🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1176. حَدِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26660
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ ، أَنَّ أُمَّهُ زَيْنَبَ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ , أَنَّ أُمَّهَا أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ تَقُولُ: " أَبَى سَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُدْخِلْنَ عَلَيْهِنَّ أَحَدًا بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ، وَقُلْنَ لِعَائِشَةَ: وَاللَّهِ مَا نُرَى هَذَا إِلَّا رُخْصَةً أَرْخَصَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَالِمٍ خَاصَّةً، فَمَا هُوَ بِدَاخِلٍ عَلَيْنَا أَحَدٌ بِهَذِهِ الرَّضَاعَةِ، وَلَا رَائِينَا" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات اس بات سے انکار کرتی ہیں کہ بڑی عمر کے کسی آدمی کو دودھ پلانے سے رضاعت ثابت ہوجاتی ہے اور ایسا کوئی آدمی ان کے پاس آسکتا ہے، ان سب نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی کہا تھا کہ ہمارے خیال میں یہ رخصت تھی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف سالم کو خصوصیت کے ساتھ دی تھی لہذا اس رضاعت کی بنیاد پر ہمارے پاس کوئی آسکتا ہے اور نہ ہی ہمیں دیکھ سکتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26660]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1454
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26661
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّ أَبَا عِيَاضٍ حَدَّثَ، أَنَّ مَرْوَانَ , بَعَثَ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا مَوْلَاهَا، فَقَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصْبِحُ جُنُبًا، فَيَصُومُ، وَلَا يُفْطِرُ" ، قَالَ: فَرَجَعَ إِلَيْهِ فَأَخْبَرَهُ، قَالَ: فَبَعَثَ إِلَى عَائِشَةَ، فَبَعَثَ إِلَيْهَا مَوْلَاهَا أَوْ غُلَامَهَا ذَكْوَانَ، فَقَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ غَيْرِ حُلُمٍ، فَيَصُومُ وَلَا يُفْطِرُ"، فَقَالَ لَهُ: ائْتِ أَبَا هُرَيْرَةَ فَأَخْبِرْهُ، فَانْطَلَقَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، فَأَخْبَرَهُ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، وَعَنْ عَائِشَةَ، فَقَالَ: هُمَا أَعْلَمُ.
ابوعیاض کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مروان نے حضرت ام سلمہ کے پاس ایک مسئلہ معلوم کرنے کے لئے ایک قاصد کو بھیجا، اس نے حضرت ام سلمہ کے پاس ان کا آزاد کردہ غلام بھیج دیا، انہوں نے فرمایا کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اختیاری طور پر وجوب غسل ہوتا تب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھتے تھے، ناغہ نہیں کرتے تھے غلام نے واپس آکر یہ بات بتادی پھر مروان نے حضرت عائشہ کے پاس اپنا قاصد بھیج دیا، اس نے بھی حضرت عائشہ کے پاس ان کے غلام کو بھیجا، انہوں نے بھی وہی جواب دیا، تو مروان نے قاصد سے کہا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور انہیں یہ بتادو چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور انہیں حضرت ام سلمہ اور حضرت عائشہ کے حوالے سے یہ حدیث بتائی تو انہوں نے فرمایا کہ وہ دونوں زیادہ جانتی ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26661]

الحكم على الحديث:
مرفوعه صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى عياض
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26662
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ , بَعَثَهُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ وَعَائِشَةَ ، قَالَ: فَلَقِيتُ غُلَامَهَا نَافِعًا ، فَأَرْسَلْتُهُ إِلَيْهَا، فَسَأَلَهَا , قَالَ: فَرَجَعَ إِلَيَّ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّهَا قَالَتْ: إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ غَيْرِ احْتِلَام، ثُمَّ يُصْبِحُ صَائِمًا" , قَالَ: فَأَتَيْتُ مَرْوَانَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ لَتَأْتِيَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ فَلَتُخْبِرَنَّهُ بِهِ، فَأَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: هُنَّ أَعْلَمُ.
ابوعیاض کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مروان نے حضرت ام سلمہ کے پاس ایک مسئلہ معلوم کرنے کے لئے ایک قاصد کو بھیجا، اس نے حضرت ام سلمہ کے پاس ان کا آزاد کردہ غلام بھیج دیا، انہوں نے فرمایا کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اختیاری طور پر وجوب غسل ہوتا تب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھتے تھے، ناغہ نہیں کرتے تھے غلام نے واپس آکر یہ بات بتادی پھر مروان نے حضرت عائشہ کے پاس اپنا قاصد بھیج دیا، اس نے بھی حضرت عائشہ کے پاس ان کے غلام کو بھیجا، انہوں نے بھی وہی جواب دیا، تو مروان نے قاصد سے کہا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور انہیں یہ بتادو چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور انہیں حضرت ام سلمہ اور حضرت عائشہ کے حوالے سے یہ حدیث بتائی تو انہوں نے فرمایا کہ وہ دونوں زیادہ جانتی ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26662]

الحكم على الحديث:
مرفوعه صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عند ربه وأبى عياض
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26663
حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ , بَعَثَهُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ وَعَائِشَةَ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: ثُمَّ لَقِيَ غُلَامَ عَائِشَةَ ذَكْوَانَ أَبَا عَمْرٍو , وَقَالَ: لَقِيتُ نَافِعًا غُلَامَ أُمِّ سَلَمَةَ.

الحكم على الحديث:
مرفوعه صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عند ربه وأبى عياض
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26664
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , وَعَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ كَانَ: " يُدْرِكُهُ الْفَجْرُ وَهُوَ جُنُبٌ مِنْ أَهْلِهِ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ وَيَصُومُ" .
حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم خواب دیکھے بغیر اختیاری طور پر صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے اور اپنا روزہ مکمل کرلیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26664]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26665
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قال: حَدَّثَنَا صَالِحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: " يُصْبِحُ جُنُبًا فِي رَمَضَانَ مِنْ أَهْلِهِ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ وَيَصُومُ" .
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے پھر غسل کرلیتے اور بقیہ دن کا روزہ مکمل کرلیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26665]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف صالح، وقد اختلف عليه فيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26666
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ، فَلَا يَصُومُ , فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ , وَأَبُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَتَّى دَخَلَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ وَعَائِشَةَ فَكِلْتَاهُمَا , قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ، ثُمَّ يَصُومُ" ، فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ وَأَبُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَأَتَيَا مَرْوَانَ، فَحَدَّثَاهُ، ثُمَّ قَالَ: عَزَمْتُ عَلَيْكُمَا لَمَا انْطَلَقْتُمَا إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، فَحَدَّثْتُمَاهُ، فَانْطَلَقَا إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، فَأَخْبَرَاهُ، قَالَ: هما قَالَتَاهُ لَكُمَا؟ فَقَالَا: نَعَمْ، قَالَ: هُمَا أَعْلَمُ، إِنَّمَا أَنَبَأَنِيهِ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ.
ترجمہ موجود نہیں [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26666]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1109
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26667
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا صَالِحٌ ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: " يُصْبِحُ جُنُبًا، ثُمَّ يَصُومُ يَوْمَهُ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے مہینے میں صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے پھر غسل کرلیتے اور بقیہ دن کا روزہ مکمل کرلیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26667]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف صالح، وقد اختلف عليه فيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26668
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا، فَلَا يَصُومُ , فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ وَأَبُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ , حَتَّى دَخَلَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ , وَعَائِشَةَ ، فَكِلْتَاهُمَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ، ثُمَّ يَصُومُ" ، فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ وَأَبُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَأَتَيَا مَرْوَانَ، فَحَدَّثَاهُ، ثُمَّ قَالَ: عَزَمْتُ عَلَيْكُمَا لَمَا انْطَلَقْتُمَا إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، فَحَدَّثْتُمَاهُ، فَانْطَلَقَا إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، فَأَخْبَرَاهُ , قَالَ: هُمَا قَالَتَاهُ لَكُمَا؟ فَقَالَا: نَعَمْ، قَالَ: هُمَا أَعْلَمُ، إِنَّمَا أَنَبَأَنِيهِ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ.
عروہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ جو آدمی صبح کے وقت جنبی ہو اس کا روزہ نہیں ہے، ایک مرتبہ مروان بن حکم نے ایک آدمی کے ساتھ مجھے حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ کے پاس یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ اگر کوئی آدمی رمضان کے مہینے میں اس حال میں صبح کرے کہ وہ جنبی ہو اور اس نے اب تک غسل نہ کیا ہو تو کیا حکم ہے؟ دونوں نے جواب دیا کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم بغیر اختیاری طور پر صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے اور اپنا روزہ مکمل کرلیتے تھے، ہم دونوں نے واپس آکر مروان کو یہ بات بتائی، مروان نے مجھ سے کہا کہ یہ بات حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بتادو، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے تو یہ بات فضل بن عباس نے بتائی تھی البتہ وہ دونوں زیادہ جانتی ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26668]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1109
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26669
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ بِمِنًى، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قَالَ: أَبُو سَلَمَةَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَصَابَ أَحَدَكُمْ مُصِيبَةٌ، فَلْيَقُلْ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، عِنْدَكَ احْتَسَبْتُ مُصِيبَتِي وَأْجُرْنِي فِيهَا، وَأَبْدِلْنِي مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْهَا" , فَلَمَّا احْتُضِرَ أَبُو سَلَمَةَ، قَالَ: اللَّهُمَّ اخْلُفْنِي فِي أَهْلِي بِخَيْرٍ، فَلَمَّا قُبِضَ، قُلْتُ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ عِنْدَكَ أَحْتَسِبُ مُصِيبَتِي، فَأْجُرْنِي فِيهَا , قَالَتْ: وَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ: وَأَبْدِلْنِي خَيْرًا مِنْهَا، فَقُلْتُ: وَمَنْ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ، فَمَا زِلْتُ حَتَّى قُلْتُهَا، فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا خَطَبَهَا أَبُو بَكْرٍ فَرَدَّتْهُ، ثُمَّ خَطَبَهَا عُمَرُ فَرَدَّتْهُ، فَبَعَثَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: مَرْحَبًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِرَسُولِهِ، أَخْبِرْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي امْرَأَةٌ غَيْرَى، وَأَنِّي مُصْبِيَةٌ، وَأَنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِي شَاهِدًا، فَبَعَثَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا قَوْلُكِ: إِنِّي مُصْبِيَةٌ، فَإِنَّ اللَّهَ سَيَكْفِيكِ صِبْيَانَكِ، وَأَمَّا قَوْلُكِ: إِنِّي غَيْرَى، فَسَأَدْعُو اللَّهَ أَنْ يُذْهِبَ غَيْرَتَكِ، وَأَمَّا الْأَوْلِيَاءُ: فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْهُمْ شَاهِدٌ وَلَا غَائِبٌ إِلَّا سَيَرْضَانِي" , قُلْتُ: يَا عُمَرُ، قُمْ فَزَوِّجْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا إِنِّي لَا أَنْقُصُكِ شَيْئًا مِمَّا أَعْطَيْتُ أُخْتَكِ فُلَانَةَ رَحَيَيْنِ وَجَرَّتَيْنِ، وَوِسَادَةً مِنْ أَدَمٍ، حَشْوُهَا لِيفٌ" . قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِيهَا، فَإِذَا جَاءَ أَخَذَتْ زَيْنَبَ، فَوَضَعَتْهَا فِي حِجْرِهَا لِتُرْضِعَهَا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيِيًّا كَرِيمًا، يَسْتَحْيِي، فَرَجَعَ، فَفَعَلَ ذَلِكَ مِرَارًا، فَفَطِنَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ لِمَا تَصْنَعُ، فَأَقْبَلَ ذَاتَ يَوْمٍ وَجَاءَ عَمَّارٌ، وَكَانَ أَخَاهَا لِأُمِّهَا، فَدَخَلَ عَلَيْهَا، فَانْتَشَطَهَا مِنْ حِجْرِهَا، وَقَالَ: دَعِي هَذِهِ الْمَقْبُوحَةَ الْمَشْقُوحَةَ الَّتِي آذَيْتِ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ، فَجَعَلَ يُقَلِّبُ بَصَرَهُ فِي الْبَيْتِ , وَيَقُولُ:" أَيْنَ زَنَابُ؟ مَا فَعَلَتْ زَنَابُ؟" , قَالَتْ: جَاءَ عَمَّارٌ، فَذَهَبَ بِهَا، قَالَ: فَبَنَى بِأَهْلِهِ، ثُمَّ قَالَ: " إِنْ شِئْتِ أَنْ أُسَبِّعَ لَكِ، سَبَّعْتُ لِلنِّسَاءِ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابوسلمہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو کوئی مصیبت پہنچے تو اسے انا للہ وانا الیہ راجعون کہہ کریوں کہنا چاہئے اے اللہ میں تیرے سامنے اس مصیبت پر ثواب کی نیت کرتا ہوں تو مجھے اس پر اجرعطاء فرما اور اس کا نعم البدل عطاء فرمایا جب حضرت ابوسلمہ مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو میں نے دعاء کی کہ اے اللہ میرے شوہر کے ساتھ خیر کا فیصلہ فرما جب وہ فوت ہوگئے تو میں نے مذکورہ دعاء پڑھی اور جب میں نے یہ کہنا چاہا کہ مجھے اس کا نعم البدل عطاء فرما تو میرے ذہن میں خیال آیا کہ ابوسلمہ سے بہتر کون ہوسکتا ہے؟ لیکن پھر بھی میں یہ کہتی رہی، جب عدت گزر گئی تو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر نے پے درپے پیغام نکاح بھیجے لیکن انہوں نے اسے رد کردیا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پیغام نکاح بھیجا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ میرا تو کوئی والی یہاں موجود نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے اولیاء میں سے کوئی بھی خواہ وہ غائب ہو یا حاضر اسے ناپسند نہیں کرے گا انہوں نے اپنے بیٹے عمربن ابی سلمہ سے کہا کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا نکاح کرادو چنانچہ انہوں نے حضرت ام سلمہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں دیدیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ میں نے تمہاری بہنوں (اپنی بیویوں) کو جو کچھ دیا ہے تمہیں بھی اس سے کم نہیں دوں گا، دو چکیاں، ایک مشکیزہ اور چمڑے کا ایک تکیہ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی ان کے پاس خلوت کے لئے آتے تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہی اپنی بیٹی زینب کو پکڑ کر اسے اپنی گود میں بٹھالیتی تھیں اور بالآخر نبی صلی اللہ علیہ وسلم یوں ہی واپس چلے جاتے تھے، حضرت عماربن یاسر جو کہ حضرت ام سلمہ کے رضاعی بھائی تھے، کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ حضرت ام سلمہ کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ یہ گندی بچی کہاں ہے جس کے ذریعے تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء دے رکھی ہے اور اسے پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئے۔ اس مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور گھر میں داخل ہوئے تو اس کمرے کے چاروں کونوں میں نظریں دوڑا کر دیکھنے لگے پھر بچی کے متعلق پوچھا کہ زناب (زینب) کہاں گئی؟ انہوں نے بتایا کہ حضرت عمار آئے تھے وہ اسے اپنے ساتھ لے گئے ہیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ خلوت کی اور فرمایا اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس سات دن گزارتا ہوں لیکن پھر اپنی دوسری بیویوں میں سے ہر ایک کے پاس بھی سات سات دن گزاروں گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26669]

الحكم على الحديث:
بعضه صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال ابن عمر بن أبى سلمة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں