مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 1286
حدیث نمبر: 1286
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ:" جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَرَأَيْتَ إِنْ قَاتَلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى أُقْتَلَ، أَيْنَ أَنَا؟ قَالَ:" فِي الْجَنَّةِ ، قَالَ: فَأَلْقَى تَمَرَاتٍ كُنَّ فِي يَدِهِ، ثُمَّ قَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ احد کے دن ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا رائے ہے؟ اگر میں اللہ کی راہ میں قتل کرتے ہوئے مارا جاتا ہوں، تو میں کہاں جاؤں گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں۔“ راوی کہتے ہیں: اس شخص نے اپنے ہاتھ میں موجود کھجوریں ایک طرف رکھیں اور پھر جنگ میں حصہ لیا یہاں تک کہ شہید ہو گیا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1286]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 4046، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1899، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4653، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3154، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4347، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 2552، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 17990، 18266، وأحمد فى «مسنده» برقم: 14535، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1972»
حدیث نمبر 1287
حدیث نمبر: 1287
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ لِكَعْبِ بْنِ الأَشْرَافِ؟ أَنَّهُ قَدْ آذَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتُحِبُّ أَنْ أَقْتُلَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ" ، قَالَ: فَائْذَنْ لِي، قَالَ: فَأَذِنَ لَهُ، فَأَتَى مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ كَعْبًا، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ قَدْ طَلَبَ مِنَّا صَدَقَةً، وَقَدْ عَنَّانَا، وَقَدْ جِئْتُ أَسْتَقْرِضُكُ، فَقَالَ: وَأَيْضًا وَاللَّهِ لَتَمَلَّنَّهُ، فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةُ: إِنَّا قَدِ اتَّبَعْنَاهُ، فَنَكْرَهُ أَنْ نَتْرُكَهُ حَتَّى نَنْظُرَ إِلَى أَيِّ شَيْءٍ يَصِيرُ أَمْرُهُ، فَقَالَ: أَرْهِنُونِي، قَالَ: أَيَّ شَيْءٍ أُرْهِنُكَ؟ قَالَ: أَرْهِنُونِي أَبْنَاءَكُمْ، فَقَالَ لَهُ مُحَمَّدٌ: يُسَبُّ ابْنُ أَحَدِنَا، يُقَالُ لَهُ: رَهِينَةٌ وَسَقَيْنِ مِنْ تَمْرٍ، قَالَ: فَنِسَاءَكُمْ، قَالَ: أَنْتَ أَجْمَلُ الْعَرَبِ، فَنُرْهِنُكَ نِسَاءَنَا؟ وَلَكِنْ نُرْهِنُكَ اللأَمَةَ، قَالَ: نَعَمْ، فَوَاعَدَهُ أَنْ يَجِيئَهُ، قَالَ: وَكَانُوا أَرْبَعَةً، سَمَّى عَمْرٌو اثْنَيْنِ: مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ، وَأَبَا نَائِلَةَ، فَأَتَوْهُ وَهُوَ مُتَوَشِّحٌ يَنْفُحُ مِنْهُ رِيحُ الطِّيبِ، فَقَالُوا: مَا رَأَيْنَا كَاللَّيْلَةِ رِيحًا أَطْيَبَ، فَقَالَ: عِنْدِي فُلانَةُ أَعْطَرُ الْعَرَبِ، فَقَالَ مُحَمَّدٌ: ائْذَنْ لِي أَنْ أَشُمَّ؟ قَالَ: شُمَّ، ثُمَّ قَالَ: ائْذَنْ لِي فِي أَنْ أَعُودَ، قَالَ: فَعَادَ، فَتَشَبَّثَ بِرَأْسِهِ، وَقَالَ: اضْرِبُوهُ، فَضَرَبُوهُ حَتَّى قَتَلُوهُ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”کون شخص کعب بن الاشرف سے میری جان چھڑائے گا؟ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت دیتا ہے۔