موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
81. بَابُ جَامِعِ الْحَجِّ
حج کی مختلف احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 946
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِامْرَأَةٍ وَهِيَ فِي مِحَفَّتِهَا، فَقِيلَ لَهَا: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَتْ بِضَبْعَيْ صَبِيٍّ كَانَ مَعَهَا، فَقَالَتْ: أَلِهَذَا حَجٌّ؟ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ"
حضرت کریب جو مولیٰ ہیں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے، سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہوا ایک عورت پر اور وہ اپنے محافہ میں تھی (محافہ ہودج کی مانند ہوتا ہے مگر اس پر قبہ نہیں ہوتا) تو کہا گیا اس سے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، پس وہ اپنے بچے کا بازو پکڑ کر عرض گزار ہوئی جو اُس کے ساتھ ہی تھا کہ: اس لڑکے کا بھی حج ہے یا رسول اللہ؟ فرمایا: ”ہاں اور تجھ کو اجر ہے۔“ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 946]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1336، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 3049، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 144، 3797، 3798، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2650، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 3611، 3612، 3613، 3614، 3615، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1736، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 9805، 9806، وأحمد فى «مسنده» برقم: 1923، 1924، الحميدي فى «مسنده» برقم: 514، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2400، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 244»
الحكم على الحديث:
مرفوع صحيح
حدیث نمبر: 947
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَرِيزٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا رُئِيَ الشَّيْطَانُ يَوْمًا هُوَ فِيهِ أَصْغَرُ، وَلَا أَدْحَرُ، وَلَا أَحْقَرُ، وَلَا أَغْيَظُ مِنْهُ فِي يَوْمِ عَرَفَةَ. وَمَا ذَاكَ إِلَّا لِمَا رَأَى مِنْ تَنَزُّلِ الرَّحْمَةِ، وَتَجَاوُزِ اللَّهِ عَنِ الذُّنُوبِ الْعِظَامِ، إِلَّا مَا أُرِيَ يَوْمَ بَدْرٍ" قِيلَ: وَمَا رَأَى يَوْمَ بَدْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" أَمَا إِنَّهُ قَدْ رَأَى جِبْرِيلَ يَزَعُ الْمَلَائِكَةَ"
سیدنا طلحہ بن عبیداللہ بن کریز رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں دیکھا جاتا شیطان کسی روز ذلیل اور منحوس اور غضبناک زیادہ عرفے کے روز سے، اس وجہ سے کہ دیکھتا ہے اہلِ عرفہ پر اللہ کی رحمت اترتی ہوئی اور بڑے بڑے گناہ معاف ہوتے ہوئے، مگر بدر کے روز بھی شیطان کا یہی حال تھا۔“ لوگوں نے کہا: اس دن کیا تھا یا رسول اللہ! فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”دیکھا اس نے جبریل کو فرشتوں کی صف باندھے ہوئے۔“ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 947]
تخریج الحدیث: «مرفوع ضعيف، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 8125، 8832، والبيهقي فى «شعب الايمان» برقم: 4069، وبغوي فى «شرح السنة» برقم: 1930، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 245»
الحكم على الحديث:
مرفوع ضعيف
حدیث نمبر: 948
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك , عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَرِيزٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَفْضَلُ الدُّعَاءِ دُعَاءُ يَوْمِ عَرَفَةَ، وَأَفْضَلُ مَا قُلْتُ: أَنَا وَالنَّبِيُّونَ مِنْ قَبْلِي: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ"
سیدنا طلحہ بن عبیداللہ بن کریز رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہتر دعاؤں میں عرفے کی دعا ہے، اور بہتر اس میں جو کہا میں نے اور میرے سے پہلے پیغمبروں نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ» ہے۔“ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 948]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح لغيره، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 8391، 9473، والبيهقي فى «سننه الصغير» برقم: 1677 وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 8125، وبغوي فى «شرح السنة» برقم: 1929، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 246»
الحكم على الحديث:
مرفوع صحيح لغيره
حدیث نمبر: 949
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ، وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ، فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْتُلُوهُ" .
قَالَ مَالِك: وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ مُحْرِمًا وَاللَّهُ أَعْلَمُ
قَالَ مَالِك: وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ مُحْرِمًا وَاللَّهُ أَعْلَمُ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوئے مکے میں جس سال مکہ فتح ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر خود تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اُتارا تو ایک شخص آیا اور بولا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ابن خطل (ایک کافر تھا جس کا نام عبدالعزیٰ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا خون مباح کر دیا تھا) کعبے کے پردے پکڑے ہوئے لٹک رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو مار ڈالو۔“
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دن احرام نہیں باندھے تھے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 949]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دن احرام نہیں باندھے تھے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 949]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1846، 3044، 4286، 5808، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1357، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 3063، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3719، 3721، 3805، 3806، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2869، 2870، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 3836، 3837، 8530، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2685، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1693، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1981، 2500، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2805، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 9949، 12976، وأحمد فى «مسنده» برقم: 12250، 12251، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1246، والترمذي فى «الشمائل» برقم: 112، 113، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 9034، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 247»
الحكم على الحديث:
مرفوع صحيح
حدیث نمبر: 950
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ،" أَقْبَلَ مِنْ مَكَّةَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِقُدَيْدٍ جَاءَهُ خَبَرٌ مِنْ الْمَدِينَةِ، فَرَجَعَ، فَدَخَلَ مَكَّةَ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ"
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما آئے مکے سے (مدینے کے قصد سے) جب قدید میں پہنچے تو مدینے کے فساد کی خبر پہنچی، پس لوٹ آئے مکے میں بغیر احرام کے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 950]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 9953، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 3129، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 13700، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 4165، 4166، 4167، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 248»
الحكم على الحديث:
موقوف صحيح
حدیث نمبر: 951
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِمِثْلِ ذَلِكَ
ابن شہاب سے ایسی ہی روایت ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 951]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 9953، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 248ق»
الحكم على الحديث:
مقطوع صحيح
حدیث نمبر: 952
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدِّيلِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ: عَدَلَ إِلَيَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَأَنَا نَازِلٌ تَحْتَ سَرْحَةٍ بِطَرِيقِ مَكَّةَ، فَقَالَ: مَا أَنْزَلَكَ تَحْتَ هَذِهِ السَّرْحَةِ؟ فَقُلْتُ: أَرَدْتُ ظِلَّهَا، فَقَالَ: هَلْ غَيْرُ ذَلِكَ؟ فَقُلْتُ: لَا مَا أَنْزَلَنِي إِلَّا ذَلِكَ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كُنْتَ بَيْنَ الْأَخْشَبَيْنِ مِنْ مِنًى، وَنَفَخَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ فَإِنَّ هُنَاكَ وَادِيًا، يُقَالُ لَهُ السِّرَرُ بِهِ شَجَرَةٌ سُرَّ تَحْتَهَا سَبْعُونَ نَبِيًّا"
حضرت عمران انصاری سے روایت ہے کہ آئے میرے پاس سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور میں اُترا تھا ایک درخت کے تلے مکے کی راہ میں، تو پوچھا انہوں نے: کیوں اُترا تو اس درخت کے تلے؟ میں نے کہا: سایہ کے واسطے، انہوں نے کہا: اور کسی کام کے واسطے؟ میں نے کہا: نہیں، میں صرف سایہ کے واسطے اُترا ہوں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”جب تو منیٰ میں دو پہاڑوں کے بیچ میں پہنچے (اور اشارہ کیا ہاتھ سے پورب کی طرف)، وہاں ایک جگہ ہے جس کو سرر کہتے ہیں، وہاں ایک درخت ہے، اس کے تلے ستر نبیوں کی نال کاٹی گئی، یا ستر نبیوں کو نبوت ملی۔“ پس وہ اس سبب سے خوش ہوئے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 952]
تخریج الحدیث: «مرفوع ضعيف، وأخرجه والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2998، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6244، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 3972، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 9712، وأحمد فى «مسنده» برقم: 6342، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5723، وانظر الضعيفة للالباني: 2701، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 249»
الحكم على الحديث:
مرفوع ضعيف
حدیث نمبر: 953
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ مَرَّ بِامْرَأَةٍ مَجْذُومَةٍ، وَهِيَ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ، فَقَالَ لَهَا:" يَا أَمَةَ اللَّهِ لَا تُؤْذِي النَّاسَ، لَوْ جَلَسْتِ فِي بَيْتِكِ"، فَجَلَسَتْ فَمَرَّ بِهَا رَجُلٌ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهَا: إِنَّ الَّذِي كَانَ قَدْ نَهَاكِ، قَدْ مَاتَ، فَاخْرُجِي، فَقَالَتْ: مَا كُنْتُ لِأُطِيعَهُ حَيًّا، وَأَعْصِيَهُ مَيِّتًا
ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ گزرے ایک جذامی عورت پر جو طواف کر رہی تھی خانۂ کعبہ کا، تو کہا: اے اللہ کی لونڈی! مت تکلیف دے لوگوں کو، کاش! تو اپنے گھر میں بیٹھتی۔ وہ اپنے گھر میں بیٹھی رہی، ایک شخص اس سے ملا اور بولا کہ جس شخص نے تجھ کو منع کیا تھا وہ مر گیا، اب نکل۔ عورت بولی: میں ایسی نہیں کہ زندگی میں اس شخص کی اطاعت کروں اور مرنے کے بعد اس کی نافرمانی کروں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 953]
تخریج الحدیث: «موقوف ضعيف، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 9031، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 250»
الحكم على الحديث:
موقوف ضعيف
حدیث نمبر: 954
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، كَانَ يَقُولُ: " مَا بَيْنَ الرُّكْنِ، وَالْبَاب، الْمُلْتَزَمُ"
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ درمیان میں حجرِ اسود اور دروازۂ کعبہ کے ملتزم ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 954]
تخریج الحدیث: «موقوف ضعيف، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 9766، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 251»
الحكم على الحديث:
موقوف ضعيف
حدیث نمبر: 955
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَذْكُرُ، أَنَّ رَجُلًا مَرَّ عَلَى أَبِي ذَرٍّ، بِالرَّبَذَةِ، وَأَنَّ أَبَا ذَرٍّ سَأَلَهُ:" أَيْنَ تُرِيدُ؟" فَقَالَ: أَرَدْتُ الْحَجَّ، فَقَالَ:" هَلْ نَزَعَكَ غَيْرُهُ؟" فَقَالَ: لَا، قَالَ: " فَأْتَنِفْ الْعَمَلَ"، قَالَ الرَّجُلُ: فَخَرَجْتُ حَتَّى قَدِمْتُ مَكَّةَ، فَمَكَثْتُ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ إِذَا أَنَا بِالنَّاسِ مُنْقَصِفِينَ عَلَى رَجُلٍ، فَضَاغَطْتُ عَلَيْهِ النَّاسَ، فَإِذَا أَنَا بِالشَّيْخِ الَّذِي وَجَدْتُ، بِالرَّبَذَةِ يَعْنِي أَبَا ذَرٍّ، قَالَ: فَلَمَّا رَآنِي عَرَفَنِي، فَقَالَ:" هُوَ الَّذِي حَدَّثْتُكَ"
حضرت محمد بن یحییٰ بن حبان سے روایت ہےکہ ایک شخص گزرا سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ پر ربذہ میں (ایک مقام کا نام ہے)، سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کہاں کا قصد ہے؟ اس نے کہا: حج کا۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اور کسی نیت سے تو نہیں نکلا؟ بولا: نہیں۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: پس شروع کر کام۔ اس شخص نے کہا: میں نکلا یہاں تک کہ مکہ میں آیا اور وہاں ٹھہرا رہا، پھر دیکھا میں نے لوگوں کو چیر کر اندر گیا، کیا دیکھتا ہوں کہ وہی شخص جو ربذہ میں مجھ کو ملا تھا موجود ہے، یعنی سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ، انہوں نے مجھ کو دیکھ کر پہچانا اور کہا: تو وہی ہے جس سے حدیث بیان کی تھی میں نے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 955]
تخریج الحدیث: «موقوف ضعيف، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 8805، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 252»
الحكم على الحديث:
موقوف ضعيف