مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
962. حَدِيثُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ سَفِينَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 21930
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ , حَدَّثَنِي أَبُو رَيْحَانَةَ , قَالَ أَبِي: وَسَمَّاهُ عَلِيٌّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَطَرٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي سَفِينَةُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُوَضِّئُهُ الْمُدُّ , وَيَغْسِلُهُ الصَّاعُ مِنَ الْجَنَابَةِ" .
حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے لئے ایک مد پانی رکھتے تھے اور غسل جنابت کے لئے ایک صاع پانی رکھتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21930]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، م: 326، وهذا إسناد ضعيف من أجل على بن عاصم، وقد توبع
حدیث نمبر: 21931
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , حَدَّثَنَا أَبُو رَيْحَانَةَ , عَنْ سَفِينَةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ , وَيَتَطَهَّرُ بِالْمُدِّ" .
حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک صاع پانی سے غسل اور ایک مد پانی سے وضو فرما لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21931]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، م: 326، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21932
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ , عَنْ سَفِينَةَ , قَالَ: كُنَّا فِي سَفَرٍ , قَالَ: فَكَانَ كُلَّمَا أَعْيَا رَجُلٌ أَلْقَى عَلَيَّ ثِيَابَهُ تُرْسًا , أَوْ سَيْفًا , حَتَّى حَمَلْتُ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا كَثِيرًا , قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْتَ سَفِينَةُ" .
حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے جب کوئی آدمی تھک جاتا تو وہ اپنی تلوار، ڈھال اور نیزہ مجھے پکڑا دیتا، اس طرح میں نے بہت ساری چیزیں اٹھا لیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج تو تم سفینہ (کشتی) کا کام دے رہے ہو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21932]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 21933
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , أخبرَنَا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ , حَدَّثَنِا سَفِينَةُ , أَنَّ رَجُلًا ضَافَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا , فَقَالَتْ فَاطِمَةُ لِعَلِيٍّ: لَوْ دَعَوْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ مَعَنَا , فَدَعَوْنَاهُ فَجَاءَ , فَأَخَذَ بِعِضَادَتَيْ الْبَابِ وَقَدْ ضَرَبْنَا قِرَامًا فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ , فَلَمَّا رَآهُ رَجَعَ , قَالَتْ فَاطِمَةُ لِعَلِيٍّ: الْحَقْهُ فَانْظُرْ مَا رَجَعَهُ؟ قَالَ: مَا رَدَّكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ: " لَيْسَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتًا مُزَوَّقًا" ..
حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے یہاں ایک آدمی مہمان بن کر آیا انہوں نے اس کے لئے کھانا تیار کیا تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کہنے لگیں کہ اگر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لیتے تو وہ بھی ہمارے ساتھ کھانا کھالیتے، چنانچہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا بھیجا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دروازے کے کو اڑوں کو پکڑا تو دیکھا کہ گھر کے ایک کونے میں ایک پردہ لٹک رہا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے دیکھتے ہی واپس چلے گئے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ ان کے پیچھے جائیے اور واپس جانے کی وجہ پوچھئے حضرت علی رضی اللہ عنہ پیچھے پیچھے گئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! آپ واپس کیوں آگئے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے لئے یا کسی نبی کے لئے ایسے گھر میں داخل ہونا " جو آراستہ و منقش ہو " مناسب نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21933]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 21934
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ بِمَعْنَاهُ , قَالَ:" إِنَّهُ لَيْسَ لِي , أَوْ قَالَ: لَيْسَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتًا مُزَوَّقًا".
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21934]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
963. حَدِيثُ سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 21935
حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ , عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ , قَالَ: كَانَ بَيْنَ أَبْيَاتِنَا إِنْسَانٌ مُخْدَجٌ ضَعِيفٌ , لَمْ يُرَعْ أَهْلُ الدَّارِ إِلَّا وَهُوَ عَلَى أَمَةٍ مِنْ إِمَاءِ الدَّارِ يَخْبُثُ بِهَا , وَكَانَ مُسْلِمًا , فَرَفَعَ شَأْنَهُ سَعْدٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " اضْرِبُوهُ حَدَّهُ" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّهُ أَضْعَفُ مِنْ ذَلِكَ , إِنْ ضَرَبْنَاهُ مِائَةً قَتَلْنَاهُ , قَالَ:" فَخُذُوا لَهُ عِثْكَالًا فِيهِ مِائَةُ شِمْرَاخٍ , فَاضْرِبُوهُ بِهِ ضَرْبَةً وَاحِدَةً وَخَلُّوا سَبِيلَهُ" .
حضرت سعید بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمارے گھروں میں ایک آدمی رہتا تھا جو ناقص الخلقت اور انتہائی کمزور تھا ایک مرتبہ اس نے لوگوں کو حیرت زدہ کردیا کہ وہ گھر کی ایک لونڈی کے ساتھ " خباثت " کرتا ہوا پکڑا گیا، تھا وہ مسلمان حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے یہ معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں پیش کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس پر حد جاری کردو، لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ تو اتنا کمزور ہے کہ اگر ہم نے اسے سو کوڑے مارے تو یہ تو مرجائے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر سو ٹہنیوں کا ایک گچھا لو اور اس سے ایک ضرب اسے لگادو اور پھر اس کا راستہ چھوڑ دو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21935]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة ابن إسحاق، لكن روي الحديث من غير وجه عن أبى أمامة، واختلف عليه فى وصله وإرساله، وأصح هذه الأوجه عنه المرسل، و إرساله لايضر
964. حَدِيثُ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 21936
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَعِيدٍ , قَالَ: مَرَّ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِحَسَّانَ وَهُوَ يُنْشِدُ فِي الْمَسْجِدِ , فَلَحَظَ إِلَيْهِ , قَالَ: كُنْتُ أُنْشِدُ وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ , ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ , فَقَالَ: سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَجِبْ عَنِّي , اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ" , قَالَ: نَعَمْ .
حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذرے جو کہ مسجد میں اشعار پڑھ رہے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں کن اکھیوں سے گھورا تو وہ کہنے لگے کہ میں اس مسجد میں اس وقت اشعار پڑھا کرتا تھا جب یہاں تم سے بہتر ذات موجود تھی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21936]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3212، م: 2485
حدیث نمبر: 21937
حَدَّثَنَا يَعْلَى , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قَالَ: مَرَّ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , عَلَى حَسَّانَ وَهُوَ يُنْشِدُ الشِّعْرَ فِي الْمَسْجِدِ , فَقَالَ: فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُنْشِدُ الشِّعْرَ؟ قَالَ: " كُنْتُ أُنْشِدُ وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ , أَوْ كُنْتُ أُنْشِدُ فِيهِ وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ" .
حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذرے جو کہ مسجد میں اشعار پڑھ رہے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں کن اکھیوں سے گھورا تو وہ کہنے لگے کہ میں اس مسجد میں اس وقت اشعار پڑھا کرتا تھا جب یہاں تم سے بہتر ذات موجود تھی۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21937]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 3212، م: 2485، وهذا إسناد منقطع، يحيى بن عبدالرحمن لم يشهد القصة
حدیث نمبر: 21938
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , قَالَ: مَرَّ عُمَرُ عَلَى حَسَّانَ وَهُوَ يُنْشِدُ فِي الْمَسْجِدِ , فَقَالَ: مَهْ , قَالَ لَهُ حَسَّانُ : " قَدْ كُنْتُ أُنْشِدُ وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ" , قَالَ: فَانْصَرَفَ عُمَرُ وَهُوَ يَعْرِفُ أَنَّهُ يُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صلي الله عليه وسلم .
حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذرے جو کہ مسجد میں اشعار پڑھ رہے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں کن اکھیوں سے گھورا تو وہ کہنے لگے کہ میں اس مسجد میں اس وقت اشعار پڑھا کرتا تھا جب یہاں تم سے بہتر ذات موجود تھی پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ وہاں سے چلے گئے کیونکہ وہ سمجھ گئے تھے کہ ان کی مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21938]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3212، م: 2485
حدیث نمبر: 21939
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أخبرَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ , قَالَ: أَنْشَدَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ , فَمَرَّ عُمَرُ بِهِ فَلَحَظَهُ , فَقَالَ حَسَّانُ : " وَاللَّهِ لَقَدْ أَنْشَدْتُ فِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ" , فَخَشِيَ أَنْ يَرْمِيَهُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَازَ , وَتَرَكَهُ .
حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذرے جو کہ مسجد میں اشعار پڑھ رہے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں کن اکھیوں سے گھورا تو وہ کہنے لگے کہ میں اس مسجد میں اس وقت اشعار پڑھا کرتا تھا جب یہاں تم سے بہتر ذات موجود تھی، اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ انہیں چھوڑ کر آگے بڑھ گئے۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21939]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح