🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 932
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 932
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو غَالِبٍ صَاحِبُ الْمِحْجَنِ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ أَبْصَرَ رُءُوسَ خَوَارِجَ عَلَى دَرَجِ دِمَشْقٍ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " كِلابُ أَهْلِ النَّارِ، كِلابُ أَهْلِ النَّارِ، كِلابُ أَهْلِ النَّارِ"، ثُمَّ بَكَى، ثُمَّ قَالَ:" شَرُّ قَتْلَى تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ، وَخَيْرُ قَتْلَى مَنْ قَتَلُوا" , قَالَ أَبُو غَالِبٍ: أَأَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِنِّي إِذَنْ لَجُرِئٌ، سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، غَيْرَ مَرَّةٍ وَلا مَرَّتَيْنِ وَلا ثَلاثٍ.
ابو غالب بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کو دیکھا انہوں نے مشق کی سیڑھی پر خارجیوں کے سر ملاحظہ کیے، تو ارشاد فرمایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: یہ اہل جہنم کے کتے ہیں۔ یہ اہل جہنم کے کتے ہیں۔ یہ اہل جہنم کے کتے ہیں۔ پھر سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ رو پڑے پھر انہوں نے ارشاد فرمایا: یہ آسمان کے نیچے قتل ہونے والے بدترین افراد ہیں۔ اور سب سے بہتر وہ لوگ ہوں گے جو ان کے ساتھ جنگ کریں گے۔ (میں نے دریافت کیا) کیا آپ نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں (اگر نہ سنی ہو اور پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اسے بیان کروں) تو پھر تو میں بڑی جرأت کا مظاہرہ کروں گا۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ایک مرتبہ نہیں، دو مرتبہ نہیں، تین مرتبہ نہیں (اس سے بھی زیادہ مرتبہ) یہ بات سنی ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 932]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل أبى غالب وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 2669، 2670، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3000، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 176، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 16883، 16884، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 22581، 22613، وأخرجه الطبراني فى «الكبير» برقم: 8036»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 933
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 933
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُطَرَّحٌ أَبُو الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَغْبَطُ أَوْلِيَائِي عِنْدِي مَنْزِلَةً رَجُلٌ مُؤْمِنٌ خَفِيفُ الْحَاذِّ ذُو حَظٍّ مِنَ الصَّلاةِ غَامِضًا فِي النَّاسِ، فَعَجَّلْتُ مَنِيَّتَهُ، وَقَلَّتْ بَواكِيهِ، وَقَلَّ تُرَاثُهُ" .
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: میرے ساتھیوں میں قدر و منزلت کے اعتبار سے میرے نزدیک سب سے زیادہ قابل رشک وہ مومن ہے، جس کی پشت کا بوجھ کم ہو (یعنی جس کا مال اور عیال کم ہوں) جو بکثرت نوافل ادا کرتا ہو اگرچہ وہ لوگوں میں مشہور نہ ہو۔ جب اسے موت آ جائے، تو اس پر رونے والے کم ہوں اور اس کی وراثت کا مال بھی کم ہو۔ [مسند الحميدي/حدیث: 933]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف بل فيه ضعيفان: أبو مهلب و شيخه وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 7241، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2347، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 4117، وأحمد فى «مسنده» برقم: 22597، 22627، 22628، والطيالسي فى «مسنده» برقم: 1229، والطبراني فى "الكبير" برقم: 7829، 7860»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 934
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 934
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُطَرَّحٌ أَبُو الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا يَحِلُّ ثَمَنُ الْمُغَنِّيَةِ، وَلا بَيْعُهَا، وَلا شِرَاؤُهَا، وَلا الاسْتِمَاعُ إِلَيْهَا" .
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: گانے والی عورت کا معاوضہ حلال نہیں ہے اسے فروخت کرنا اور خریدنا بھی حلال نہیں ہے نہ ہی اسے سننا جائز ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 934]
تخریج الحدیث: «في إسناده ضعيفان: أبو مهلب:المطرح و شيخه وأخرجه الترمذي فى «جامعه» برقم: 1282، 3195، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2168، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 11170، 11171، وأحمد فى «مسنده» برقم: 22599، 22648، والطبراني فى "الكبير" برقم: 7805»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں