مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
340. مَنِ الْتَمَسَ رِضَا اللَّهِ بِسَخَطِ النَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَرْضَى عَنْهُ النَّاسَ، وَمَنِ الْتَمَسَ رِضَا النَّاسِ بِسَخَطِ اللَّهِ سَخِطَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَسْخَطَ عَلَيْهِ النَّاسَ
جس شخص نے لوگوں کو ناراض کر کے اللہ کی رضا چاہی اللہ اس سے راضی ہوگا اور لوگوں کو بھی اس سے راضی کر دے گااور جس نے اللہ کو ناراض کر کے لوگوں کی رضا چاہی اللہ اس پر ناراض ہوگا اور لوگوں کو بھی اس سے ناراض کر دے گا
حدیث نمبر: 501
501 - أنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْجَوَالِيقِيُّ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي حُصَيْنٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجُوزْجَانِيُّ، نا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، نا شُعْبَةُ، عَنْ وَاقِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَرْضَى اللَّهَ بِسَخَطِ النَّاسِ كَفَاهُ النَّاسَ، وَمَنْ أَسْخَطَ اللَّهَ بِرِضَا النَّاسِ وَكَلَهُ اللَّهُ إِلَى النَّاسِ»
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے لوگوں کو ناراض کر کے اللہ کو راضی کیا اللہ اسے کافی ہوگا اور جس نے لوگوں کو راضی کر کے اللہ کو ناراض کیا اللہ اسے لوگوں کے سپرد کر دے گا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 501]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه ابن حبان: 277، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2414، والحميدي فى «مسنده» برقم: 268، الزهد ل أحمد: 910»
وضاحت: تشریح: -
مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ ٰ کی خفگی و ناراضی سے بے پروا ہو کر لوگوں ہی کی رضا اور خوشنودی کو ترجیح دینے لگے تو پھر اللہ تعالیٰ ٰ بھی اس بندے سے بے پروا ہو جاتا ہے اور اس کے امور کو لوگوں کے حوالے کر دیتا ہے۔ یہی نہیں کہ اس کے ان امور میں اس کی مدد نہیں کرتا اور دوسروں کے شر وفتنہ سے اس کو محفوظ نہیں رکھتا بلکہ لوگوں کو اس پر مسلط کر دیتا ہے جو اس کو ایذا پہنچاتے ہیں اور اس پر ظلم و ستم کرتے ہیں۔ حاصل یہ ہے کہ بندوں کے حق میں اصل چیز رضائے الہی ہے اگر رب راضی ہے تو جنگ راضی ہے اور اگر رضائے الہی پر نظر نہ ہو لوگوں کی طرف دیکھے، تو پھر نہ رب راضی اور نہ جگ راضی۔
مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ ٰ کی خفگی و ناراضی سے بے پروا ہو کر لوگوں ہی کی رضا اور خوشنودی کو ترجیح دینے لگے تو پھر اللہ تعالیٰ ٰ بھی اس بندے سے بے پروا ہو جاتا ہے اور اس کے امور کو لوگوں کے حوالے کر دیتا ہے۔ یہی نہیں کہ اس کے ان امور میں اس کی مدد نہیں کرتا اور دوسروں کے شر وفتنہ سے اس کو محفوظ نہیں رکھتا بلکہ لوگوں کو اس پر مسلط کر دیتا ہے جو اس کو ایذا پہنچاتے ہیں اور اس پر ظلم و ستم کرتے ہیں۔ حاصل یہ ہے کہ بندوں کے حق میں اصل چیز رضائے الہی ہے اگر رب راضی ہے تو جنگ راضی ہے اور اگر رضائے الہی پر نظر نہ ہو لوگوں کی طرف دیکھے، تو پھر نہ رب راضی اور نہ جگ راضی۔
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
341. مَنْ مَاتَ عَلَى خَيْرِ عَمَلِهِ فَأَرْجُو لَهُ خَيْرًا، وَمَنْ مَاتَ عَلَى سَيِّئِ عَمَلِهِ فَخَافُوا عَلَيْهِ وَلَا تَيْأَسُوا
جو شخص اپنے نیک عمل پر مرا اس کے متعلق اچھی امید رکھو اور جو اپنے برے عمل پر مرا اس کے متعلق اندیشہ تو رکھو (لیکن) مایوس نہ ہو
حدیث نمبر: 502
502 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي سَعِيدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، بِمَكَّةَ حَرَسَهَا اللَّهُ تَعَالَى، أبنا زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذٍ، أبنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِي هَانِي الْخَوْلَانِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ وَخَالِدَ بْنَ أَبِي عِمْرَانَ، يَقُولَانِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ مَاتَ عَلَى خَيْرِ عَمَلِهِ فَأَرْجُو لَهُ خَيْرًا، وَمَنْ مَاتَ عَلَى سَيِّئِ عَمَلِهِ فَخَافُوا عَلَيْهِ وَلَا تَيْأَسُوا»
ابوعبدالرحمن حبلی اور خالد بن ابی عمران رحمہما اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے نیک عمل پر مرا اس کے متعلق اچھی امید رکھو اور جو اپنے برے عمل پر مرا اس کے متعلق اندیشہ تو رکھو (لیکن) مایوس نہ ہو۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 502]
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه الزهد لابن المبارك: 895» اسے ابوعبد الرحمن تابعی اور خالد بن ابی عمران تبع تابعی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
الحكم على الحديث:
مرسل
342. مَنْ أَذْنَبَ فِي الدُّنْيَا ذَنْبًا فَعُوقِبَ بِهِ فَاللَّهُ أَعْدَلُ مِنْ أَنْ يُثْنِيَ عُقُوبَتَهُ عَلَى عَبْدِهِ، وَمَنْ أَذْنَبَ ذَنْبًا فَسَتَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَفَا عَنْهُ فِي الدُّنْيَا فَاللَّهُ أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يَعُودَ فِي شَيْءٍ قَدْ عَفَا عَنْهُ
جس شخص سے دنیا میں کوئی گناہ سرزد ہوا پھر اسے اس کی سزا مل گئی تو اللہ کے انصاف سے بعید ہے کہ اپنے بندے کو دوبارہ اس گناہ کی سزا دے اور جس سے کوئی گناہ سرزد ہوا پھر دنیا میں اللہ نے اس پر پردہ رکھا اور اس سے درگزر فرمایا تو اللہ کی بزرگی سے بعید ہے کہ جس گناہ سے وہ درگزر فرما چکا ہو اب دوبارہ اس کی سزا دے
حدیث نمبر: 503
503 - أَخْبَرَنَا تُرَابُ بْنُ عُمَرَ الْكَاتِبُ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْحَذَّاءُ، قَالَا: ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ الْمُفَسِّرِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سَعِيدٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ وَمُحَمَّدٌ الْمُخَرِّمِيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَذْنَبَ فِي الدُّنْيَا فَعُوقِبَ بِهِ فَاللَّهُ أَعْدَلُ مِنْ أَنْ يُثْنِيَ عُقُوبَتَهُ عَلَى عَبْدِهِ، وَمَنْ أَذْنَبَ ذَنْبًا فَسَتَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَفَا عَنْهُ فِي الدُّنْيَا فَاللَّهُ أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يَعُودَ فِي شَيْءٍ قَدْ عَفَا عَنْهُ»
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص سے دنیا میں کوئی گناہ سرزد ہوا پھر اسے اس کی سزا مل گئی تو اللہ کے انصاف سے بعید ہے کہ اپنے بندے کو دوبارہ اس گناہ کی سزا دے اور جس سے کوئی گناہ سرزد ہوا پھر دنیا میں اللہ نے اس پر پردہ رکھا اور اس سے درگزر فرمایا تو اللہ کی بزرگی سے بعید ہے کہ جس گناہ سے وہ درگزر فرما چکا ہو اب دوبارہ اس کی سزا دے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 503]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الترمذي فى «جامعه» برقم: 2626، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2604، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 17671، والدارقطني فى «سننه» برقم: 3509، وأحمد فى «مسنده» برقم: 659» ابواسحاق مدلس کا عنعنہ ہے۔
وضاحت: فائدہ: -
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ جو کہ معرکہ بدر میں بھی شریک ہوئے تھے اور لیلہ عقبہ کے نقیبوں میں سے تھے، سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت جب آپ کے گرد صحابہ کی ایک جماعت بیٹھی تھی، فرمایا: ”مجھ سے اس بات پر بیعت کرو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو گے، چوری نہ کرو گے، زنا نہ کرو گے، اپنی اولاد کو قتل نہ کرو گے اور عمداً کسی پر ناحق بہتان نہ باندھو گے اور کسی بات میں (میری) نافرمانی نہ کرو گے، جو کوئی تم میں سے اس عہد کو پورا کرے تو اس وہ ثواب اللہ کے ذمہ ہے اور جو کوئی ان میں سے کسی (بری بات) کا ارتکاب کرے اور اسے دنیا میں سزامل جائے تو یہ سزا اس کے (گناہ کے) لیے کفارہ ہو جائے گی اور جو کوئی ان میں سے کسی (بری بات) میں مبتلا ہو گیا اور اللہ نے اس کے گناہ کو چھپا لیا تو پھر اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے، اللہ اگر چاہے تو معاف کر دے اور اگر چاہے تو سزا دے“۔ [صحيح بخاري: 18]
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ جو کہ معرکہ بدر میں بھی شریک ہوئے تھے اور لیلہ عقبہ کے نقیبوں میں سے تھے، سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت جب آپ کے گرد صحابہ کی ایک جماعت بیٹھی تھی، فرمایا: ”مجھ سے اس بات پر بیعت کرو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو گے، چوری نہ کرو گے، زنا نہ کرو گے، اپنی اولاد کو قتل نہ کرو گے اور عمداً کسی پر ناحق بہتان نہ باندھو گے اور کسی بات میں (میری) نافرمانی نہ کرو گے، جو کوئی تم میں سے اس عہد کو پورا کرے تو اس وہ ثواب اللہ کے ذمہ ہے اور جو کوئی ان میں سے کسی (بری بات) کا ارتکاب کرے اور اسے دنیا میں سزامل جائے تو یہ سزا اس کے (گناہ کے) لیے کفارہ ہو جائے گی اور جو کوئی ان میں سے کسی (بری بات) میں مبتلا ہو گیا اور اللہ نے اس کے گناہ کو چھپا لیا تو پھر اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے، اللہ اگر چاہے تو معاف کر دے اور اگر چاہے تو سزا دے“۔ [صحيح بخاري: 18]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
343. مَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَرَعٌ يَصُدُّهُ عَنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ إِذَا خَلَا لَمْ يَعْبَأِ اللَّهُ بِشَيْءٍ مِنْ عَمَلِهِ
جس شخص کے پاس وہ تقویٰ نہ ہو جو اسے تنہائی میں اللہ کی نافرمانی سے روک سکے تو اللہ کو اس کے (باقی) عمل میں سے کسی چیز کی پروا نہیں
حدیث نمبر: 504
504 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَطَّارُ ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْخُتُلِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ هَاشِمٍ السِّمْسَارُ أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَتْنَا سَعِيدَةُ بِنْتُ حُكَّامَةَ، عَنْ أُمِّهَا، عَنْ أَبِيهَا، عَنْ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَرَعٌ يَصُدُّهُ عَنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ إِذَا خَلَا لَمْ يَعْبَأِ اللَّهُ بِشَيْءٍ مِنْ عَمَلِهِ»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے پاس وہ تقویٰ نہ ہو جو اسے تنہائی میں اللہ کی نافرمانی سے روک سکے تو اللہ کو اس کے (باقی) عمل میں سے کسی چیز کی پروا نہیں۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 504]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه تاريخ دمشق: 5/ 395» دیکھئے حدیث نمبر41
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
344. مَنْ أَحْسَنَ صَلَاتَهُ حِينَ يَرَاهُ النَّاسُ، ثُمَّ أَسَاءَهَا حِينَ يَخْلُو فَتِلْكَ اسْتِهَانَةٌ اسْتَهَانَ بِهَا رَبَّهُ
جس شخص نے اپنی نماز کو خوب اچھے طریقے سے ادا کیاجب لوگ اسے دیکھ رہے تھے پھر اسے برے طریقے سے ادا کیا جب وہ اکیلا تھا تو یہ مسخرہ پن ہے اس کے ساتھ اس نے اپنے رب سے مسخری کی ہے
حدیث نمبر: 505
505 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ إِسْحَاقَ النَّاقِدُ ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَاطِبِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيُّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَحْسَنَ صَلَاتَهُ حِينَ يَرَاهُ النَّاسُ، ثُمَّ أَسَاءَهَا حِينَ يَخْلُو فَتِلْكَ اسْتِهَانَةٌ اسْتَهَانَ بِهَا رَبَّهُ»
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے اپنی نماز کو خوب اچھے طریقے سے ادا کیا جب لوگ اسے دیکھ رہے تھے پھر اسے برے طریقے سے ادا کیا جب وہ اکیلا تھا تو یہ مسخرہ پن ہے اس کے ساتھ اس نے اپنے رب سے مسخری کی ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 505]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه عبدالرزاق: 3738، وابويعلي: 5117، وشعب الايمان: 2851» ابراہیم الہجری ضعیف ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 506
506 - أنا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَدْفُوِيُّ، أنا أَبُو الطَّيِّبِ أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْحَرِيرِيُّ إِجَازَةً نا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَرِيرٍ الطَّبَرِيُّ نا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، نا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَحْسَنَ صَلَاتَهُ حِينَ يَرَاهُ النَّاسُ، وَأَسَاءَهَا حِينَ يَخْلُو فَتِلْكَ اسْتِهَانَةٌ اسْتَهَانَ بِهَا رَبَّهُ»
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے اپنی نماز کو خوب اچھے طریقے سے ادا کیا جب لوگ اسے دیکھ رہے تھے اور اسے برے طریقے سے ادا کیا جب وہ اکیلا تھا تو یہ مسخرہ پن ہے اس کے ساتھ اس نے اپنے رب سے مسخری کی ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 506]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه عبدالرزاق: 3738، وابويعلي: 5117، وشعب الايمان: 2851» ابراہیم الہجری ضعیف ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 507
507 - أنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ النَّيْسَابُورِيُّ، أنا الْقَاضِي أَبُو الطَّاهِرِ، مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ، نا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، نا أَبِي، عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَحْسَنَ الصَّلَاةَ حِينَ يَرَاهُ النَّاسُ، وَأَسَاءَ حَيْثُ يَخْلُو فَهِيَ اسْتِهَانَةٌ يَسْتَهِينُ بِهَا رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ»
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے نماز کو خوب اچھے طریقے سے ادا کیا جب لوگ اسے دیکھ رہے تھے اور برے طریقے سے ادا کیا جب وہ اکیلا تھا تو یہ مسخرہ پن ہے اس کے ساتھ اس نے اپنے رب عز و جل سے مسخری کی ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 507]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه عبدالرزاق: 3738، وابويعلي: 5117، وشعب الايمان: 2851» ابراہیم الہجری ضعیف ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
345. مَنْ لَمْ تَنْهَهُ صَلَاتُهُ عَنِ الْفَحْشَاءِ، وَالْمُنْكَرِ لَمْ تَزِدْهُ مِنَ اللَّهِ إِلَّا بُعْدًا
جس شخص کو اس کی نماز نے بے حیائی اور گناہ سے نہ روکا (تو سمجھ لو) ااسے اس (نماز) نے اللہ سے مزید دور ہی کیا ہے
حدیث نمبر: 508
508 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَنْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْمِسْوَرِ ثنا مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَمْ تَنْهَهُ صَلَاتُهُ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ لَمْ تَزِدْهُ مِنَ اللَّهِ إِلَّا بُعْدًا»
حسن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو اس کی نماز نے بے حیائی اور گناہ سے نہ روکا (تو سمجھ لو) اسے اس (نماز) نے اللہ سے مزید دور ہی کیا ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 508]
تخریج الحدیث: «إسناده مرسل، وأخرجه جامع البيان للطبري: 379» اسے حسن بصری تابعی نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده مرسل
حدیث نمبر: 509
509 - وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ، مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْجَوَالِيقِيُّ قَالَ: أبنا أَبُو الْقَاسِمِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي حُصَيْنٍ الْهَمْدَانِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ ثنا يَحْيَى بْنُ طَلْحَةَ أَبُو زَكَرِيَّا الْيَرْبُوعِيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَمْ تَنْهَهُ صَلَاتُهُ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ لَمْ يَزْدَدْ بِهَا مِنَ اللَّهِ إِلَّا بُعْدًا»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو اس کی نماز نے بے حیائی اور گناہ سے نہ روکا (تو سمجھ لو) اس کے ذریعے وہ اللہ سے مزید دور ہی ہوا ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 509]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه المعجم الكبير: 11025» لیث بن ابی سلیم ضعیف مدلس اور ابومعاویہ الضریر مدلس کا عنعنہ ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
346. مَنْ كَانَتْ لَهُ سَرِيرَةٌ صَالِحَةٌ أَوْ سَيِّئَةٌ نَشَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ مِنْهَا رِدَاءً يُعْرَفُ بِهِ
جس شخص کا کوئی اچھا یا برا عمل پوشیدہ ہو تو اللہ اس پر اس کی کوئی نشانی ظاہر فرما دیتا ہے جس سے وہ پہچان لیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 510
510 - أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُنْدَارٍ الْقَزْوِينِيُّ، بِمَكَّةَ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ ثنا صَالِحُ بْنُ مَالِكٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا أَبُو عُمَرَ الْبَزَّازُ، ثنا عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ السُّلَمِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَتْ لَهُ سَرِيرَةٌ صَالِحَةٌ أَوْ سَيِّئَةٌ نَشَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ مِنْهَا رِدَاءً يُعْرَفُ بِهِ» وَلَمْ يَذْكُرْ بَيْنَ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ وَبَيْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ
ابوعبدالرحمن سلمی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کا کوئی اچھا یا برا عمل پوشیدہ ہو تو اللہ اس پر اس کی کوئی نشانی ظاہر فرما دیتا ہے جس سے وہ پہچان لیا جاتا ہے۔“ اور (اس سند میں) علقمہ بن مرشد اور ابوعبدالرحمن کے درمیان سعد بن عبیدہ کا ذکر نہیں۔ [مسند الشهاب/حدیث: 510]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدا، وأخرجه شعب الايمان: 6543» ابوعمر البز از حفص بن سلیمان متروک ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جدا