مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
348. مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى خَيْرًا مِنْهَا فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ، ثُمَّ لِيَفْعَلَ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ
جو شخص کسی (کام کو کرنے یا نہ کرنے) پر قسم کھائے پھر اس سے کوئی بہتر صورت دیکھے تو اسے چاہیے کہ اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے پھر اس بہتر صورت کو اختیار کر لے
حدیث نمبر: 521
521 - وَبِهِ، أنا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، نا عَفَّانُ، نا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ فَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكِ ثُمَّ ائْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ»
سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو کسی کام پر قسم کھائے تو اپنی قسم کا کفارہ دے اور اس کام کو اختیار کر جو بہتر ہو۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 521]
تخریج الحدیث: «صحيح، و أخرجه البخاري: 6622، ومسلم: 1652، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2929، والنسائي: 3813، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1529، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2391، وأحمد فى «مسنده» برقم: 20947»
وضاحت: تشریح: -
قسم کی تین قسمیں ہیں:
① لغو: -جو بغیر ارادے کے کھائی جائے جیسا کہ بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ بات بات پر بلا ارادہ قسم کھاتے جاتے ہیں، اسے ”لغو قسم“ کہا: جاتا ہے، یہ کوئی اچھا فعل نہیں تا ہم اللہ تعالیٰ کی یہ اپنے بندوں پر مہربانی اور شفقت ہے کہ وہ اس قسم پر مواخذہ نہیں کرے گا۔
② غموس: -جو کسی کو دھوکا دینے کی غرض سے کھائی جائے یہ کبیرہ گناہ ہے، اس کا کوئی کفارہ نہیں، معافی کی صورت یہی ہے کہ انسان سچے دل سے تو بہ واستغفار کرے، آئندہ بچنے کی کوشش کرے اور اس قسم کے ذریعے جس کسی کی حق تلفی ہوئی ہو، اس کا ازالہ کرے۔ ③ معقد ہ: -کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کے سلسلے میں اپنے ارادے کو ظاہر کرتے ہوئے بات میں تاکید اور پختگی کے لیے ارادہ و نیت کے ساتھ قسم کھانا، قسم کی اس قسم کی ذرا تفصیل ہے، وہ یہ ہے کہ:
اگر قسم اللہ کی فرمانبرداری میں کھائی گئی ہے، مثلاً: کسی ایسے کام کے کرنے کی قسم کھالی جس کی شریعت نے اجازت دی ہو یا کسی ایسے کام سے بچنے کی قسم کھالی جس سے شریعت نے بچنے کا حکم دیا ہو تو یہ قسم اللہ تعالیٰ ٰ کی فرمانبرداری میں کھائی گئی ہے لہٰذا اسے پورا کیا جائے گا اگر بتقصائے بشریت یہ قسم ٹوٹ جائے تو اللہ تعالیٰ ٰ سے معافی مانگنے کے ساتھ ساتھ اس کا کفارہ بھی ادا کیا جائے۔
اور اگر قسم اللہ تعالیٰ ٰ کی نافرمانی میں کھائی گئی ہے، مثلاً: کسی ایسے کام کے کرنے کی قسم کھائی جس کے کرنے کی شریعت میں اجازت نہ تھی یا کسی ایسے کام کے نہ کرنے کی قسم کھا لی کہ جس کے نہ کرنے کی شریعت میں گنجائش نہ تھی تو ایسی قسم کو توڑنا واجب ہے۔
قسم کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے یا انہیں کپڑے بنا کر دیئے جائیں یا ایک غلام آزاد کیا جائے اگر ان میں سے کسی کام کی طاقت نہ ہو تو تین دن کے روزے رکھے جائیں۔
قسم کی تین قسمیں ہیں:
① لغو: -جو بغیر ارادے کے کھائی جائے جیسا کہ بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ بات بات پر بلا ارادہ قسم کھاتے جاتے ہیں، اسے ”لغو قسم“ کہا: جاتا ہے، یہ کوئی اچھا فعل نہیں تا ہم اللہ تعالیٰ کی یہ اپنے بندوں پر مہربانی اور شفقت ہے کہ وہ اس قسم پر مواخذہ نہیں کرے گا۔
② غموس: -جو کسی کو دھوکا دینے کی غرض سے کھائی جائے یہ کبیرہ گناہ ہے، اس کا کوئی کفارہ نہیں، معافی کی صورت یہی ہے کہ انسان سچے دل سے تو بہ واستغفار کرے، آئندہ بچنے کی کوشش کرے اور اس قسم کے ذریعے جس کسی کی حق تلفی ہوئی ہو، اس کا ازالہ کرے۔ ③ معقد ہ: -کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کے سلسلے میں اپنے ارادے کو ظاہر کرتے ہوئے بات میں تاکید اور پختگی کے لیے ارادہ و نیت کے ساتھ قسم کھانا، قسم کی اس قسم کی ذرا تفصیل ہے، وہ یہ ہے کہ:
اگر قسم اللہ کی فرمانبرداری میں کھائی گئی ہے، مثلاً: کسی ایسے کام کے کرنے کی قسم کھالی جس کی شریعت نے اجازت دی ہو یا کسی ایسے کام سے بچنے کی قسم کھالی جس سے شریعت نے بچنے کا حکم دیا ہو تو یہ قسم اللہ تعالیٰ ٰ کی فرمانبرداری میں کھائی گئی ہے لہٰذا اسے پورا کیا جائے گا اگر بتقصائے بشریت یہ قسم ٹوٹ جائے تو اللہ تعالیٰ ٰ سے معافی مانگنے کے ساتھ ساتھ اس کا کفارہ بھی ادا کیا جائے۔
اور اگر قسم اللہ تعالیٰ ٰ کی نافرمانی میں کھائی گئی ہے، مثلاً: کسی ایسے کام کے کرنے کی قسم کھائی جس کے کرنے کی شریعت میں اجازت نہ تھی یا کسی ایسے کام کے نہ کرنے کی قسم کھا لی کہ جس کے نہ کرنے کی شریعت میں گنجائش نہ تھی تو ایسی قسم کو توڑنا واجب ہے۔
قسم کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے یا انہیں کپڑے بنا کر دیئے جائیں یا ایک غلام آزاد کیا جائے اگر ان میں سے کسی کام کی طاقت نہ ہو تو تین دن کے روزے رکھے جائیں۔
الحكم على الحديث:
صحيح
349. مَنِ ابْتُلِيَ مِنْ هَذِهِ الْبَنَاتِ بِشَيْءٍ فَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ
جو شخص ان بچیوں کے بارے میں کسی آزمائش میں ڈالا گیا پھر اس نے ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا تو یہ اس کے لیے آگ سے پردہ ہوں گی
حدیث نمبر: 522
522 - أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَاءٍ الْعَسْقَلَانِيُّ، أبنا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ الْقَيْسَرَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْخَرَائِطِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ , عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ ابْتُلِيَ مِنْ هَذِهِ الْبَنَاتِ بِشَيْءٍ فَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ»
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ان بچیوں کے بارے میں کسی آزمائش میں ڈالا گیا پھر اس نے ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا تو یہ اس کے لیے آگ سے پردہ ہوں گی۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 522]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1418، 5995، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2629، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1915، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3668، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15836، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 448، 2939، وأحمد فى «مسنده» برقم: 24689»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 523
523 - أنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُوسَى السِّمْسَارُ، أنا أَبُو يَزِيدَ، مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَرْوَزِيُّ أنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفَرَبْرِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، نا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَتِ امْرَأَةٌ مَعَهَا بِنْتَانِ لَهَا تَسْأَلُ فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِي شَيْئًا غَيْرَ تَمْرَةٍ فَأَعْطَيْتُهَا إِيَّاهَا فَقَسَمَتْهَا بَيْنَ ابْنَتَيْهَا وَلَمْ تَأْكُلْ مِنْهَا، ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ ابْتُلِيَ مِنْ هَذِهِ الْبَنَاتِ بِشَيْءٍ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ»
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ (میرے پاس) ایک عورت اس حال میں آئی کہ اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں، وہ سوال کر رہی تھی، اسے میرے ہاں سے سوائے ایک کھجور کے اور کچھ نہ ملا، میں نے کھجور اسے دی، اس نے اس کے دو حصے کر کے اپنی دونوں بیٹیوں میں تقسیم کر دیے اور خود اس میں سے کچھ نہ کھایا پھر اٹھی اور چلی گئی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ کو یہ بات بتلائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی ان بچیوں کے بارے میں آزمائش میں ڈالا گیا تو یہ اس کے لیے آگ سے پردہ ہوں گی۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 523]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1418، 5995، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2629، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1915، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3668، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15836، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 448، 2939، وأحمد فى «مسنده» برقم: 24689»
وضاحت: تشریح: -
بچیوں کے ساتھ حسن سلوک اور اس کا اجر و ثواب بیان فرمایا جا رہا ہے کہ جوشخص بچیوں کو اچھی تعلیم و تربیت دے اور پھر ان کا کفو دیکھ کر ان کی شادی کر دے تو یہ بچیاں اس کے لیے دخول جنت اور نجات جہنم کا ذریعہ بنیں گی۔ بچیوں میں بیٹیاں اور بہنیں دونوں شامل ہیں جو انسان دنیا میں ان کی وجہ سے کسی امتحان میں مبتلا ہوا اور پھر اس امتحان میں کامیاب رہا تو اسے اخروی کامیابی نصیب ہوگی۔
حدیث میں آتا ہے کہ جس شخص نے دو بچیوں کی پرورش کی حتی کہ وہ بالغ ہو گئیں تو وہ روز قیامت اس طرح آئے گا کہ میں اور وہ یوں ہوں گے۔ اور آپ نے اپنی انگلیاں ملائیں۔ [مسلم: 2631]
ایک دوسری حدیث ہے کہ جس نے دو بیٹیوں یا تین بیٹیوں، دو بہنوں یا تین بہنوں کی پرورش کی یہاں تک کہ ان کی شادی ہوگئی یا وہ انہیں چھوڑ کر مر گیا تو میں اور وہ جنت میں ان دو انگلیوں کی طرح ہوں گے۔ اور آپ نے درمیانی اور ساتھ والی انگلی کے ساتھ اشارہ کیا۔ [أحمد: 3/ 148 صحيح]
بچیوں کے ساتھ حسن سلوک اور اس کا اجر و ثواب بیان فرمایا جا رہا ہے کہ جوشخص بچیوں کو اچھی تعلیم و تربیت دے اور پھر ان کا کفو دیکھ کر ان کی شادی کر دے تو یہ بچیاں اس کے لیے دخول جنت اور نجات جہنم کا ذریعہ بنیں گی۔ بچیوں میں بیٹیاں اور بہنیں دونوں شامل ہیں جو انسان دنیا میں ان کی وجہ سے کسی امتحان میں مبتلا ہوا اور پھر اس امتحان میں کامیاب رہا تو اسے اخروی کامیابی نصیب ہوگی۔
حدیث میں آتا ہے کہ جس شخص نے دو بچیوں کی پرورش کی حتی کہ وہ بالغ ہو گئیں تو وہ روز قیامت اس طرح آئے گا کہ میں اور وہ یوں ہوں گے۔ اور آپ نے اپنی انگلیاں ملائیں۔ [مسلم: 2631]
ایک دوسری حدیث ہے کہ جس نے دو بیٹیوں یا تین بیٹیوں، دو بہنوں یا تین بہنوں کی پرورش کی یہاں تک کہ ان کی شادی ہوگئی یا وہ انہیں چھوڑ کر مر گیا تو میں اور وہ جنت میں ان دو انگلیوں کی طرح ہوں گے۔ اور آپ نے درمیانی اور ساتھ والی انگلی کے ساتھ اشارہ کیا۔ [أحمد: 3/ 148 صحيح]
الحكم على الحديث:
صحيح
350. مَنْ قَتَلَ عُصْفُورًا عَبَثًا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَهُ صُرَاخٌ عِنْدَ الْعَرْشِ تَقُولُ: يَا رَبِّ سَلْ هَذَا: فِيمَ قَتَلَنِي فِي غَيْرِ مَنْفَعَةٍ
جس نے فضول میں کسی پرندے کو مار دیا تو روزقیامت وہ (پرندہ) اس حال میں آئے گا کہ عرش کے پاس پکار پکار کر کہہ رہا ہو گا: اے میرے رب! اس سے پوچھئے کہ اس نے مجھے کیوں قتل کیا تھا۔
حدیث نمبر: 524
524 - أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَحْمَدَ الْمُعَلِّمُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الْأَذَنِيُّ، ثنا أَبُو عَرُوبَةَ الْحَرَّانِيُّ، ثنا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ، عَنْ أَبِي الْجَارُودِ، عَنِ الْحَسَنِ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَتَلَ عُصْفُورًا عَبَثًا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَهُ صُرَاخٌ عِنْدَ الْعَرْشِ تَقُولُ: يَا رَبِّ سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي فِي غَيْرِ مَنْفَعَةٍ؟"
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے فضول میں کسی پرندے کو مار دیا تو روز قیامت وہ (پرندہ) اس حال میں آئے گا کہ عرش کے پاس پکار پکار کر کہہ رہا ہوگا: اے میرے رب! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کیوں قتل کیا تھا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 524]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدا، وأخرجه الكامل لابن عدى: 4/ 133» ابوجارود کذاب ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جدا
351. مَنْ سَأَلَ النَّاسَ أَمْوَالَهُمْ تَكَثُّرًا فَإِنَّمَا هِيَ جَمْرٌ فَلْيَسْتَقِلَّ مِنْهُ أَوْ لِيَسْتَكْثِرْ
جس شخص نے لوگوں سے ان کے مال اس لیے مانگے کہ (اپنی) دولت میں اضافہ کرے تو درحقیقت وہ ایک انگارہ ہے اب (اس کی مرضی ہے) چاہے تو اس میں سے کم مانگلے یا زیادہ مانگ لے۔
حدیث نمبر: 525
525 - أَخْبَرَنَا أَبُو عُبَيْدٍ اللَّهِ شُعَيْبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْمِنْهَالِ أبنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الرَّازِيُّ، ثنا مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ الرُّعَيْنِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَأَلَ النَّاسَ أَمْوَالَهُمْ تَكَثُّرًا فَإِنَّمَا هِيَ جَمْرٌ فَلْيَسْتَقِلَّ مِنْهُ أَوْ لِيَسْتَكْثِرْ» رَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، وَوَاصِلِ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَا: نا ابْنُ فُضَيْلِ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے لوگوں سے ان کے مال اس لیے مانگے کہ (اپنی) دولت میں اضافہ کرے تو درحقیقت وہ ایک انگارہ ہے اب (اس کی مرضی ہے) چاہے تو اس میں سے کم مانگ لے یا زیادہ مانگ لے۔“ اسے مسلم نے ابوکریب اور واصل بن عبدالاعلیٰ رحمہما اللہ سے روایت کیا انہوں نے کہا کہ ہمیں ابن فضیل رحمہ اللہ نے اپنی سند کے ساتھ اسی کی مثل بیان کیا ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 525]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1041، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3393، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1838، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 7966، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7284، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6087، والبزار فى «مسنده» برقم: 9778، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 10776»
وضاحت: تشریح: -
اس حدیث میں لوگوں سے بلاوجہ مانگنے کی مذمت فرمائی گئی ہے کہ جو شخص بلا ضرورت محض اپنا مال بڑھانے کی غرض سے لوگوں سے مانگتا ہے وہ حقیقت میں جہنم کی آگ کے انگارے مانگتا ہے اب آگے اس کی مرضی ہے کہ انگارے زیادہ مانگ لے یا کم۔ لوگوں سے بلاوجہ مانگنا کبیرہ گناہ ہے اور اس پر بڑی سخت وعیدیں ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی لوگوں سے مانگتا رہتا ہے حتی کہ جب روز قیامت وہ پیش ہوگا تو اس کے چہرے پر کوئی گوشت نہیں ہوگا۔“ [بخاري: 174 مسلم: 1040]
ایک اور حدیث ہے کہ ”مانگنا خراش ہے، آدمی اس کی وجہ سے اپنے چہرے پر خراشیں ڈالتا ہے جو چاہے انہیں اپنے چہرے پر باقی رکھے اور جو چاہے انہیں ترک کر دے البتہ بادشاہ سے مانگنا یا کسی ایسی چیز کے بارے میں مانگنا جس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ جائز ہے۔“ [أبو داود: 1639 ترمذي 681، صحيح]
اس حدیث میں لوگوں سے بلاوجہ مانگنے کی مذمت فرمائی گئی ہے کہ جو شخص بلا ضرورت محض اپنا مال بڑھانے کی غرض سے لوگوں سے مانگتا ہے وہ حقیقت میں جہنم کی آگ کے انگارے مانگتا ہے اب آگے اس کی مرضی ہے کہ انگارے زیادہ مانگ لے یا کم۔ لوگوں سے بلاوجہ مانگنا کبیرہ گناہ ہے اور اس پر بڑی سخت وعیدیں ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی لوگوں سے مانگتا رہتا ہے حتی کہ جب روز قیامت وہ پیش ہوگا تو اس کے چہرے پر کوئی گوشت نہیں ہوگا۔“ [بخاري: 174 مسلم: 1040]
ایک اور حدیث ہے کہ ”مانگنا خراش ہے، آدمی اس کی وجہ سے اپنے چہرے پر خراشیں ڈالتا ہے جو چاہے انہیں اپنے چہرے پر باقی رکھے اور جو چاہے انہیں ترک کر دے البتہ بادشاہ سے مانگنا یا کسی ایسی چیز کے بارے میں مانگنا جس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ جائز ہے۔“ [أبو داود: 1639 ترمذي 681، صحيح]
الحكم على الحديث:
صحيح
352. مَنْ سَأَلَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى فَصُدَاعٌ فِي الرَّأْسِ وَدَاءٌ فِي الْبَطْنِ
جس شخص نے مال دار ہونے کے باوجود مانگا تو یہ (اس کے) سر میں درد اور پیٹ میں بیماری کا باعث ہوگا
حدیث نمبر: 526
526 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا هَاشِمُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي دَاوُدَ الْقَاضِي، بِقَيْسَارِيَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمَ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنِ الصَّدَقَةِ فَقَالَ: «مَنْ سَأَلَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى فَصُدَاعٌ فِي الرَّأْسِ وَدَاءٌ فِي الْبَطْنِ»
سیدنا زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اس نے آپ سے صدقہ کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے مولدار ہونے کے باوجود مانگا تو یہ (اس کے) سر میں درد اور پیٹ میں بیماری کا باعث ہوگا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 526]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن الاعرابي: 2406، والمعجم الكبير: 5285» عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ضعیف ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
353. مَنْ مَشَى إِلَى طَعَامٍ لَمْ يَدَعَ إِلَيْهِ فَقَدْ دَخَلَ سَارِقًا وَخَرَجَ مُغِيرًا
جو شخص کسی دعوت طعام کی طرف چلا حالانکہ اسے اس کی طرف بلایا نہیں گیا تھا تو بے شک وہ چور بن کر داخل ہوا اور لٹیرا بن کر باہر آیا
حدیث نمبر: 527
527 - أَخْبَرَنَا أَبُو ذَرٍّ عَبْدُ بْنُ أَحْمَدَ الْهَرَوِيُّ الْحَافِظُ، إِجَازَةً، ثنا أَبُو سَعِيدٍ الْخَلِيلُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَاضِي، ثنا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ الشِّيرَازِيُّ، عَنِ ابْنِ خَلَّادٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ أَحْمَدَ الْبَصْرِيِّ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيِّ، ثنا دُرُسْتُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ طَارِقٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ مَشَى إِلَى طَعَامٍ لَمْ يُدْعَ إِلَيْهِ فَقَدْ دَخَلَ سَارِقًا وَخَرَجَ مُغِيرًا»
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی دعوت طعام کی طرف چلا حالانکہ اسے اس کی طرف بلایا نہیں گیا تھا تو بے شک وہ چور بن کر داخل ہوا اور لٹیرا بن کر باہر آیا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 527]
تخریج الحدیث: إسناده ضعیف، ابان بن طارق مجہول اور درست بن زیادہ ضعیف ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 528
528 - أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْمُقْرِئُ الْمَعْرُوفُ بِابْنِ الْحَمَامِيِّ إِجَازَةً كَتَبَ إِلَيَّ بِهَا مِنْ بَغْدَادَ، أبنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدُ، ثنا دُرُسْتُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ طَارِقٍ قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ دُعِيَ فَلَمْ يُجِبْ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَمَنْ دَخَلَ عَلَى غَيْرِ دَعْوَةٍ دَخَلَ سَارِقًا وَخَرَجَ مُغِيرًا»
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو دعوت دی گئی لیکن اس نے اسے قبول نہ کیا تو بے شک اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی اور جو شخص بن بلائے کسی دعوت میں گیا تو وہ چور بن کر داخل ہوا اور لٹیرا بن کر باہر آیا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 528]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه أبو داود: 3741» ابان بن طارق مجہول اور درست بھی زیاد ضعيف ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 529
529 - أَخْبَرَنَا هِبَةُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الشِّيرَازِيُّ، قَدِمَ عَلَيْنَا بِمِصْرَ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْحَسَنِ الْبَكَّارِيُّ، ثنا الْقَاضِي أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَلَّادٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَهْدِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَهْوَازِيُّ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، ثنا دُرُسْتُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ طَارِقٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ دَخَلَ دَارَ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ دَخَلَ سَارِقًا وَخَرَجَ مُغِيرًا»
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی کے گھر میں ان کی اجازت کے بغیر داخل ہوا تو وہ (ان کے گھر میں) چور بن کر داخل ہوا اور لٹیرا بن کر باہر آیا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 529]
تخریج الحدیث: إسناده ضعیف، ابان بن طارق مجہول اور درست بن زیادہ ضعیف ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعیف
354. مَنْ كَانَ وَصْلَةً لِأَخِيهِ الْمُسْلِمِ إِلَى ذِي سُلْطَانٍ فِي مَنْهَجِ بِرٍّ أَوْ تَيْسِيرِ عَسِيرٍ أَعَانَهُ اللَّهُ عَلَى إِجَازَةِ الصِّرَاطِ يَوْمَ تُدْحَضُ فِيهِ الْأَقْدَامُ
جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے لیے کسی نیکی کے کام میں یاکسی مشکل کے حل میں بادشاہ کے ہاں واسطہ بنا تو اللہ پل صراط پر سے گزرنے میں اس کی مدد فرمائے گا جس دن قدم پھسل رہے ہوں گے
حدیث نمبر: 530
530 - أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ بْنُ الْغَازِيُّ، ثنا أَبُو سَعْدٍ، مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ النَّقَّاشُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَيْضِ الْغَسَّانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِشَامِ بْنِ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى الْغَسَّانِيُّ، ثنا أَبِي هِشَامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ اللَّخْمِيِّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ وَصْلَةً لِأَخِيهِ الْمُسْلِمِ إِلَى ذِي سُلْطَانٍ فِي مَنْهَجِ بِرٍّ أَوْ تَيْسِيرِ عَسِيرٍ أَعَانَهُ اللَّهُ عَلَى إِجَازَةِ الصِّرَاطِ يَوْمَ تُدْحَضُ فِيهِ الْأَقْدَامُ»
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے لیے کسی نیکی کے کام میں یا کسی مشکل کے حل میں بادشاہ کے ہاں واسطہ بنا تو اللہ پل صراط پر سے گزرنے میں اس کی مدد فرمائے گا جس دن قدم پھسل رہے ہوں گے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 530]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن حبان: 530، والمعجم الاوسط: 3577» ابراہیم بن ہشام بن یحییٰ ضعیف ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف