🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1171. تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 24921
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَرْقُدُ، فَإِذَا اسْتَيْقَظَ تَسَوَّكَ، ثُمَّ تَوَضَّأَ، ثُمَّ صَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ، يَجْلِسُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ فَيُسَلِّمُ، ثُمَّ يُوتِرُ بِخَمْسِ رَكَعَاتٍ، لَا يَجْلِسُ إِلَّا فِي الْخَامِسَةِ، وَلَا يُسَلِّمُ إِلَّا فِي الْخَامِسَةِ" .
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جب سو کر بیدار ہوتے تو مسواک کرتے، وضو کرتے اور آٹھ رکعتیں پڑھتے، ہر دو رکعتوں پر بیٹھ کر سلام پھیرتے، پھر پانچ رکعتیں اس طرح پڑھتے کہ پھر پانچویں رکعت پر ہی بیٹھتے اور اسی پر بیٹھ کر سلام پھیرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24921]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 737
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 24922
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ الْمُحَارِبِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ , تَقُولُ:" نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَنْبِذَ فِي الدُّبَّاءِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَالْحَنْتَمِ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مزفت، دباء اور حنتم نامی برتنوں میں نبیذ استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24922]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 5595، م: 1995
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 24923
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ سَعِيدٍ الْحَنَفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جُمَيْعُ بْنُ عُمَيْرٍ التَّيْمِيُّ ، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ عَمَّتِي وَخَالَتِي إِلَى عَائِشَةَ ، فَسَأَلْتُهَا: كَيْفَ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَصْنَعُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَرَكَتْ؟ فَقَالَتْ: " كَانَ إِذَا كَانَ ذَلِكَ مِنْ إِحْدَانَا، ائْتَزَرَتْ بِالْإِزَارِ الْوَاسِعِ، ثُمَّ الْتَزَمَتْ رَسُولَ اللَّهِ بِثَدْيَيْهَا، وَنَحْرِهَا" .
جمیع بن عمیر تیمی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنی پھوپھی اور خالہ کے ساتھ حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوا، پھوپھی اور خالہ نے ان سے پوچھا کہ جب آپ میں سے کسی کو ' ایام " آجاتے تو آپ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کیا کرتی تھیں؟ انہوں نے فرمایا کہ ایسی صورت میں ہم کشادہ تہبند باندھ لیتے تھے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی چھاتی اور سینہ لگاسکتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24923]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جدا شبه موضوع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 24924
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: يَزِيدُ الرِّشْكُ أَخْبَرَنِي، عَنْ مُعَاذَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا سَأَلَتْهَا: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى أَرْبَعًا؟ قَالَتْ " نَعَمْ أَرْبَعًا، وَيَزِيدُ مَا شَاءَ اللَّهُ" .
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی چار رکعتیں پڑھی ہیں اور اس پر اضافہ بھی فرما لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24924]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 719
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 24925
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَتِيقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تُحَدِّثُهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ السِّوَاكَ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ، مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ" .
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسواک منہ کی پاکیزگی اور رب کی رضا کا ذریعہ ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24925]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 24926
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَائِمًا أَيَّامَ الْعَشْرِ قَطُّ" .
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ذی الحجہ کے پہلے عشرے میں کبھی روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24926]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1176
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 24927
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ، يَنْفُثُ عَلَى نَفْسِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُعَوِّذَاتِ، فَلَمَّا ثَقُلَ عَنْ ذَلِكَ، جَعَلْتُ أَنْفُثُ عَلَيْهِ بِهِنَّ، وَأَمْسَحُهُ بِيَدِ نَفْسِهِ" .
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اوپر معوذات پڑھ کر دم کرتے تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو میں ان کا دست مبارک پکڑتی اور یہ کلمات پڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ ان کے جسم پر پھیر دیتی، تاکہ ان کے ہاتھ کی برکت بھی شامل ہوجائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24927]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5735
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 24928
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ السُّدِّيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا كُنْتُ أَقْضِي مَا يَكُونُ عَلَيَّ مِنْ رَمَضَانَ إِلَّا فِي شَعْبَانَ، حَتَّى تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ میں اپنے رمضان کے روزوں کی قضاء ماہ شعبان ہی میں کرتی تھی تاآنکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24928]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، عبدالله البهي اختلف فى سماعه من عائشة ، خ: 1950، م: 1146
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 24929
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ... سورة آل عمران آية 7 حَتَّى فَرَغَ مِنْهَا، قَالَ: " قَدْ سَمَّاهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَاحْذَرُوهُمْ" .
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی یہ آیت تلاوت فرمائی " اللہ وہی ہے جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی ہے جس کی بعض آیتیں محکم ہیں، ایسی آیات ہی اس کتاب کی اصل ہیں اور کچھ آیات متشابہات میں سے بھی ہیں، جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہوتی ہے، وہ تو متشابہات کے پیچھے چل پڑتے ہیں "۔۔۔ اور فرمایا کہ جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو قرآنی آیات میں جھگڑ رہے ہیں تو یہ وہی لوگ ہوں گے جو اللہ کی مراد ہیں، لہٰذا ان سے بچو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24929]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4547، م: 2665
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 24930
حَدَّثَنَا قُرَيْشُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ ، عَنْ عَمَّتِهِ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: " كُنَّا نَنْبِذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُدْوَةً فِي سِقَاءٍ وَلَا نُخَمِّرُهُ، وَلَا نَجْعَلُ لَهُ عَكَرًا، فَإِذَا أَمْسَى تَعَشَّى، فَشَرِبَ عَلَى عَشَائِهِ، فَإِنْ بَقِيَ شَيْءٌ فَرَّغْتُهُ أَوْ صَبَبْتُهُ، ثُمَّ نَغْسِلُ السِّقَاءَ، فَنَنْبِذُ فِيهِ مِنَ الْعِشَاءِ، فَإِذَا أَصْبَحَ تَغَدَّى، فَشَرِبَ عَلَى غَدَائِهِ، فَإِنْ فَضَلَ شَيْءٌ صَبَبْتُهُ أَوْ فَرَّغْتُهُ، ثُمَّ غَسَلَ السِّقَاءَ". فَقِيلَ لَهُ: أَفِيهِ غَسَلَ السِّقَاءَ مَرَّتَيْنِ؟ قَالَ:" مَرَّتَيْنِ" .
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ صبح کے وقت کسی مشکیزے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نبیذ باتے تھے، ہم اسے شراب بننے دیتے تھے اور نہ ہی اس کا تلچھٹ بناتے تھے، شام کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانا کھاتے تو اسے بھی نوش فرمالیتے، اگر کچھ پانی بچتا تو میں اسے فارغ کردیتی یا بہا دیتی تھی اور مشکیزہ دھو دیتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24930]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال عمرة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں