مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
376. رَحِمَ اللَّهُ عَبْدًا قَالَ فَغَنِمَ، أَوْ سَكَتَ فَسَلِمَ
اللہ اس بندے پر رحم فرمائے جس نے بات کی تو اجر پایا، یا خاموشی اختیار کی تو سلامتی میں رہا
حدیث نمبر: 581
581 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَاءٍ الْعَسْقَلَانِيُّ ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَيْسَرَانِيُّ ثنا الْخَرَائِطِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ، ثنا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، ثنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «رَحِمَ اللَّهُ عَبْدًا قَالَ فَغَنِمَ، أَوْ سَكَتَ فَسَلِمَ»
حسن بصری رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اس بندے پر رحم فرمائے جس نے بات کی تو اجر پایا، یا خاموشی اختیار کی تو سلامتی میں رہا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 581]
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه الزهد ل أحمد: 1578، والزهد لهناد: 1106» اسے حسن بصری تابعی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
الحكم على الحديث:
مرسل
حدیث نمبر: 582
582 - وأنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ النَّيْسَابُورِيُّ، يُعْرَفُ بِابْنِ الطَّفَّالِ، أنا الْقَاضِي أَبُو طَاهِرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ نا أَبُو أَحْمَدَ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ إِمْلَاءً، نا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عَاصِمٍ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنِ ابْنِ سَبْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَهُ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مِرَارٍ: «رَحِمَ اللَّهُ امْرَءًا تَكَلَّمَ فَغَنِمَ، أَوْ سَكَتَ فَسَلِمَ»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: ”اللہ اس شخص پر رحم فرمائے جس نے بات کی تو اجر پایا، یا خاموشی اختیار کی تو سلامتی میں رہا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 582]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه شعب الايمان: 4589» اسماعیل بن عیاش کی غیر شامیوں سے روایت ضعیف ہوتی ہے، مذکورہ روایت بھی غیر شامیوں سے ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
377. رَحِمَ اللَّهُ الْمُتَخَلِّلِينَ مِنْ أُمَّتِي فِي الْوُضُوءِ وَالطَّعَامِ
اللہ ان لوگوں پر رحم فرمائے جو وضو اور کھانے میں خلال کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 583
583 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ، ثنا رَبَاحُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَحْرٍ، رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَارِسٍ، عَنْ أَبِي سُورَةَ ابْنِ أَخِي أَبِي أَيُّوبَ , عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: رُبَّمَا خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «رَحِمَ اللَّهُ الْمُتَخَلِّلِينَ فِي الْوُضُوءِ وَالطَّعَامِ»
سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس کئی بار تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ان لوگوں پر رحم فرمائے جو وضو اور کھانے میں خلال کرتے ہیں۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 583]
تخریج الحدیث: إسناده ضعیف، ابوسورہ بن اخی ابی ایوب ضعیف ہے، اس میں اور بھی علتیں ہیں
الحكم على الحديث:
إسناده ضعیف
378. مَنْ شَغَلَهُ ذَكَرِي عَنْ مَسْأَلَتِي أَعْطَيْتُهُ أَفْضَلَ مَا أُعْطِي السَّائِلِينَ
اللہ عزوجل نے فرمایا: ”جس شخص کومیرے ذکر نے مجھ سے سوال کرنے سے مشغول و مصروف رکھا میں اسے اس سے بہتر دوں گا جو میں مانگنے والوں کو دیتا ہوں۔
حدیث نمبر: 584
584 - أنا أَبُو النُّعْمَانٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَدْفُوِيُّ، أنا أَبُو الطَّيِّبِ أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُرَيْرِيُّ إِجَازَةً نا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَرِيرٍ الطَّبَرِيُّ نا ابْنُ وَكِيعٍ وَأَحْمَدُ بْنُ مُظْهِرٍ الْمِصِّيصِيُّ، قَالَا: نا أَبُو سُفْيَانَ الْحِمْيَرِيُّ سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ حُمْرَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ، تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ:" قَالَ جَلَّ وَعَزَّ: مَنْ شَغَلَهُ ذَكَرِي عَنْ مَسْأَلَتِي أَعْطَيْتُهُ أَفْضَلَ مَا أُعْطِي السَّائِلِينَ"
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اللہ عز و جل نے فرمایا: ”جس شخص کو میرا ذکر نے مجھ سے سوال کرنے سے مشغول و مصروف رکھا میں اسے اس سے بہتر دوں گا جو میں مانگنے والوں کو دیتا ہوں۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 584]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه شعب الايمان: 568» ضحاک بن حمرہ جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
379. أَبَى اللَّهُ أَنْ يَرْزُقَ عَبْدَهُ الْمُؤْمِنَ إِلَّا مِنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُ
اللہ نے تہیہ فرمالیا ہے کہ اپنے مومن بندے کو ضرور ایسی جگہ سے رزق دے گا جہاں کا اسے علم بھی نہیں نہ ہوگا
حدیث نمبر: 585
585 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ طَاهِرِ بْنِ حَرْمَلَةَ بْنِ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ، ثنا جَدِّي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ الْمَدَنِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: اجْتَمَعَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فَتَمَارَوْا فِي شَيْءٍ فَقَالَ لَهُمْ عَلِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا وَقَفُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا: جِئْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ نَسْأَلُكَ عَنْ شَيْءٍ"، فَقَالَ:" إِنْ شِئْتُمْ فَاسْأَلُوا، وَإِنْ شِئْتُمْ خَبَّرْتُكُمْ بِمَا جِئْتُمْ لَهُ، فَقَالَ لَهُمْ: جَئْتُمُونِي تَسْأَلُونِي عَنِ الرِّزْقِ: مِنْ أَيْنَ يَأْتِي؟، وَكَيْفَ يَأْتِي؟، أَبَى اللَّهُ أَنْ يَرْزُقَ عَبْدَهُ الْمُؤْمِنَ إِلَّا مِنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُ" مُخْتَصَرٌ
جعفر بن محمد رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ سیدنا ابوبکر، عمر اور ابوعبیدہ رضی اللہ عنہم جمع ہوئے، وہ کسی چیز کے بارے میں بحث و مباحثہ کر رہے تھے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں کہا: تم ہمارے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلو۔ چنانچہ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو کہنے لگے: اللہ کے رسول! ہم آپ کی خدمت میں ایک چیز کے بارے میں پوچھنے کے لیے حاضر ہوئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو پوچھ لو اور اگر چاہو تو میں خود ہی تمہیں بتا دیتا ہوں جس کے لیے تم آئے ہو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم میرے پاس رزق کے متعلق پوچھنے آئے ہو کہ وہ کہاں سے آتا ہے؟ اور کیسے آتا ہے؟ (سنو) اللہ نے طے فرمالیا ہے کہ اپنے مومن بندے کو ضرور ایسی جگہ سے رزق دے گا جہاں کا اسے علم بھی نہ ہوگا۔“ یہ حدیث مختصر ہے۔ [مسند الشهاب/حدیث: 585]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًا، وأخرجه ابن الاعرابي: 1012» عمر بن راشد سخت ضعیف ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جدًا
380. كَادَ الْفَقْرُ أَنْ يَكُونَ كُفْرًا، وَكَادَ الْحَسَدُ أَنْ يَغْلِبَ الْقَدَرَ
ریب ہے کہ فقر ومحتاجی کفر بن جائے اور قریب ہے کہ حسد تقدیر پر غالب آ جائے
حدیث نمبر: 586
586 - أَخْبَرَنَا هِبَةُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ الصَّيْدَنَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْعُقَيْلِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ هُوَ الثَّوْرِيُّ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ فُرَافِصَةَ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَادَ الْفَقْرُ أَنْ يَكُونَ كُفْرًا، وَكَادَ الْحَسَدُ أَنْ يَغْلِبَ الْقَدَرَ»
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب ہے کہ فقر و محتاجگی کفر تک پہنچ جائے اور قریب ہے کہ حسد تقدیر پر غالب آ جائے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 586]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه شعب الايمان: 6188» یزید الرقاشی ضعیف ہے، اس میں ایک اور علت بھی ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 587
587 - وأنا هِبَةُ اللَّهِ، أنا أَبُو سَعِيدٍ الْحَسَنُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَبْدَانَ، نا أَبُو يَعْقُوبَ، مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ النَّحْوِيُّ بِبَغْدَادَ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، نا أَبُو عَاصِمٍ، نا سُفْيَانُ يَعْنِي الثَّوْرِيَّ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ. وَذَكَرَهُ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔ اور انہوں نے یہ حدیث بیان کی۔ [مسند الشهاب/حدیث: 587]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه شعب الايمان: 6188» یزید الرقاشی ضعیف ہے، اس میں ایک اور علت بھی ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
381. خُصَّ الْبَلَاءُ بِمَنْ عَرَفَ النَّاسَ، وَعَاشَ فِيهِمْ مَنْ لَمْ يَعْرِفْهُمْ
جس شخص نے لوگوں کو پہچان لیا وہ آزمائش کے لیے مخصوص ہو گیا اور جس نے ان (لوگوں) کو نہ پہچانا وہ ان میں گزر بسر کر لے گا
حدیث نمبر: 588
588 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الصَّفَّارُ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَالِدِ بْنِ حَيَّانَ الرَّقِّيُّ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا خَلَفُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سِمَاكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُصَّ الْبَلَاءُ بِمَنْ عَرَفَ النَّاسَ، وَعَاشَ فِيهِمْ مَنْ لَمْ يَعْرِفْهُمْ»
جعفر بن محمد رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے لوگوں کو پہچان لیا وہ آزمائش کے لیے مخصوص ہو گیا اور جس نے ان (لوگوں) کو نہ پہچانا وہ ان میں گزر بسر کر لے گا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 588]
تخریج الحدیث: «مرسل ضعيف، وأخرجه ابن الاعرابي: 975» ، اسے ابوجعفر محمد بن علی تابعی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، محمد بن اسحاق مدلس کا عنعنہ اور عثمان بن سماک مجہول ہے۔
الحكم على الحديث:
مرسل ضعيف
382. يُطْبَعُ الْمُؤْمِنُ عَلَى كُلِّ خُلُقٍ لَيْسَ الْخِيَانَةَ وَالْكَذِبَ
مومن کی پیدائش سب خصلتوں پر ہو سکتی ہے لیکن خیانت اور جھوٹ پر نہیں
حدیث نمبر: 589
589 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَدِمَ عَلَيْنَا مِصْرَ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّيَّاتُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْبَرَاءِ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُطْبَعُ الْمُؤْمِنُ عَلَى كُلِّ خَلَّةٍ خَلَا الْخِيَانَةِ وَالْكَذِبِ»
مصعب بن سعد رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مؤمن کی فطرت ہر خصلت پر ہو سکتی ہے لیکن خیانت اور جھوٹ پر نہیں۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 589]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه شعب الايمان: 4469» اعمش اور ابواسحاق مدلس راویوں کا عنعنہ ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 590
590 - وَرَوَاهُ شَيْخِنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الْغَنِيِّ بْنُ سَعِيدٍ الْحَافِظُ فِي كِتَابِهِ فَقَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، بِدِمَشْقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خُرَيْمٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا الْوَصَّافِيُّ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يُطْبَعُ الْمُؤْمِنُ عَلَى كُلِّ خُلُقٍ لَيْسَ الْخِيَانَةَ وَالْكَذِبَ»
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مؤمن کی فطرت ہر خصلت پر ہو سکتی ہے لیکن خیانت اور جھوٹ پر نہیں۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 590]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه شعب الايمان: 4471، الكامل لابن عدي: 5/ 520» عبید اللہ بن ولید الوصافی ضعیف ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف