مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 291
حدیث نمبر: 291
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَبْهَانُ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا كَانَ لإِحْدَاكُنَّ مُكَاتِبٌ وَكَانَ عِنْدَهُ مَا يُؤَدِّي , فَلْتَحْتَجِبْ مِنْهُ" . قَالَ سُفْيَانُ: انْتَهَى حِفْظِي مِنَ الزُّهْرِيِّ إِلَى هَذَا.
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب تم میں سے کسی ایک خاتون کا مکاتب غلام ہو اور اس کے پاس رقم موجود ہو، جسے وہ ادا کر سکتا ہو تو وہ عورت اس غلام سے پردہ کرے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 291]
تخریج الحدیث: «إسناده جيد وقد استوفينا تخريجه فى مسند الموصلي برقم 6956، وفي موارد الظمآن برقم 1214، وفي صحيح ابن حبان برقم 4322 وأحمد في المسند 25912»
حدیث نمبر 291
حدیث نمبر: 291
فَأَخْبَرَنِي بَعْدُ مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ نَبْهَانَ ، قَالَ: كُنْتُ أَقُودُ بِأُمِّ سَلَمَةَ بَغْلَتَهَا، فَقَالَتْ لِي: يَا نَبْهَانُ! كَمْ بَقِيَ عَلَيْكَ مِنْ مُكَاتَبَتِكَ؟ قُلْتُ: أَلْفَ دِرْهَمٍ، قَالَ: فَقَالَتْ: أَفَعِنْدَكَ مَا تُؤَدِّي؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَتْ: فَادْفَعْهَا إِلَى فُلانٍ أَخٌ لَهَا , أَوِ ابْنُ أَخٍ لَهَا، وَأَلْقَتِ الْحِجَابَ، وَقَالَتِ: السَّلامُ عَلَيْكَ يَا نَبْهَانُ هَذَا آخِرُ مَا تَرَانِي، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا كَانَ لإِحْدَاكُنَّ مُكَاتِبٌ وَعِنْدَهُ مَا يُؤَدِّي، فَلْتَحْتَجِبْ مِنْهُ" ، فَقُلْتُ: مَا عِنْدِي مَا أُؤَدِّي , وَلا أَنَا بِمُؤَدِّى.
سفیان کہتے ہیں: میری یاداشت کے مطابق یہاں تک ہے لیکن اس کے بعد معمر نے زہری کے حوالے سے نیہان تامی راوی کے حوالے سے یہ بات بتائی وہ سیدہ ام سلمہ کے خچر کو لے کر چلا کرتا تھا انہوں نے مجھ سے فرمایا: اے نیہان! تمہاری کتابت کے معاہدے کی کتنی رقم باقی رہ گئی ہے۔ میں نے جواب دیا: ایک ہزار درہم۔ نیہان کہتے ہیں: سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس وہ رقم موجود ہے جسے تم ادا کر دو تو میں نے جواب دیا: جی ہاں! تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تم اسے فلاں کی طرف بھجوا دو۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بھائی یا اپنے کسی بچے کا نام لیا اور پھر انہوں نے پردہ ڈال دیا پھر انہوں نے فرمایا: تم پر سلام ہو اے نیہان! تم نے آخری مرتبہ مجھے دیکھا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے ”جب کسی عورت کا کوئی غلام ہو اور اس غلام کے پاس وہ رقم موجود ہو جسے وہ ادا کر سکتا ہو تو وہ عورت اس غلام سے حجاب کرے۔“ تو میں نے کہا: نہ تو میرے پاس کوئی ایسی چیز ہے جسے میں ادا کر سکوں اور نہ ہی میں نے ادا کرنی ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 291]
تخریج الحدیث: «إسناده جيد وقد استوفينا تخريجه فى مسند الموصلي برقم 6956، وفي موارد الظمآن برقم 1214، وفي صحيح ابن حبان برقم 4322 وأحمد في المسند 25912»
حدیث نمبر 292
حدیث نمبر: 292
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَمَّارٌ الدُّهْنِيُّ لَمْ نَجِدْهُ عِنْدَ غَيْرِهِ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ، وَقَوَائِمُ مِنْبَرِي رَوَاتِبُ فِي الْجَنَّةِ" .
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان کی جگہ جنت کا ایک باغ ہے اور میرے منبر کے پائے جنت میں گڑے ہوئے ہیں۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 292]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وقد استوفينا تخريجه فى مسند الموصلي، برقم 6974 و فى صحيح ابن حبان برقم 3144 وفي موارد الظمآن برقم 1037»
حدیث نمبر 293
حدیث نمبر: 293
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: لَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ، قُلْتُ: غَرِيبٌ , وَبِأَرْضِ غُرْبَةٍ لأَبْكِيَنَّهُ بُكَاءً يُتَحَدَّثُ عَنْهُ، قَالَتْ: فَتَهَيَّأْتُ لِلْبُكَاءِ، وَجَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الصَّعِيدِ تُرِيدُ أَنْ تُسْعِدَنِي، فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَقَّاهَا، وَقَالَ:" تُرِيدِينَ أَنْ تُدْخِلِي الشَّيْطَانَ بَيْتًا قَدْ أَخْرَجَهُ اللَّهُ مِنْهُ؟ أَتُرِيدِينَ أَنْ تُدْخِلِي الشَّيْطَانَ بَيْتًا قَدْ أَخْرَجَهُ اللَّهُ مِنْهُ؟" ، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: فَتَرَكْتُ الْبُكَاءَ , فَلَمْ أَبْكِ.
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، جب سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا میں نے کہا: یہ غریب الوطن تھے اور غریب الوطنی کے عالم میں انتقال کر گئے ہیں میں ان پر ایسا رؤں گی کہ انہیں یاد رکھا جائے گا۔ ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے رونے کا پختہ ارادہ کر لیا تو کھلے میدان کی طرف سے ایک عورت میرے پاس آئی وہ بھی رونے میں میرا ساتھ دینا چاہتی تھی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ملاحظہ فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے ملے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم یہ چاہتی ہو کہ شیطان کو اس گھر میں داخل کر دو۔ جس میں سے اللہ تعالیٰ نے اسے باہر نکال دیا ہے۔ کیا تم یہ چاہتی ہو کہ تم شیطان کو اس گھر میں داخل کر دو جس سے اللہ تعالیٰ نے اسے باہر نکال دیا ہے۔“ ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، تو میں نے رونا ترک کر دیا پھر میں نہیں روئی۔ [مسند الحميدي/حدیث: 293]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه مسلم فى الجنائز 922، وقد استوفينا تخرجه فى مسند الموصلي برقم 6955،6948 وفي صحيح ابن حبان برقم.3144»
حدیث نمبر 294
حدیث نمبر: 294
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، وَحَدَّثَنَاهُ مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ هِنْدَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَاتَ لَيْلَةٍ: " سُبْحَانَ اللَّهِ! مَاذَا وَقَعَ مِنَ الْفِتَنِ؟ وَمَا فُتِحَ مِنَ الْخَزَائِنِ، فَأَيِقِظُوا صَوَاحِبَاتِ الْحِجْرِ، فَرُبَّ كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «سبحان اللہ» کیسے فتنے نازل ہوئے ہیں اور کتنے خزانے کھول دیے گئے ہیں، تو حجروں میں رہنے والی خواتین کو بیدار کرو کیونکہ دنیا میں پردے والی بعض عورتیں آخرت میں برہنہ ہوں گی۔ [مسند الحميدي/حدیث: 294]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى العلم 115، وقد استوفينا تخريجه فى «مسند الموصلي» برقم 6988، وعلقنا عليه تعليقا بحسن الرجوع إليه. كما خر جناه فى صحيح ابن حبان، برقم 691»
حدیث نمبر 295
حدیث نمبر: 295
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ , أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يُحَدِّثُ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا دَخَلَتِ الْعَشْرُ وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ، فَلا يَمَسَّ مِنْ شَعْرِهِ، وَلا بَشَرِهِ شَيْئًا" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قِيلَ لِسُفْيَانَ: إِنَّ بَعْضَهُمْ لا يَرْفَعُهُ، قَالَ: لَكِنِّي أَنَا أَرْفَعُهُ.
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”(جب ذوالحجہ کا پہلا عشرہ) آجائے اور کسی شخص کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو تو وہ اپنے بال اور اپنی جلد میں سے کوئی چیز نہ کٹوائے (یعنی نہ ناخن تراشے اور بال بھی نہ کٹوائے)۔“
امام حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سفیان سے کہا گیا ہے: بعض محدثین نے اس روایت کو ”مرفوع“ حدیث کے طور پر نقل نہیں کیا ہے، تو انہوں نے کہا: میں تو اس کو ”مرفوع“ حدیث کے طور پر نقل کروں گا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 295]
امام حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سفیان سے کہا گیا ہے: بعض محدثین نے اس روایت کو ”مرفوع“ حدیث کے طور پر نقل نہیں کیا ہے، تو انہوں نے کہا: میں تو اس کو ”مرفوع“ حدیث کے طور پر نقل کروں گا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 295]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه مسلم فى الأضاحي 1977، وقد استوفينا تخريجه فى مسند الموصلي برقم 6910، وعلقنا عليه تعليقا طويلا نرجو أن يكون مفيدة، كما خرجناه فى صحيح ابن حبان، برقم 5897»
حدیث نمبر 296
حدیث نمبر: 296
حَدَّثنا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنِّي امْرَأَةٌ أَشُدُّ ضُفُرَ رَأْسِي , أَفَأَنْقُضُهُ لِغَسْلِ الْجَنَابَةِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا , إِنَّمَا يَكْفِيكِ أَنْ تُحْثِي عَلَى رَأْسِكِ ثَلاثَ حَثَيَاتٍ مِنْ مَاءٍ , ثُمَّ تُفِيضِي عَلَيْكِ الْمَاءَ فَتَطْهُرِي، أَوْ قَالَ: فَإِذَا أَنْتِ قَدْ طَهُرْتِ" .
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: میں نے عرض کی میں ایک ایسی عورت ہوں جو اپنی مینڈیاں مضبوطی سے باندھتی ہوں، تو کیا میں غسل جنابت کے لیے انہیں کھول لیا کروں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے اتنا کافی ہے، تم تین مرتبہ اپنے سر پر پانی کے تین لپ بہا لیا کرو پھر تم اپنے جسم پر پانی بہا لو تو تم پاک ہو جاؤ گی“ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ”تو اس طرح تم پاک ہو جاؤ۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 296]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى السهو 1233، - وطرفه - ومسلم فى صلاة المسافرين 834، وقد استوفينا تخريجه وعلقنا عليه، تعليقا يحسن الرجوع إليه فى مسند الموصلي، برقم 6946، وفي صحيح ابن حبان، برقم 1198»
حدیث نمبر 297
حدیث نمبر: 297
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي لَبِيدٍ ، وَكَانَ مِنْ عُبَّادِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، وَكَانَ يَرَى الْقَدَرَ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يَقُولُ: قَدِمَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ الْمَدِينَةَ، فَبَيْنَا هُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ إِذْ قَالَ لِكَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ: اذْهَبْ إِلَى عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، فَسَلْهَا عَنْ صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: فَذَهَبْتُ مَعَهُ، وَبَعَثَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ مَعَنَا، فَقَالَ: اذْهَبْ، فَاسْمَعْ مَا تَقُولُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: فَجَاءَهَا فَسَأَلَهَا، فَقَالَتْ: لا عِلْمَ لِي، وَلَكِنِ اذْهَبْ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَاسْأَلْهَا , فَذَهَبْتُ مَعَهُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَسَأَلَهَا، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَصَلَّى عِنْدِي رَكْعَتَيْنِ، وَلَمْ أَكُنْ أَرَاهُ يُصَلِّيهِمَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَقَدْ صَلَّيْتَ صَلاةً لَمْ أَكُنْ أَرَاكَ تُصَلِّيهَا، قَالَ:" إِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ، وَإِنَّهُ قَدِمَ عَلَيَّ وَفْدُ بَنِي تَمِيمٍ، أَوْ صَدَقَةٌ فَشَغَلُونِي عَنْهُمَا، فَهُمَا هَاتَانِ الرَّكْعَتَانِ" .
ابوسلمہ بن عبدالرحمان بیان کرتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ آئے وہ منبر پر موجود تھے، انہوں نے کثیر بن صلت سے کہا: تم ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نماز کے بارے میں دریافت کرو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد دو رکعات ادا کرتے تھے۔ ابوسلمہ کہتے ہیں: کثیر بن صلت کے ساتھ میں بھی چلا گیا، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے عبداللہ بن حارث کو ساتھ بھیج دیا انہوں نے فرمایا: تم جاؤ! ام المؤمنین تمہیں جو کہیں گی اسے سن لینا۔ ابوسلمہ کہتے ہیں: وہ صاحب ان کے ہاں آئے اور ان سے یہ دریافت کیا، تو ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: مجھے اس بارے میں کوئی علم نہیں ہے، تم سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ اور ان سے دریافت کرو، تو کثیر کے ساتھ میں بھی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا انہوں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے اس بارے میں دریافت کیا، تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد میرے ہاں تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاں دو رکعات نماز ادا کی میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے پہلے یہ دو رکعات ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کیسے نماز ادا کی ہے؟ میں نے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں ظہر کے بعد دو رکعات ادا کرتا ہوں، بنو تمیم کا وفد میرے پاس آ گیا تھا“ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ”زکوٰۃ کا مال آیا تھا، تو اس وجہ سے میں مصروف رہا تو یہ وہی دو رکعات ہیں۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 297]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وقد استوفينا تخريجه، وعلقنا عليه تعليقا طويلا فى مسند الموصلي برقم 6946، كما خرجناه فى صحيح ابن حبان برقم 1574»
حدیث نمبر 298
حدیث نمبر: 298
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَإِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، فَأَيُّكُمْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ بِشَيْءٍ , فَلا يَأْخُذْ بِهِ , فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ بِهِ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ" .
سیدہ زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہما اپنی والدہ ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا بیان نقل کرتی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں بھی ایک انسان ہوں تم لوگ اپنے مقدمات لے کر میرے پاس آتے ہو، ہو سکتا ہے، تم میں سے کوئی ایک شخص اپنی دلیل پیش کرنے میں دوسرے کے مقابلے میں تیز زبان ہو، تو جس شخص کے حق میں، میں اس کے بھائی کے حق کا فیصلہ دے دوں، تو وہ اسے حاصل نہ کرے کیونکہ میں اسے آگ کا ٹکڑا کاٹ کر دیا ہو گا۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 298]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى المظالم 2458، -وأطرافه-، ومسلم فى الأقضية 1713، وقد خر جناه وعلقنا عليه تعليقة تحسن العودة إليه فى مسند الموصلي برقم 6680،6881،6897،6994، كما خر جناه فى صحيح ابن حبان برقم 5070»
حدیث نمبر 299
حدیث نمبر: 299
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي مُخَنَّثٌ، فَسَمِعَهُ يَقُولُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ الطَّائِفَ غَدًا، فَعَلَيْكُمْ بِابْنَةِ غَيْلانَ , فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا يَدْخُلَنَّ هَؤُلاءِ عَلَيْكُمْ" . قَالَ سُفْيَانُ: وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: اسْمُهُ هَيْتٌ.
سیدہ زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہما اپنی والدہ ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا بیان نقل کرتی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے وہاں ایک ہیجڑا موجود تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عبداللہ بن ابوامیہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: اے عبداللہ! اگر اللہ تعالیٰ نے آئندہ تمہارے لیے طائف کو فتح کر دیا تو غیلان کی بٹی کو ضرور حاصل کرنا کیونکہ وہ بڑی صحت مند (اور خوبصورت جسم کی مالک) ہے۔ راوی کہتے ہیں: تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ (ہیجڑے) تمہارے ہاں نہ آیا کریں۔“ سفیان کہتے ہیں: ابن جریج نے یہ بات بیان کی اس ہیجڑے کا نام ”ہیت“ تھا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 299]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى المغازي 4324، - وطرفيه - ومسلم فى السلام 2180، ولد خرجناه وشرحنا غريبه وعلقنا عليه فى مسند الموصلي» برقم 6960، خرجناه فى «صحيح ابن حبان» برقم 4488»