صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
57. باب صَلاَةِ الْخَوْفِ:
باب: نماز خوف کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 841 ترقیم شاملہ: -- 1947
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَّى بِأَصْحَابِهِ فِي الْخَوْفِ، فَصَفَّهُمْ خَلْفَهُ صَفَّيْنِ، فَصَلَّى بِالَّذِينَ يَلُونَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ قَامَ فَلَمْ يَزَلْ قَائِمًا حَتَّى صَلَّى الَّذِينَ خَلْفَهُمْ رَكْعَةً، ثُمَّ تَقَدَّمُوا وَتَأَخَّرَ الَّذِينَ كَانُوا قُدَّامَهُمْ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ قَعَدَ حَتَّى صَلَّى الَّذِينَ تَخَلَّفُوا رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمَ ".
عبدالرحمان بن قاسم نے اپنے والد سے، انہوں نے صالح بن خوات بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو نماز خوف پڑھائی اور انہیں اپنے پیچھے دو صفوں میں کھڑا کیا اور اپنے ساتھ (کی صف) والوں کو ایک رکعت پڑھائی۔ پھر آپ کھڑے ہو گئے اور کھڑے ہی رہے یہاں تک کہ ان سے پیچھے والوں نے ایک رکعت پڑھ لی، پھر یہ آگے آگے اور جو ان سے آگے تھے پیچھے چلے گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک رکعت پڑھائی۔ پھر آپ بیٹھ گئے حتیٰ کہ جو پیچھے چلے گئے تھے انہوں نے (بھی ایک اور) رکعت پڑھ لی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1947]
حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اپنے ساتھیوں کو نمازِ خوف پڑھائی اور انہیں اپنے پیچھے دو صفوں میں کھڑا کیا اور اپنے سے قریبی صف کو ایک رکعت پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور کھڑے ہی رہے یہاں تک کہ پچھلوں نے ایک رکعت پڑھ لی، پھر یہ آگے آ گئے اور جو ان سے اگلے تھے وہ پیچھے چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک رکعت پڑھا دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے حتیٰ کہ پچھلے والوں نے رکعت پڑھ لی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا۔“ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1947]
ترقیم فوادعبدالباقی: 841
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 842 ترقیم شاملہ: -- 1948
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ ، عَمَّنْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ ذَاتِ الرِّقَاعِ صَلَاةَ الْخَوْفِ، " أَنَّ طَائِفَةً صَفَّتْ مَعَهُ وَطَائِفَةٌ وِجَاهَ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِالَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ ثَبَتَ قَائِمًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ انْصَرَفُوا فَصَفُّوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ، وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى، فَصَلَّى بِهِمُ الرَّكْعَةَ الَّتِي بَقِيَتْ ثُمَّ ثَبَتَ جَالِسًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ سَلَّمَ بِهِمْ ".
یزید بن رومان نے صالح بن خوات سے اور انہوں نے اس شخص سے نقل کیا جس نے غزوہ ذات الرقاع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں نماز خوف پڑھی تھی۔ کہ ایک گروہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صف بنائی اور دوسرا گروہ دشمن کے روبرو تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ والوں کو ایک رکعت پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے رہے اور انہوں نے اپنے طور پر (دوسری رک **تصحیح شدہ**: رکعت پڑھ کر) نماز مکمل کر لی اور (سلام پھیر کر) چلے گئے اور دشمن کے سامنے صف بند ہو گئے اور دوسرا گروہ آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو رکعت رہتی تھی ان کو پڑھا دی پھر بیٹھے رہے اور ان لوگوں نے اپنے طور پر (رکعت پڑھ کر) نماز مکمل کر لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ سلام پھیرا۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1948]
صالح بن خوات رحمہ اللہ اس صحابی رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں، جس نے غزوہ ذات الرقاع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں نمازِ خوف پڑھی تھی کہ ”ایک گروہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صف بندی کی ہوئی تھی اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ والوں کو ایک رکعت پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے رہے اور انہوں نے اپنے طور پر دوسری رکعت پڑھ کر نماز مکمل کر لی (اور سلام پھیر کر) چلے گئے اور دشمن کے سامنے صف بند ہو گئے اور دوسرا گروہ آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو رکعت رہتی تھی، وہ ان کو پڑھا دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے رہے اور ان لوگوں نے اپنے طور پر نماز مکمل کر لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ سلام پھیرا۔“ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1948]
ترقیم فوادعبدالباقی: 842
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 843 ترقیم شاملہ: -- 1949
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِذَاتِ الرِّقَاعِ، قَالَ: كُنَّا إِذَا أَتَيْنَا عَلَى شَجَرَةٍ ظَلِيلَةٍ تَرَكْنَاهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، وَسَيْفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَلَّقٌ بِشَجَرَةٍ، فَأَخَذَ سَيْفَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرَطَهُ، فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَخَافُنِي؟ قَالَ: " لَا "، قَالَ: فَمَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قَالَ: " اللَّهُ يَمْنَعُنِي مِنْكَ "، قَالَ: فَتَهَدَّدَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَغْمَدَ السَّيْفَ وَعَلَّقَهُ، قَالَ: فَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى بِطَائِفَةٍ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ تَأَخَّرُوا وَصَلَّى بِالطَّائِفَةِ الْأُخْرَى رَكْعَتَيْنِ، قَالَ: فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ، وَلِلْقَوْمِ رَكْعَتَانِ.
ابان بن یزید نے کہا: ہم سے یحییٰ ابن کثیر نے ابوسلمہ (بن عبدالرحمان) سے حدیث بیان کی اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (جہاد پر) آئے۔ حتیٰ کہ جب ہم ذات الرقاع (نامی پہاڑ) تک پہنچے۔ کہا: ہماری عادت تھی کہ جب ہم کسی گھنے سائے والے درخت تک پہنچے تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چھوڑ دیتے، کہا: ایک مشرک آیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار درخت پر لٹکی ہوئی تھی، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار پکڑ لی، اسے میان سے نکالا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا: کیا آپ مجھ سے ڈرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ اس نے کہا: تو پھر آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ مجھے تم سے محفوظ فرمائیں گے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں نے اسے دھمکایا تو اس نے تلوار میان میں ڈال لی اور اسے لٹکایا۔ اس کے بعد نماز کے لیے اذان کہی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گروہ کو دو رکعت نماز پڑھائی، پھر وہ گروہ پیچھے چلا گیا اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں۔ کہا اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعتیں ہوئیں اور لوگوں کی دو دو رکعتیں۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1949]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے حتیٰ کہ جب ہم ذات الرقاع نامی پہاڑ تک پہنچے، ہماری عادت تھی کہ جب ہم کسی سایہ دار جگہ پر پہنچتے تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چھوڑ دیتے، ایک مشرک آیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار درخت پر لٹکائی گئی تھی، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار پکڑ لی، اسے میان سے نکال لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا: ”کیا آپ مجھ سے ڈرتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”نہیں۔“ اس نے کہا: ”تو آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ مجھے تجھ سے محفوظ رکھے گا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں نے اسے دھمکایا تو اس نے تلوار میان میں ڈال لی اور اسے لٹکایا، اس کے بعد نماز کے لیے اذان کہی گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گروہ کو دو رکعت نماز پڑھائی، پھر وہ گروہ پیچھے چلا گیا اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں، کہا: اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعات اور لوگوں کی دو دو رکعت نماز پڑھی۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1949]
ترقیم فوادعبدالباقی: 843
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 843 ترقیم شاملہ: -- 1950
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ سَلَّامٍ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ جَابِرًا أَخْبَرَهُ " أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى بِالطَّائِفَةِ الْأُخْرَى رَكْعَتَيْنِ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، وَصَلَّى بِكُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَتَيْنِ ".
معاویہ بن سلام نے کہا: مجھے یحییٰ (ابن ابی کثیر) نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمان نے خبر دی کہ انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز خوف پڑھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گروہ کو دو رکعت پڑھائی، پھر دوسرے گروہ کو دو رکعت پڑھائی، اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار رکعت پڑھیں اور ہر گروہ کو دو دو رکعت پڑھائی۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1950]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نمازِ خوف پڑھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ایک گروہ کو دو رکعت نماز پڑھائی، پھر دوسرے گروہ کو دو رکعت نماز پڑھائی، اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار رکعات پڑھیں اور ہر گروہ کو دو رکعات پڑھائی ہیں۔“ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1950]
ترقیم فوادعبدالباقی: 843
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة