مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
295. مَنِ اسْتَعَاذَكُمْ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ، وَمَنْ سَأَلَكُمْ بِاللَّهِ فَأَعْطُوهُ، وَمَنْ دَعَاكُمْ فَأَجِيبُوهُ، وَمَنْ أَتَى إِلَيْكُمْ مَعْرُوفًا فَكَافِئُوهُ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَادْعُوا لَهُ حَتَّى تَعَلَّمُوا أَنَّكُمْ قَدْ كَافَأْتُمُوهُ
جو تم سے اللہ کا نام لے کر پناہ طلب کرے اسے پناہ دے دو اور جو تم سے اللہ کے نام پر مانگے اسے دے دو اور جو تمہاری دعوت کرے اس کی دعوت قبول کرو اور جو تمہارے ساتھ نیکی کرے اسے اس کا بدلہ دو اور اگر تم (بدلے میں) کوئی چیز نہ پاؤ تو اس کے لیے اس قدر دعا کرو یہاں تک کہ تم جان لو کہ واقعی تم نے اس کا بدلہ دے دیا ہے
حدیث نمبر: 421
421 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أبنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ اسْتَعَاذَكُمْ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ، وَمَنْ سَأَلَكُمْ بِاللَّهِ فَأَعْطُوهُ، وَمَنْ دَعَاكُمْ فَأَجِيبُوهُ، وَمَنْ أَتَى إِلَيْكُمْ مَعْرُوفًا فَكَافِئُوهُ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَادْعُوا لَهُ حَتَّى تَعَلَّمُوا أَنَّكُمْ قَدْ كَافَأْتُمُوهُ»
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تم سے اللہ کا نام لے کر پناہ طلب کرے اسے پناہ دے دو اور جو تم سے اللہ کے نام پر مانگے اسے دے دو اور جو تمہاری دعوت کرے اس کی دعوت قبول کرو اور جو تمہارے ساتھ نیکی کرے اسے اس کا بدلہ دو اور اگر تم (بدلے میں) کوئی چیز نہ پاؤ تو اس کے لیے اس قدر دعا کرو یہاں تک کہ تم جان لو کہ واقعی تم نے اس کا بدلہ دے دیا ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 421]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه أبو داود: 1672،- والنسائي: 2568، والادب المفرد: 216» اعمش مدلس کا عنعنہ ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
296. مِنْ مَشَى مِنْكُمْ إِلَى طَمَعٍ فَلْيَمْشِ رُوَيْدًا
تم میں سے کسی لالچ کی طرف چلے تو اسے چاہیے کہ آہستہ چلے
حدیث نمبر: 422
422 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْفَضْلُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ يَعْقُوبَ الْقَسْبَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ الْعِجْلِيُّ، يَنْزِلُ بَنِي عَجِلٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْغِنَى الْيَأْسُ مِمَّا فِي أَيْدِي النَّاسِ، وَمَنْ مَشَى مِنْكُمْ إِلَى طَمَعٍ فَلْيَمْشِ رُوَيْدًا»
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(بندے کی) غنا یہ ہے کہ جو کچھ لوگوں کے ہاتھوں میں ہے اس سے ناامید رہے اور جو کوئی تم میں سے کسی لالچ کی طرف چلے تو اسے چاہیے کہ آہستہ چلے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 422]
تخریج الحدیث: إسناده ضعیف جدا، دیکھئے، حدیث نمبر 199
الحكم على الحديث:
إسناده ضعیف جدا
297. مَنْ عَمَّرَهُ اللَّهُ سِتِّينَ سَنَةً فَقَدْ أَعْذَرَ إِلَيْهِ فِي الْعُمُرِ
جس شخص کو اللہ نے ساٹھ سال کی عمر دے دی تو یقیناً اس نے عمر کے حوالے سے اس کا عذر پورا کر دیا
حدیث نمبر: 423
423 - أَخْبَرَنَا قَاضِي الْقُضَاةِ أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْعَوَّامِ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ، ثنا أَبُو عُمَرَ أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ بِمَدِينَةِ الرَّسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثنا أَبُو إِبْرَاهِيمَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي خَيْرَةَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ عَمَّرَهُ اللَّهُ سِتِّينَ سَنَةً فَقَدْ أَعْذَرَ إِلَيْهِ»
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو اللہ نے ساٹھ سال کی عمر دے دی تو یقیناً اس نے عمر کے حوالے سے اس کا عذر پورا کر دیا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 423]
تخریج الحدیث: إسناده ضعیف، ابوابراہیم اسماعیل بن ولید، ابوعمر أحمد بن ابی بکر اور ابوعثمان محمد بن عثمان وغیرہ کی توثیق نہیں ملی۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 424
424 - وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، أبنا ابْنُ جَامِعٍ السُّكَّرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ عَمَّرَهُ اللَّهُ سِتِّينَ سَنَةً فَقَدْ أَعْذَرَ إِلَيْهِ فِي الْعُمُرِ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو اللہ نے ساٹھ سال کی عمر دے دی تو یقیناً اس نے عمر کے حوالے سے اس کا عذر پورا کر دیا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 424]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه أحمد: 2/ 417»
وضاحت: تشریح: -
مطلب یہ ہے کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے ساٹھ سال کی عمر دے دی اس کے لیے روز قیامت عذر کا کوئی موقع باقی نہیں رکھا، اس عمر میں بھی اگر وہ اللہ تعالیٰ کی معرفت نہ حاصل کر سکا، توحید نہ سمجھ پایا تو وہ اللہ کی بارگاہ میں جہالت اور لاعلمی کا عذر نہیں پیش کر سکے گا، ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ جانے کے باوجود بھی اگر اس کی زندگی گناہوں سے آلودہ ہے کفر و شرک کی دلدلوں میں غرق ہے اور صحیح راستے کی طرف نہیں آیا تو قیامت کے دن اس کا کوئی عذر بہانہ نہیں چلے گا۔ مزید دیکھئے حدیث نمبر 252۔
مطلب یہ ہے کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے ساٹھ سال کی عمر دے دی اس کے لیے روز قیامت عذر کا کوئی موقع باقی نہیں رکھا، اس عمر میں بھی اگر وہ اللہ تعالیٰ کی معرفت نہ حاصل کر سکا، توحید نہ سمجھ پایا تو وہ اللہ کی بارگاہ میں جہالت اور لاعلمی کا عذر نہیں پیش کر سکے گا، ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ جانے کے باوجود بھی اگر اس کی زندگی گناہوں سے آلودہ ہے کفر و شرک کی دلدلوں میں غرق ہے اور صحیح راستے کی طرف نہیں آیا تو قیامت کے دن اس کا کوئی عذر بہانہ نہیں چلے گا۔ مزید دیکھئے حدیث نمبر 252۔
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
298. مَنْ أَصْبَحَ لَا يَنْوِي ظُلْمَ أَحَدٍ غُفِرَ لَهُ مَا جَنَى
جس شخص نے اس حال میں صبح کی کہ اس کی کسی پر ظلم کرنے کی نیت نہ تھی تو اس کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں
حدیث نمبر: 425
425 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الصَّفَّارُ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَيُّوبَ الْمُخَرِّمِيُّ، ثنا دَاوُدُ وَهُوَ ابْنُ الْمُحَبَّرِ، ثنا الْهَيَّاجُ بْنُ بِسْطَامٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مُرَّةَ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَصْبَحَ لَا يَنْوِي ظُلْمَ أَحَدٍ غُفِرَ لَهُ مَا جَنَى»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع بیان کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے اس حال میں صبح کی کہ اس کی کسی پر ظلم کرنے کی نیت نہ تھی تو اس کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 425]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، وأخرجه ابن الاعرابي: 1935، وتاريخ مدينة السلام: 4/522» ہیاج بن بسطام اور داود بن محبر ضعیف ہے، اس میں ایک اور بھی علت ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا
299. مَنْ أَلْقَى جِلْبَابَ الْحَيَاءِ فَلَا غِيبَةَ لَهُ
جس نے حیاء کی چادر اتار دی اس کی غیبت (کرنے پر گناہ) نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 426
426 - أَخْبَرَنَا هِبَةُ اللَّهِ بْنُ أَبِي غَسَّانَ الْفَارِسِيُّ، أبنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، قَالَ: ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّرْقُفِيُّ، ثنا رَوَّادُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ أَبِي سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَلْقَى جِلْبَابَ الْحَيَاءِ فَلَا غِيبَةَ لَهُ»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے حیا کی چادر اتار دی اس کی غیبت (کرنے پر گناہ) نہیں ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 426]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدا، وأخرجه مكارم الاخلاق لابن ابي الدنيا: 103، والسنن الكبرى للبيهقي: 394/10» ابوسعد الساعدی مجہول اور رواد بن جراح مختلط ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جدا
حدیث نمبر: 427
427 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقُهُسْتَانِيُّ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ عِيسَى بْنُ الْوَزِيرِ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى قَالَ: قُرِئَ عَلَى أَبِي عَلِيِّ بْنِ الْعَبَّاسِ الْوَرَّاقِ وَأَنَا، أَسْمَعُ، قِيلَ لَهُ: حَدَّثَكُمُ الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ: ثنا أَبُو عِصَامٍ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثنا أَبُو سَعْدٍ يَعْنِي السَّاعِدِيَّ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ایک دوسری سند سے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مثل روایت کیا ہے۔۔۔۔۔۔ اور اسی طرح یہ حدیث بیان کی۔ [مسند الشهاب/حدیث: 427]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدا، وأخرجه مكارم الاخلاق لابن ابي الدنيا: 103، والسنن الكبرى للبيهقي: 394/10» ابوسعد الساعدی مجہول اور رواد بن جراح مختلط ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جدا
300. مَنْ سَاءَتْهُ خَطِيئَتُهُ غُفِرَ لَهُ وَإِنْ لَمْ يَسْتَغْفِرْ
جسے اس کی خطا بری لگے اسے بخش دیا جاتا ہے اگر چہ اس نے معافی نہ بھی مانگی ہو
حدیث نمبر: 428
428 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الْمُعَدِّلُ، أبنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا هَمَّامُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ خُلَيْدِ بْنِ دَعْلَجٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَاءَتْهُ خَطِيئَتُهُ غُفِرَ لَهُ وَإِنْ لَمْ يَسْتَغْفِرْ»
حسن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے اس کی خطا بری لگے اسے بخش دیا جاتا ہے اگرچہ اس نے معافی نہ بھی مانگی ہو۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 428]
تخریج الحدیث: مرسل ضعیف، اسے حسن بصری تابعی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ اور خلید بن دعلج ضعیف ہے۔
الحكم على الحديث:
رسل ضعیف
301. مَنْ خَافَ اللَّهَ خَوَّفَ اللَّهُ مِنْهُ كُلَّ شَيْءٍ، وَمَنْ لَمْ يَخْفِ اللَّهَ خَوَّفَهُ اللَّهُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ
جو اللہ سے خوف زدہ ہوا اللہ اس سے ہر چیز کو خوف زدہ رکھے گا اور جو اللہ سے خوف زدہ نہ ہوا اللہ اسے ہر چیز سے خوف زدہ رکھے گا
حدیث نمبر: 429
429 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ آزَادْمَرْدَ ثنا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرِ بْنِ سَنِقَهٍ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَرْوَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ وَهْبٍ الْعَلَّافُ، ثنا عَامِرُ بْنُ الْمُبَارَكِ الْعَلَّافُ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ , عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ خَافَ اللَّهَ خَوَّفَ اللَّهُ مِنْهُ كُلَّ شَيْءٍ، وَمَنْ لَمْ يَخْفِ اللَّهَ خَوَّفَهُ اللَّهُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ»
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ سے خوفزدہ ہوا اللہ اس سے ہر چیز کو خوفزدہ رکھے گا اور جو اللہ سے خوفزدہ نہ ہوا اللہ اسے ہر چیز سے خوفزدہ رکھے گا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 429]
تخریج الحدیث: منکر، متعدد راویوں کے حالات مفقود ہیں۔ دیکھئے: «السلسلة الضعيفة: 485»
الحكم على الحديث:
منکر
302. مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ
جو شخص اللہ سے ملنا پسند کرے اللہ بھی اس سے ملنا پسند کرتا ہے اور جو اللہ سے ملنا پسند نہ کرے اللہ بھی اس سے ملنا پسند نہیں کرتا
حدیث نمبر: 430
430 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، أبنا عِمْرَانُ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ»
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”جو شخص اللہ سے ملنا پسند کرے اللہ بھی اس سے ملنا پسند کرتا ہے اور جو اللہ سے ملنا پسند نہ کرے اللہ بھی اس سے ملنا پسند نہیں کرتا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 430]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم: 2684، وترمذي: 1067، و النسائي: 1839، وابن ماجه: 4264، والحميدي فى «مسنده» برقم: 227، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3010، وأحمد فى «مسنده» » برقم: 8675»
الحكم على الحديث:
صحيح