“ تو سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا آپ یہ پسند کریں گے کہ میں اسے قتل کر دوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ انہوں نے عرض کی: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اجازت دیجئے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔ سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ، کعب بن الاشرف کے پاس آئے اور بولے: یہ صاحب (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) ہم سے صدقہ بھی طلب کر رہے ہیں، انہوں نے تو ہمیں مشقت کا شکار کر دیا ہے، میں تمہارے پاس اس لیے آیا ہوں، تاکہ تم سے کچھ قرضہ حاصل کروں، تو کعب بولا: اللہ کی قسم! تم ضرور ان سے اکتا جاؤ گے، تو سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ بولے: ہم ان کی پیروی کر چکے ہیں اور ہمیں یہ اچھا نہیں لگتا کہ ہم انہیں چھوڑ دیں ابھی ہم اس بات کا جائزہ لیتے ہیں، آگے چل کر ان کی کیا صورتحال ہوتی ہے۔ کعب نے کہا: تم میرے پاس کوئی چیز رہن کے طور پر رکھواؤ! سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: میں کون سی چیز تمہارے پاس رہن کے طور پر رکھواؤں۔ کعب نے کہا: تم اپنے بیٹوں کو میرے پاس رہن رکھوادو! تو سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: کوئی شخص ہم میں سے کسی کے بچے کو گالی دیتے ہوئے کہے گا کھجور کے دو وسق کے عوض میں اسے رہن رکھوا دیا گیا تھا۔ کعب نے کہا: پھر اپنی عورتوں کو (رہن رکھوادو) تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم عرب کے خوبصورت ترین آدمی ہو، تو کیا ہم اپنی عورتیں تمہارے پاس رہن رکھوا دیں؟ البتہ ہم اپنا اسلحہ (زرہیں) تمہارے پاس رہن رکھوا دیتے ہیں۔ کعب بولا: ٹھیک ہے۔ سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اس کے ساتھ وعدہ کیا کہ وہ اس کے پاس آئیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: وہ چار افراد تھے جن میں سے دو کے نام عمرو نے بیان کیے ہیں ایک سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ تھے اور دوسرے سیدنا ابونائلہ رضی اللہ عنہ تھے۔ یہ چار حضرات کعب بن اشرف کے پاس آئے وہ اس وقت چادر اوڑھے ہوئے تھا، جس میں سے پاکیزہ خوشبو پھوٹ رہی تھی ان حضرات نے کہا: ہم نے آج جیسی پاکیزہ خوشبو کبھی نہیں سونگھی۔ وہ بولا: میری بیوی فلاں عورت ہے، جو عرب کی سب سے معطر عورت ہے، تو سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم مجھے اجازت دو کہ میں اس خوشبو سونگھ لوں، تو اس نے کہا: تم سونگھ لو! پھر سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم مجھے دوبارہ اجازت دو کہ میں دوبارہ اسے سونگھوں۔ راوی کہتے ہیں: جب سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ دوبارہ اس کے قریب ہوئے، تو انہوں نے اس کا سر پکڑ لیا اور بولے: اس کو مار دو! ان حضرات نے اسے مارا یہاں تک کہ اسے قتل کر دیا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1287]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2510، 3031، 3032، 4037، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1801، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 5893، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 8587، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2768، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 13405، 18177، 18178»
حدیث نمبر 1288
حدیث نمبر: 1288
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَيشي، قَالَ أَبُو عَلِيٍّ" كَذَا فِي كِتَابِي الْعيَشِّيُّ، وَفِي أُصُولٍ عِنْدِي الْعَبْسِيُّ، وَاللَّهُ وَلِيُّ التَّوْفِيقِ عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: قَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ: إِنِّي لأَسْمَعُ صَوْتًا أَجِدُ مِنْهُ رِيحَ الدَّمِ، قَالَ: إِنَّمَا هُوَ أَبُو نَائِلَةَ أَخِي، لَوْ وَجَدَنِي نَائِمًا مَا أَيْقَظَنِي، وَإِنَّ الْكَرِيمَ لَوْ دُعِيَ إِلَى طَعْنَةٍ لأَجَابَهَا" ، وَسَمَّى الَّذِينَ أَتَوْهُ: مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، أَبُو نَائِلَةَ، وَعَبَّادِ بْنِ بِشْرٍ، وَأَبِي عَبْسِ بْنِ جَبْرٍ، وَالْحَارِثِ بْنِ مُعَاذٍ.
عکرمی نامی راوی نے روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: کعب بن اشرف کی بیوی نے اسے کہا: میں نے ایک ایسی آواز سنی ہے، جس میں سے مجھے خون کی بو محسوس ہو رہی ہے، تو کعب بن اشرف بولا: یہ تو ابونائلہ ہے، جو میرا بھائی ہے اگر وہ مجھے سویا ہوا پاتا تو مجھے بیدار نہ کرتا اور معزز آدمی کو زخمی کرنے کے لیے بھی بلایا جائے، تو وہ ضرور جاتا ہے۔ راوی نے ان حضرات کے نام بیان کیے ہیں جو یہ ہیں: سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ، سیدنا ابونائلہ رضی اللہ عنہ، سیدنا عباد بن بشر رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوعبس بن جبر رضی اللہ عنہ، اور سیدنا حارث بن معاذ رضی اللہ عنہ۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1288]
تخریج الحدیث: «أثر صحيح،وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم:4037 ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1801»
حدیث نمبر 1289
حدیث نمبر: 1289
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ : أَسَمِعْتَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ مِنْهُمْ مَرَّ بِأَسْهُمٍ فِي الْمَسْجِدِ: أَمْسِكْ بِنِصَالِهَا" ؟ قَالَ: نَعَمْ".
سفیان کہتے ہیں: میں نے عمرو بن دینار سے دریافت کیا: کیا آپ نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے یہ فرمایا تھا: جو مسجد میں اپنے تیر لے کر گزر رہا تھا کہ تم اسے دھار کی طرف سے پکڑ کر رکھو، تو انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1289]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 451، 7073، 7074، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2614، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1316، 1317، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1647، 1648، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 717، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 799، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2586، والدارمي فى «مسنده» برقم: 657، 1442، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3777، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15977، 15978، وأحمد فى «مسنده» برقم: 14531، 15009، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1833، 1971، 1994، 1995»
حدیث نمبر 1290
حدیث نمبر: 1290
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَمْرٌو، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " فِينَا نَزَلَتْ بَنِي حَارِثَةَ وَبَنِي سَلِمَةَ: إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلا سورة آل عمران آية 122، وَمَا أُحِبُّ أَنَّهَا لَمْ تَنْزِلُ لِقَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا سورة آل عمران آية 122" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: یہ آیت ہمارے بارے میں یعنی بنو حارثہ اور بنو سلمہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ «إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلا» (3-آل عمران:122) ”جب تم میں سے دو گروہوں نے یہ ارادہ کیا کہ وہ بزدلی دکھائیں۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے یہ بات پسند نہیں ہے، یہ آیت نازل نہ ہوئی ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: «وَاللهُ وَلِيُّهُمَا» (3-آل عمران:122) ”اللہ تعالیٰ ان دونوں گروہوں کا ولی (حامی و مددگار) ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1290]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 4051، 4558، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2505، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 7288، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 523، 2870»
حدیث نمبر 1291
حدیث نمبر: 1291
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، قَالَ: قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : " أَطْعَمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُحُومَ الْخَيْلِ، وَنَهَانَا عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں گھوڑوں کا گوشت کھلایا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں گدھوں کے گوشت سے منع کیا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1291]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 4219، 5520، 5524، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1941،وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5268، 5269، 5270، 5272، 5273، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 7675، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4338، 4339، 4340، 4341، 4344، 4354، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4820، 4821، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3788، 3789، 3808، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1478، 1793، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2036، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3191، 3197، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 19466، 19494، 19495، وأحمد فى «مسنده» برقم: 14674، 14687، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1787، 1832، 1975، 1998، 2155، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 8733، 8734، 8737»
حدیث نمبر 1292
حدیث نمبر: 1292
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ :" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُخَابَرَةِ" , قَالَ سُفْيَانُ: وَكُلُّ شَيْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ لَنَا فِيهِ: سَمِعْتُ جَابِرًا إِلا هَذَيْنِ الْحَدِيثَيْنِ، يَعْنِي لُحُومَ الْخَيْلِ وَالْمُخَابَرَةَ، فَلا أَدْرِي بَيْنَهُ وَبَيْنَ جَابِرٍ فِيهِمَا أَحَدٌ أَمْ لا، وَأَمَّا حَدِيثُ الأَسْهُمِ فَإِنِّي أَنَا قُلْتُ لَهُ: سَمِعْتَ جَابِرًا عَلَى مَا حَدَّثْتُكُمْ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”مخابرہ“ سے منع کیا ہے۔ سفیان کہتے ہیں: میں نے عمرو بن دینار کے حوالے سے جو بھی روایت سنی اس میں انہوں نے یہی کہا: میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، البتہ ان دو روایات کا حکم مختلف ہے۔ یعنی گھوڑوں کے گوشت والی روایت اور مخابرہ والی روایت، مجھے نہیں معلوم کہ آیا ان دونوں روایات میں عمر و بن دینار اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے درمیان کوئی اور راوی ہے یا نہیں؟ جہاں تک تیروں والی روایت کا تعلق ہے، تو میں نے ان سے کہا: کیا آپ نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: اسی طرح جس طرح میں تمہیں یہ حدیث سنا رہا ہوں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1292]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1536، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 11809، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1834، 2064، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 21664، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 3056، 3057»
حدیث نمبر 1293
حدیث نمبر: 1293
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ ," أَنَّ طَارِقًا كَانَ أَمِيرًا بِالْمَدِينَةِ فَقَضَى بِالْعُمْرَى لِلْوَارِثِ" ، عَنْ قَوْلِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیلمان بن سیار بیان کرتے ہیں: طارق نامی صاحب مدینہ منورہ کے گورنر تھے۔ انہوں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث کی بنیاد پر ”عمریٰ“ کے بارے میں یہ فیصلہ دیا کہ وہ وارث کو ملے گی۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1293]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2626، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1625، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5127، 5128، 5129، 5136، 5140، 5141، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3730، برقم: 3732، برقم: 3734، برقم: 3738، برقم: 3739، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3556، 3558، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1351، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2383، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 12092، 12093، وأحمد فى «مسنده» برقم: 9677، 14342، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1835، 1851، 2214، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 16876، 16883، 16886»
حدیث نمبر 1294
حدیث نمبر: 1294
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " كُنَّا نَعْزِلُ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا، وَالْقُرْآنُ يَنْزِلُ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ عزل کر لیا کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود تھے اور قرآن نازل ہوتا رہا (لیکن ہمیں اس عمل سے منع نہیں کیا گیا)۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1294]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 5207، 5208، 5209، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1440، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4195، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 9044، 9045، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1137، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1927، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14416، 14417، وأحمد فى «مسنده» برقم: 14540، 15188، 15263، 15304، والطيالسي فى «مسنده» برقم: 1803، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2193، 2255، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12566»
حدیث نمبر 1295
حدیث نمبر: 1295
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ عِيَاضٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَخُي بَنِي سَلِمَةَ أَنَّ رَجُلا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ لِي جَارِيَةً، وَأنَا أَعْزِلُ عَنْهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا إِنَّ ذَلِكَ لا يَرُدُّ شَيْئًا قَضَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: فَذَهَبَ الرَّجُلُ فَلَمْ يَلْبَثْ إِلا يَسِيرًا حَتَّى جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَشَعُرْتَ أَنَّ تِلْكَ الْجَارِيَةَ حَمَلَتْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میری ایک کنیز ہے میں اس سے عزل کر لیتا ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ عمل اس چیز کو واپس نہیں کر سکتا جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فیصلہ دے دیا ہو۔“ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ شخص چلا گیا کچھ عرصے کے بعد وہ دوبارہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! مجھے یہ پتہ چلا ہے، وہ کنیز حاملہ ہو گئی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہوں۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1295]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1439، 1439، 1439، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4194، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 9030، 9048، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2173، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1136، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 89، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 2243، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14418، 14419، وأحمد فى «مسنده» برقم: 14569، 14586، 15372، 15406، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1910، 2076»