مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1180. حَدِيثُ خَنْسَاءَ بِنْتِ خِذَامٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 26790
قَرَأْتُ عَلَى يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ السَّائِبِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُنْذِرِ الْأَنْصَارِيُّ , أَنَّ جَدَّتَهُ أُمَّ السَّائِبِ خُنَاسَ بِنْتِ خِذَامِ بْنِ خَالِدٍ , كَانَتْ عِنْدَ رَجُلٍ قَبْلَ أَبِي لُبَابَةَ، تَأَيَّمَتْ مِنْهُ، فَزَوَّجَهَا أَبُوهَا خِذَامُ بْنُ خَالِدٍ رَجُلًا مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفِ بْنِ الْخَزْرَجِ، فَأَبَتْ إِلَّا أَنْ تَحُطَّ إِلَى أَبِي لُبَابَةَ، وَأَبَى أَبُوهَا إِلَّا أَنْ يُلْزِمَهَا الْعَوْفِيَّ حَتَّى ارْتَفَعَ أَمْرُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هِيَ أَوْلَى بِأَمْرِهَا" , فَأَلْحِقْهَا بِهَوَاهَا , قَالَ: فَانْتُزِعَتْ مِنَ الْعَوْفِيِّ، وَتَزَوَّجَتْ أَبَا لُبَابَةَ، فَوَلَدَتْ لَهُ أَبَا السَّائِبِ بْنَ أَبِي لُبَابَةَ.
حجاج بن سائب کہتے ہیں کہ ان کی دادی ام سائب خناس بنت خذام حضرت ابولبابہ سے پہلے ایک اور آدمی کے نکاح میں تھیں، وہ اس سے بیوہ ہوگئیں تو ان کے والد خذام بن خالد نے ان کا نکاح بنو عمروبن عوف کے ایک آدمی سے کردیا، لیکن انہوں نے ابولبابہ کے علاوہ کسی اور کے پاس جانے سے انکار کردیا، ان کے والد بنوعمروبن عوف کے اس آدمی سے ہی ان کا نکاح کرنے پر مصر تھے، حتی کہ یہ معاملہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ خنساء کو اپنے معاملے کا زیادہ اختیار ہے لہذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی خواہش کے مطابق بنو عمروبن عوف کے اس آدمی کے نکاح سے نکال کر حضرت ابولبابہ سے ان کا نکاح کردیا اور ان کے یہاں سائب بن ابولبابہ پیدا ہوئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26790]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف بهذه السياقة، حجاج بن السائب مجهول، وابن إسحاق مدلس، وقد عنعن، واختلف عليه فيه
حدیث نمبر: 26791
قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى أَبِي: يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ ، قَالَ: كَانَتْ خُنَاسُ بِنْتُ خِذَامٍ عِنْدَ رَجُلٍ، تَأَيَّمَتْ مِنْهُ، فَزَوَّجَهَا أَبُوهَا رَجُلًا مِنْ بَنِي عَوْفٍ، وَحَطَّتْ هِيَ إِلَى أَبِي لُبَابَةَ، فَأَبَى أَبُوهَا إِلَّا أَنْ يُلْزِمَهَا الْعَوْفِيَّ، وَأَبَتْ هِيَ، حَتَّى ارْتَفَعَ شَأْنُهُمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " هِيَ أَوْلَى بِأَمْرِهَا" , فَأَلْحِقْهَا بِهَوَاهَا، فَتَزَوَّجَتْ أَبَا لُبَابَةَ فَوَلَدَتْ لَهُ أَبَا السَّائِبِ.
حجاج بن سائب کہتے ہیں کہ ان کی دادی ام سائب خناس بنت خذام حضرت ابولبابہ سے پہلے ایک اور آدمی کے نکاح میں تھیں، وہ اس سے بیوہ ہوگئیں تو ان کے والد خذام بن خالد نے ان کا نکاح بنو عمروبن عوف کے ایک آدمی سے کردیا، لیکن انہوں نے ابولبابہ کے علاوہ کسی اور کے پاس جانے سے انکار کردیا، ان کے والد بنوعمروبن عوف کے اس آدمی سے ہی ان کا نکاح کرنے پر مصر تھے، حتی کہ یہ معاملہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ خنساء کو اپنے معاملے کا زیادہ اختیار ہے لہذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی خواہش کے مطابق بنو عمروبن عوف کے اس آدمی کے نکاح سے نکال کر حضرت ابولبابہ سے ان کا نکاح کردیا اور ان کے یہاں سائب بن ابولبابہ پیدا ہوئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26791]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف بهذه السياقة، حجاج بن السائب مجهول، وأبن إسحاق مدلس وقد عنعن، واختلف عليه فيه
1181. حَدِيثُ أُخْتِ مَسْعُودِ ابْنِ الْعَجْمَاءِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 26792
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ حَبِيبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ ، أَنَّ خَالَتَهُ أُخْتَ مَسْعُودِ ابْنِ الْعَجْمَاءِ حدَّثَتْهُ، أَنَّ أَبَاهَا , قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ قَطِيفَةً: نَفْدِيهَا بِأَرْبَعِينَ أُوقِيَّةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَأَنْ تَطَّهَّرَ خَيْرٌ لَهَا" , فَأَمَرَ بِهَا فَقُطِعَتْ يَدُهَا، وَهِيَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، أَوْ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَسَدِ.
مسعود بن عجماء کی ہمشیرہ کہتی ہیں کہ ان کے والد نے اس مخزومی عورت کے متعلق جس نے چوری کا ارتکاب کیا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ہم اس کے فدیئے میں چالیس اوقیہ پیش کرنے کے لئے تیار ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے حق میں بہتریہی ہے کہ یہ پاک ہوجائے چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا اس عورت کا تعلق بنو عبد الاشہل یا بنو اسد سے تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26792]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، أبن إسحاق مدلس وقد عنعن، ثم إن جعل هذا الحديث عن مسعود ابن العجماء خطأ، فإن مسعودا قد استشهد فى مؤتة، وقصة المخزومية إنما كانت فى فتح مكة
1182. حَدِيثُ رُمَيْثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 26793
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ جَدَّتِهِ رُمَيْثَةَ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: وَلَوْ أَشَاءُ أَنْ أُقَبِّلَ الْخَاتَمَ الَّذِي بَيْنَ كَتِفَيْهِ مِنْ قُرْبِي مِنْهُ، لَفَعَلْتُ , يَقُولُ: " اهْتَزَّ لَهُ عَرْشُ الرَّحْمَنِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى" , يُرِيدُ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ يَوْمَ تُوُفِّيَ.
حضرت رمیثہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ سعد بن معاذ کی وفات پر عرش الٰہی بھی ہلنے لگا اس وقت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اتنا قریب تھی کہ اگر آپ کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت کو بوسہ دینا چاہتی تو دے سکتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26793]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 26794
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الظَّفَرِيِّ ، عَنْ جَدَّتِهِ رُمَيْثَةَ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26794]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
1183. حَدِيثُ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ الْهِلَالِيَّةِ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 26795
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مَرَّ بِشَاةٍ لِمَوْلَاةٍ لِمَيْمُونَةَ مَيِّتَةٍ، فَقَالَ: " أَلَا أَخَذُوا إِهَابَهَا، فَدَبَغُوهُ، فَانْتَفَعُوا بِهِ؟" , فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا مَيْتَةٌ! , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا حُرِّمَ أَكْلُهَا" , قَالَ سُفْيَانُ: هَذِهِ الْكَلِمَةُ لَمْ أَسْمَعْهَا إِلَّا مِنَ الزُّهْرِيِّ:" حُرِّمَ أَكْلُهَا" , قَالَ أَبِي: قَالَ سُفْيَانُ: مَرَّتَيْنِ عَنْ مَيْمُونَةَ.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مردہ بکری پر گزر ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اس کی کھال سے کیوں نہ فائدہ اٹھالیا؟ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ یہ مردہ ہے فرمایا اس کا صرف کھانا حرام ہے (باقی اس کی کھال دباغت سے پاک ہوسکتی ہے) [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26795]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 363
حدیث نمبر: 26796
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ , أَنَّ فَأْرَةً وَقَعَتْ فِي سَمْنٍ، فَمَاتَتْ، فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " خُذُوهَا وَمَا حَوْلَهَا، فَأَلْقُوهُ، وَكُلُوهُ" .
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگ چوہا گھی میں گر کر مرجائے تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھی اگر جما ہوا ہو تو اس حصے کو (جہاں چوہا گراہو) اور اس کے آس پاس کے گھی کو نکال لو اور پھر باقی گھی کو استعمال کرلو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26796]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5538
حدیث نمبر: 26797
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ جَابِرٍ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، قَالَتْ: " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ" .
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل کرلیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26797]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على سفيان بن عيينة
حدیث نمبر: 26798
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ، يَبْدَأُ، فَيَغْسِلُ يَدَيْهِ، ثُمَّ يُفْرِغُ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ، فَيَغْسِلُ فَرْجَهُ، ثُمَّ يَضْرِبُ يَدَهُ عَلَى الْأَرْضِ، فَيَمْسَحُهَا، ثُمَّ يَغْسِلُهَا، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ يُفْرِغُ عَلَى رَأْسِهِ وَعَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ، ثُمَّ يَتَنَحَّى، فَيَغْسِلُ رِجْلَيْهِ" .
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت فرماتے تھے تو سب سے پہلے اپنے ہاتھو کو دھوتے تھے پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی بہاتے شرمگاہ کو دھوتے اور زمین پر ہاتھ مل کر اسے دھو لیتے پھر نماز والا وضو فرماتے پھر سر اور باقی جسم پر پانی ڈالتے اور غسل کے بعد اس جگہ سے ہٹ کر اپنے پاؤں دھو لیتے (کیونکہ وہاں پانی کھڑا ہوجاتا تھا) [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26798]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 249، م: 317
حدیث نمبر: 26799
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، قَالَ: عَبْد اللَّهِ , حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26799]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 249، م: 317