🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. بَابُ عِتْقِ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ وَجَامِعِ الْقَضَاءِ فِي الْعَتَاقَةِ
اُم ولد کا آزاد ہونا اور آزاد کرنے کے اختیار کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1272
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ: " أَيُّمَا وَلِيدَةٍ وَلَدَتْ مِنْ سَيِّدِهَا، فَإِنَّهُ لَا يَبِيعُهَا وَلَا يَهَبُهَا وَلَا يُوَرِّثُهَا وَهُوَ يَسْتَمْتِعُ بِهَا، فَإِذَا مَاتَ، فَهِيَ حُرَّةٌ"
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو لونڈی اپنے مالک سے جنے تو مالک اس کو نہ بیچے نہ ہبہ کرے، نہ وہ مالک کے وارثوں کے ملک میں آ سکتی ہے، بلکہ جب تک مالک زندہ رہے اس سے مزے لے، جب مر جائے وہ آزاد ہو جائے گی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1272]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 21763، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 2053، 2054، والبيهقي فى «سننه الصغير» برقم: 4465، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 6132، والدارقطني فى «سننه» برقم: 4246، 4247، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 13225، 13226، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 22011، 22016، فواد عبدالباقي نمبر: 38 - كِتَابُ الْعِتْقِ وَالْوَلَاءِ-ح: 6»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1273
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ " أَتَتْهُ وَلِيدَةٌ قَدْ ضَرَبَهَا سَيِّدُهَا بِنَارٍ أَوْ أَصَابَهَا بِهَا، فَأَعْتَقَهَا" .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک لونڈی آئی جس کو اس کے مولیٰ نے آگ میں جلایا تھا، آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو آزاد کر دیا۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1273]
تخریج الحدیث: «موقوف ضعيف، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 7928، فواد عبدالباقي نمبر: 38 - كِتَابُ الْعِتْقِ وَالْوَلَاءِ-ح: 7»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1273B1
. قَالَ مَالِك: الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا، أَنَّهُ لَا تَجُوزُ عَتَاقَةُ رَجُلٍ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ يُحِيطُ بِمَالِهِ، وَأَنَّهُ لَا تَجُوزُ عَتَاقَةُ الْغُلَامِ حَتَّى يَحْتَلِمَ أَوْ يَبْلُغَ مَبْلَغَ الْمُحْتَلِمِ، وَأَنَّهُ لَا تَجُوزُ عَتَاقَةُ الْمُوَلَّى عَلَيْهِ فِي مَالِهِ وَإِنْ بَلَغَ الْحُلُمَ حَتَّى يَلِيَ مَالَهُ
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جس شخص پر اتنا قرض ہو کہ سارا مال اس کا قرض میں جا سکے، وہ اگر غلام یا لونڈی کو آزاد کر دے تو درست نہیں۔ اسی طرح نابالغ کو آزاد کرنا اپنے غلام یا لونڈی کا درست نہیں جب تک بالغ نہ ہو جائے، نہ اس کے ولی کو جب تک ولایت اس کی قائم ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1273B1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 38 - كِتَابُ الْعِتْقِ وَالْوَلَاءِ-ح: 7»

6. بَابُ مَا يَجُوزُ مِنَ الْعِتْقِ فِي الرِّقَابِ الْوَاجِبَةِ
جس لونڈی یا غلام کا عتاق واجب میں آزاد کرنا درست ہے اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1274
حَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ هِلَالِ بْنِ أُسَامَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ ، أَنَّهُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ جَارِيَةً لِي كَانَتْ تَرْعَى غَنَمًا لِي، فَجِئْتُهَا وَقَدْ فُقِدَتْ شَاةٌ مِنَ الْغَنَمِ، فَسَأَلْتُهَا عَنْهَا، فَقَالَتْ: أَكَلَهَا الذِّئْبُ. فَأَسِفْتُ عَلَيْهَا، وَكُنْتُ مِنْ بَنِي آدَمَ فَلَطَمْتُ وَجْهَهَا وَعَلَيَّ رَقَبَةٌ، أَفَأُعْتِقُهَا؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيْنَ اللَّهُ؟" فَقَالَتْ: فِي السَّمَاءِ. فَقَالَ:" مَنْ أَنَا؟" فَقَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْتِقْهَا"
حضرت عمر بن حکم سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری ایک لونڈی بکریاں چرا رہی تھی، جب میں وہاں گیا دیکھا تو ایک بکری گم ہے، میں نے پوچھا: ایک بکری کہاں ہے؟ بولی: اس کو بھیڑیا کھا گیا ہے، مجھے غصہ آیا، آخر میں آدمی تھا، میں نے ایک طمانچہ اس کے منہ پر جڑا۔ میرے ذمّہ ایک بردہ آزاد کرنا واجب ہے، کیا اسی کو آزاد کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لونڈی سے فرمایا: اللہ جل جلالہُ کہاں ہے؟ وہ بولی: آسمان پر ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کون ہوں؟ بولی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو فرمایا: اس کو آزاد کر دے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1274]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 537، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 859، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 165، 2247، 2248، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1219، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 561، 1142،وأبو داود فى «سننه» برقم: 930، 3282، 3909، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1543، 1544، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 3400، وأحمد فى «مسنده» برقم: 24165، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 19500، 19501، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 8104، فواد عبدالباقي نمبر: 38 - كِتَابُ الْعِتْقِ وَالْوَلَاءِ-ح: 8»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1275
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَارِيَةٍ لَهُ سَوْدَاءَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَلَيَّ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً، فَإِنْ كُنْتَ تَرَاهَا مُؤْمِنَةً، أُعْتِقُهَا؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَشْهَدِينَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟" قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ:" أَتَشْهَدِينَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ؟" قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: أَتُوقِنِينَ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْتِقْهَا"
حضرت عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے روایت ہے کہ ایک شخص انصاری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کالی لونڈی لے کر آیا اور کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے اوپر ایک مسلمان بردہ آزاد کرنا واجب ہے، کیا میں اس کو آزاد کر دوں؟ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ یہ مؤمنہ ہے تو میں اسی کو آزاد کر دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لونڈی سے فرمایا: کیا تو یقین کرتی ہے اس بات کا کہ نہیں ہے کوئی معبود سچا سوائے اللہ تعالیٰ کے۔ وہ بولی: ہاں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو یقین کرتی ہے اس بات کا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ وہ بولی: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو یقین کرتی ہے اس بات کا کہ مرنے کے بعد پھر جی اٹھیں گے۔ بولی: ہاں۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو آزاد کر دے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1275]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه أبو داود فى «سننه» برقم: 3284، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15302، وأحمد فى «مسنده» برقم: 15984، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 16814، فواد عبدالباقي نمبر: 38 - كِتَابُ الْعِتْقِ وَالْوَلَاءِ-ح: 9»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1276
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: سُئِلَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ " الرَّجُلِ تَكُونُ عَلَيْهِ رَقَبَةٌ، هَلْ يُعْتِقُ فِيهَا ابْنَ زِنًا؟ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: نَعَمْ، ذَلِكَ يُجْزِئُ عَنْهُ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ جس شخص پر ایک بردہ آزاد کرنا لازم ہو گیا ہو وہ ولدِ زنا کو آزاد کر سکتا ہے؟ جواب دیا: ہاں کر سکتا ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1276]
تخریج الحدیث: «موقوف ضعيف، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 19998، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 13868، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 12679، فواد عبدالباقي نمبر: 38 - كِتَابُ الْعِتْقِ وَالْوَلَاءِ-ح: 10»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1277
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ " الرَّجُلِ تَكُونُ عَلَيْهِ رَقَبَةٌ، هَلْ يَجُوزُ لَهُ أَنْ يُعْتِقَ وَلَدَ زِنًا؟ قَالَ: نَعَمْ، ذَلِكَ يُجْزِئُ عَنْهُ"
سیدنا فضالہ بن عبید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے پوچھا گیا: جس شخص پر ایک بردہ آزاد کرنا لازم ہو گیا وہ ولدِ زنا کو آزاد کر سکتا ہے؟ جواب دیا: ہاں، کر سکتا ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1277]
تخریج الحدیث: «موقوف ضعيف، شیخ سلیم ہلالی نے کہا کہ اس کی سند انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے .، فواد عبدالباقي نمبر: 38 - كِتَابُ الْعِتْقِ وَالْوَلَاءِ-ح: 11»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بَابُ مَا لَا يَجُوزُ مِنَ الْعِتْقِ فِي الرِّقَابِ الْوَاجِبَةِ
جن بردوں کا آزاد کرنا درست نہیں واجب اعتاق میں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1278
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، سُئِلَ عَنْ " الرَّقَبَةِ الْوَاجِبَةِ، هَلْ تُشْتَرَى بِشَرْطٍ؟ فَقَالَ: لَا" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال ہوا کہ جس بردہ کا آزاد کرنا واجب ہو وہ شرط لگا کر خرید کیا جائے؟ کہا: نہیں۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1278]
تخریج الحدیث: «موقوف ضعيف، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15273، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 20778، فواد عبدالباقي نمبر: 38 - كِتَابُ الْعِتْقِ وَالْوَلَاءِ-ح: 12»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1278B1
. قَالَ مَالِك: وَذَلِكَ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي الرِّقَابِ الْوَاجِبَةِ، أَنَّهُ لَا يَشْتَرِيهَا الَّذِي يُعْتِقُهَا فِيمَا وَجَبَ عَلَيْهِ بِشَرْطٍ عَلَى أَنْ يُعْتِقَهَا، لِأَنَّهُ إِذَا فَعَلَ ذَلِكَ فَلَيْسَتْ بِرَقَبَةٍ تَامَّةٍ، لِأَنَّهُ يَضَعُ مِنْ ثَمَنِهَا لِلَّذِي يَشْتَرِطُ مِنْ عِتْقِهَا.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو شخص غلام کو آزاد کرنے کے لیے، اور اس پر آزاد کرنا واجب ہو، تو اس شرط سے نہ خریدے کہ میں آزاد کردوں گا، اس واسطے کہ اگر اس شرط سے خریدے گا تو بائع رعایت کر کے اس کی قیمت کم کردے گا، اس صورت میں وہ پورا رقبہ نہ ہوگا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1278B1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 38 - كِتَابُ الْعِتْقِ وَالْوَلَاءِ-ح: 12»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1278B2
قَالَ مَالِك: وَلَا بَأْسَ أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّقَبَةَ فِي التَّطَوُّعِ، وَيَشْتَرِطَ أَنْ يُعْتِقَهَا.
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: اگر نفلی طور پر غلام آزاد کرنا چاہے تو آزادی کی شرط لگا کر کر سکتا ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1278B2]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 38 - كِتَابُ الْعِتْقِ وَالْوَلَاءِ-ح: 12»