مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1187. حَدِيثُ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 26920
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ: أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْمَرْأَةُ يُصِيبُهَا مِنْ دَمِ حَيْضِهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِتَحُتَّهُ، ثُمَّ لِتَقْرِضْهُ بِمَاءٍ، ثُمَّ لِتُصَلِّي فِيهِ" .
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک عورت بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ اگر کسی عورت کے جسم (یاکپڑوں) پر دم حیض لگ جائے تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے کھرچ دے پھر پانی سے بہادے اور اسی میں نماز پڑھ لے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26920]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 307، م: 291
حدیث نمبر: 26921
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ: جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي عَلَى ضَرَّةٍ، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ أَنْ أَتَشَبَّعَ مِنْ زَوْجِي بِمَا لَمْ يُعْطِنِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ، كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ" .
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ میری ایک سوکن ہے اگر مجھے میرے خاوند نے کوئی چیز نہ دی ہو لیکن میں یہ ظاہر کروں کہ اس نے مجھے فلاں چیز سے سیراب کردیا ہے، تو کیا اس میں مجھ پر کوئی گناہ ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے آپ کو ایسی چیز سے سیراب ہونیوالا ظاہر کرنا جو اسے نہیں ملی وہ ایسے ہے جیسے جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26921]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5219، م: 2130
حدیث نمبر: 26922
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " انْفَحِي أَوْ ارْضَحِي، أَوْ أَنْفِقِي وَلَا تُوعِي، فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ، وَلَا تُحْصِي فَيُحْصِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ" .
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا سخاوت اور فیاضی کیا کرو اور خرچ کیا کرو جمع مت کیا کرو ورنہ اللہ بھی تم پر جمع کرنے لگے گا اور گن گن کر نہ خرچ کیا کرو کہ تمہیں بھی اللہ گن گن کر دینا شروع کردے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26922]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1433، م: 1029
حدیث نمبر: 26923
حَدَّثَنَا عَثَّامُ بْنُ عَلِيٍّ أَبُو عَلِيٍّ الْعَامِرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ: " إِنْ كُنَّا لَنُؤْمَرُ بِالْعَتَاقَةِ فِي صَلَاةِ الْخُسُوفِ" .
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ سورج گرہن کے موقع پر ہمیں غلام آزاد کرنے کا حکم دیا جاتا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26923]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2520
حدیث نمبر: 26924
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ: وَلَقَدْ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِالْعَتَاقَةِ فِي صَلَاةِ كُسُوفِ الشَّمْسِ" .
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کے موقع پر ہمیں غلام آزاد کرنے کا حکم دیا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26924]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1054
حدیث نمبر: 26925
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ فَاطِمَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ: خَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ، فَقُلْتُ: مَا شَأْنُ النَّاسِ يُصَلُّونَ؟ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا إِلَى السَّمَاءِ، فَقُلْتُ: آيَةٌ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، فَأَطَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِيَامَ جِدًّا حَتَّى تَجَلَّانِي الْغَشْيُ، فَأَخَذْتُ قِرْبَةً إِلَى جَنْبِي، فَأَخَذْتُ أَصُبُّ عَلَى رَأْسِي الْمَاءَ، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ تَجَلَّتْ الشَّمْسُ، فَخَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" أَمَّا بَعْدُ، مَا مِنْ شَيْءٍ لَمْ أَكُنْ رَأَيْتُهُ , إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي هَذَا، حَتَّى الْجَنَّةُ وَالنَّارُ، إِنَّهُ قَدْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ قَرِيبًا أَوْ مِثْلَ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ يُؤْتَى أَحَدُكُمْ، فَيُقَالُ: مَا عِلْمُكَ بِهَذَا الرَّجُلِ؟ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ أَوْ الْمُوقِنُ، لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ , فَيَقُولُ: هُوَ مُحَمَّدٌ , هُوَ رَسُولُ اللَّهِ، جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى، فَأَجَبْنَا وَاتَّبَعْنَا ثَلَاثَ مِرَارٍ , فَيُقَالُ لَهُ: قَدْ كُنَّا نَعْلَمُ أَنْ كُنْتَ لَتُؤْمِنُ بِهِ، فَنَمْ صَالِحًا، وَأَمَّا الْمُنَافِقُ أَوْ الْمُرْتَابُ، لَا يَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَاءُ , فَيَقُولُ: مَا أَدْرِي، سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُ" .
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں سورج گرہن ہوگیا، اس دن میں حضرت عائشہ کے یہاں گئی، تو ان سے پوچھا کہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ اس وقت نماز پڑھ رہے ہیں؟ انہوں نے اپنے سر سے آسمان کی طرف اشارہ کردیا میں نے پوچھا کہ کیا کوئی نشانی ظاہر ہوئی ہے؟ انہوں نے کہا ہاں اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قیام کیا حتی کہ مجھ پر غشی طاری ہوگئی، میں نے اپنے پہلو میں رکھے ہوئے ایک مشکیزے کو پکڑا اور اس سے اپنے سر پر پانی بہانے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے جب سلام پھیرا تو سورج گرہن ختم ہوچکا تھا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا اور اللہ کی حمد وثناء کرنے کے بعد فرمایا حمد وصلوۃ کے بعد! اب تک میں نے جو چیزیں نہیں دیکھی تھیں وہ اپنے اس مقام پر آج دیکھ لیں حتی کہ جنت اور جہنم کو بھی دیکھ لیا مجھے یہ وحی کی گئی ہے کہ تم لوگوں کو اپنی قبروں میں مسح دجال کے برابریا اس کے قریب قریب فتنے میں مبتلا کیا جائے گا تمہارے پاس فرشتے آئیں گے اور پوچھیں گے کہ اس آدمی کے متعلق تم کیا جانتے ہو؟ تو جو مؤمن ہوگا وہ جواب دے گا کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور ہمارے پاس واضح معجزات اور ہدایت لے کر آئے ہم نے ان کی پکار پر لبک کہا اور ان کی اتباع کی (تین مرتبہ) اس سے کہا جائے گا ہم جانتے تھے کہ تو اس پر ایمان رکھتا ہے لہذا سکون کے ساتھ سو جاؤ! اور جو منافق ہوگا تو وہ کہے گا میں نہیں جانتا میں لوگوں کو کچھ کہتے ہوئے سنتا تھا وہی میں بھی کہہ دیتا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26925]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 184، م: 905
حدیث نمبر: 26926
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , عَنْ هِشَامٍ , عَنْ فَاطِمَةَ بنت المنذر ، عَنْ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ: إِنَّهَا كَانَتْ إِذَا أُتِيَتْ بِالْمَرْأَةِ لِتَدْعُوَ لَهَا، صَبَّتْ الْمَاءَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ جَيْبِهَا، وَقَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَرَنَا أَنْ نُبْرِدَهَا بِالْمَاءِ، وَقَالَ:" إِنَّهَا مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ" .
حضرت اسماء کے حوالے سے مروی ہے کہ جب ان کے پاس کسی عورت کو دعا کے لئے لایا جاتا تو وہ اس کے گریبان میں (دم کرکے) پانی ڈالتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ بخار کو پانی سے ٹھنڈا کیا کریں اور فرمایا ہے کہ بخار جہنم کی تپش کا اثرہوتا ہے [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26926]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5724، م: 2211
حدیث نمبر: 26927
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ فَاطِمَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ: " أَفْطَرْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ غَيْمٍ فِي رَمَضَانَ، ثُمَّ طَلَعَتْ الشَّمْسُ" , قُلْتُ لِهِشَامٍ: أُمِرُوا بِالْقَضَاءِ؟ قَالَ: وَبُدٌّ مِنْ ذَاكَ.
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے ماہ رمضان کے ایک ابرآلود دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں روزہ ختم کردیا تھا پھر سورج روشن ہوگیا (بعد میں جس کی قضاء کرلی گئی تھی) [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26927]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1959
حدیث نمبر: 26928
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ , وَفَاطِمَةُ بِنْتُ الْمُنْذِرِ , عَنْ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ: صَنَعْتُ سُفْرَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فِي بَيْتِ أَبِي بَكْرٍ حِينَ أَرَادَ أَنْ يُهَاجِرَ , قَالَتْ: فَلَمْ نَجِدْ لِسُفْرَتِهِ وَلَا لِسِقَائِهِ مَا نَرْبِطُهُمَا بِهِ , قَالَتْ: فَقُلْتُ لِأَبِي بَكْرٍ: وَاللَّهِ مَا أَجِدُ شَيْئًا أَرْبِطُهُ بِهِ إِلَّا نِطَاقِي , قَالَ: فَقَالَ شُقِّيهِ بِاثْنَيْنِ، فَارْبِطِي بِوَاحِدٍ السِّقَاءَ، وَالْآخَرِ السُّفْرَةَ، فَلِذَلِكَ سُمِّيَتْ: ذَاتَ النِّطَاقَيْنِ" .
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ جس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کا ارادہ کیا تو حضرت صدیق اکبر کے گھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے سامان سفر میں نے تیار کیا تھا، مجھے سامان سفر اور مشکیزے کا منہ باندھنا تھا لیکن اس کے لئے مجھے کوئی چیز نہ مل سکی، میں نے حضرت صدیق اکبر سے عرض کیا کہ مجھے اپنے کمربند کے علاوہ کوئی چیز سامان سفرباندھنے کے لئے نہیں مل رہی، انہوں نے فرمایا اسے دو ٹکڑے کردو اور ایک ٹکڑے سے مشکیزے کا منہ باندھ دو اور دوسرے سے سامان سفر، اسی وجہ سے میرا نام " ذات النطاقین " پڑگیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26928]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2979، م: 2545
حدیث نمبر: 26929
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ ، عَنْ أَسْمَاءَ , أَنَّ امْرَأَةً , قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي ضَرَّةً، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ إِنْ تَشَبَّعْتُ مِنْ زَوْجِي بِغَيْرِ الَّذِي يُعْطِينِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ، كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ" .
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ میری ایک سوکن ہے اگر مجھے میرے خاوند نے کوئی چیز نہ دی ہو لیکن میں یہ ظاہر کروں کہ اس نے مجھے فلاں چیز سے سیراب کردیا ہے، تو کیا اس میں مجھ پر کوئی گناہ ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے آپ کو ایسی چیز سے سیراب ہونیوالا ظاہر کرنا جو اسے نہیں ملی وہ ایسے ہے جیسے جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26929]
الحكم على الحديث:
صحيح، خ: 5219، م: 2130