🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
965. حَدِيثُ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21940
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ , حَدَّثَنِي عُمَيْرٌ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ , قَالَ: شَهِدْتُ خَيْبَرَ مَعَ سَادَتِي , فَكَلَّمُوا فِيَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَأَمَرَنِي فَقُلِّدْتُ سَيْفًا , فَإِذَا أَنَا أَجُرُّهُ , فَأُخْبِرَ أَنِّي مَمْلُوكٌ فَأَمَرَ لِي بِشَيْءٍ مِنْ خُرْثِيِّ الْمَتَاعِ" .
حضرت عمیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں غزوہ خیبر میں اپنے آقاؤں کے ساتھ شریک تھا انہوں نے میرے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے بارے حکم دیا اور میرے گلے میں تلوار لٹکا دی گئی (وہ اتنی بڑی تھی کہ) میں اسے زمین گھسیٹتا ہوا چلتا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ میں غلام ہوں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی ماندہ سامان میں سے کچھ مجھے بھی دینے کا حکم دے دیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21940]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21941
حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخُو إِسْمَاعِيلَ ابْنِ عُلَيَّةَ , وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا , قَالَ: وَكَانَ يَفْضُلُ عَلَى إِسْمَاعِيلَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ , عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ , قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ سَادَتِي خَيْبَرَ , فَأَمَرَ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلِّدْتُ سَيْفًا , فَإِذَا أَنَا أَجُرُّهُ , قَالَ: فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهُ عَبْدٌ مَمْلُوكٌ , قَالَ: فَأَمَرَ لِي بِشَيْءٍ مِنْ خُرْثِيِّ الْمَتَاعِ , قَالَ: وَعَرَضْتُ عَلَيْهِ رُقْيَةً كُنْتُ أَرْقِي بِهَا الْمَجَانِينَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ , قَالَ: " اطْرَحْ مِنْهَا كَذَا وَكَذَا , وَارْقِ بِمَا بَقِيَ" , قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ زَيْدٍ: وَأَدْرَكْتُهُ وَهُوَ يَرْقِي بِهَا الْمَجَانِينَ.
حضرت عمیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں غزوہ خیبر میں اپنے آقاؤں کے ساتھ شریک تھا انہوں نے میرے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے بارے حکم دیا اور میرے گلے میں تلوار لٹکا دی گئی (وہ اتنی بڑی تھی کہ) میں اسے زمین گھسیٹتا ہوا چلتا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ میں غلام ہوں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی ماندہ سامان میں سے کچھ مجھے بھی دینے کا حکم دے دیا۔ اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک منتر پیش کیا جس سے میں زمانہ جاہلیت میں مجنونوں کو جھاڑا کرتا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس میں سے یہ یہ کلمات حذف کردو اور باقی سے جھاڑ لیا کرو۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21941]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
966. قال محمد بن زيد وادركته وهو يزقي بها المجانين
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21942
حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ عَمِّهِ , وَعَنْ أبى بكر بْنِ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ , أَنَّهُمَا سَمِعَا عُمَيْرًا مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ , قَالَ: أَقْبَلْتُ مَعَ سَادَتِي نُرِيدُ الْهِجْرَةَ حَتَّى أَنْ دَنَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ , قَالَ: وَخَلَّفُونِي فِي ظَهوْرِهِمْ , فَدَخَلُوا الْمَدِينَةَ , قَالَ: قَالَ: فَأَصَابَنِي مَجَاعَةٌ شَدِيدَةٌ , قَالَ: فَمَرَّ بِي بَعْضُ مَنْ يَخْرُجُ مِنَ الْمَدِينَةِ , فَقَالُوا لِي: لَوْ دَخَلْتَ الْمَدِينَةَ , فَأَصَبْتَ مِنْ ثَمَرِ حَوَائِطِهَا , فَدَخَلْتُ حَائِطًا فَقَطَعْتُ مِنْهُ قِنْوَيْنِ , فَأَتَانِي صَاحِبُ الْحَائِطِ , فَأَتَى بِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأَخْبَرَهُ خَبَرِي , وَعَلَيَّ ثَوْبَانِ , فَقَالَ لِي: " أَيُّهُمَا أَفْضَلُ؟" , فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى أَحَدِهِمَا , فَقَالَ" خُذْهُ" , وَأَعْطِي صَاحِبَ الْحَائِطِ الْآخَرَ , وَخَلَّى سَبِيلِي .
حضرت عمیر رضی اللہ عنہ سے مرویھی کہ میں اپنے آقا کے ساتھ ہجرت کے ارادے سے آرہا تھا جب ہم مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو میرے آقا مدینہ منورہ میں داخل ہوگئے اور مجھے سواری کے پاس چھوڑ گئے کچھ دیر بعد مجھے سخت قسم کی بھوک نے ستایا، اسی اثناء میں مدینہ منورہ سے باہر آنے والا ایک آدمی میرے پاس سے گذرا اور مجھ سے کہنے لگا کہ تم مدینہ کے اندر چلے جاؤ اور اس کے کسی باغ میں سے پھل توڑ کر کھالو، چنانچہ میں ایک باغ میں داخل ہوا اور وہاں سے دو خوشے اتارے اتنی دیر میں باغ کا مالک بھی آگیا، وہ مجھے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میرا واقعہ بتایا، اس وقت میرے جسم پر دو کپڑے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ ان دونوں میں سب سے بہتر کون سا ہے؟ میں نے ایک کپڑے کی طرف اشارہ کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تم رکھو اور دوسرا کپڑا باغ مالک کو دے کر مجھے چھوڑ دیا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21942]

الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، عم إسحاق والد عبدالرحمن لم يوجد له ترجمة، وله متابع مجهول
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21943
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ , عَنْ آبِي اللَّحْمِ , أَنَّهُ" رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ أَحْجَارِ الزَّيْتِ يَسْتَسْقِي وَهُوَ مُقْنِعٌ بِكَفَّيْهِ يَدْعُو" .
حضرت عمیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو " احجارالزیت " نامی جگہ پر (جومقام زوراء کے قریب ہے کھڑے ہو کر) دعاء استسقاء کرتے ہوئے دیکھا ہے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھیلیوں کے اندرونی حصے کو اپنے چہرے کی طرف کیا ہوا تھا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21943]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، سعيد بن أبى هلال مختلط ، وقد أسقط محمد بن إبراهيم بين يزيد بن عبدالله وبين عمير
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21944
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ , قَالَ: أخبرنا حَيْوَةُ , عَنِ ابْنِ الْهَادِ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ , عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ , أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَسْتَسْقِي عِنْدَ أَحْجَارِ الزَّيْتِ قَرِيبًا مِنَ الزَّوْرَاءِ قَائِمًا يَدْعُو يَسْتَسْقِي , رَافِعًا كَفَّيْهِ لَا يُجَاوِزُ بِهِمَا رَأْسَهُ , مُقْبِلٌ بِبَاطِنِ كَفَّيْهِ إِلَى وَجْهِهِ" . حَدَّثَنَا هَارُونُ , حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ , قَالَ: وَأَخْبَرَنِي حَيْوَةُ , عَنْ عُمَرَ بْنِ مَالِكٍ , عَنِ ابْنِ الْهَادِ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ , أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
حضرت عمیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو " احجارالزیت " نامی جگہ پر (جو مقام زوراء کے قریب ہے کھڑے ہو کر) دعاء استسقاء کرتے ہوئے دیکھا ہے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھیلیوں کے اندرونی حصے کو اپنے چہرے کی طرف کیا ہوا تھا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21944]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21945
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَيَعْلَى قَالَا: حدثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ صَفْوَانَ قَالَ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَذَكَرَهُ

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
967. حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ الْخُزَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21946
حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ , عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ شَدَّادٍ , قَالَ: كُنْتُ أَقُومُ عَلَى رَأْسِ الْمُخْتَارِ , فَلَمَّا تَبَيَّنْتُ كِذَابَتَهُ هَمَمْتُ , وَايْمُ اللَّهِ أَنْ أَسُلَّ سَيْفِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ , حَتَّى ذَكَرْتُ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ عَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ أَمَّنَ رَجُلًا عَلَى نَفْسِهِ فَقَتَلَهُ , أُعْطِيَ لِوَاءَ الْغَدْرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
رفاعہ بن شداد کہتے ہیں کہ میں ایک دن مختار کے سرہانے کھڑا تھا جب اس کا جھوٹا ہونا مجھ پر روشن ہوگیا تو واللہ میں نے اس بات کا ارادہ کرلیا کہ اپنی تلوار کھینچ کر اس کی گردن اڑا دوں، لیکن پھر مجھے ایک حدیث یاد آگئی جو مجھ سے حضرت عمرو بن الحمق رضی اللہ عنہ نے بیان کی تھی کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص کسی مسلمان کو پہلے اس کی جان کی امان دے دے پھر بعد میں اسے قتل کر دے تو قیامت کے دن اسے دھوکے کا جھنڈا دیا جائے گا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21946]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21947
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا عِيسَى الْقَارِئُ أَبُو عُمَرَ بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا السُّدِّيُّ , عَنْ رِفَاعَةَ الْقِتْبَانِيِّ , قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى الْمُخْتَارِ فَأَلْقَى لِي وِسَادَةً , وَقَالَ: لَوْلَا أَنَّ أَخِي جِبْرِيلَ قَامَ عَنْ هَذِهِ لَأَلْقَيْتُهَا لَكَ , قَالَ: فَأَرَدْتُ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ , فَذَكَرْتُ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ أَخِي عَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا مُؤْمِنٍ أَمَّنَ مُؤْمِنًا عَلَى دَمِهِ فَقَتَلَهُ , فَأَنَا مِنَ الْقَاتِلِ بَرِيءٌ" .
رفاعہ بن شداد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مختار کے پاس گیا، اس نے میرے لئے تکیہ رکھا اور کہنے لگا کہ اگر میرے بھائی جبرائیل علیہ السلام اس سے نہ اٹھے ہوتے تو میں یہ تکیہ تمہارے لئے رکھتا میں اس وقت مختار کے سرہانے کھڑا تھا جب اس کا جھوٹا ہونا مجھ پر روشن ہوگیا تو واللہ میں نے اس بات کا ارادہ کرلیا کہ اپنی تلوار کھینچ کر اس کی گردن اڑا دوں لیکن پھر مجھے ایک حدیث یاد آگئی جو مجھ سے حضرت عمرو بن الحمق رضی اللہ عنہ نے بیان کی تھی کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص کسی مسلمان کو پہلے اس کی جان کی امان دے دے پھر بعد میں اسے قتل کر دے تو میں قاتل سے بری ہوں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21947]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21948
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ , عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ , حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ , عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ شَدَّادٍ , قَالَ: كُنْتُ أَقُومُ عَلَى رَأْسِ الْمُخْتَارِ , فَلَمَّا عَرَفْتُ كَذِبَهُ هَمَمْتُ أَنْ أَسُلَّ سَيْفِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ , فَذَكَرْتُ حَدِيثًا حَدَّثَنَاهُ عَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ أَمَّنَ رَجُلًا عَلَى نَفْسِهِ فَقَتَلَهُ , أُعْطِيَ لِوَاءَ الْغَدْرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
رفاعہ بن شداد کہتے ہیں کہ میں ایک دن مختار کے سرہانے کھڑا تھا جب اس کا جھوٹا ہونا مجھ پر روشن ہوگیا تو واللہ میں نے اس بات کا ارادہ کرلیا کہ اپنی تلوار کھینچ کر اس کی گردن اڑا دوں، لیکن پھر مجھے ایک حدیث یاد آگئی جو مجھ سے حضرت عمرو بن الحمق رضی اللہ عنہ نے بیان کی تھی کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص کسی مسلمان کو پہلے اس کی جان کی امان دے دے پھر بعد میں اسے قتل کر دے تو قیامت کے دن اسے دھوکے کا جھنڈا دیا جائے گا۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21948]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21949
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ , حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ الْخُزَاعِيِّ , أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا اسْتَعْمَلَهُ" , قِيلَ: وَمَا اسْتَعْمَلَهُ؟ قَالَ:" يُفْتَحُ لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ بَيْنَ يَدَيْ مَوْتِهِ حَتَّى يَرْضَى عَنْهُ مَنْ حَوْلَهُ" .
حضرت عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جب اللہ کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے استعمال کرلیتا ہے کسی نے پوچھا استعمال کرنے سے کیا مراد ہے؟ فرمایا اس کی موت سے پہلے اس کے لئے اعمال صالحہ کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے حتیٰ کہ اس کے آس پاس کے لوگ اس سے راضی ہوجاتے ہیں۔ [مسند احمد/مسند الأنصار رضي الله عنهم/حدیث: 21949]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں