مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
(قیامت کے دن اختلاف پر بحث)
حدیث نمبر: 60
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: قَالَ الزُّبَيْرُ : لَمَّا نَزَلَتْ: ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ سورة الزمر آية 31، قَالَ الزُّبَيْرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ!" أَتُكَرَّرُ عَلَيْنَا الْخُصُومَةُ بَعْدَ الَّذِي كَانَ بَيْنَنَا فِي الدُّنْيَا؟ فَقَالَ: نَعَمْ"، فَقُلْتُ: إِنَّ الأَمْرَ إِذًا لَشَدِيدٌ .
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے، جب یہ آیت نازل ہوئی: ”پھر بے شک تم لوگ قیامت کے دن اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ایک دوسرے کے ساتھ بحث کرو گے۔“ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! دنیا میں جو ہمارے درمیان اختلاف ہے، تو کیا بعد میں دوبارہ ہمارے درمیان اختلاف ہوگا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں!“ تو میں نے عرض کی: پھر تو معاملہ بہت شدید ہوگا! [مسند الحميدي/حدیث: 60]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه أبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“: 688، 687، والترمذي: 3236، تحفة الأشراف: 3629، وأحمد: 164/1، برقم: 1405، وفي المستدرك للحاكم: 3626»
(نعمتوں کے بارے میں قیامت کے دن سوال)
حدیث نمبر: 61
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: قَالَ الزُّبَيْرَ : لَمَّا نَزَلتْ: ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ سورة التكاثر آية 8، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَأَيُّ نَعِيمٍ نُسْأَلُ عَنْهُ؟ وَإِنَّمَا هُمَا الأَسْوَدَانِ: التَّمْرُ وَالْمَاءُ، قَالَ:" إِمَّا أَنَّ ذَلِكَ سَيَكُونُ" . قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: فَكَانَ سُفْيَانُ رُبَّمَا قَالَ: قَالَ الزُّبَيْرُ: وَرُبَّمَا قَالَ: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ثُمَّ يَقُولُ: فَقَالَ الزُّبَيْرُ.
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ، جب یہ آیت نازل ہوئی: ”پھر تم سے نعمتوں کے بارے ضرور بالضرور سوال کیا جائے گا۔“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کون سی نعمتوں کے بارے میں ہم سے سوال کیا جائے گا؟ حالانکہ ہمیں تو یہی دو چیزیں ملتی ہیں کھجور اور پانی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایسا ضرور ہوگا۔“ حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سفیان نامی راوی نے بعض اوقات یہ الفاظ نقل کیے ہیں، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جبکہ بعض اوقات یہ الفاظ نقل کیے ہیں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے یہ بات منقول ہے، پھر وہ کہنے لگے کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے یہ کہا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 61]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه أبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:676، وأحمد:429/5، برقم: 23690، ومسنده البزار: 963»
(قیامت کے دن حقداروں کے حق پر بحث)
حدیث نمبر: 62
حَدَّثنا أَبُو ضَمْرَةَ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ اللَّيْثِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلتْ: ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ سورة الزمر آية 31، قَالَ الزُّبَيْرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيُكَرَّرُ عَلَيْنَا الَّذِي كَانَ بَيْنَنَا فِي الدُّنْيَا مَعَ خَوَاصِّ الذُّنُوبِ؟ فَقَالَ:" نَعَمْ، حَتَّى تُؤَدُّوا إِلَى كُلِّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ" .
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما، سیدنا زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: ”تو پھر قیامت کے دن تم لوگ اپنے پروردگار کے سامنے ایک دوسرے سے بحث کرو گے۔“ تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! دنیا میں ہمارے درمیان جو اختلاف ہے، تو یہ خواص ذنوب کے ساتھ دوبارہ ہم پر آئے گا؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں۔ جب تک تم میں سے ہر ہر حقدار کو اس کا مخصوص حق نہیں مل جاتا۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 62]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه أبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“: 688، 687، والترمذي: 3236، تحفة الأشراف: 3629، وأحمد: 164/1، برقم: 1405، وفي المستدرك للحاكم: 3626»
(طائف کے شکار اور درختوں کے حرم ہونے کا بیان)
حدیث نمبر: 63
حَدَّثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ ، قَالَ: حَدَّثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِنْسَانٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ لِيَّةٍ حَتَّى إِذَا كُنَّا عِنْدَ السِّدْرَةِ، وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى طَرَفِ الْقَرْنِ الأَسْوَدِ، حَذْوَهَا فَاسْتَقْبَلَ نَخِبًا بِبَصَرِهِ، وَوَقَفَ حَتَّى اتَّقَفَ النَّاسُ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ صَيْدَ وَجٍّ , وَعِضَاهَهُ حَرَمُ مَحْرَمِ اللَّهِ" , وَذَلِكَ قَبْلَ نُزُولِهِ الطَّائِفَ وَحِصَارِهِ ثَقِيفًا.
عروہ بن زبیر، سیدنا زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کرتے ہیں: ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ «لِيّه» (طائف کی ایک نواحی آبادی) سے آ رہے تھے، یہاں تک کہ جب ہم سدرہ (بیری کے درخت) کے پاس پہنچے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرن اسود (چھوٹے پہاڑ یا طائف کے قریب ایک گاؤں) کے پر ٹھہر گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے مدمقابل ٹھہرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نخب (نامی چھوٹی سی وادی) کی طرف رخ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ لوگ بھی ٹھہرے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک «وج» (یعنی طائف) کا شکار اور یہاں کے درخت بھی حرم کا حصہ ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے قابل احترام قرار دیا ہے۔“ راوی کہتے ہیں: یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طائف میں پڑاؤ کرنے اور ثقیف قبیلے کا محاصرہ کرنے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 63]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي: 200/5، وأحمد: 165/1، وأبوداود: 2032»
(مجوسیوں سے جزیہ وصول کرنے کی گواہی کا بیان)
حدیث نمبر: 64
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ بَجَالَةَ ، يَقُولُ: لَمْ يَكُنْ عُمَرُ أَخَذَ الْجِزْيَةَ مِنَ الْمَجُوسِ حَتَّى شَهِدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ:" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا مِنْ مَجُوسِ أَهْلِ هَجَرٍ" .
بجالہ کہتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجوسیوں سے جزیہ وصول نہیں کیا، یہاں تک کہ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اس بات کی گواہی دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ہجر“ نامی علاقے کے رہنے والے مجوسیوں سے اسے وصول کیا تھا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 64]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه أبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:860-861، والبخاري: 3156، ومالك فى "الموطأ" برقم:»
(رشتہ داری ملانے اور کاٹنے پر اللہ کی وعید)
حدیث نمبر: 65
حَدَّثنا حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: اشْتَكَى أَبُو الرَّدَّادِ، فَعَادَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، فَقَالَ أَبُو الرَّدَّادِ: إِنَّ أَخْيَرَهُمْ وَأَوْصَلَهُمْ مَا عَلِمْتُ أَبُو مُحَمَّدٍ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" يَقُولُ اللَّهُ: أَنَا اللَّهُ , وَأَنَا الرَّحْمَنُ، خَلَقْتُ الرَّحِمَ، وَاشْتَقَقْتُ لَهَا اسْمًا مِنِ اسْمِي، فَمَنْ وَصَلَهَا وَصَلْتُهُ، وَمَنْ قَطَعَهَا بَتَتُّهُ" .
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بیان کرتے ہیں: ابورداد بیمار ہو گئے، تو سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ان کی عیادت کرنے کے لیے آئے ابورداد نے کہا: میرے علم کے مطابق لوگوں میں سب سے زیادہ بہتر اور سب سے زیادہ رشتے داری کے حقوق کا خیال رکھنے والے ابومحمد ہیں۔ تو سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے: میں اللہ ہوں، میں رحمٰن ہوں، میں نے رحم (رشتہ داری) کو پیدا کیا ہے اور میں نے اس کا نام اپنے نام کے مطابق رکھا ہے، تو جو شخص اسے ملائے گا میں اسے ملا کر رکھوں گا اور جو شخص اسے کاٹے گا میں اسے جڑ سے ختم کر دوں گا۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 65]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه أبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:840، 841، أخرجه ابن حبان فى "صحيحه"، برقم: 443، والحاكم فى "مستدركه"، برقم: 7360، وأبو داود فى "سننه"، برقم: 1694»