🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
934. حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَي عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21143
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَزَّازُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21143]

حکم دارالسلام: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21144
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَلَمَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا إِذَا أَصْبَحْنَا" أَصْبَحْنَا عَلَى فِطْرَةِ الْإِسْلَامِ وَكَلِمَةِ الْإِخْلَاصِ، وَسُنَّةِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمِلَّةِ أَبِينَا إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا مُسْلِمًا، وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، وَإِذَا أَمْسَيْنَا مِثْلَ ذَلِكَ" .
حضرت عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں صبح کے وقت پڑھنے کے لئے یہ دعاء سکھاتے تھے " ہم نے صبح کی فطرت اسلام پر، کلمہ اخلاص پر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر اور اپنے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ملت پر جو سب سے یکسو تھے اور مشرکین میں سے نہ تھے اور یہی دعاء شام کے وقت پڑھنے کی تلقین فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21144]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف جدا، إبراهيم بن إسماعيل ضعيف وأبوه وجده متروكان، وقد سلف برقم: 15360 بإسناد صحيح من حديث عبدالرحمن بن أبزي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21145
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي الْهُذَيْلِ ، سَمِعَ ابْنَ أَبْزَى ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ خَبَّابٍ ، سَمِعَ أُبَيًّا يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ الدَّجَّالَ، فَقَالَ: " إِحْدَى عَيْنَيْهِ، كَأَنَّهَا زُجَاجَةٌ خَضْرَاءُ، وَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ" .
حضرت عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا اس کی ایک آنکھ سبز شیشے کی طرح محسوس ہوگی اور عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21145]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21146
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَرَوْحٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي الْهُذَيْلِ ، قَالَ رَوْحٌ: الْعَنْزِيُّ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، وَقَالَ رَوْحٌ فِي حَدِيثِهِ: إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ خَبَّابٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ ذَكَرَ الدَّجَّالَ عِنْدَهُ، فَقَالَ: " عَيْنُهُ خَضرَاءُ كَالزُّجَاجَةِ، فَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ"..
حضرت عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا اس کی ایک آنکھ سبز شیشے کی طرح محسوس ہوگی اور عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21146]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21147
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا حَبِيبِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الدَّجَّالِ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ..

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21148
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ أَسْلَمَ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي الْهُذَيْلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مثلَهُ، وَلَمْ يُذْكَرْ خَلَّادٌ فِي حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ .
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21148]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، إسقاط الواسطة بين أبن أبزى وأبي بن كعب من اسناده لا تضر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
935. حَدِيثُ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21149
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قََتَادَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: قَرَأْتُ آيَةً، وَقَرَأَ ابْنُ مَسْعُودٍ خِلَافَهَا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَلَمْ تُقْرِئْنِي آيَةَ كَذَا وَكَذَا؟ قَالَ:" بَلَى"، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: أَلَمْ تُقْرِئْنِيهَا كَذَا وَكَذَا؟ فَقَالَ: " بَلَى، كِلَاكُمَا مُحْسِنٌ مُجْمِلٌ"، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ، فَضَرَبَ صَدْرِي، فَقَالَ:" يَا أُبَيُّ بْنَ كَعْبٍ، إِنِّي أُقْرِئْتُ الْقُرْآنَ، فَقُلْتُ: عَلَى حَرْفَيْنِ، فَقَالَ: عَلَى حَرْفَيْنِ، أَوْ ثَلَاثَةٍ؟ فَقَالَ: الْمَلَكُ الَّذِي مَعِي عَلَى ثَلَاثَةٍ، فَقُلْتُ: عَلَى ثَلَاثَةٍ، حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةَ أَحْرُفٍ، لَيْسَ مِنْهَا إِلَّا شَافٍ كَافٍ، إِنْ قُلْتَ: غَفُورًا رَحِيمًا، أَوْ قُلْتَ: سَمِيعًا عَلِيمًا، أَوْ عَلِيمًا سَمِيعًا، فَاللَّهُ كَذَلِكَ، مَا لَمْ تَخْتِمْ آيَةَ عَذَابٍ بِرَحْمَةٍ، أَوْ آيَةَ رَحْمَةٍ بِعَذَابٍ" ..
حضرت سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ میں نے ایک آیت پڑھی حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اسے کسی دوسرے طریقے سے پڑھ رہے تھے میں حضرت سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ کیا آپ نے فلاں آیت مجھے اس اس طرح نہیں پڑھائی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں میں نے عرض کیا کہ یہ شخص دعوی کرتا ہے آپ نے اسے یہی آیت دوسری طرح پڑھائی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر اپنا ہاتھ مارا جس سے وہ تمام وساوس دور ہوگئے اور اس کے بعد کبھی مجھے ایسے وسوسے نہ آئے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس جبرائیل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام آئے تھے حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ قرآن کریم کو ایک حرف پر پڑھئے حضرت میکائیل علیہ السلام نے کہا کہ آپ ان سے اضافے کی درخواست کیجئے حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ اسے دو حرفوں پر پڑھئے حضرت میکائیل علیہ السلام نے پھر کہا کہ ان سے اضافے کی درخواست کیجئے یہاں تک کہ سات حروف تک پہنچ گئے اور فرمایا ان میں سے ہر ایک کافی شافی ہےاگر تم «غفورًا رحيماً» ‏‏‏‏ یا «سميعًا عليمًا» یا «عليمًا سميعًا» کہہ دیتے ہو تو اللہ اسی طرح ہے بشرطیکہ تم آیت عذاب کو رحمت سے یا آیت رحمت کو عذاب سے تبدیل نہ کرو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21149]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21150
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ الْخُزَاعِيِّ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: قَرَأْتُ آيَةً، وَقَرَأَ ابْنُ مَسْعُودٍ خِلَافَهَا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ..

