مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 869
حدیث نمبر: 869
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ عَامَ الْفَتْحِ" .
ربیع بن سبرہ اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر نکاح متعہ سے منع کر دیا تھا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 869]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1406، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4144، 4146، 4147، 4148، 4150، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3368، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1801، 2072، 2073، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1899، 2241، 2242، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1962، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14260، 14261، 14262، 14263، 14264، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 15572 برقم: 15573 برقم: 15579»
حدیث نمبر 870
حدیث نمبر: 870
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدْ رَخَّصَ لَنَا فِي نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ خَرَجْتُ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي فَأَتَيْنَا فَتَاةً شَابَّةً، وَمَعِي بُرْدَةٌ، وَمَعَ ابْنِ عَمٍّ لِي بُرْدَةٌ خَيْرٌ مِنْ بُرْدَتِي، وَأَنَا أَشَّبُ مِنَ ابْنِ عَمِّي، فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ، وَقَالَتْ: بُرْدَةٌ كَبْرُدَةٍ، وَاخْتَارَتْنِي فَأَعْطَيْتُهَا بُرْدَتِي، ثُمَّ مَكَثْتُ مَعَهَا مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدْتُهُ قَائِمًا بَيْنَ الْبَابِ وَزَمْزَمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّا كُنَا قَدْ آذَنَّا لَكُمْ فِي هَذِهِ الْمُتْعَةِ، فَمْنَ كَانَ عِنْدَهُ مِنْ هَذِهِ النِّسْوانِ شَيْءٌ فَلْيُرْسِلْهُ، فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَلا تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا" .
ربیع بن سبرہ جہنی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ہمیں نکاح متعہ کی اجازت دی تھی۔ ہم مکہ آئے تو میں اور میرا چچا زاد بھائی نکلے ہم ایک جوان لڑکی کے پاس آئے میرے پاس ایک چادر تھی اور میرے چچا زاد کے پاس بھی چادر تھی، جو میری چادر سے بہتر تھی، لیکن میں اپنے چچا زاد کے مقابلے میں زیادہ جوان تھا۔ وہ عورت دیکھنے لگی، وہ بولی: ایک چادر تو دوسری چادر کی مانند ہوتی ہے، پھر اس نے مجھے اختیار کر لیا، تو میں نے اپنی چادر اسے دے دی۔ پھر جتنا اللہ کو منظور تھا، میں اس کے پاس ٹھہرا، پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خانہ کعبہ کے دروازے اور زمزم کے کنویں کے درمیان کھڑے ہوئے پایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہم نے تمہیں اس طرح متعہ کرنے کی اجازت دی تھی، تو اب اگر کسی کے پاس ایسی کوئی عورت ہو، تو وہ اسے چھوڑ دے۔ اب اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن تک کے لیے اسے حرام قرار دیا ہے اور تم نے انہیں جو کچھ دیا تھا اس میں سے کچھ وصول نہ کرنا۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 870]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1406، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4144، 4146، 4147، 4148، 4150، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3368، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1801، 2072، 2073، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1899، 2241، 2242، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1962، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14260، 14261، 14262، 14263، 14264، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 15572 برقم: 15573 برقم: 15579»