَ ظِئْرِي"، قَالَ: فَمَكَثَ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ:" مَا فَعَلَتْ الْجَارِيَةُ أَوْ الْجُوَيْرِيَةُ؟" قَالَ: قُلْتُ: عِنْدَ أُمِّهَا، قَالَ:" فَمَجِيءُ مَا جِئْتَ؟" قَالَ: قُلْتُ: تُعَلِّمُنِي مَا أَقُولُ عِنْدَ مَنَامِي، فَقَالَ: " اقْرَأْ عِنْدَ مَنَامِكَ: قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ قَالَ: ثُمَّ نَمْ عَلَى خَاتِمَتِهَا، فَإِنَّهَا بَرَاءَةٌ مِنَ الشِّرْكِ" .
حضرت نوفل اشجعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی میرے حوالے کرتے ہوئے فرمایا کہ میری طرف سے اس کی پرورش تمہارے ذمے ہے کچھ عرصے بعد میں دوبارہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ اس بچی کا کیا بنا؟ میں نے کہا کہ وہ اپنی ماں کے پاس ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیسے آنا ہوا؟ میں نے عرض کیا کہ آپ مجھے کوئی دعاء سکھا دیجئے جو میں سوتے وقت پڑھ لیا کروں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورت الکافرون پڑھ لیا کرو اور اس آخری آیت پڑھتے پڑھتے سو جایا کرو کہ یہ شرک سے برأت کا اعلان ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23807]

الحكم على الحديث:
حديث حسن على اضطراب فى إسناده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں