مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
933. حَدِيثُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 21133
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ ، قَالَ أُبَيٌّ : مَا دَخَلَ قَلْبِي شَيْءٌ مُنْذُ أَسْلَمْتُ، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ أُبَيٍّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ..
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21133]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21134
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: مَا دَخَلَ قَلْبِي مُنْذُ أَسْلَمْتُ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف سويد بن سعيد
حدیث نمبر: 21135
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ أُبَيٌّ يُحَدِّثُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فُرِجَ سَقْفُ بَيْتِي وَأَنَا بِمَكَّةَ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ، فَفَرَجَ صَدْرِي، ثُمَّ غَسَلَهُ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ، ثُمَّ جَاءَ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مَمْلُوءٍ حِكْمَةً وَإِيمَانًا، فَأَفْرَغَهَا فِي صَدْرِي، ثُمَّ أَطْبَقَهُ" .
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس زمانے میں میں مکہ مکرمہ میں تھا ایک دن میرے گھر کی چھت کھل گئی اور وہاں سے حضرت جبرائیل علیہ السلام نیچے اتر کر آئے انہوں نے میرا سینہ چاک کیا اسے آب زمزم سے دھویا پھر ایک طشتری لے کر آئے جو حکمت و ایمان سے لبریز تھی اور اسے میرے سینے میں انڈیل دیا اور پھر اسے سی دیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21135]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، لكن قد اختلف فى صحابيه
934. حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَي عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 21136
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَجْلَحَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَعْرِضَ الْقُرْآنَ عَلَيْكَ"، قَالَ: وَسَمَّانِي لَكَ رَبِّي؟ قَالَ: 0 بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْتَفْرَحُوا 0 هَكَذَا قَرَأَهَا أُبَيٌّ .
حضرت عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن پڑھ کر سناؤں حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ کیا میرے پروردگار نے میرا نام لیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہے سو تمہیں اس پر خوش ہونا چاہئے حضرت ابی رضی اللہ عنہ قرآن کریم کی اس آیت " فبذلک فلتفرحوا " کو " فلتفرحوا " پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21136]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل أجلح بن عبدالله، لكنه توبع
حدیث نمبر: 21137
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَسْلَمُ الْمِنْقَرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أُبَيُّ، أُمِرْتُ أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ سُورَةَ كَذَا وَكَذَا"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَقَدْ ذُكِرْتُ هُنَاكَ؟! قَالَ:" نَعَمْ"، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا الْمُنْذِرِ، فَفَرِحْتَ بِذَلِكَ؟ قَالَ: وَمَا يَمْنَعُنِي وَاللَّهُ، يَقُولُ: 0 قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْتَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا تَجْمَعُونَ 0، قَالَ مُؤَمَّلٌ، قُلْتُ لِسُفْيَانَ: هَذِهِ الْقِرَاءَةُ فِي الْحَدِيثِ؟ قَالَ: نَعَمْ .
حضرت عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن پڑھ کر سناؤں حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ کیا میرے پروردگار نے میرا نام لیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہے سو تمہیں اس پر خوش ہونا چاہئے حضرت ابی رضی اللہ عنہ قرآن کریم کی اس آیت " فبذلک فلتفرحوا " کو " فلتفرحوا " پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21137]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف مؤمل ابن إسماعيل، لكنه توبع
حدیث نمبر: 21138
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّي ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَسُبُّوا الرِّيحَ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا مَا تَكْرَهُونَ، فَقُولُوا: اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذِهِ الرِّيحِ، وَمِنْ خَيْرِ مَا فِيهَا، وَمِنْ خَيْرِ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ هَذِهِ الرِّيحِ، وَمِنْ شَرِّ مَا فِيهَا، وَمِنْ شَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ" .
حضرت عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہوا کو برا بھلا مت کہا کرو اور جب تمہیں اس میں کوئی ایسی چیز دکھائی دے جو تمہاری طبیعت کو ناگوار محسوس ہو تو یوں کہہ لیا کرو اے اللہ ہم تجھ سے اس ہوا اور اس میں موجود چیزوں کی اور جو پیغام دے کر اسے بھیجا گیا ہے اس کی خیر کا سوال کرتے ہیں اور اس ہوا اور اس میں موجود چیزوں اور جو پیغام دے کر اسے بھیجا گیا ہے، اس کے شر سے پناہ مانگتے ہیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21138]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، حبيب بن أبى ثابت لم يسمعه من سعيد بن عبدالرحمن، وقد اختلف فى رفع هذا الحديث ووقفه، ولعل الصواب وقفه
حدیث نمبر: 21139
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْكُوفِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ ذَرِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَسُبُّوا الرِّيحَ، فَإِنَّهَا مِنْ رَوْحِ اللَّهِ، وَسَلُوا اللَّهَ خَيْرَهَا، وَخَيْرَ مَا فِيهَا، وَخَيْرَ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ، وَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا، وَشَرِّ مَا فِيهَا، وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ" .
حضرت عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہوا کو برا بھلا مت کہا کرو البتہ اللہ سے اس ہوا اور اس میں موجود چیزوں کی اور جو پیغام دے کر اسے بھیجا گیا ہے اس کی خیر کا سوال کیا کرو اور اس ہوا اور اس میں موجود چیزوں اور جو پیغام دے کر اسے بھیجا گیا ہے، اس کے شر سے پناہ مانگا کرو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21139]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل محمد بن يزيد، لكنه توبع
حدیث نمبر: 21140
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ دَاوُدَ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ وَتَرَكَ آيَةً، فَجَاءَ أُبَيٌّ وَقَدْ فَاتَهُ بَعْضُ الصَّلَاةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نُسِخَتْ هَذِهِ الْآيَةُ أَوْ أُنْسِيتَهَا؟ قَالَ:" لَا، بَلْ أُنْسِيتُهَا" .
حضرت عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی تو دوران تلاوت ایک آیت چھوڑ دی، حضرت ابی اس وقت آئے تھے جب نماز کا کچھ حصہ گذر چکا تھا، نماز سے فارغ ہو کر انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ! کیا یہ آیت منسوخ ہوگئی ہے، یا آپ بھول گئے تھے،؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، بلکہ میں بھول گیا تھا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21140]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21141
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ طَلْحَةَ ، وَزُبَيْدٍ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُوتِرُ ب ِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى، وَ قُلْ يَأَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ" .
حضرت عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں سبح اسم ربک الاعلی اور قل یا ایہا الکافرون اور قل ہو اللہ احد کی تلاوت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21141]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21142
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ طَلْحَةَ الإِيَامِيِّ ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْوَتْرِ ب سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى، وَ قُلْ يَأَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، فَإِذَا سَلَّمَ، قَالَ:" سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ" ..
حضرت عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں سبح اسم ربک الاعلی اور قل یا ایہا الکافرون اور قل ہو اللہ احد کی تلاوت فرماتے تھے اور سلام پھیر کر تین مرتبہ سبحان الملک القدوس کہتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21142]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح