Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 839
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 839
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلْكِ بْنُ نَوْفَلِ بْنِ مُسَاحِقٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلا مِنْ مُزَيْنَةَ يُقَالُ لَهُ ابْنُ عِصَامٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً، قَالَ: " إِذَا رَأَيْتُمْ مَسْجِدًا، أَوْ سَمِعْتُمْ مُؤَذِّنًا فَلا تَقْتُلُنَّ أَحَدًا" , قَالَ: فَبَعَثْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ، فَأَمَرَنَا بِذَلِكَ، فَخَرَجْنَا قِبَلَ تِهَامَةَ، فَأَدْرَكْنَا رَجُلا يَسُوقُ بِظَعَايِنَ، فَقُلْنَا لَهُ: أَسْلِمْ، فَقَالَ: وَمَا الإِسْلامُ؟ فَأَخْبَرْنَاهُ بِهِ، فَإِذَا هُوَ لا يَعْرِفُهُ، فَقَالَ: أَفَرَأَيْتُمْ إِنْ أَنَا لَمْ أَفْعَلْ فَمَا أَنْتُمْ صَانِعُونَ؟ قَالَ: قُلْنَا: نَقْتُلُكَ، قَالَ: فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْظِرِيَّ حَتَّى أُدْرِكَ الظَّعَايِنَ؟ قُلْنَا: نَعَمْ، وَنَحْنُ مُدْرِكُوكَ، قَالَ: فَأَدْرَكَ الظَّعَايِنَ، فَقَالَ: أَسْلِمِي حُبْيش قَبْلَ نَفَادِ الْعَيْشِ، فَقَالَتِ الأُخْرَى: أَسْلِمْ عَشْرًا، وَسَبْعًا وِتْرًا، أَوْ ثَمَانِيًا تَتَرَى، ثُمَّ قَالَ شِعْرًا: أَتَذْكُرُ إِذْ طَالَبْتُكُمْ فَوَجُدْتُكُمْ بِحَلْبَةٍ أَوْ أَدْرَكْتُكُمْ بِالْخَوَانِقِ أَلَمْ يَكُ حَقًّا أَنْ يَنُولَ عَاشِقٌ تَكَلَّفَ إِدْلاجَ السُّرَى وَالْوَدَائِقِ فَلا ذَنْبَ لِي إِذْ قُلْتُ إِذْ أَهْلُنَا مَعًا أَثِيبِي بِوَصْلٍ قَبْلَ إِحْدَى الصَّفَائِقِ أَثِيبِي بِوَصْلٍ قَبْلَ أَنْ يَشْحَطَ النَّوَى وَيَنْأَى الأَمِيرُ بِالْحَبِيبِ الْمُفَارِقِ , قَالَ: ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: شَأْنَكُمْ، فَقَدَّمْنَاهُ فَضَرَبْنَا عُنُقَهُ، وَانْحَدَرَتِ الأُخْرَى مِنْ هَوْدَجِهَا امْرَأَةٌ أَدْمَاءُ مَحْضٌ، فَجَثَتْ عَلَيْهِ حَتَّى مَاتَتْ.
عبدالملک بن نوفل بیان کرتے ہیں: انہوں نے مزینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب جن کا نام ابن عصام تھا انہیں یہ بیان کرتے ہوئے سنا: انہوں نے اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مہم کو روانہ کرتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ ارشاد فرماتے تھے: جب تم (کسی علاقے میں) کوئی مسجد دیکھو یا تم مؤذن کو سنو تو وہاں کسی کو قتل نہ کرنا۔ راوی بیان کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک مہم پر روانہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہی ہدایت کی ہم تہامہ کی سمت روانہ ہوئے وہاں ہمیں ایک شخص ملا جو کچھ خواتین کو لے جا رہا تھا ہم نے اس سے کہا: تم اسلام قبول کر لو اس نے دریافت کیا: اسلام سے مراد کیا ہے؟ ہم نے اسے اس بارے میں بتایا تو وہ اس سے واقف نہیں تھا۔ وہ بولا: اگر میں ایسا نہیں کرتا تو پھر تمہارا کیا خیال ہے، پھر تم لوگ کیا کرو گے؟ راوی کہتے ہیں: ہم نے کہا: ہم تمہیں قتل کر دیں گے۔ وہ بولا: کیا تم میرا انتظار کرو گے؟ میں ان خواتین تک جاؤں۔ ہم نے کہا: ٹھیک ہے ہم تم تک پہنچ جائیں گے۔ راوی کہتے ہیں: وہ ان خواتین کے پاس گیا اور بولا: حبیش تم اسلام قبول کر لو۔ اس سے پہلے کہ زندگی ختم ہو جائے، تو ایک دوسری عورت بولی: تم دس لوگ اسلام قبول کرو، سات لوگ کرو جو طاق ہوتے ہیں، یا آٹھ کرو جو یکے بعد دیگرے ہوتے ہیں۔ پھر اس شخص نے یہ پڑھا۔ کیا تمہیں وہ دن یاد ہے، جب میں تمہاری تلاش میں نکلا تھا، تو میں نے تمہیں حلیہ کے مقام پر پایا تھا یا میں نے تمہیں خوانق کے مقام پر پایا تھا کیا یہ بات لازمی نہیں تھی کہ عشق کرنے والے کو رات کے وقت کے سفر اور تپتی ہوئی دوپہر کے سفر کا معاوضہ دیا جائے میں نے جو کہا ہے اس پر مجھے کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ اگر میری بیوی میرے ساتھ ہو اور وہ مجھے غسل کی اجازت دے دے اس سے پہلے کہ حادثات میں کوئی ایک حادثہ لاحق ہو جائے۔ وہ مجھے وصل کی اجازت دے دے اس سے پہلے کہ گھر دور ہو جائے اور حاکم محبوب کے بارے میں علیحدگی کا حکم دے دے۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر وہ شخص ہمارے پاس آیا اور بولا: اب تم اپنا کام کر لو آگے بڑھے اور ہم نے اس کی گردن اڑا دی تو ایک عورت اپنے ہودج سے تیزی سے نیچے آئی وہ انتہائی گندمی رنگت کی مالک تھی وہ آ کر اس پر گری اور وہ بھی فوت ہو گئی۔ [مسند الحميدي/حدیث: 839]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف إبن عصام المزني مجهول وأخرجه النسائي فى «الكبریٰ» برقم: 8780، 8787، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2635، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1549، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 18305، 18697، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 15955، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 33749، والطبراني فى "الكبير" برقم: 467»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں