🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1172. تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25881
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ , عَنْ ابْنِ سِيرِينَ , عَنْ دِقْرَةَ , قَالَتْ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ عَائِشَةَ فِي نِسْوَةٍ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ , فَرَأَيْتُ امْرَأَةً عَلَيْهَا خَمِيصَةٌ فِيهَا صُلُبٌ , فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ " انْزَعِي هَذَا مِنْ ثَوْبِكِ , فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَآهُ فِي ثَوْبٍ قَضَبَهُ" .
دقرہ ام عبدالرحمن کہتی ہیں کہ ہم لوگ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ طواف کر رہے تھے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک عورت کے جسم پر صلیب کی تصویر والی ایک چادر دیکھی، تو اس سے فرمایا کہ اسے اتارو، اتارو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب ایسی چیز دیکھتے تو اسے ختم کردیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25881]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25882
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا الثَّوْرِيّ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ , عَنْ حَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشِيقَةُ ظَبْيٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ , فَلَمْ يَأْكُلْهُ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہرن کے گوشت کی بوٹیاں پیش کی گئیں، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم احرام کی حالت میں تھے اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول نہیں فرمایا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25882]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح إن ثبت سماع حسن بن محمد من عائشة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25883
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنْ سِمَاكٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ يَدْعُو , حَتَّى إِنِّي لَأَسْأَمُ لَهُ مِمَّا يَرْفَعُهُمَا يَدْعُو " اللَّهُمَّ فَإِنَّمَا أَنَا بَشْرٌ , فَلَا تُعَذِّبْنِي بِشَتْمِ رَجُلٍ شَتَمْتُهُ أَوْ آذَيْتُهُ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ پھیلا کر دعا کی کہ اے اللہ! میں بھی انسان ہوں اس لئے آپ کے جس بندے کو میں نے مارا ہو یا ایذاء پہنچائی ہو تو اس پر مجھ سے مواخذہ نہ کیجئے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25883]

الحكم على الحديث:
حديث ضعيف بهذه السياقة. رواية سماك عن عكرمة مضطربة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25884
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ وَإِسْحَاقُ يعني ابن عيسى الطباع ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ , عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " كُنْتُ أَنَامُ بَيْنَ يَدَيْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَيَّ فِي قِبْلَتِهِ , فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ , غَمَزَنِي , فَقَبَضْتُ رِجْلَيَّ , فَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهَا , قَالَتْ: وَلَمْ يَكُنْ فِي الْبُيُوتِ يَوْمَئِذٍ مَصَابِيحُ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سو رہی ہوتی تھی اور میرے پاؤں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قبلے کی سمت میں ہوتے تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں جانے لگتے تو مجھے چٹکی بھر دیتے اور میں اپنے پاؤں سمیٹ لیتی، جب وہ کھڑے ہوجاتے تو میں انہیں پھیلا لیتی تھی اور اس زمانے میں گھروں میں چراغ نہیں ہوتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25884]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 382، م: 512
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25885
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ , قَالَ: قَالَ الزُّهْرِيُّ ، وَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ , عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّهَا لَمْ تَكُنْ تَفْعَلُ ذَلِكَ , وَقَالَتْ: إِنَّمَا نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّهُ كَانَ مَنْزِلًا أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ" .
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ مقام " ابطح " میں پڑاؤ کرنا سنت نہیں ہے، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں صرف اس لئے پڑاؤ کیا تھا کہ اس طرف سے نکلنا زیادہ آسان تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25885]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1765، م: 1311
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25886
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ: أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , أَوْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ , اشْتَرَى كَبْشَيْنِ عَظِيمَيْنِ سَمِينَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ مَوْجُوءيْنِ , فَيَذْبَحُ أَحَدَهُمَا عَنْ أُمَّتِهِ مِمَّنْ شَهِدَ بِالتَّوْحِيدِ , وَشَهِدَ لَهُ بِالْبَلَاغِ , وَذَبَحَ الْآخَرَ عَنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَآلِ مُحَمَّدٍ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب قربانی کا ارادہ فرماتے تو دو مینڈھے خریدتے جو خوب موٹے تازے، صحت مند، سینگدار، خوب صورت اور خصی ہوتے تھے اور ان میں سے ایک اپنی امت کے ان لوگوں کی طرف سے ذبح فرماتے جو توحید کے اقرار پر قائم ہوئے اور اس بات کی گواہی دیتے ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام الٰہی پہنچا دیا اور دوسرا جانور محمد صلی اللہ علیہ وسلم و آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قربان کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25886]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد فيه ضعف لاضطراب عبدالله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25887
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَبْعَثُ بِهَا , فَمَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہدی کا جانور مکہ مکرمہ بھیجتے تھے اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانور یعنی بکری کے قلادے بٹا کرتی تھی، اس کے بعد بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز سے اپنے آپ کو نہیں روکتے تھے (جن سے محرم بچتے تھے)۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25887]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1698، م: 1321
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25888
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: جَاءَتْ هِنْدٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا كَانَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ خِبَاءٌ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يُذِلَّهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ , وَمَا عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ الْيَوْمَ أَهْلُ خِبَاءٍ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يُعِزَّهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَأَيْضًا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ" , ثُمَّ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وإِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ مُمْسِكٌ , فَهَلْ عَلَيَّ حَرَجٌ أَنْ أُنْفِقَ عَلَى عِيَالِهِ مِنْ مَالِهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا حَرَجَ عَلَيْكِ أَنْ تُنْفِقِي عَلَيْهِمْ بِالْمَعْرُوفِ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہند بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ! قبول اسلام سے پہلے روئے زمین پر آپ کے خیموں والوں سے زیادہ کسی کو ذلیل کرنا مجھے پسند نہ تھا اور اب آپ کے خیمے والوں سے زیادہ کسی کو عزت دینا مجھے پسند نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، بات اسی طرح ہے، پھر ہند نے عرض کیا یا رسول اللہ! ابوسفیان مال خرچ کرنے میں ہاتھ تنگ رکھتے ہیں، اگر میں ان کے مال سے ان ہی کے بچوں پر ان کی اجازت کے بغیر کچھ خرچ کرلیا کروں تو کیا مجھ پر گناہ ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بھلے طریقے سے ان پر خرچ کرنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25888]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2460، م: 1714
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25889
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ: أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيّ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ عُمَارَةَ , عَنْ يَحْيَى بْنِ الجَزَّارِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعًا , فَلَمَّا ثَقُلَ وَأَسَنَّ , صَلَّى سَبْعًا" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نو رکعتوں پر وتر بناتے تھے، پھر جب عمر مبارک زیادہ ہوگئی اور جسم مبارک بھاری ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سات رکعتوں پر وتر بنانے لگے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25889]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على الأعمش
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25890
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " أَسَرَّ , تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِرَاءَةَ فِي رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ , وَقَرَأَ فِيهِمَا قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی سنتوں میں سورت کافروں اور سورت اخلاص پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25890]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح دون قولها: أسر النبى ﷺ ، وهذا إسناد فيه انقطاع بين محمد ابن سيرين و عائشة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں