موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. بَابُ جَامِعِ الْعَقْلِ
دیت کے مختلف مسائل کا بیان
حدیث نمبر: 1531B8
قَالَ مَالِكٌ: وَالْأَمْرُ عِنْدَنَا فِيمَا أُصِيبَ مِنَ الْبَهَائِمِ أَنَّ عَلَى مَنْ أَصَابَ مِنْهَا شَيْئًا قَدْرَ مَا نَقَصَ مِنْ ثَمَنِهَا.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جو کوئی شخص کسی کے جانور کو نقصان پہنچائے تو جس قدر قیمت اس نقصان کی وجہ سے کم ہو جائے اس کا تاوان لازم ہوگا۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1531B8]
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1531B8]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 43 - كِتَابُ الْعُقُولِ-ح: 12»
حدیث نمبر: 1531B9
قَالَ مَالِكٌ: فِي الرَّجُلِ يَكُونُ عَلَيْهِ الْقَتْلُ فَيُصِيبُ حَدًّا مِنَ الْحُدُودِ أَنَّهُ لَا يُؤْخَذُ بِهِ، وَذَلِكَ أَنَّ الْقَتْلَ يَأْتِي عَلَى ذَلِكَ كُلِّهِ إِلَّا الْفِرْيَةَ، فَإِنَّهَا تَثْبُتُ عَلَى مَنْ قِيلَتْ لَهُ يُقَالُ لَهُ: مَا لَكَ لَمْ تَجْلِدْ مَنِ افْتَرَى عَلَيْكَ، فَأَرَى أَنْ يُجْلَدَ الْمَقْتُولُ الْحَدَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُقْتَلَ، ثُمَّ يُقْتَلَ، وَلَا أَرَى أَنْ يُقَادَ مِنْهُ فِي شَيْءٍ مِنَ الْجِرَاحِ إِلَّا الْقَتْلَ لِأَنَّ الْقَتْلَ يَأْتِي عَلَى ذَلِكَ كُلِّهِ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ایک شخص قصاصاً قتل کے لائق ہو، پھر وہ کوئی کام ایسا کرے جس سے حد لازم آئے (مثلا زنا کرے کوڑے ورجم لازم آئے، یا چوری کرے ہاتھ کاٹنا لازم ہو) تو کسی حد کا مواخذہ نہ کیا جائے، صرف قتل کافی ہے، مگر حدِ قذف کا، اس میں کوڑے مار کر پھر اس کو قتل کریں۔ اگر اس نے کسی کو زخمی کیا تو زخمی کا قصاص لینا ضروری نہیں۔ قتل کرنا کافی ہے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1531B9]
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1531B9]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 43 - كِتَابُ الْعُقُولِ-ح: 12»
حدیث نمبر: 1531B10
قَالَ مَالِكٌ: الْأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ الْقَتِيلَ إِذَا وُجِدَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ قَوْمٍ فِي قَرْيَةٍ أَوْ غَيْرِهَا لَمْ يُؤْخَذْ بِهِ أَقْرَبُ النَّاسِ إِلَيْهِ دَارًا، وَلَا مَكَانًا، وَذَلِكَ أَنَّهُ قَدْ يُقْتَلُ الْقَتِيلُ، ثُمَّ يُلْقَى عَلَى بَابِ قَوْمٍ لِيُلَطَّخُوا بِهِ فَلَيْسَ يُؤَاخَذُ أَحَدٌ بِمِثْلِ ذَلِكَ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ اگر کوئی نعش کسی گاؤں وغیرہ میں ملے، یا کسی کے دروازے پر، تو یہ ضروری نہیں کہ جو لوگ اس کے قریب ہوں وہ پکڑے جائیں، کیونکہ اکثر ہوتا ہے کہ لوگ مار کر کسی کے دروازے پر ڈال دیتے ہیں تاکہ وہ پکڑا جائے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1531B10]
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1531B10]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 43 - كِتَابُ الْعُقُولِ-ح: 12»
حدیث نمبر: 1531B11
قَالَ مَالِكٌ: فِي جَمَاعَةٍ مِنَ النَّاسِ، اقْتَتَلُوا فَانْكَشَفُوا، وَبَيْنَهُمْ قَتِيلٌ أَوْ جَرِيحٌ، لَا يُدْرَى مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ بِهِ، إِنَّ أَحْسَنَ مَا سُمِعَ فِي ذَلِكَ، أَنَّ عَلَيْهِ الْعَقْلَ، وَأَنَّ عَقْلَهُ عَلَى الْقَوْمِ الَّذِينَ نَازَعُوهُ، وَإِنْ كَانَ الْجَرِيحُ أَوِ الْقَتِيلُ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيقَيْنِ فَعَقْلُهُ عَلَى الْفَرِيقَيْنِ جَمِيعًا.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر چند آدمی مل کر لڑے، اس کے بعد جب جدا ہوئے تو ایک شخص ان میں مقتول یا مجروح پایا گیا، لیکن ہنگامے میں معلوم نہیں ہو سکا کہ کس نے مارا یا زخمی کیا، تو فریق ثانی (یعنی جن کا مقتول نہیں ہے) کی قوم پر اس کی دیت واجب ہوگی، اور اگر وہ شخص دونوں فریق میں سے نہ ہو تو دونوں فریق پر دیت واجب ہوگی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1531B11]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 43 - كِتَابُ الْعُقُولِ-ح: 12»
19. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْغِيلَةِ وَالسِّحْرِ
مکر و فریب سے مارنے یا جادو سے مارنے کا بیان
حدیث نمبر: 1532
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَتَلَ نَفَرًا خَمْسَةً أَوْ سَبْعَةً بِرَجُلٍ وَاحِدٍ قَتَلُوهُ قَتْلَ غِيلَةٍ، وَقَالَ عُمَرُ : " لَوْ تَمَالَأَ عَلَيْهِ أَهْلُ صَنْعَاءَ لَقَتَلْتُهُمْ جَمِيعًا"
حضرت سعید بن مسیّب سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پانچ یا سات آدمیوں کو ایک شخص کے بدلے میں قتل کیا، انہوں نے دھوکا دے کر اس کو مار ڈالا تھا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر سارے صنعا والے اس کے قتل میں شریک ہوتے تو میں سب کو قتل کرتا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1532]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 6896، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15973، والدارقطني فى «سننه» برقم: 3463، 3464، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 18069، 18075،وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 27684، 28266، 28267، 28268، فواد عبدالباقي نمبر: 43 - كِتَابُ الْعُقُولِ-ح: 13»
حدیث نمبر: 1533
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ ، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ حَفْصَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَتَلَتْ جَارِيَةً لَهَا سَحَرَتْهَا وَقَدْ كَانَتْ دَبَّرَتْهَا، فَأَمَرَتْ بِهَا فَقُتِلَتْ" .
ُم المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے ایک لونڈی کو قتل کیا جس نے ان پر جادو کیا تھا، اور پہلے آپ رضی اللہ عنہا اس کو مدبر کر چکی تھیں، پھر حکم کیا اس کے قتل کا تو قتل کی گئی۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1533]
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1533]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 16499، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 18757، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 28971، فواد عبدالباقي نمبر: 43 - كِتَابُ الْعُقُولِ-ح: 14»
حدیث نمبر: 1533B1
قَالَ مَالِك: السَّاحِرُ الَّذِي يَعْمَلُ السِّحْرَ وَلَمْ يَعْمَلْ ذَلِكَ لَهُ غَيْرُهُ، هُوَ مَثَلُ الَّذِي قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي كِتَابِهِ: وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الآخِرَةِ مِنْ خَلاقٍ سورة البقرة آية 102، فَأَرَى أَنْ يُقْتَلَ ذَلِكَ إِذَا عَمِلَ ذَلِكَ هُوَ نَفْسُهُ
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو شخص جادو جانتا ہے اور اس کو کام میں لاتا ہے، اس کا قتل کرنا مناسب ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1533B1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 43 - كِتَابُ الْعُقُولِ-ح: 14»
20. بَابُ مَا يَجِبُ فِي الْعَمْدِ
قتل عمد کا بیان
حدیث نمبر: 1534
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ مَوْلَى عَائِشَةَ بِنْتِ قُدَامَةَ، أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ " أَقَادَ وَلِيَّ رَجُلٍ مِنْ رَجُلٍ قَتَلَهُ بِعَصًا فَقَتَلَهُ وَلِيُّهُ بِعَصًا" .
ایک شخص نے دوسرے کو لکڑی سے مار ڈالا، عبدالملک بن مروان نے قاتل کو ولی مقتول کے حوالے کیا، اس نے بھی اس کو لکڑی سے مار ڈالا۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1534]
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1534]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 16190، فواد عبدالباقي نمبر: 43 - كِتَابُ الْعُقُولِ-ح: 15»
حدیث نمبر: 1534B1
قَالَ مَالِك: وَالْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ عِنْدَنَا، أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا ضَرَبَ الرَّجُلَ بِعَصًا أَوْ رَمَاهُ بِحَجَرٍ أَوْ ضَرَبَهُ عَمْدًا فَمَاتَ مِنْ ذَلِكَ، فَإِنَّ ذَلِكَ هُوَ الْعَمْدُ وَفِيهِ الْقِصَاصُ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کو لکڑی یا پتھر سے قصداً مارے اور وہ ہلاک ہو جائے تو قصاص لیا جائے گا۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1534B1]
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1534B1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 43 - كِتَابُ الْعُقُولِ-ح: 15»
حدیث نمبر: 1534B2
قَالَ مَالِك: فَقَتْلُ الْعَمْدِ عِنْدَنَا أَنْ يَعْمِدَ الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ فَيَضْرِبَهُ حَتَّى تَفِيظَ نَفْسُهُ، وَمِنَ الْعَمْدِ أَيْضًا أَنْ يَضْرِبَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي النَّائِرَةِ تَكُونُ بَيْنَهُمَا ثُمَّ يَنْصَرِفُ عَنْهُ وَهُوَ حَيٌّ، فَيُنْزَى فِي ضَرْبِهِ فَيَمُوتُ فَتَكُونُ فِي ذَلِكَ الْقَسَامَةُ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک قتلِ عمد یہی ہے کہ ایک آدمی دوسرے کو قصداً مارے یہاں تک کہ اس کا دم نکل جائے، اور یہ بھی قتلِ عمد ہے کہ ایک شخص سے دشمنی ہو اس کو ایک ضرب لگا کر چلا آئے اس وقت وہ زندہ ہو، بعد اس کے اسی ضرب سے مر جائے، اس میں قسامت واجب ہوگی۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1534B2]
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1534B2]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 43 - كِتَابُ الْعُقُولِ-ح: 15»