Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب مَنْ تَرَكَ مَالاً فَلِوَرَثَتِهِ:
باب: متروکہ مال ورثاء کے لیے ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1619 ترقیم شاملہ: -- 4160
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِالْمُؤْمِنِينَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَأَيُّكُمْ مَا تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيْعَةً، فَادْعُونِي فَأَنَا وَلِيُّهُ وَأَيُّكُمْ مَا تَرَكَ مَالًا، فَلْيُؤْثَرْ بِمَالِهِ عَصَبَتُهُ مَنْ كَانَ ".
ہمام بن منبہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: یہ وہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں، پھر انہوں نے چند احادیث بیان کیں، ان میں سے یہ بھی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل کی کتاب کی رو سے میں مومنوں کے، (ان کی اپنی ذات سمیت) سب لوگوں کی نسبت زیادہ قریب ہوں، تم میں سے جو قرض یا اولاد چھوڑ جائے تو مجھے بلانا میں اس کا ولی ہوں اور جو مال چھوڑ جائے تو اس کے مال کے معاملے میں (ذوی الفروض کے حصے دینے کے بعد) اس کے عصبہ (قریب ترین مرد رشتہ دار) کو ترجیح دی جائے، وہ جو بھی ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب الفرائض/حدیث: 4160]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کتاب اللہ کی رو سے، سب لوگوں سے زیادہ، مومنوں کا معاون و مددگار ہوں، تو تم میں سے جو قرضہ چھوڑے، یا ضائع ہونے والے بچے چھوڑے، تو مجھے بلاؤ، میں اس کا معاون ہوں، اور تم میں سے جو مال چھوڑے، تو اس کے مال کے لیے اس کے وارثوں کو ترجیح دی جائے، جو بھی اس کا وارث ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب الفرائض/حدیث: 4160]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1619
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1619 ترقیم شاملہ: -- 4161
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيٍّ : أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ تَرَكَ مَالًا، فَلِلْوَرَثَةِ وَمَنْ تَرَكَ كَلًّا، فَإِلَيْنَا "،
معاذ عنبری نے ہمیں حدیث بیان کی: ہمیں شعبہ نے عدی سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے ابوحازم سے سنا، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: جس نے مال چھوڑا وہ اس کے ورثاء کا ہے اور جس نے بوجھ (بے سہارا اولاد ہو یا قرض) چھوڑا وہ ہمارے ذمہ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفرائض/حدیث: 4161]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے مال چھوڑا تو وہ وارثوں کا ہے، اور جس نے بوجھ یعنی بال بچے چھوڑے، تو ان کے ذمہ دار ہم ہی ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفرائض/حدیث: 4161]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1619
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1619 ترقیم شاملہ: -- 4162
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ غُنْدَرٍ وَمَنْ تَرَكَ كَلًّا وَلِيتُهُ.
محمد بن جعفر (غندر) اور عبدالرحمان بن مہدی نے کہا: ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، مگر غندر کی حدیث میں ہے: جس نے بوجھ چھوڑا اس کی ذمہ داری میں نے لے لی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفرائض/حدیث: 4162]
امام صاحب یہی روایت اپنے دو اور اساتذہ کی سند سے شعبہ ہی کے واسطہ سے بیان کرتے ہیں، ان میں غندر کی روایت میں ہے، اور جس نے بال، بچے چھوڑے، ان کا ولی (نگران و محافظ) میں ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفرائض/حدیث: 4162]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1619
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں