🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1119. حَدِيثُ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23838
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ يُوسُفَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، يَقُولُ: " سَمَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوسُفَ" .
حضرت یوسف بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرا نام " یوسف " نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھا تھا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23838]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال النضر بن قيس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1120. حَدِيثُ الْوَلِيدِ بْنِ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23839
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْوَلِيدِ ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَجِدُ وَحْشَةً، قَالَ:" فَإِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ، فَقُلْ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ، وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ، فَإِنَّهُ لَا يَضُرُّكَ، وَبِالْحَرِيِّ أَنْ لَا يَقْرَبَكَ" .
حضرت ولید بن ولید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! بعض اوقات مجھے انجانی وحشت محسوس ہوتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم اپنے بستر پر لیٹا کرو تو یہ کلمات کہہ لیا کرو " اعوذ بکلمات اللہ التامات من غضبہ و عقابہ وشر عبادہ ومن ہمزات الشیاطین وان یحضرون " تمہیں کوئی چیز نقصان نہ پہنچا سکے گی بلکہ تمہارے قریب بھی نہیں آئے گی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23839]

الحكم على الحديث:
حديث محتمل للتحسين بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، محمد ابن حبان لم يدرك الوليد بن الوليد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1121. حَدِيثُ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23840
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ عَنْ صَدَقَةِ الْفِطْرِ، فَقَالَ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الزَّكَاةُ، ثُمَّ نَزَلَتْ الزَّكَاةُ، فَلَمْ نُنْهَ عَنْهَا، وَلَمْ نُؤْمَرْ بِهَا، وَنَحْنُ نَفْعَلُهُ" . وَسَأَلْتُهُ عَنْ صَوْمِ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ رَمَضَانُ، ثُمَّ نَزَلَ رَمَضَانُ، فَلَمْ نُؤْمَرْ بِهِ، وَلَمْ نُنْهَ عَنْهُ، وَنَحْنُ نَفْعَلُهُ" .
حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ زکوٰۃ کا حکم نازل ہونے سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ فطر کی ادائیگی کا حکم دیتے تھے جب زکوٰۃ کا حکم نازل ہوگیا تو ہمیں اس سے منع کیا گیا اور نہ حکم دیا گیا البتہ ہم اسے ادا کرتے رہے اور ماہ رمضان کے روزوں کا حکم نازل ہونے سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یوم عاشورہ کا روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا جب ماہ رمضان کے روزوں کا حکم نازل ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عاشورہ کا روزہ رکھنے کا حکم دیا اور نہ ہی روکا البتہ ہم خود ہی رکھتے رہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23840]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23841
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ قَيْسَ بْنَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ شَدَّدَ سُلْطَانَهُ بِمَعْصِيَةِ اللَّهِ، أَوْهَنَ اللَّهُ كَيْدَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
حضرت قیس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ کی نافرمانی پر اپنے حکمران کو درست قرار دیتا ہے قیامت کے دن اللہ اس کی تدبیر کو کمزور کر دے گا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23841]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، ولانقطاعه بين يزيد بن أبى حبيب و قيس بن سعد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23842
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ ، وَقَيْسَ بْنَ سَعْدٍ ، كَانَا قَاعِدَيْنِ بِالْقَادِسِيَّةِ فَمَرُّوا بِجِنَازَةٍ، فَقَامَا، فَقِيلَ: إِنَّمَا هُوَ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ! فَقَالَا: إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرُّوا عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ فَقَامَ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهُ يَهُودِيٌّ! فَقَالَ:" أَلَيْسَتْ نَفْسًا" .
حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ اور قیس بن سعد رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ قادسیہ میں بیٹھے ہوئے تھے اسی اثناء میں کچھ لوگ ایک جنازہ لے کر گذرے یہ دونوں کھڑے ہوگئے کسی نے کہا کہ یہ اسی علاقے کے رہنے والوں میں سے تھا انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ لے کر گذرے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے کسی نے کہا کہ یہ تو یہودی تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا وہ انسان نہیں تھا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23842]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1312، م: 961
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23843
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَدَقَةِ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الزَّكَاةُ، فَلَمَّا نَزَلَتْ الزَّكَاةُ لَمْ يَأْمُرْنَا وَلَمْ يَنْهَنَا، وَنَحْنُ نَفْعَلُهَا" .
حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ زکوٰۃ کا حکم نازل ہونے سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ فطر کی ادائیگی کا حکم دیا تھا جب زکوٰۃ کا حکم نازل ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صدقہ فطر ادا کرنے کا حکم دیا اور نہ ہی روکا البتہ ہم خود ہی ادا کرتے رہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23843]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23844
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: أَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَضَعْنَا لَهُ غُسْلًا فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ أَتَيْنَاهُ بِمِلْحَفَةٍ وَرْسِيَّةٍ، فَاشْتَمَلَ بِهَا، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَثَرِ الْوَرْسِ عَلَى عُكَنِهِ، ثُمَّ أَتَيْنَاهُ بِحِمَارٍ لِيَرْكَبَ، فَقَالَ: " صَاحِبُ الْحِمَارِ أَحَقُّ بِصَدْرِ حِمَارِهِ" فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَالْحِمَارُ لَكَ .
حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لائے ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے غسل کا پانی رکھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا پھر ہم اس سے رنگا ہو ایک لحاف لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اوپر لپیٹ لیا اس کے نشانات جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ کی سلوٹوں پر پڑے تو اس کا منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے پھر ہم سواری کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک گدھا لے کر آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سواری کا مالک آگے بیٹھنے کا زیادہ حقدار ہے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! پھر یہ سواری آپ ہی کی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23844]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف من أجل ابن أبى ليلى، ومحمد بن شرحبيل مجهول
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1122. حَدِيثُ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23845
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ شُعْبَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ يُحَدِّثُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، أَنَّ أُمَّهُ مَاتَتْ، فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" سَقْيُ الْمَاءِ" ، قَالَ: فَتِلْكَ سِقَايَةُ آلِ سَعْدٍ بِالْمَدِينَةِ، قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ: مَنْ يَقُولُ تِلْكَ سِقَايَةُ آلِ سَعْدٍ؟ قَالَ الْحَسَنُ.
حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کی والدہ فوت ہوئیں تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ! میری والدہ فوت ہوگئی ہیں کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کرسکتا ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! انہوں نے پوچھا کہ پھر کون سا صدقہ سب سے افضل ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی پلانا، راوی کہتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں آل سعد کے پانی پلانے کی اصل وجہ یہی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23845]

الحكم على الحديث:
إسناده منقطع، الحسن لم يدرك سعدا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23846
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ أَبُو دَاوُدَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا نَذْرٌ، أَفَيُجْزِئُ عَنْهَا أَنْ أُعْتِقَ عَنْهَا؟ قَالَ: " أَعْتِقْ عَنْ أُمِّكَ" .
حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میری والدہ فوت ہوگئی ہیں انہوں نے منت مان رکھی تھی کیا ان کی طرف سے میرا کسی غلام کو آزاد کرنا کفایت کر جائے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنی والدہ کی طرف سے غلام آزاد کرسکتے ہو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23846]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وفي رواية سليمان بن كثير عن الزهري مقال، لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23847
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي شُمَيْلَةَ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ ، عَنْ سَعِيدٍ الصَّرَّافِ أَوْ هُوَ سَعِيدٌ الصَّرَّافُ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنَ الْأَنْصَارِ مِحْنَةٌ، حُبُّهُمْ إِيمَانٌ وَبُغْضُهُمْ نِفَاقٌ" ، قَالَ عَفَّانُ: وَقَدْ حَدَّثَنَا بِهِ مَرَّةً وَلَيْسَ فِيهِ شَكٌّ، أَمَلَّهُ عَلَيَّ أَوَّلًا عَلَى الصِّحَّةِ.
حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انصار کا یہ قبیلہ ایک آزمائش ہے یعنی ان سے محبت ایمان کی علامت ہے اور ان سے نفرت نفاق کی علامت ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 23847]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، عبدالرحمن بن أبى شميلة و من فوقه مستورون
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں