🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 730
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 730
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا أَبُو يَعْفُورَ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ: أَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ أَكْلِ الْجَرَادِ، فَقَالَ: " غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّ غَزَوَاتٍ أَوْ سَبِعَ، فَكُنَّا نَأْكُلُ الْجَرْادَ" .
ابو یعفور عبدی بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے ان سے ٹڈی دل کھانے کے بارے میں دریافت کیا: انہوں نے بتایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چھ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) سات غزوات میں حصہ لیا ہے۔ ہم ٹڈی دل کھا لیا کرتے تھے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 730]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 5495، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1952، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5257، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4367، 4368، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3812، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1821، 1822، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2053، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 19059، 19060، 19061، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 19418 برقم: 19457»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 731
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 731
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، يَقُولُ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ لِرَجُلٍ:" انْزِلْ فَاجْدَحْ لِي"، قَالَ: الشَّمْسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" انْزِلْ فَاجْدَحْ لِي"، قَالَ: الشَّمْسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ!، قَالَ:" انْزِلْ فَاجْدَحْ"، فَنَزَلَ فَجَدَحَ لَهُ، قَالَ: فَشَرِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ رَمَى بِيَدِهِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ، فَقَالَ:" إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّيْلَ قَدْ أَقْبَلَ مِنْ هَاهُنَا، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ" .
ابو اسحاق شیبانی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر کر رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: تم اترو اور ہمارے لیے پانی میں ستو گھول دو اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! ابھی دھوپ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اترو اور ہمارے لیے ستو گھول دو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نیچے اترے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پانی میں ستو گھول دیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پی لیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرق کی سمت اپنے دست مبارک کے ذریعے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: جب تم رات کو اس طرف سے آتے ہوئے دیکھو تو روزہ دار شخص افطاری کر لے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 731]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1941، 1955، 1956، 1958، 5297، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1101، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3511، 3512، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 3297، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2352، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 8102، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 19705 برقم: 19709 برقم: 19723»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 732
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 732
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الشُّرْبِ فِي الْجَرِّ الأَخْضَرِ وَالأَبْيَضِ" . قَالَ سُفْيَانُ: وَثَالِثًا قَدْ نَسْيتُهُ.
ابو اسحاق شیبانی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبز اور سفید مٹکے میں پینے سے منع کیا ہے۔ سفیان کہتے ہیں: تیسری چیز کو میں بھول گیا ہوں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 732]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 5596، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5402، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 5637، 5638، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 5111، 5112، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 17557، 17558، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 19409 برقم: 19412 برقم: 19449»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 733
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 733
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، حَدَّثنا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، يَقُولُ:" أَصَبْنَا حُمُرًا يَوْمَ خَيْبَرَ خَارِجًا مِنَ الْقَرْيَةِ، فَنَحَرْنَاهَا، فَإِنَّ الْقُدُورَ لَتَغْلَيْ بِهَا، إِذْ نَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنِ اكْفَئَوا الْقُدُورَ بِمَا فِيهَا، فَأَكْفَيْنَاهَا، وَإِنَّهَا لَتَفُورُ" . قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: فَلَقِيتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا كَانَتْ تِلْكَ حَمِيرًا تَأْكُلُ الْعَذِرَةَ، فَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا.
ابو اسحاق شیبانی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا: غزوہ خبیر کے موقع پر ہمیں بستی سے باہر کچھ گدھے ملے، تو ہم نے انہیں ذبح کر لیا ہنڈیاں میں ان کا گوشت پک رہا تھا۔ اسی دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اعلان کرنے والے نے یہ اعلان کیا: تم لوگ اپنی ہنڈیاں کو ان میں موجود چیز سمیت الٹا دو! تو ہم نے انہیں الٹا دیا حالانکہ وہ ابل رہی تھیں۔ (یعنی کھانا پک کے تیار ہو چکا تھا) ابواسحاق نامی راوی کہتے ہیں: میری ملاقات سعید بن جبیر سے ہوئی میں نے ان کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو وہ بولے: یہ وہ گدھے تھے، جو گندگی کھایا کرتے تھے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منع کر دیا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 733]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3155، 4220، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1937، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4350، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4832، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3192، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 19514، 19520، 19521، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 19427 برقم: 19434»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 734
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 734
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا يَزِيدُ أَبُو خَالِدٍ الدَّالانِيُّ ، وَمِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ السَّكْسَكِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى , أَنَّ رَجُلا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلِّمْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ شَيْئًا أَقُولُهُ يُجْزِئُنِي مِنَ الْقُرْآنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُلْ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ" . قَالَ سُفْيَانُ: لا أَعْلَمُ، إِلا أَنَّهُ قَالَ:" وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ".
سیدنا عبداللہ بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک صاحب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے کسی ایسی چیز کی تعلیم دیجئے جسے میں پڑھ لیا کروں، تو میرے لیے قرآن کی تلاوت کی جگہ کافی ہو جائے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم یہ پڑھو۔ «سبحان الله والحمدلله ولا اله الاالله والله اكبر» ۔ سفیان کہتے ہیں: مجھے علم نہیں ہے، تاہم انہوں نے یہ الفاظ بھی کہے ہوں گے «ولا حول ولاقوة الا بالله» ۔ [مسند الحميدي/حدیث: 734]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن وأخرجه ابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 544، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1808، 1809، 1810، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 887، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 923، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 998، وأبو داود فى «سننه» برقم: 832، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 4046، 4047، 4048، والدارقطني فى «سننه» برقم: 1195، برقم: 1196، 1197، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 19416 برقم: 19445 برقم: 19719»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 735
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 735
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُسْلِمٍ الْهَجَرِيًّ , أَنَّهُ رَأَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى فِي جِنَازَةِ ابْنَةٍ لَهُ عَلَى بَغْلَةٍ تُقَادُ بِهِ، فَيَقُولُ لِلْقَائِدِ: أَيْنَ أَنَا مِنْهَا؟ فَإِذَا قِيلَ لَهُ: أَمَامَهَا، قَالَ: أَحْبِسْ، قَالَ: وَرَأَيْتُهُ حِينَ صَلَّى عَلَيْهَا كَبَّرَ أَرْبَعًا، ثُمَّ قَامَ سَاعَةً، فَسَبَّحَ بِهِ الْقَوْمُ، فَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: أَكُنْتُمْ تَرَوُنَ أَنِّي أَزِيدُ عَلَى أَرْبَعٍ؟ وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ أَرْبَعًا، وَسَمِعَ نِسَاءً يَرْثِينَ فَنَهَاهُنَّ"، وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنِ الْمَرَاثِي" .
ابراہیم بن مسلم ہدی بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا عبداللہ بن اوفیٰ رضی اللہ عنہ کو اپنی صاحبزادی کے جنازے میں شریک دیکھا وہ ایک خچر پر سوار تھے، جسے ہانک کر لے جایا جا رہا تھا، تو انہوں نے خچر کو لے جانے والے سے کہا: میں جنازے سے کہاں ہوں جب انہیں کہا گیا: آپ ان سے آگے ہیں۔ تو انہوں نے فرمایا: تم اس کو روک دو۔ راوی کہتے ہیں: میں نے انہیں دیکھا کہ انہوں نے اس خاتون کی نماز جنازہ میں چار تکبیریں کہیں پھر وہ تھوڑی دیر کے لیے کھڑے رہے، تو حاضرین نے سبحان اللہ کہنا شروع کر دیا۔ (یعنی انہیں متوجہ کرنا چاہا) تو انہوں نے سلام پھیر دیا وہ بولے: کیا تم لوگ یہ سوچ رہے تھے کہ میں چاروں تکبیروں سے زیادہ تکبیریں کہہ دوں گا، جبکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چار تکبیریں کہتے ہوئے دیکھا ہے۔ پھر انہوں نے کچھ خواتین کو مرثیہ پڑھتے ہوئے سنا: تو انہیں اس سے منع کیا اور بولے: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مرثیہ پڑھنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 735]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف وأخرجه الضياء المقدسي فى «الأحاديث المختارة» برقم: 176، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1334، 1416، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1503، 1592، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 7038، 7039، 7081، 7088، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 19447 برقم: 19727»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 736
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 736
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الأَحْزَابِ، وَهُوَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، سَرِيعَ الْحِسَابِ، مُجْرِيَ السَّحَابِ، اهْزِمِ الأَحْزَابَ، اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ" .
سیدنا عبداللہ بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ احزاب کے دن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھ رہے تھے۔ اے اللہ! اے کتاب کو نازل کرنے والے! اے جلدی حساب لینے والے! اے بادلوں کو چلانے والے! تو (دشمن کے) لشکروں کو پسپا کر دے۔ اے اللہ! انہیں پسپا کر دے اور انہیں لڑکھڑا دے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 736]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1600، 1791 م1، 2933، 3819، 4115، 4188، 4255، 4314، 6392، 7489، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1742، 2433، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2775، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3843، 3844، 7004، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 6494، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4205، 10363، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1902، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1678، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1963، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2796، 2990، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 9486، 9487، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 19413 برقم: 19414»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 737
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 737
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى : " أَبَشَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَدِيجَةَ بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ، مِنْ قَصَبٍ، لا سَخَبَ فِيهِ وَلا نَصَبَ؟ قَالَ: نَعَمْ" .
ابن ابوخالد بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو جنت میں کھوکھلے موتی سے بنے ہوئے گھر کی بشارت دی تھی؟ جس میں کوئی شور اور کوئی مشقت نہ ہو، تو انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 737]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري 1792، وأخرجه مسلم 2433، وابن حبان فى ”صحيحه“: 7004»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 738
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 738
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، يَقُولُ: " اعْتَمَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكُنَّا نَسْتُرُهُ حِينَ طَافَ مِنْ صِبْيَانِ أَهْلِ مَكَّةَ لا يُؤْذُونَهُ" . قَالَ سُفْيَانُ: أَرَاهُ فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ: وَأَرَانَا ابْنُ أَبِي أَوْفَى ضَرْبَةً أَصَابَتْهُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ.
اسماعیل بن ابوخالد بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عمرہ کیا، تو ہم طواف کے دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اہل مکہ کے بچوں سے بچانے کی کوشش کر رہے تھے کہ کہیں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تکلیف نہ پہنچا دیں۔ سفیان کہتے ہیں: میرا خیال ہے یہ عمرہ قضا کا موقع تھا۔ اسماعیل نامی راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ نے ہمیں وہ ضرب دکھائی جو انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حنین میں شرکت کے دوران لگی تھی۔ [مسند الحميدي/حدیث: 738]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري 1600، وابن حبان فى ”صحيحه“: 3843 والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4220، والدارمي برقم: 1963، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 19413»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 739
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 739
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مَصَرِّفٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى :" هَلْ أَوْصَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: لَمْ يَتْرُكْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا يُوصِي فِيهِ، قُلْتُ: وَكَيْفَ أَمَرَ النَّاسَ بِالْوَصِيَّةِ وَلَمْ يُوصِ؟ قَالَ: أَوْصَى بِكِتَابِ اللَّهِ" . قَالَ طَلْحَةُ: قَالَ الْهُزَيْلُ بْنُ شُرَحْبِيلٍ: أَبُو بَكْرٍ يَتَقَدَّمُ عَلَى وَصَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ وَدَّ أَبُو بَكْرٍ أَنَّهُ وَجَدَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ عَهْدًا، فَخَزَمَ بِهِ أَنْفَهُ.
طلحہ بن مصرف بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی وصیت کی تھی انہوں نے جواب دیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی کوئی چیز چھوڑی ہی نہیں تھی جس کے بارے میں آپ وصیت کرتے۔ میں نے دریافت کیا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے بارے میں وصیت کرنے کے بارے میں کیوں حکم دیا؟ جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود وصیت نہیں کی، تو انہوں نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق وصیت کی تھی۔ طلحہ نامی راوی کہتے ہیں: ہزیل بن شرحبیل فرماتے ہیں: کیا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کسی ایسے شخص سے آگے نکل سکتے تھے، جس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت کی ہو؟ حالانکہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس بات کے خواہشمند ہوتے تھے کہ انہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی حکم کا پتہ چلے اور وہ اسے مکمل طور پر تسلیم کر لیں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 739]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2740، 4460، 5022، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1634، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6023، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3622، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 6414، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2119، والدارمي فى «مسنده» برقم: 3224، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2696، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 12676، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 19430 برقم: 19443 برقم: 19718»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں