موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. بَابُ الْعَفْوِ فِي قَتْلِ الْعَمْدِ
قتل عمد میں عفو کرنے کا بیان
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جب کوئی شخص عمداً مارا گیا، اور گواہوں سے قتل ثابت ہوا، اور مقتول کے بیٹے اور بیٹیاں ہیں، بیٹوں نے تو معاف کر دیا لیکن بیٹیوں نے معاف نہ کیا، تو بیٹیوں کے معاف نہ کرنے سے کچھ خلل واقع نہ ہوگا، بلکہ خون معاف ہوجائے گا، کیونکہ بیٹوں کے ہوتے ہوئے ان کو اختیار نہیں ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1536Q4]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 43 - كِتَابُ الْعُقُولِ-ح: 15ق2»
23. بَابُ الْقِصَاصِ فِي الْجِرَاحِ
زخموں میں قصاص کا بیان
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ جو شخص کسی کا ہاتھ یا پاؤں توڑ ڈالے تو اس سے قصاص لیا جائے گا، دیت لازم نہ آئے گی۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1536Q5]
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1536Q5]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 43 - كِتَابُ الْعُقُولِ-ح: 15ق3»
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ زخم کا قصاص نہ لیا جائے گا جب تک کہ وہ شخص اچھا نہ ہو لے، جب وہ اچھا جائے گا تو قصاص لیں گے، اب اگر جارح کا بھی زخم اچھا ہو کر مجروح کے مثل ہوگیا تو بہتر، نہیں تو اگر جارح کا زخم بڑھ گیا اور جارح اسی کی وجہ سے مر گیا تو مجروح پر کچھ تاوان نہ ہوگا، اگر جارح کا زخم بالکل اچھا ہوگیا اور مجروح کا ہاتھ شل ہوگیا یا اور کوئی نقص رہ گیا، تو پھر جارح سے قصاص نہ لیا جائے گا لیکن بقدر نقصان کے دیت اس سے وصول کی جائے گی۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1536Q6]
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1536Q6]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 43 - كِتَابُ الْعُقُولِ-ح: 15ق3»
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر کسی شخص نے اپنی عورت کی آنکھ پھوڑ دی، یا اس کا ہاتھ توڑ ڈالا، یا اس کی انگلی کاٹ ڈالی قصداً، تو اس سے قصاص لیا جائے گا، البتہ اگر اپنی عورت کو تنبیہاً رسی یا کوڑے سے مارے اور بلا قصد کسی مقام پر لگ کر زخم ہو جائے، یا نقصان ہوجائے تو دیت لازم آئے گی قصاص نہ ہوگا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1536Q7]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 43 - كِتَابُ الْعُقُولِ-ح: 15ق3»
حدیث نمبر: 1536
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ " أَقَادَ مِنْ كَسْرِ الْفَخِذِ"
امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ ابوبکر بن حزم نے قصاص لیا ران توڑنے کا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1536]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، وانفرد به المصنف من هذا الطريق، فواد عبدالباقي نمبر: 43 - كِتَابُ الْعُقُولِ-ح: 15ق4»
24. بَابُ مَا جَاءَ فِي دِيَةِ السَّائِبَةِ وَجِنَايَتِهِ
سائبہ کی دیت وجنایت کا بیان
حدیث نمبر: 1537
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ سَائِبَةً أَعْتَقَهُ بَعْضُ الْحُجَّاجِ، فَقَتَلَ ابْنَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَائِذٍ، فَجَاءَ الْعَائِذِيٌ أَبُو الْمَقْتُولِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يَطْلُبُ دِيَةَ ابْنِهِ، فَقَالَ عُمَرُ : " لَا دِيَةَ لَهُ"، فَقَالَ الْعَائِذِيٌ: أَرَأَيْْتَ لَوْ قَتَلَهُ ابْنِي؟ فَقَال عُمَرُ:" إِذًا تُخْرِجُونَ دِيَتَهُ"، فَقَالَ: هُوَ إِذًا كَالْأرْقَمِ إِنْ يُتْرَكْ يَلْقَمْ وإِنْ يُقْتَلْ يَنْقَمْ
حضرت سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ ایک سائبہ نے جس کو کسی حاجی نے آزاد کر دیا تھا، ایک شخص کے بیٹے کو جو بنی عائذ میں تھا، مار ڈالا۔ مقتول کا باپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اپنے بیٹے کی دیت مانگنے آیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے لئے دیت نہیں ہے۔ وہ شخص بولا: اگر میرا بیٹا سائبہ کو مار ڈالتا تو تم کیا حکم کرتے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس وقت تم کو اس کی دیت ادا کرنی ہوتی۔ وہ شخص بولا: پھر تو سائبہ کیا ہے، ایک چتلا سانپ ہے، اگر چھوڑ دو تو ڈس لے اگر مارو تو بدلہ لے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1537]
تخریج الحدیث: «موقوف ضعيف، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 16201، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 18425، فواد عبدالباقي نمبر: 43 - كِتَابُ الْعُقُولِ-ح: 16»