🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
950. حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21551
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا أَبُو السَّلِيلِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتْلُو عَلَيَّ هَذِهِ الْآيَةَ وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا سورة الطلاق آية 2، حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْآيَةِ، ثُمَّ قَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، لَوْ أَنَّ النَّاسَ كُلَّهُمْ أَخَذُوا بِهَا لَكَفَتْهُمْ"، قَالَ: فَجَعَلَ يَتْلُوِهَا، وَيُرَدِّدُهَا عَلَيَّ حَتَّى نَعَسْتُ، ثُمَّ قَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، كَيْفَ تَصْنَعُ إِنْ أُخْرِجْتَ مِنَ الْمَدِينَةِ؟" قَالَ: قُلْتُ: إِلَى السَّعَةِ وَالدَّعَةِ، أَنْطَلِقُ حَتَّى أَكُونَ حَمَامَةً مِنْ حَمَامِ مَكَّةَ، قَالَ:" كَيْفَ تَصْنَعُ إِنْ أُخْرِجْتَ مِنْ مَكَّةَ؟" قَالَ: قُلْتُ: إِلَى السَّعَةِ وَالدَّعَةِ، إِلَى الشَّامِ وَالْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ، قَالَ:" كَيْفَ تَصْنَعُ إِنْ أُخْرِجْتَ مِنَ الشَّامِ؟" قَالَ: قُلْتُ: إِذًا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ أَضَعَ سَيْفِي عَلَى عَاتِقِي، قَالَ:" أَوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ؟" قَالَ: قُلْتُ: أَوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ؟! قَالَ:" تَسْمَعُ وَتُطِيعُ وَإِنْ كَانَ عَبْدًا حَبَشِيًّا" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے سامنے یہ آیت تلاوت فرمانے لگے ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا یہاں تک کہ اس سے فارغ ہوگئے پھر فرمایا اے ابوذر رضی اللہ عنہ اگر ساری انسانیت بھی اس پر عمل کرنے لگے تو یہ آیت انہیں بھی کافی ہوجائے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی مرتبہ اسے میرے سامنے دہرایا کہ اس کے سحر سے مجھ پر اونگھ طاری ہونے لگی، پھر فرمایا اے ابوذر! جب تمہیں مدینہ منورہ سے نکال دیا جائے گا تو تم کیا کرو گے؟ میں نے عرض کیا کہ گنجائش کا پہلو اختیار کر کے میں اسے چھوڑ دوں گا اور جا کر حرم مکہ کا کبوتر بن جاؤں گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہیں وہاں سے بھی نکال دیا گیا تو کیا کرو گے؟ عرض کیا کہ پھر بھی وسعت کا پہلو اختیار کر کے اسے چھوڑ کر شام اور ارض مقدس چلا جاؤں گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہیں شام سے بھی نکال دیا گیا تو کیا کرو گے؟ میں نے عرض کیا کہ پھر اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اپنی تلوار اپنے کندھے پر رکھ لوں گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں اس سے بہتر طریقہ نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کیا کہ کیا اس سے بہتر طریقہ بھی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم بات سننا اور مانتے رہنا اگرچہ تمہارا حکمران کوئی حبشی غلام ہی ہو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21551]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو السليل لم يدرك أبا ذر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21552
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّامِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْخَشْخَاشِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ لِي:" يَا أَبَا ذَرٍّ، هَلْ صَلَّيْتَ؟" قُلْتُ: لَا، قَالَ:" قُمْ فَصَلِّ"، قَالَ: فَقُمْتُ فَصَلَّيْتُ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، اسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ شَيَاطِينِ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَهَلْ لِلْإِنْسِ مِنْ شَيَاطِينَ؟ قَالَ:" نَعَمْ، يَا أَبَا ذَرٍّ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟" قَالَ: قُلْتُ: بَلَى بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، قَالَ:" قُلْ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، فَإِنَّهَا كَنْزٌ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا الصَّلَاةُ؟ قَالَ:" خَيْرٌ مَوْضُوعٌ، فَمَنْ شَاءَ أَكْثَرَ وَمَنْ شَاءَ أَقَلَّ"، قَالَ: قُلْتُ: فَمَا الصِّيَامُ، يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" فَرْضٌ مُجْزِئٌ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا الصَّدَقَةُ؟ قَالَ:" أَضْعَافٌ مُضَاعَفَةٌ، وَعِنْدَ اللَّهِ مَزِيدٌ"، قَالَ: قُلْتُ: أَيُّهَا أَفْضَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" جُهْدٌ مِنْ مُقِلٍّ، أَوْ سِرٌّ إِلَى فَقِيرٍ"، قُلْتُ: فَأَيُّ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكَ أَعْظَمُ؟ قَالَ:" اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ سورة البقرة آية 255" حَتَّى خَتَمَ الْآيَةَ، قُلْتُ: فَأَيُّ الْأَنْبِيَاءِ كَانَ أَوَّلَ؟ قَالَ:" آدَمُ"، قُلْتُ: أَوَنَبِيٌّ كَانَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" نَعَمْ، نَبِيٌّ مُكَلَّمٌ"، قُلْتُ: فَكَمْ الْمُرْسَلُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" ثَلَاثُ مِئَةٍ وَخَمْسَةَ عَشَرَ، جَمًّا غَفِيرًا" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے میں بھی مجلس میں شریک ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا اے ابوذر رضی اللہ عنہ کیا تم نے نماز پڑھ لی؟ میں نے عرض کیا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھو، چنانچہ میں نے کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور آکر مجلس میں دوبارہ شریک ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوذر! انسانوں اور جنات میں سے شیاطین کے شر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو، میں نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا انسانوں میں بھی شیطان ہوتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں میں نے پوچھا یا رسول اللہ! نماز کا کیا حکم ہے؟ فرمایا بہترین موضوع ہے جو چاہے کم حاصل کرے اور جو چاہے زیادہ حاصل کرلے میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کا کیا حکم ہے؟ فرمایا ایک فرض ہے جسے ادا کیا جائے گا تو کافی ہوجاتا ہے اور اللہ کے یہاں اس کا اضافی ثواب ہے میں نے پوچھا یا رسول اللہ! صدقہ کا کیا حکم ہے؟ فرمایا اس کا بدلہ دوگنا چوگنا ملتا ہے میں نے پوچھا یا رسول اللہ! سب سے افضل صدقہ کون سا ہے؟ فرمایا کم مال والے کی محنت کا صدقہ یا کسی ضرورت مند کا راز، میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! سب سے پہلے نبی کون تھے؟ فرمایا حضرت آدم علیہ السلام میں نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا وہ نبی تھے؟ فرمایا ہاں، بلکہ ایسے نبی جن سے باری تعالیٰ نے کلام فرمایا: میں نے پوچھا یا رسول اللہ! رسول کتنے آئے؟ فرمایا تین سو دس سے کچھ اوپر ایک عظیم گروہ میں نے پوچھا یا رسول اللہ! آپ پر سب سے عظیم آیت کون سی نازل ہوئی؟ فرمایا آیت الکرسی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21552]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جدا لجهالة عبيد بن الخشخاش، ولضعف أبى عمر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21553
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ، اسْتَقْبَلَتْهُ الرَّحْمَةُ، فَلَا يَمَسَّ الْحَصَى وَلَا يُحَرِّكْهَا" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو رحمت الہٰیہ اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے لہٰذا اسے کنکریوں سے نہیں کھیلنا چاہئے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21553]

الحكم على الحديث:
إسناده محتمل للتحسين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21554
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الطَّائِفِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمِقْدَامِ ، عَنْ ابْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنَّ الْآخِرَ قَدْ زَنَى، فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ ثَلَّثَ ثُمَّ رَبَّعَ، فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ مَرَّةً: فَأَقَرَّ عِنْدَهُ بِالزِّنَا فَرَدَّدَهُ أَرْبَعًا، ثُمَّ نَزَلَ فَأَمَرَنَا فَحَفَرْنَا لَهُ حَفِيرَةً لَيْسَتْ بِالطَّوِيلَةِ، فَرُجِمَ فَارْتَحَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَئِيبًا حَزِينًا، فَسِرْنَا حَتَّى نَزَلَ مَنْزِلًا، فَسُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي:" يَا أَبَا ذَرٍّ، أَلَمْ تَرَ إِلَى صَاحِبِكُمْ، غُفِرَ لَهُ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کسی سفر میں تھے کہ ایک آدمی حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ نیکیوں سے پیچھے رہنے والے (میں نے) بدکاری کی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف سے منہ پھیرلیا جب چار مرتبہ اسی طرح ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اتر پڑے اور ہمیں حکم دیا چنانچہ ہم نے اس کے لئے ایک گڑھا کھودا جو بہت زیادہ لمبا نہ تھا پھر اسے رجم کردیا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غم اور پریشانی کی حالت میں وہاں سے کوچ فرما دیا اور ہم روانہ ہوگئے جب اگلی منزل پر پڑاؤ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ کیفیت ختم ہوگئی اور مجھ سے فرمایا ابوذر! دیکھو تو سہی تمہارے ساتھی کی بخشش ہوگئی اور اسے جنت میں داخل کردیا گیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21554]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، حجاج بن أرطاة مدلس، وقد عنعن، و عبدالله بن المقدام مجهول
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21555
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ مُهَاجِرٍ أَبِي خَالِدٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْعَالِيَةِ ، حَدَّثَنِي أَبُو مُسْلِمٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي ذَرٍّ: أَيُّ قِيَامِ اللَّيْلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: أَبُو ذَرٍّ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي، شُكُّ عَوْفٌ، فَقَالَ: " جَوْفُ اللَّيْلِ الْغَابِرِ أَوْ نِصْفُ اللَّيْلِ، وَقَلِيلٌ فَاعِلُهُ" .
ابو مسلم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رات کے کس حصے میں قیام کرنا سب سے افضل ہے؟ انہوں نے فرمایا یہ سوال جس طرح تم نے مجھ سے پوچھا ہے میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا رات کے پچھلے نصف پہر میں لیکن ایسا کرنے والے بہت تھوڑے ہیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21555]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، المهاجر أبو خالد فيه لين، وأبو مسلم مجهول
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21556
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَلِيلِ يَعْنِي ابْنَ عَطِيَّةَ ، حَدَّثَنَا مُزَاحِمُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الضَّبِّيُّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ زَمَنَ الشِّتَاءِ وَالْوَرَقُ يَتَهَافَتُ، فَأَخَذَ بِغُصْنَيْنِ مِنْ شَجَرَةٍ، قَالَ: فَجَعَلَ ذَلِكَ الْوَرَقُ يَتَهَافَتُ، قَالَ: فَقَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ"، قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " إِنَّ الْعَبْدَ الْمُسْلِمَ لَيُصَلِّي الصَّلَاةَ يُرِيدُ بِهَا وَجْهَ اللَّهِ، فَتَهَافَتُ عَنْهُ ذُنُوبُهُ كَمَا يَتَهَافَتُ هَذَا الْوَرَقُ عَنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سردی کے موسم میں باہر نکلے، اس وقت پت جھڑ لگا ہوا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک درخت کی دو ٹہنیاں پکڑیں تو اس سے پتے جھڑنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوذر! میں نے " لبیک یا رسول اللہ " کہا فرمایا بندہ مسلم جب اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے نماز پڑھتا ہے تو اس کے گناہ اسی طرح جھڑجاتے ہیں جیسے اس درخت کے یہ پتے جھڑ رہے ہیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21556]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف الجهالة مزاحم بن معاوية
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21557
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ ، بَلَغَهُ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ النَّضْرِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " فِي الْإِبِلِ صَدَقَتُهَا، وَفِي الْغَنَمِ صَدَقَتُهَا، وَفِي الْبَقَرِ صَدَقَتُهَا، وَفِي الْبُرِّ صَدَقَتُهُ" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اونٹوں میں گائے بکری میں اور گندم میں صدقہ (زکوٰۃ) ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21557]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف الانقطاعه، ابن جريج لم يسمعه من عمران بن أبى أنس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21558
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، قَالَ ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ يَعْنِي الْحَارِثِيَّ ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ ، قَالَ ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ مَوْلَى الْبَرَاءِ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا، عَنْ خَالِدِ بْنِ وَهْبَانَ ، قَالَ ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، أَوْ وُهْبَانَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَيْفَ أَنْتَ وَأَئِمَّةً مِنْ بَعْدِي يَسْتَأْثِرُونَ بِهَذَا الْفَيْءِ؟!" قَالَ: قُلْتُ: إِذَنْ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ أَضَعَ سَيْفِي عَلَى عَاتِقِي، ثُمَّ أَضْرِبَ بِهِ حَتَّى أَلْقَاكَ أَوْ أَلْحَقَ بِكَ، قَالَ:" أَوَلَا أَدُلُّكَ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ؟ تَصْبِرُ حَتَّى تَلْقَانِي" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اس وقت تمہاری کیا کیفیت ہوگی جب میرے بعد آنے والے حکمران اس مال غنیمت میں تم پر دوسروں کو ترجیح دیں گے؟ میں نے عرض کیا کہ پھر اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اپنی تلوار اپنے کندھے پر رکھ لوں گا اور ان سے اتنا لڑوں گا کہ آپ سے آملوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں اس سے بہتر راستہ نہ دکھاؤں؟ تم صبر کرنا یہاں تک کہ مجھ سے آملو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21558]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة خالد بن وهبان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21559
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ وُهْبَانَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، كَيْفَ أَنْتَ عِنْدَ وُلَاةٍ يَسْتَأْثِرُونَ عَلَيْكَ بِهَذَا الْفَيْءِ؟! قَالَ: قلت: إذا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، أَضَعُ سَيْفِي عَلَى عَاتِقِي، فَأَضْرِبُ بِهِ حَتَّى أَلْحَقَكَ، قَالَ:" أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٍ لَكَ مِنْ ذَلِكَ؟ تَصْبِرُ حَتَّى تَلْقَانِي" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اس وقت تمہاری کیا کیفیت ہوگی جب میرے بعد آنے والے حکمران اس مال غنیمت میں تم پر دوسروں کو ترجیح دیں گے؟ میں نے عرض کیا کہ پھر اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اپنی تلوار اپنے کندھے پر رکھ لوں گا اور ان سے اتنا لڑوں گا کہ آپ سے آملوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں اس سے بہتر راستہ نہ دکھاؤں؟ تم صبر کرنا یہاں تک کہ مجھ سے آملو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21559]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة خالد بن وهبان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21560
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ وُهْبَانَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ خَالَفَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا، خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایک بالشت کے برابر بھی جماعت کے خلاف چلتا ہے وہ اپنی گردن سے اسلام کی رسی نکال دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21560]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة خالد ابن وهبان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں