مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1183. حَدِيثُ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ الْهِلَالِيَّةِ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 26830
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ لَبِيبَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تَزَالُ أُمَّتِي بِخَيْرٍ مَا لَمْ يَفْشُ فِيهِمْ وَلَدُ الزِّنَا، فَإِذَا فَشَا فِيهِمْ وَلَدُ الزِّنَا، فَيُوشِكُ أَنْ يَعُمَّهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِعِقَابٍ" .
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت اس وقت تک خیر پر رہے گی جب تک اس میں ناجائز اولاد کی کثرت نہیں ہوگی اور جب اس میں ناجائز اولاد کی کثرت ہونے لگے تو پھر وہ وقت قریب ہوگا جب اللہ کا عذاب ان سب کو گھیر لے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26830]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لعدة علل
حدیث نمبر: 26831
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ , وَعَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ الْأَصَمِّ ، عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا سَجَدَ، جَافَى بَيْنَ يَدَيْهِ حَتَّى يَرَى مَنْ خَلْفَهُ وَضَحَ إِبْطَيْهِ" .
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تھے تو اپنے بازوؤں کو پہلو سے اتنا جدا رکھتے کہ پیچھے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغلوں کی سفیدی نظر آتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26831]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 497
حدیث نمبر: 26832
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَاتَتْهُ رَكْعَتَانِ قَبْلَ الْعَصْرِ، فَصَلَّاهُمَا بَعْدُ" .
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل ازعصر دو رکعتیں چھوٹ گئی تھیں جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد پڑھ لیا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26832]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف حنظلةالسدوسي، وقد اختلف فيه
حدیث نمبر: 26833
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ كَثِيرَ بْنَ فَرْقَدٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَالِكِ بْنِ حُذَافَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ أُمِّهِ الْعَالِيَةِ بِنْتِ سُمَيْعٍ أَوْ سُبَيْعٍ الشَّكُّ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرِجَالٍ مِنْ قُرَيْشٍ يَجُرُّونَ شَاةً لَهُمْ مِثْلَ الْحِمَارِ , فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ أَخَذْتُمْ إِهَابَهَا" , قَالُوا: إِنَّهَا مَيْتَةٌ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُطَهِّرُهَا الْمَاءُ وَالْقَرَظُ" .
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر قریش کے کچھ لوگوں پر ہوا جو اپنی ایک بکری کو گدھے کی طرح گھسیٹ رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اگر تم اس کی کھال ہی اتار لیتے (تو کیا حرج تھا) انہوں نے عرض کیا کہ یہ بکری مردار ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے پانی اور درخت سلم (کیکر کی مانند ایک درخت) کے پتے پاک کردیتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26833]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف رشدين بن سعد، ولجهالة عبدالله بن مالك، وأمه
حدیث نمبر: 26834
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , وَابْنُ بَكْرٍ , قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْبُوذٌ ، أَنَّ أُمَّهُ أَخْبَرَتْهُ , أَنَّهَا بَيْنَا هِيَ جَالِسَةٌ عِنْدَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , إِذْ دَخَلَ عَلَيْهَا ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَتْ: مَا لَكَ شَعِثًا؟ قَالَ: أُمُّ عَمَّارٍ مُرَجِّلَتِي حَائِضٌ، فَقَالَتْ: أَيْ بُنَيَّ، وَأَيْنَ الْحَيْضَةُ مِنَ الْيَدِ؟! لَقَدْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَدْخُلُ عَلَى إِحْدَانَا وَهِيَ مُتَّكِئَةٌ حَائِضٌ، قَدْ عَلِمَ أَنَّهَا حَائِضٌ، فَيَتَّكِئُ عَلَيْهَا، فَيَتْلُو الْقُرْآنَ، وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَيْهَا أَوْ يَدْخُلُ عَلَيْهَا قَاعِدَةً، وَهِيَ حَائِضٌ، فَيَتَّكِئُ فِي حِجْرِهَا، فَيَتْلُو الْقُرْآنَ فِي حِجْرِهَا , وَتَقُومُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَتَبْسُطُ لَهُ الْخُمْرَةَ فِي مُصَلَّاهُ، وقَالَ ابْنُ بَكْرٍ: خُمْرَتَهُ , فَيُصَلِّي عَلَيْهَا فِي بَيْتِي ، أَيْ بُنَيَّ، وَأَيْنَ الْحَيْضَةُ مِنَ الْيَدِ؟.
حضرت میمونہ کے پاس ایک مرتبہ ان کے بھانجے حضرت ابن عباس آئے وہ کہنے لگیں بیٹا کیا بات ہے کہ تمہارے بال بکھرے ہوئے نظر آرہے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ مجھے کنگھی کرنیوالی ام عمار ایام سے ہے حضرت میمونہ نے فرمایا بیٹا ایام کا ہاتھوں سے کیا تعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے کسی کے پاس تشریف لاتے اور وہ ایام سے ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی گود میں اپنا سر رکھ کر جبکہ وہ ایام سے ہوتی تھی قرآن کریم کی تلاوت فرماتے تھے پھر وہ کھڑی ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے چٹائی بچھاتی اور اسی حال میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھنے کی جگہ اسے رکھ دیتی تھی بیٹا ایام کا ہاتھوں سے کیا تعلق؟ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26834]
الحكم على الحديث:
مرفوعه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أم منبوذ
حدیث نمبر: 26835
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ , يَقُولُ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَ , أَنَّ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ، إِلَّا مَسْجِدَ الْكَعْبَةِ" .
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسجد نبوی میں ایک نماز خانہ کعبہ کو نکال کر دوسری تمام مساجد کی ایک ہزار نمازوں سے بھی زیادہ افضل ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26835]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فى ذكر ابن عباس فيه، فصححه مسلم، ونفاه البخاري
حدیث نمبر: 26836
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا , يَقُولُ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26836]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فى ذكر ابن عباس فيه، فصححه مسلم، ونفاه البخاري
حدیث نمبر: 26837
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " صَلَاةٌ فِيهِ , أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ، إِلَّا مَسْجِدَ الْكَعْبَةِ" .
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسجد نبوی میں ایک نماز خانہ کعبہ کو نکال کر دوسری تمام مساجد کی ایک ہزار نمازوں سے بھی زیادہ افضل ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26837]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد مختلف فيه على ليث بن سعد
حدیث نمبر: 26838
حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ عَبْدُ الْوَاحِدِ الْحَدَّادُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ فَرُّوخٍ أَبُو بَكَّارٍ ، أَنَّ أَبَا الْمَلِيحِ خَرَجَ عَلَى جَنَازَةٍ، فَلَمَّا اسْتَوَى، ظَنُّوا أَنَّهُ يُكَبِّرُ، فَالْتَفَتَ، فَقَالَ: اسْتَوُوا لِتَحْسُنَ شَفَاعَتُكُمْ، فَإِنِّي لَوْ اخْتَرْتُ رَجُلًا لَاخْتَرْتُ هَذَا، إِلَّا أَنَّهُ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلِيطٍ , عَنْ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ وَهِيَ مَيْمُونَةُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ مِنَ النَّاسِ، إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ" , قَالَ: فَسَأَلْتُ أَبَا الْمَلِيحِ، عَنِ الْأُمَّةِ، فَقَالَ: أَرْبَعُونَ.
ابوبکار کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے ابوالملیح کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی انہوں نے فرمایا کہ صفیں درست کرلو اور اچھے انداز میں اس کی سفارش کرو، اگر میں کسی آدمی کو پسند کرتا تو اس مرنے والے کو پسند کرتا، پھر انہوں نے اپنی سند سے حضرت میمونہ کی یہ روایت سنائی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس مسلمان کی نماز جنازہ ایک جماعت پڑھ لے تو اس کے حق میں ان کی سفارش قبول کرلی جاتی ہے ابوالملیح کہتے ہیں کہ جماعت سے مراد چالیس سے سو تک یا اس سے زیادہ افراد ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26838]
الحكم على الحديث:
مرفوعه صحيح لغيره، وهذا إسناد فقد اختلف فيه على أبى المليح، عبدالله بن سليط مجهول
حدیث نمبر: 26839
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ صَلَاةَ الْعَصْرِ، فَأَرْسَلَ إِلَى مَيْمُونَةَ ، ثُمَّ أَتْبَعَهُ رَجُلًا آخَرَ، فَقَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُجَهِّزُ بَعْثًا، وَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ ظَهْرٌ، فَجَاءَهُ ظَهْرٌ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَجَعَلَ يَقْسِمُهُ بَيْنَهُمْ، فَحَبَسُوهُ حَتَّى أَرْهَقَ الْعَصْرَ، وَكَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ، أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ، فَصَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ رَجَعَ، فَصَلَّى مَا كَانَ يُصَلِّي قَبْلَهَا، وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَوْ فَعَلَ شَيْئًا، يُحِبُّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهِ" .
عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ نے ہمیں نماز عصر پڑھائی اور اس کے بعد حضرت میمونہ کے پاس ایک قاصد اور اس کے پیچھے ایک اور آدمی کو بھیجا، حضرت میمونہ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی لشکر کو روانہ فرما رہے تھے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواریاں نہیں تھیں، تھوڑی دیر بعد زکوٰۃ و صدقات کے کچھ جانورآ گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے درمیان انہیں تقسیم فرمانے لگے، اسی مصروفیت میں نماز عصر کا وقت ہوگیا، ادھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول مبارک تھا کہ نماز عصر سے پہلے دو رکعتیں یا جتنی اللہ کو منظور ہوتی نماز پڑھتے تھے اس دن نماز عصر پڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دو رکعتیں پڑھ لیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پہلے پڑھا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جب بھی کوئی کام کرتے تو اس پر مداومت کرنے کو پسند فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26839]
الحكم على الحديث:
صلاة النبى ﷺ ركعتين بعد العصر صحيح، وقولها: وكان إذا صلى صلاة أو فعل شيئا، يحب أن يداوم عليهصحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف حنظلة