مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1186. حَدِيثُ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَاسْمُهَا فَاخِتَةُ
حدیث نمبر: 26900
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ: مَا أَخْبَرَنِي أَحَدٌ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى غَيْرَ أُمِّ هَانِئٍ ، فَإِنَّهَا حَدَّثَتْ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ بَيْتَهَا يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ، فَاغْتَسَلَ وَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، مَا رَأَتْهُ صَلَّى صَلَاةً قَطُّ أَخَفَّ مِنْهَا، غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ" .
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ کے بالائی حصے میں پڑاؤ ڈالا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل فرمالیا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ رکعتیں پڑھیں یہ چاشت کا وقت تھا، میں نے انہیں اس سے زیادہ ہلکی نماز پڑھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا بس وہ رکوع سجود مکمل کر رہے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26900]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1103، م: 336
حدیث نمبر: 26901
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ عَنْ صَلَاةِ الضُّحَى، فَقَالَ: أَدْرَكْتُ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ مُتَوَافِرُونَ، فَمَا حَدَّثَنِي أَحَدٌ مِنْهُمْ , أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى غَيْرَ أُمِّ هَانِئٍ ، فَإِنَّهَا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ يَوْمَ جُمُعَةٍ، فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ صَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ" .
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ کے بالائی حصے میں پڑاؤ ڈالا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل فرمایا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ رکعتیں پڑھیں یہ چاشت کا وقت تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26901]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح دون قوله: يوم جمعة، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد
حدیث نمبر: 26902
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَبَاحٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ الْجَحْشِيِّ ، عَنْ مُوسَى أَوْ فُلَانِ - بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ ، قَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اتَّخِذِي غَنَمًا يَا أُمَّ هَانِئٍ، فَإِنَّهَا تَرُوحُ بِخَيْرٍ، وَتَغْدُو بِخَيْرٍ" .
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ام ہانی (چاشت کی نماز کو) غنیمت سمجھو، کیونکہ یہ شام کو بھی خیر لاتی ہے اور دن کو بھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26902]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى عثمان، وموسي بن عبدالرحمن، وقد اختلف فيه على معمر
حدیث نمبر: 26903
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ , أَنَّهَا رَأَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، مُخَالِفًا بَيْنَ طَرَفَيْهِ، ثَمَانِ رَكَعَاتٍ بِمَكَّةَ، يَوْمَ الْفَتْحِ" .
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ انہوں نے ایک کپڑے میں اچھی طرح لپٹ کر آٹھ رکعتیں پڑھیں اور کپڑے کے دونوں کنارے مخالف سمت سے کندھے پر ڈال لئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26903]
الحكم على الحديث:
صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 26904
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ: لَمْ يُخْبِرْنَا أَحَدٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الضُّحَى إِلَّا أُمَّ هَانِئٍ ، فَإِنَّهَا قَالَتْ:" دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتِي، " فَاغْتَسَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ، ثُمَّ صَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ يُخِفُّ فِيهِنَّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ" .
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں آئے، غسل فرمایا پھر مختصر رکوع و سجود کے ساتھ آٹھ رکعتیں پڑھیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26904]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1103، م: 336
حدیث نمبر: 26905
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ ، قَالَتْ: " كُنْتُ أَسْمَعُ قِرَاءَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، وَأَنَا عَلَى عَرِيشِي" .
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ میں رات کے آدھے حصے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت سن رہی تھی، اس وقت میں اپنے اسی گھر کی چھت پر تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے قریب تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26905]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26906
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى فَاخِتَةَ أُمِّ هَانِئٍ، عَنْ فَاخِتَةَ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَتْ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ، أَجَرْتُ رَجُلَيْنِ مِنْ أَحْمَائِي، فَأَدْخَلْتُهُمَا بَيْتًا، وَأَغْلَقْتُ عَلَيْهِمَا بَابًا، فَجَاءَ ابْنُ أُمِّي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَتَفَلَّتَ عَلَيْهِمَا بِالسَّيْفِ، قَالَتْ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ أَجِدْهُ، وَوَجَدْتُ فَاطِمَةَ، فَكَانَتْ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ زَوْجِهَا , قَالَتْ: فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ أَثَرُ الْغُبَارِ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ:" يَا أُمَّ هَانِئٍ، قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ، وَأَمَّنَّا مَنْ أَمَّنْتِ" .
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن میں نے اپنے دو دیوروں کو جو مشرکین میں سے تھے پناہ دیدی اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم گرد و غبار میں اٹے ہوئے ایک لحاف میں لپٹے ہوئے تشریف لائے مجھے دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فاختہ ام ہانی کو خوش آمدید میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں نے اپنے دو دیوروں کو جو مشرکین میں سے ہیں پناہ دیدی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جسے تم نے پناہ دیدی ہے اسے ہم بھی پناہ دیتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26906]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26907
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ أَنَّهَا ذَهَبَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ، قَالَتْ: فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ، وَ فَاطِمَةُ تَسْتُرُهُ بِثَوْبٍ، فَسَلَّمْتُ، وَذَلِكَ ضُحًى، فَقَالَ:" مَنْ هَذَا؟" , فَقُلْتُ: أَنَا أُمُّ هَانِئٍ , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , زَعَمَ ابْنُ أُمِّي أَنَّهُ قَاتِلٌ رَجُلًا أَجَرْتُهُ، فُلَانَ بْنَ هُبَيْرَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا. أُمَّ هَانِئٍ" , فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غُسْلِهِ، قَامَ، فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ .
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن میں نے اپنے دو دیوروں کو جو مشرکین میں سے تھے پناہ دیدی اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم گرد و غبار میں اٹے ہوئے ایک لحاف میں لپٹے ہوئے تشریف لائے مجھے دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فاختہ ام ہانی کو خوش آمدید، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں نے اپنے دو دیوروں کو جو مشرکین میں سے ہیں پناہ دیدی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جسے تم نے پناہ دیدی ہے اسے ہم بھی پناہ دیتے ہیں جسے تم نے امن دیا اسے ہم بھی امن دیتے ہیں پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ کو حکم دیا انہوں نے پانی رکھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے غسل فرمایا پھر ایک کپڑے میں اچھی طرح لپٹ کر آٹھ رکعتیں پڑھیں یہ فتح مکہ کے دن چاشت کے وقت کی بات ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26907]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 280، م: 336
حدیث نمبر: 26908
قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ هَذَا الْحَدِيثَ: مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَيْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ , ذَهَبَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26908]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 280، م: 336
حدیث نمبر: 26909
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَعْدَةَ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ وَهِيَ جَدَّتُهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمَ الْفَتْحِ، فَأُتِيَ بِشَرَابٍ، فَشَرِبَ، ثُمَّ نَاوَلَنِي، فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْمُتَطَوِّعَ أَمِيرٌ عَلَى نَفْسِهِ، فَإِنْ شِئْتِ فَصُومِي، وَإِنْ شِئْتِ فَأَفْطِرِي" .
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور ان سے پانی منگوا کر اسے نوش فرمایا پھر وہ برتن انہیں پکڑا دیا انہوں نے بھی اس کا پانی پی لیا پھر یاد آیا تو کہنے لگیں یا رسول اللہ میں تو روزے سے تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ رمضان کا قضاء روزہ تھا تو اس کی جگہ قضاء کرلو اور اگر نفلی روزہ تھا تو تمہاری مرضی ہے چاہے تو قضاء کرلو اور چاہے تو نہ کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26909]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة جعدة