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21151
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ ، عَنْ أُبَي بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: قَرَأْتُ آيَةً، وَقَرَأَ ابْنُ مَسْعُودٍ خِلَافَهَا، وَقَرَأَ رَجُلٌ آخَرُ خِلَافَهَا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21151]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21152
حَدَّثَنَا عَبْدُ الله، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سُقَيْرٍ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا يَقْرَأُ، فَقُلْتُ: مَنْ أَقْرَأَكَ؟ قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: انْطَلِقْ إِلَيْهِ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: اسْتَقْرِئْ هَذَا، فَقَالَ:" اقْرَأْ" فَقَرَأَ، فَقَالَ:" أَحْسَنْتَ"، فَقُلْتُ لَهُ: أَوَلَمْ تُقْرِئْنِي كَذَا وَكَذَا؟ قَالَ:" بَلَى، وَأَنْتَ قَدْ أَحْسَنْتَ"، فَقُلْتُ بِيَدَيَّ: قَدْ أَحْسَنْتَ! مَرَّتَيْنِ، قَالَ: فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي، ثُمَّ قَالَ:" اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنْ أُبَيٍّ الشَّكَّ" فَفِضْتُ عَرَقًا، وَامْتَلَأَ جَوْفِي فَرَقًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أُبَيُّ، إِنَّ مَلَكَيْنِ أَتَيَانِي، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: اقْرَأْ عَلَى حَرْفٍ، فَقَالَ الْآخَرُ: زِدْهُ، فَقُلْتُ: زِدْنِي، قَالَ: اقْرَأْ عَلَى حَرْفَيْنِ، فَقَالَ الْآخَرُ: زِدْهُ، فَقُلْتُ: زِدْنِي، قَالَ: اقْرَأْ عَلَى ثَلَاثَةٍ، فَقَالَ الْآخَرُ: زِدْهُ، فَقُلْتُ: زِدْنِي، قَالَ: اقْرَأْ عَلَى أَرْبَعَةِ أَحْرُفٍ، قَالَ الْآخَرُ: زِدْهُ، قُلْتُ: زِدْنِي، قَالَ: اقْرَأْ عَلَى خَمْسَةِ أَحْرُفٍ، قَالَ الْآخَرُ: زِدْهُ، قُلْتُ: زِدْنِي، قَالَ: اقْرَأْ عَلَى سِتَّةٍ، قَالَ الْآخَرُ: زِدْهُ، قَالَ: اقْرَأْ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَالْقُرْآنُ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ" .
حضرت سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ میں نے ایک آدمی کو قرآن پڑھتے ہوئے سنا میں نے اس سے پوچھا کہ تمہیں یہ آیت کس نے پڑھائی ہے؟ اس نے بتایا کہ مجھے یہ آیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی ہے میں اسے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! کیا آپ نے فلاں آیت مجھے اس اس طرح نہیں پڑھائی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں میں نے عرض کیا کہ یہ شخص دعوی کرتا ہے آپ نے اسے یہی آیت دوسری طرح پڑھائی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر اپنا ہاتھ مارا اور دعاء کی کہ اے اللہ ابی سے شک کو دور فرما جس سے وہ تمام وساوس دور ہوگئے اور اس کے بعد کبھی مجھے ایسے وسوسے نہ آئیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس جبرائیل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام آئے تھے حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ قرآن کریم کو ایک حرف پر پڑھئے حضرت میکائیل علیہ السلام نے کہا کہ آپ ان سے اضافے کی درخواست کیجئے حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ اسے دو حرفوں پر پڑھئے حضرت میکائیل علیہ السلام نے پھر کہا کہ ان سے اضافے کی درخواست کیجئے یہاں تک کہ سات حروف تک پہنچ گئے اور فرمایا ان میں سے ہر ایک کافی شافی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21152]

حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة شقير العبدي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں