🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشهاب میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1499)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
382. يُطْبَعُ الْمُؤْمِنُ عَلَى كُلِّ خُلُقٍ لَيْسَ الْخِيَانَةَ وَالْكَذِبَ
مومن کی پیدائش سب خصلتوں پر ہو سکتی ہے لیکن خیانت اور جھوٹ پر نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 591
591 - أنا أَبُو الْقَاسِمِ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُعَدِّلُ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى الْحَسَنِ بْنِ رَشِيقٍ وَأَنَا أَسْمَعُ، نا أَحْمَدُ هُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَامَةَ، نا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، نا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَعْمَشِ، يَذْكُرُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَى كُلِّ خَلَّةٍ يُطْبَعُ الْمُؤْمِنُ إِلَّا الْخِيَانَةَ وَالْكَذِبَ»
مصعب بن سعد رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مؤمن کی فطرت ہر خصلت پر ہو سکتی ہے سوائے خیانت اور جھوٹ کے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 591]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه شعب الايمان: 4469» اعمش اور ابواسحاق مدلس راویوں کا عنعنہ ہے۔

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
383. تَبْنُونَ مَا لَا تَسْكُنُونَ وَتَجْمَعُونَ مَالًا تَأْكُلُونَ
تم ایسی عمارتیں بناتے ہو جن میں رہائش نہیں کرسکتے اور مال جمع کرتے ہو جس کو کھا نہیں سکتے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 592
592 - كَتَبَ إِلَيَّ سَهْلُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ السَّجَاعِيُّ بِخَطِّهِ وَأَرَانِي قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الصُّوفِيُّ، ثنا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْدَانَ قَالَ: ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، ثنا بَقِيَّةُ، عَنْ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَهُ مُخْتَصَرًا
حکم بن عمیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ایسی عمارتیں بناتے ہو جن میں رہائش نہیں کر سکتے اور مال جمع کرتے ہو جس کو کھا نہیں سکتے۔“ اور انہوں نے اس حدیث کو اختصار کے ساتھ بیان کیا۔ [مسند الشهاب/حدیث: 592]
تخریج الحدیث: إسناده ضعيف جدا، موسیٰ بن ابی حبیب اور عیسیٰ بن ابراہیم ضعیف ہیں۔ اس میں اور بھی علتیں ہیں۔ دیکھئے: «السلسلة الضعيفة: 1179»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جدا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
384. كَمْ مِنْ مُسْتَقْبِلٍ يَوْمًا لَا يَسْتَكْمِلُهُ وَمُنْتَظِرٍ غَدًا لَا يَبْلُغُهُ
کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو آج کے دن کا استقبال تو کر رہے ہیں لیکن اسے پورا نہیں گزار سکیں گے اور کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو کل کے منتظر ہیں لیکن اسے پا نہیں سکیں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 593
593 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ شَيْكَانَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ التُّسْتَرِيُّ، أبنا أَبُو الْفَضْلِ بَحْرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زِيَادٍ الْقَرْقُوبِيُّ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْمُبَارَكِ الطُّوسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أُمَيَّةَ، ثنا أَبِي، ثنا نَوْفَلُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْهُنَائِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: وَعَظَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا مَنِ الْمَوْتُ غَايَتُهُ، وَيَا مَنِ الْقَبْرُ مَنْزِلُهُ، وَيَا مَنِ الْكَفَنُ سَتْرُهُ، وَيَا مَنِ التُّرَابُ وِسَادُهُ، يَا مَنِ الدُّودُ جِيرَانُهُ، يَا مَنِ الْمُنْكَرُ وَالنَّكِيرُ زُوَّارُهُ، يَا أَيُّهَا الْمُوَّدِّعُ غَدًا عُرْسَهُ، كَمْ مِنْ مُسْتَقْبِلٍ يَوْمًا لَا يَسْتَكْمِلُهُ، وَمُنْتَظِرٍ غَدًا لَا يَبْلُغُهُ، لَوْ نَظَرْتُمْ إِلَى الْأَجَلِ وَمَسِيرِهِ لَأَبْغَضْتُمُ الْأَمَلَ وَغُرُورَهُ»
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں وعظ کرتے ہوئے فرمایا: ”اے وہ انسان کہ جس کی انتہا موت ہے، اے وہ انسان کہ جس کی منزل قبر ہے، اے وہ انسان کہ جس کا لباس کفن ہے، اے وہ انسان کہ جس کا تکیہ مٹی ہے، اے وہ انسان کہ جس کے ہمسائے کیڑے مکوڑے ہیں، اے وہ انسان کہ جس کے ملاقاتی منکر و نذیر ہیں، اے وہ انسان کہ جو کل اپنی بیوی کو چھوڑنے والا ہے، کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو آج کے دن کا استقبال تو کر رہے ہیں لیکن اسے پورا نہیں گزار سکیں گے اور کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو کل کے منتظر ہیں لیکن اسے پا نہیں سکیں گے۔ اگر تم موت اور اس کی رفتار دیکھ لو تو ضرور امیدوں اور ان کے دھوکوں کو ناپسند کرنے لگو۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 593]
تخریج الحدیث: منکر، نوفل بن سلیمان اور ابوسعید حسن بن أحمد بن مبارک ضعیف ہیں۔

الحكم على الحديث:
منکر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
385. عَجِبْتُ لِغَافِلٍ وَلَا يُغْفَلُ عَنْهُ، وَعَجِبْتُ لِمَؤَمِّلٍ دُنْيَا وَالْمَوْتُ يَطْلُبُهُ، وَعَجِبْتُ لِضَاحِكٍ مِلْءَ فِيهِ وَلَا يَدْرِي أَأَرْضَى اللَّهَ أَمْ أَسْخَطَهُ؟
مجھے غافل پر تعجب ہے حالانکہ اس سے غفلت نہیں برتی جاری، مجھے دنیا کی آرزو کرنے والے پر تعجب ہے حالانکہ موت اس کی تلاش میں ہے، اور مجھے منہ پھاڑ کر ہنسنے والے پر تعجب ہے حالانکہ وہ نہیں جانتا کہ اس نے اللہ کو راضی کیا ہے یا ناراض
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 594
594 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ يَحْيَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عُمَرَ النَّاقِدُ قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ الْخَيَّاشُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يُونُسَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، ثنا أَبِي، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَجِبْتُ لِغَافِلٍ وَلَا يُغْفَلُ عَنْهُ، وَعَجِبْتُ لِمَؤَمِّلٍ دُنْيَا وَالْمَوْتُ يَطْلُبُهُ، وَعَجِبْتُ لِضَاحِكٍ مِلْءَ فِيهِ وَلَا يَدْرِي أَأَرْضَى اللَّهَ أَمْ أَسْخَطَهُ؟»
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے غافل پر تعجب ہے حالانکہ اس سے غفلت نہیں برتی جاتی، مجھے دنیا کی آرزو کرنے والے پر تعجب ہے حالانکہ موت اس کی تلاش میں ہے، اور مجھے منہ پھاڑ کر ہنسنے والے پر تعجب ہے حالانکہ وہ نہیں جانتا کہ اس نے اللہ کو راضی کیا ہے یا ناراض۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 594]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدا، وأخرجه الكامل لابن عدى: 3/ 76، شعب الايمان: 10103» حمید اعرج سخت ضعیف ہے۔

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جدا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
386. يَا عَجَبًا كُلَّ الْعَجَبِ لِلْمُصَدِّقِ بِدَارِ الْخُلُودُ وَهُوَ يَسْعَى لِدَارِ الْغُرُورِ
اس شخص پربہت ہی تعجب ہے جو دائمی زندگی کے گھر کی تصدیق کرتا ہے لیکن دھو کے کے گھر کے لیے کوشاں رہتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 595
595 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الصَّفَّارُ، أبنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ فِرَاسٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ وَالنَّضْرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُوسَى الصَّغِيرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ , عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مِسْوَرٍ الْهَاشِمِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَجَبًا كُلَّ الْعَجَبِ لِلشَّاكِّ فِي قُدْرَةِ اللَّهِ وَهُوَ يَرَى خَلْقَهُ، يَا عَجَبًا كُلَّ الْعَجَبِ لِلْمُكَذِّبِ بِالنَّشْأَةِ الْأُخْرَى وَهُوَ يَرَى الْأُولَى، وَيَا عَجَبًا كُلَّ الْعَجَبِ لِلْمُكَذِّبِ بِنُشُورِ الْمَوْتِ وَهُوَ يَمُوتُ كُلَّ يَوْمٍ وَكُلَّ لَيْلَةٍ وَيَحْيَى، وَيَا عَجَبًا كُلَّ الْعَجَبِ لِلْمُصَدِّقِ بِدَارِ الْخُلُودِ وَهُوَ يَسْعَى لِدَارِ الْغُرُورِ، وَيَا عَجَبًا كُلَّ الْعَجَبِ لِلْمُخْتَالِ الْفَخُورِ وَإِنَّمَا خُلِقَ مِنْ نُطْفَةٍ، ثُمَّ يَعُودُ جِيفَةً وَهُوَ بَيْنَ ذَلِكَ لَا يَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِهِ»
ابوجعفر عبداللہ بن مسور ہاشمی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص پر بہت ہی تعجب ہے جو اللہ کی قدرت میں شک کرتا ہے حالانکہ وہ اپنی تخلیق کو دیکھتا ہے، اس شخص پر بہت ہی تعجب ہے جو دوبارہ زندہ ہونے کو جھٹلاتا ہے حالانکہ پہلی مرتبہ (زندہ ہونے) کو دیکھتا ہے، اس شخص پر بہت ہی تعجب ہے جو موت کے بعد زندہ ہونے کو جھٹلاتا ہے حالانکہ ہر دن اور ہر رات وہ مرتا ہے اور زندہ ہوتا ہے، اس شخص پر بہت ہی تعجب ہے جو دائمی زندگی کے گھر کی تصدیق کرتا ہے لیکن دھوکے کے گھر کے لیے کوشاں رہتا ہے، اور اس شخص پر بھی بہت ہی تعجب ہے جو تکبر کرنے والا، اترانے والا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک نطفہ سے پیدا کیا گیا پھر گلی سڑی لاش بنے گا اور اس حالت میں وہ نہیں جانتا کہ اس کے ساتھ کیا کیا جائے گا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 595]
تخریج الحدیث: موضوع، ابوجعفر عبداللہ بن مسور کذاب ہے۔

الحكم على الحديث:
موضوع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
387. عَجَبًا لِلْمُؤْمِنِ فَوَاللَّهِ لَا يَقْضِي اللَّهُ لِلْمُؤْمِنِ قَضَاءً إِلَّا كَانَ خَيْرًا لَهُ
مؤمن پر تعجب ہے، اللہ کی قسم! اللہ مومن کے لیے جو بھی فیصلہ فرماتا ہے وہ اس کے حق میں بہتر ہی ہوتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 596
596 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا ابْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ ثَعْلَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَجَبًا لِلْمُؤْمِنِ فَوَاللَّهِ لَا يَقْضِي اللَّهُ لِلْمُؤْمِنِ قَضَاءً إِلَّا كَانَ خَيْرًا لَهُ»
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مؤمن پر تعجب ہے، اللہ کی قسم! اللہ مؤمن کے لیے جو بھی فیصلہ فرماتا ہے وہ اس کے حق میں بہتر ہی ہوتا ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 596]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 728، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 1692، وأحمد فى «مسنده» برقم: 12343، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 4019، 4217، 4218، 4313» ابوخالد الاحمر مدلس کا عنعنہ ہے۔
وضاحت: فائدہ: -
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کے معاملے پر تعجب ہے، بے شک اس کا ہر معاملہ اس کے لیے باعث خیر ہے اور یہ اعزاز صرف مومن کے لیے ہے کہ اگر اسے کوئی خوشی ملے تو وہ شکر ادا کرتا ہے تو یہ (شکر ادا کرنا) اس کے لیے بہتر ہے اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچے تو وہ صبر کرتا ہے تو یہ (صبر کرنا) بھی اس کے لیے بہتر ہے۔“ [مسلم: 2999]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
388. اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَلَا يَزْدَادُ النَّاسُ عَلَى الدُّنْيَا إِلَّا حِرْصًا، وَلَا تَزْدَادُ مِنْهُمْ إِلَّا بُعْدًا
قیامت قریب آچکی ہے اور لوگ دنیا کی حرص میں بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں اور (اللہ سے) ان کی دوری میں اضافہ ہی ہو رہا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 597
597 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الصَّفَّارُ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، ثنا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ بَشِيرٍ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ النَّهْدِيَّ، عَنْ سَيَّارٍ أَبِي الْحَكَمِ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَلَا يَزْدَادُ النَّاسُ عَلَى الدُّنْيَا إِلَّا حِرْصًا، وَلَا تَزْدَادُ مِنْهُمْ إِلَّا بُعْدًا»
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت قریب آچکی ہے اور لوگ دنیا کی حرص میں بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں اور (اللہ سے) ان کی دوری میں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 597]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 8012، والطبراني فى «الكبير» برقم: 9787»
وضاحت: تشریح: -
مطلب یہ ہے کہ قیامت بہت قریب آچکی ہے لیکن لوگوں کا حال یہ ہے کہ قیامت قریب آنے کے باوجود اس سے بے فکر ہیں، بس دنیا کی فکر میں لگے ہوئے ہیں اور دن بدن اپنے رب سے دور ہوتے جار ہے ہیں جوں جوں قیامت قریب آ رہی ہے توں توں لوگوں کی اپنے رب سے دوری میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، دنیا کی طمع و حرص میں اس قدر محو ہیں کہ اپنے رب کو ہی بھلا چکے ہیں، غور کریں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات آج سے کوئی سوا چودہ سو سال پہلے ارشاد فرمائی تھی جس وقت انسان اپنے رب سے اتنا دور نہیں تھا جتنا کہ آج ہو چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ ٰ سے دوری کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا حتی کہ قرب قیامت نوبت یہاں تک آپہنچے گی کہ روئے زمین پر اللہ تعالیٰ ٰ کو یاد کرنے والا کوئی ایک شخص بھی باقی نہ رہے گا جیسا کہ حدیث میں ہے کہ ”قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک کہ زمین پراللہ کی آواز آنا ختم نہ ہو جائے۔“ [مسلم: 148]

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
389. يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ وَتَشِبُّ مِنْهُ اثْنَتَانِ: الْحِرْصُ عَلَى الْمَالِ، وَالْحِرْصُ عَلَى الْعُمُرِ
”ابن آدم بوڑھا ہو جاتا ہے اور اس کی دو چیزیں جوان رہتی ہیں: مال کی حرص اور لمبی عمر کی حرص
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 598
598 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصُّوفِيُّ، ثنا أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفَرَايِينِيُّ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الذُّهْلِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ وَتَشِبُّ مِنْهُ اثْنَتَانِ: الْحِرْصُ عَلَى الْمَالِ، وَالْحِرْصُ عَلَى الْعُمُرِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَسَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ، وَقُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ كُلِّهِمْ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن آدم بوڑھا ہو جاتا ہے اور اس کی دو چیزیں جوان رہتی ہیں: مال کی حرص اور لمبی عمر کی حرص۔“ اسے امام مسلم رحمہ اللہ نے یحییٰ بن یحییٰ، سعید بن منصور اور قتیبہ بن سعید سے اور ان سب نے ابوعوانہ رحمہ اللہ سے اسی کی مثل روایت کیا ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 598]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 6421، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1047، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3229، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 11765، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2339، 2455، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 4234، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 6602، وأحمد فى «مسنده» برقم: 12325»
وضاحت: تشریح: -
مطلب یہ ہے کہ انسان خواہ کتنا ہی بوڑھا ہو جائے لیکن مال اور لمبی عمر کی حرص اور محبت اس کے اندر سے کبھی ختم نہیں ہوتی۔ انسان بڑھاپے کی انتہا کو پہنچ جاتا ہے لیکن ان چیزوں کی محبت جوں کی توں ہی رہتی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ: ”بوڑھے کا دل دو چیزوں کی محبت میں (ہمیشہ) جوان رہتا ہے: لمبی عمر کی محبت میں اور مال کی محبت میں“۔ [مسلم: 1046]

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
390. جُبِلَتِ الْقُلُوبُ عَلَى حُبِّ مَنْ أَحْسَنَ إِلَيْهَا وَبُغْضِ مَنْ أَسَاءَ إِلَيْهَا
یہ فطری امر ہے کہ جو آدمی اچھا سلوک کرے، دل اس کی طرف میلان رکھتا ہے اور جو آدمی بدسلوکی کرے، دل اس سے نفرت کرتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 599
599 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أبنا أَبُو سَعِيدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْفَقِيهُ، وَأَبُو عَبَّادٍ ذُو النُّونِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّائِغُ قَالَا: ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ الْعَسْكَرِيُّ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ التَّمَّارُ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، ثنا ابْنُ عَائِشَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ الْأَعْمَشِ فَقِيلَ: إِنَّ الْحَسَنَ بْنَ عُمَارَةَ وَلِيَ الْمَظَالِمَ، فَقَالَ الْأَعْمَشُ: يَا عَجَبًا مِنْ ظَالِمٍ وَلِيَ الْمَظَالِمَ، مَا لِلْحَائِكِ مِنَ الْحَائِكِ وَالْمَظَالِمِ؟، فَخَرَجْتُ فَأَتَيْتُ الْحَسَنَ بْنَ عُمَارَةَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: عَلَيَّ بِمِنْدِيلٍ وَأَثْوَابٍ فَوَجَّهَ بِهَا إِلَيْهِ فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ بَكَّرْتُ إِلَى الْأَعْمَشِ فَقُلْتُ: أُجْرِي الْحَدِيثَ قَبْلَ أَنْ يَجْتَمِعَ النَّاسُ يَعْنِي: فَأَجْرَيْتُ ذِكْرَهُ، فَقَالَ: بَخٍ بَخٍ، هَذَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ زَانَ الْعَمَلَ وَمَا زَانَهُ، فَقُلْتُ: بِالْأَمْسِ قُلْتَ مَا قُلْتَ، وَالْيَوْمُ تَقُولُ هَذَا، فَقَالَ: دَعْ هَذَا عَنْكَ، حَدَّثَنِي خَيْثَمَةُ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «جُبِلَتِ الْقُلُوبُ عَلَى حُبِّ مَنْ أَحْسَنَ إَلَيْهَا، وَعَلَى بُغْضِ مَنْ أَسَاءَ إِلَيْهَا»
محمد بن عبدالرحمن قریشی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ میں اعمش رحمہ اللہ کے ہاں موجود تھا کہ کسی نے ان سے کہا: حسن بن عمارہ (حاکم) ظلم کرتا ہے تو انہوں نے کہا: حیرت کی بات ہے کہ ایک ظالم شخص ظلم کے کاموں پر مامور ہے، متکبر اور ظالم سے اس کے سوا اور کیا توقع کی جا سکتی ہے؟ محمد بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں حسن بن عمارہ کے ہاں گیا تو اس بات کا ان سے تذکرہ کر دیا انہوں نے رومال اور کچھ کپڑے منگوا کر ایک آدمی کے ذریعے اعمش کے ہاں (بطور تحفہ) بھیجوا دیے، اگلے دن میں اعمش کے پاس ذرا جلدی چلا گیا، میں نے سوچا کہ لوگوں کے آنے سے پہلے پہلے میں اپنی بات کر لوں، میں نے دوبارہ حسن بن عمارہ کا ذکر چھیڑ دیا، تو اعمش بولے: واہ، واہ، حسن بن عمارہ کے تو کیا کہنے؟ وہ کیسے اچھے اچھے کام کرتا ہے۔ تو میں نے عرض کیا: یہ وہی تو ہے جس کے متعلق کل آپ نے کیا کہا تھا؟ اور آج آپ اس کی مدح سرائی کر رہے ہیں، یہ کیا؟ تو فرمایا: تم ان باتوں کو چھوڑو، مجھ سے خیثمہ رحمہ اللہ نے بروایت سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ فطری امر ہے کہ جو آدمی اچھا سلوک کرے، دل اس کی طرف میلان رکھتا ہے اور جو آدمی بدسلوکی کرے، دل اس سے نفرت کرتا ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 599]
تخریج الحدیث: إسناده ضعيف جدا، محمد بن عبد الرحمٰن سخت ضعیف ہے۔

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جدا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 600
600 - وَحَدَّثَ بِهِ شَيْخُنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ، نا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَدِيٍّ الْجُرْجَانِيُّ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ الدَّسْتُوَائِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُتْبَةَ الْكِنْدِيُّ، نا بَكَّارُ بْنُ الْأَسْوَدِ الْعِيدِيُّ، نا إِسْمَاعِيلُ الْخَيَّاطُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: بَلَغَ الْحَسَنَ بْنَ عُمَارَةَ أَنَّ الْأَعْمَشَ، وَقَعَ فِيهِ فَبَعَثَ إِلَيْهِ بِكُسْوَةٍ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ مَدْحَهُ الْأَعْمَشُ، فَقِيلَ لَهُ: تَذُمَّهُ ثُمَّ تَمْدَحُهُ؟، فَقَالَ: إِنَّ خَيْثَمَةَ حَدَّثَنِي عَنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْقُلُوبَ جُبِلَتْ. وَذَكَرَهُ قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ لَمْ أَكْتُبْهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ هَذَا الشَّيْخِ، وَهُوَ مَعْرُوفٌ عَنِ الْأَعْمَشِ مَوْقُوفًا
اسماعیل بن خیاط رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حسن بن عمارہ کو پتا چلا کہ اعمش نے ان کے بارے میں کچھ ناروا تبصرہ کیا ہے تو حسن بن عمارہ نے کچھ کپڑے ان کو بھجوا دیے۔ اس کے بعد اعمش نے حسن بن عمارہ کے بارے میں توصیفی انداز اختیار کر لیا تو ان سے اس تبدیلی کے بارے میں دریافت کیا گیا کہ پہلے تو آپ ان کی مذمت کرتے تھے اور اب ان کی مدح کر رہے ہیں؟ تو فرمایا، مجھ سے خیثمہ نے بروایت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک یہ فطری امر ہے کہ دل۔۔۔۔۔۔“ ابن عدی فرماتے ہیں: میں نے اس حدیث کو صرف اسی استاذ سے مرفوعاً تحریر کیا ہے ورنہ یہ حدیث اعمش سے موقوفاً معروف ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 600]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدا، وأخرجه شعب الايمان: 8574، والكامل لابن عدي: 3/ 98» اسماعیل بن خیاط سخت ضعیف ہے، اس میں اور بھی علتیں ہیں۔

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جدا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں