مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
950. حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 21571
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنِي حُسَيْنٌ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ بُرَيْدَةَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَعْمَرَ ، أَنَّ أَبَا الْأَسْوَدِ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَرْمِ رَجُلٌ رَجُلًا بِالْفِسْقِ، وَلَا يَرْمِيهِ بِالْكُفْرِ إِلَّا ارْتَدَّتْ عَلَيْهِ إِنْ لَمْ يَكُنْ صَاحِبُهُ كَذَلِكَ" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص بھی جان بوجھ کر اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنے نسب کی نسبت کرتا ہے وہ کفر کرتا ہے اور جو شخص کسی ایسی چیز کا دعویٰ کرتا ہے جو اس کی ملکیت میں نہ ہو تو وہ ہم میں سے نہیں ہے اور اسے چاہئے کہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے اور جو شخص کسی کو کافر کہہ کر یا دشمن اللہ کہہ کر پکارتا ہے حالانکہ وہ ایسا نہ ہو تو وہ پلٹ کر کہنے والے پر جا پڑتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21571]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6045، م: 61
حدیث نمبر: 21572
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَمُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا رَجُلٍ كَشَفَ سِتْرًا فَأَدْخَلَ بَصَرَهُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُؤْذَنَ لَهُ، فَقَدْ أَتَى حَدًّا لَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ، وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا فَقَأَ عَيْنَهُ، لَهُدِرَتْ، وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا مَرَّ عَلَى بَابٍ لَا سِتْرَ لَهُ فَرَأَى عَوْرَةَ أَهْلِهِ، فَلَا خَطِيئَةَ عَلَيْهِ، إِنَّمَا الْخَطِيئَةُ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ" .
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو آدمی کسی کے گھر کا پردہ اٹھا کر اجازت لینے سے پہلے اندر جھانکنے لگے تو اس نے ایک ایسی حرکت کی جو اس کے لئے حلال نہ تھی یہی وجہ ہے کہ اگر گھر والا کوئی آدمی اس کی آنکھ پھوڑ دے تو وہ کسی تاوان کے بغیر ضائع ہوجائے گی اور اگر کوئی آدمی کسی ایسے دروازے پر گذرتا ہے جہاں پردہ پڑا ہو اور نہ ہی دروازہ بند ہو اور اس کی نگاہ اندر چلی جائے تو اس پر گناہ نہیں ہوگا بلکہ گناہ تو اس گھر والوں پر ہوگا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21572]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، ابن لهيعة ضعيف
حدیث نمبر: 21573
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا دَرَّاجٌ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " سِتَّةَ أَيَّامٍ، ثُمَّ اعْقِلْ يَا أَبَا ذَرٍّ، مَا أَقُولُ لَكَ بَعْدُ" فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ السَّابِعُ، قَالَ:" أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ فِي سِرِّ أَمْرِكَ وَعَلَانِيَتِهِ، وَإِذَا أَسَأْتَ فَأَحْسِنْ، وَلَا تَسْأَلَنَّ أَحَدًا شَيْئًا وَإِنْ سَقَطَ سَوْطُكَ، وَلَا تَقْبِضْ أَمَانَةً، وَلَا تَقْضِ بَيْنَ اثْنَيْنِ" ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ دَرَّاجٍ ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سِتَّةَ أَيَّامٍ، اعْقِلْ يَا أَبَا ذَرٍّ مَا يُقَالُ لَكَ" إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" وَلَا تُؤْوِيَنَّ أَمَانَةً وَلَا تَقْضِيَنَّ بَيْنَ اثْنَيْنِ".
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا چھ دن ہیں اس کے بعد اے ابوذر! میں تم سے جو کہوں اسے اچھی طرح سمجھ لینا، جب ساتواں دن آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں خفیہ اور ظاہر بہر طور اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں، جب تم سے کوئی گناہ ہوجائے تو اس کے بعد کوئی نیکی بھی کرلیا کرو کسی سے کوئی چیز نہ مانگنا اگرچہ تمہارا کوڑا ہی گرا ہو (وہ بھی کسی سے اٹھانے کے لئے نہ کہنا) امانت پر قبضہ نہ کرنا اور کبھی دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ کرنا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21573]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ، ودراج ضعيف
حدیث نمبر: 21574
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرٍو عَنْ دَرَّاجٍ عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سِتَّةَ أَيَّامٍ، اعْقِلْ يَا أَبَا ذَرٍّ مَا يُقَالُ لَكَ" إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" وَلَا تُؤْوِيَنَّ أَمَانَةً وَلَا تَقْضِيَنَّ بَيْنَ اثْنَيْنِ"
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف دراج، وجهالة أبى المثني
حدیث نمبر: 21575
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْأيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ وَاصِلٍ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ ، قَالَ:" قَدْ رَأَيْتُ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا رَأَيْتُ بَأَبِي ذَرٍّ شَبِيهًا.
ابوالاسود دیلی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے لیکن مجھے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ جیسا کوئی نظر نہیں آیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21575]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
951. حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 21576
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ ، قَالَ: أَخَذْتُ نُهَسًا بِالْأَسْوَافِ، فَأَخَذَهُ مِنِّي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فَأَرْسَلَهُ، وَقَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا .
شرجیل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے بازار میں لٹورے کی طرح کا ایک پرندہ پکڑ لیا، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو اسے میرے ہاتھ سے لے کر چھوڑ دیا (اور وہ اڑ گیا) اور فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے دونوں کناروں کے درمیان کی جگہ کو حرام قرار دیا ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21576]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شرحبيل بن سعد
حدیث نمبر: 21577
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ، قَالَ:" رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا كَيْلًا" .
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے " بیع عرایا " میں اس بات کی اجازت دی ہے کہ اسے اندازے سے ناپ کر بیچ دیا جائے۔ فائدہ۔ بیع عرایا کی وضاحت کے لئے حدیث نمبر (٤٤٩٠) ملاحظہ کیجئے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21577]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21578
حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الرُّكَيْنِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ خَلِيفَتَيْنِ كِتَابُ اللَّهِ، حَبْلٌ مَمْدُودٌ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَوْ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ، وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي، وَإِنَّهُمَا لَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ" .
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں تم میں اپنے دو نائب چھوڑ کر جارہا ہوں، ایک تو کتاب اللہ ہے جو کہ آسمان و زمین کے درمیان لٹکی ہوئی رسی ہے اور دوسری چیز میرے اہل بیت ہیں اور یہ دونوں چیزیں کبھی جدا نہیں ہونگی یہاں تک کہ میرے پاس حوض کوثر پر آپہنچیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21578]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح بشواهده دون وقوله: و إنهما لن يتفرقا حتى يردا على الحوض، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ شريك
حدیث نمبر: 21579
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: دَخَلَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ عَلَى مُعَاوِيَةَ، فَحَدَّثَهُ حَدِيثًا، فَأَمَرَ إِنْسَانًا أَنْ يَكْتُبَ، فَقَالَ: زَيْدٌ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ نَكْتُبَ شَيْئًا مِنْ حَدِيثِهِ، فَمَحَاهُ" .
ایک مرتبہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ملاقات کے لئے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو ان سے کوئی حدیث بیان کی، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ اسے لکھ لے لیکن حضرت زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کوئی حدیث بھی لکھنے سے منع فرمایا ہے چنانچہ انہوں نے اسے مٹا دیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21579]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لانقطاعه، المطلب بن عبدالله لم يسمع من زيد بن ثابت