🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشهاب میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1499)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
309. مَنْ أَصَابَ مَالًا مِنْ نَهَاوِشَ أَذْهَبَهُ اللَّهُ فِي نَهَابِرَ
جس نے حرام ذرائع سے مال حاصل کیا اللہ اسے ہلاکتوں میں لے جائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 441
441 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الدَّقَّاقُ، أبنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ طَالِبٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَلَّادٍ، ثنا مُوسَى بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا عَمْرِو بْنُ الْحُصَيْنِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُلَاثَةَ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ الْحِمْصِيُّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَصَابَ مَالًا مِنْ نَهَاوِشِ أَذْهَبَهُ اللَّهُ فِي نَهَابِرَ»
ابوسلمہ حمصی سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے حرام ذرائع سے مال حاصل کیا اللہ اسے ہلاکتوں میں لے جائے گا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 441]
تخریج الحدیث: مرسل ضعیف، اسے ابوسلمہ حمصی تابعی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اور عمرو بن حصین کذاب ہے۔

الحكم على الحديث:
مرسل ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 442
442 - أنا هِبَةُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْخَوْلَانِيُّ، أنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ طَالِبٍ، إِجَازَةً، نا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَلَّادٍ، نا مُوسَى بْنُ زَكَرِيَّا، نا عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُلَاثَةَ، نا أَبُو سَلَمَةَ الْحِمْصِيُّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَصَابَ مَالًا مِنْ نَهَاوِشَ أَذْهَبَهُ اللَّهُ فِي نَهَابِرَ»
ابوسلمہ حمصی سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے حرام ذرائع سے مال حاصل کیا اللہ اسے ہلاکتوں میں لے جائے گا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 442]
تخریج الحدیث: مرسل ضعیف، اسے ابوسلمہ حمصی تابعی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اور عمرو بن حصین کذاب ہے۔

الحكم على الحديث:
مرسل ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 443
443 - أنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الصُّوفِيُّ، قَدِمَ عَلَيْنَا مِنْ فِلَسْطِينَ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَيْدَرِيُّ الْمِصْرِيُّ الْعَسْقَلَانِيُّ، نا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبَانَ بْنِ شَدَّادٍ، نا أَبُو الدَّرْدَاءِ هَاشِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيُّ، نا عَمْرُو بْنُ بَكْرٍ السَّكْسَكِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ، عَنِ الْقُرَظِيِّ، قَالَ: اجْتَمَعَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ وَمُعَاوِيَةُ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: أَيُّكُمْ شَاءَ فَلْيَبْدَأْ فَلْيَتَحَدَّثْ بِحَدِيثٍ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , سَمِعَتْهُ أُذُنَاهُ وَوَعَاهُ قَلْبُهُ قَالَا: ابْدَأْ فَحَدِّثْنَا أَنْتَ بِمَا تَحْفَظُ، قَالَ: أَفْعَلُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «تَكَفَّلُوا لِي بِسِتٍّ أَتَكَفَّلُ لَكُمْ بِالْجَنَّةِ، إِذَا حُدِّثْتُمْ فَلَا تَكْذِبُوا، وَإِذَا وَعُدْتُمْ فَلَا تُخْلِفُوا، وَإِذَا ائْتُمِنْتُمْ فَلَا تَخُونُوا، وَغُضُّوا أَبْصَارَكُمْ، وَاحْفَظُوا فُرُوجَكُمْ، وَكُفُّوا أَيْدِيَكُمْ» فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: حَدِّثْ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  يَقُولُ:" ثَلَاثَةٌ يُحْشَرُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولَةٌ أَيْدِيهِمْ إِلَى أَعْنَاقِهِمُ: الْأَمِيرُ، وَالْقَاضِي وَالْعَرِيفُ، لَا يَفُكُّهُمْ مِنَ الْغُلِّ إِلَّا الْعَدْلُ، وَجَائِرُهُمْ فِي النَّارِ أَشَدُّهَا حُرًّا، وَأَبْعَدُهَا قَعْرًا" قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا ضَجَّتِ الْأَرْضُ ضَجِيجَهَا مِنْ غُسْلِ جَنَابَةٍ مِنْ حَرَامٍ أَوْ سَفْكِ دَمٍ حَرَامٍ، وَمَنْ أَصَابَ مَالًا مِنْ نَهَابِرَ أَهْلَكَهُ اللَّهُ فِي نَهَاوِشَ، وَمَنْ غَدَا أَوْ رَاحَ إِلَى أَبْنَاءِ الدُّنْيَا لِطَمَعِ دُنْيَا يُصِيبُهَا فَهُوَ مِمَّنِ اتَّخَذَ آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا، وَمَنْ حَضَرَ سُلْطَانًا يَتَكَلَّمُ بِمَا يَهْوَى خِلَافًا لِلْحَقِّ كَانَ قَرِينَهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ، وَمَنْ سَعَى بِأَخِيهِ عِنْدَ سُلْطَانٍ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ رَحْمَتَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» فَرَمَى مُعَاوِيَةُ بِنَفْسِهِ عَنِ السَّرِيرِ، ثُمَّ دَخَلَ وَتَفَرَّقَ عَنْهُ النَّاسُ فَأَتَى أُمَّ حَبِيبَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ أُخْتُ مُعَاوِيَةَ فَشَكَا إِلَيْهَا أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ عَمَدَا إِلَى أَشَدِّ مَا يَحْضُرُهُمَا مِنَ الْحَدِيثِ فَصَدَمَانِي بِهِ، فَقَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ: وَأَنَا وَاللَّهِ قَدْ سَمِعْتُ مَعَهُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزِيَادَةَ أَسْقَطَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ لَهَا: وَمَا هُوَ؟، قَالَتْ: «مَنْ أَحْسَنَ فَلِنَفْسِهِ، وَمَنْ أَسَاءَ فَلِنَفْسِهِ» قَالَ أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ: فَمَنْ يَحْرِصْ عَلَى الْإِمَارَةِ وَالْقَضَاءِ وَالْعَرَافَةِ بَعْدَ قَوْلِكَ هَذَا؟، قَالَ: شِرَارُ عَبَّادِ اللَّهِ الَّذِينَ يَقُولُونَ: {رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ} [البقرة: 200]
قرظی کہتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، ابوسعید خدری اور معاویہ رضی اللہ عنہم اکٹھے ہوئے تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم میں سے جو چاہے وہ کوئی ایسی حدیث بیان کرنے سے ابتداء کرے جسے اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو، اس کے کانوں نے وہ حدیث سنی ہو، دل نے محفوظ رکھی ہو۔ وہ دونوں (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ) کہنے لگے: ابتداء آپ کیجیے، آپ ہمیں وہ حدیث بیان کریں جو آپ نے یاد رکھی ہو۔ انہوں نے کہا: میں ایسا کرتا ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دے دو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں: جب بات کرو تو جھوٹ نہ بولو، وعدہ کرو تو خلاف ورزی نہ کرو، جب امانت پکڑو تو خیانت نہ کرو اور اپنی نظروں کو جھکا کر رکھو، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو اور اپنے ہاتھ (ظلم سے) روک لو۔“ پھر سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے ابوہریرہ! اب آپ بیان کیجیے تو انہوں نے کہا: میں نے سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”تین قسم کے لوگوں کو اس حال میں اللہ کے سامنے پیش کیا جائے گا کہ ان کے ہاتھ ان کی گردنوں سے بندھے ہوئے ہوں گے: حاکم، قاضی اور سردار۔ انہیں (اس کیفیت سے) ان کا عدل ہی رہائی دلا سکے گا اور ان میں سے جس نے ظلم کیا ہوگا وہ جہنم میں سب سے زیادہ سخت آگ اور سب سے زیادہ گہرائی میں ہوگا۔“ (پھر) سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”زمین اتنا کبھی نہیں تھر تھراتی جتنا زناکاری کے غسل جنابت یا ناحق قتل سے تھر تھراتی ہے اور جو شخص حرام ذرائع سے مال حاصل کرے اللہ اسے لوگوں کی حق تلفیوں میں اس سے ضائع کرا دیتا ہے اور جو شخص صبح یا شام دنیاداروں کے پاس حصول دنیا کے لیے جائے وہ اسے حاصل تو کر لیتا ہے لیکن (حقیقتاً) وہ ان لوگوں میں سے ہے جنہوں نے اللہ کی آیات کا مذاق اڑایا اور جو شخص کسی حاکم کے پاس جا کر اس کی خواہش کے مطابق خلاف حق گفتگو کرے تو وہ جہنم میں اس کا ساتھی ہوگا اور جو شخص حاکم کے پاس اپنے بھائی کی چغلی کھائے اللہ قیامت کے دن اس پر اپنی رحمت حرام کر دے گا۔“ یہ سن کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو چارپائی سے نیچے گرا دیا، لوگ اٹھ کر چلے گئے تو آپ اپنی بہن ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس چلے گئے اور جا کر ان سے شکوہ کیا کہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جان بوجھ کر مجھے ایسی سخت احادیث سنائی ہیں جن سے مجھے شدید ذہنی صدمہ پہنچا ہے، تو سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سے بھی زیادہ سن چکی ہوں جس کا ابوہریرہ نے ذکر نہیں کیا۔ معاویہ نے دریافت کیا: وہ کیا؟ فرمایا: ”جس نے کوئی اچھا عمل کیا تو وہ اسی کے لیے ہے اور جس نے کوئی برا عمل کیا تو وہ بھی اسی کے لیے ہے۔“ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ کی بیان کردہ اس حدیث کے بعد کون ہے جو حکمرانی، قضاء اور سرداری (جیسے عہدوں) کو پسند کرے؟ فرمایا: ”اللہ کے بندوں میں سے بدترین لوگ وہ ہیں جو یوں کہتے ہیں: اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں ہی دے دے اور ان کے لیے آخرت میں کچھ نہیں۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 443]
تخریج الحدیث: إسناده ضعیف، موسیٰ بن عبیدہ ربذی اور عمر و بن بکر ضعیف ہیں

الحكم على الحديث:
إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
310. مَنْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنَ الرِّفْقِ فَقَدْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ
جس شخص کو اس کے حصے کی نرمی مل گئی تو بے شک اسے دنیا و آخرت میں اپنے حصے کی بھلائی مل گئی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 444
444 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ وَالْقَعْنَبِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:: «مَنْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنَ الرِّفْقِ فَقَدْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمَنْ حُرِمَ حَظَّهُ مِنَ الرِّفْقِ فَقَدْ حُرِمَ حَظَّهُ مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ»
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو اس کے حصے کی نرمی مل گئی تو بے شک اسے دنیا و آخرت میں اپنے حصے کی بھلائی مل گئی اور جس شخص کو اس کے حصے کی نرمی سے محروم کر دیا گیا تو بے شک اسے دنیا و آخرت میں اپنے حصے کی بھلائی سے محروم کر دیا گیا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 444]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه شرح السنة للبغوى: 3491» عبدالرحمن بن ابی بکر بن ابی ملیکہ ضعیف ہے۔
وضاحت: فائدہ: -
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک جس شخص کو اس کے حصے کی نرمی مل گئی تو بے شک اسے دنیا و آخرت میں اپنے حصے کی بھلائی مل گئی اور صلہ رحمی، حسن اخلاق اور اچھی ہمسائیگی گھروں کو آباد کرتی ہے اور عمر میں اضافہ کرتی ہے۔“ [أحمد: 6/159، وسنده حسن]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 445
445 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُعَدِّلُ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادِ بْنِ بِشْرِ بْنِ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ الْمُخَرِّمِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، تَرْوِيهِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنَ الرِّفْقِ فَقَدْ أُعْطِي حَظَّهُ مِنَ الْخَيْرِ، وَمَنْ حُرِمَ حَظَّهُ مِنَ الرِّفْقِ حُرِمَ حَظَّهُ مِنَ الْخَيْرِ» وَقَالَ: أَثْقَلُ مَا فِي مِيزَانِ الْمُؤْمِنِ خُلُقٌ حَسَنٌ، إِنَّ اللَّهَ يُبْغِضُ الْفَاحِشَ الْبَذِيءَ"
سیدہ ام الدرداء رضی اللہ عنہا سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت کرتی ہیں وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو اس کے حصے کی نرمی مل گئی تو بے شک اسے اس کے حصے کی بھلائی مل گئی اور جس شخص کو اس کے حصے کی نرمی سے محروم کر دیا گیا (گویا) اسے اپنے حصے کی بھلائی سے محروم کر دیا گیا۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مؤمن کے میزان میں سب سے وزنی چیز عمدہ اخلاق ہیں، بے شک اللہ تعالیٰ بداخلاق اور فحش گو انسان سے نفرت کرتا ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 445]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 481، 5693، 5695، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4799، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2013، والحميدي فى «مسنده» برقم: 397، 398، والطبراني فى «الصغير» برقم: 550، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 20855، وأحمد فى «مسنده» برقم: 28142»

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 446
446 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، ثنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا مُحَمَّدٌ، هُوَ ابْنُ سَعِيدِ بْنِ غَالِبٍ أَبُو يَحْيَى الْعَطَّارُ الضَّرِيرُ، ثنا الشَّافِعِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَمَّتِي عَائِشَةَ تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنَ الرِّفْقِ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ»
قاسم بن محمد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی پھوپھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو اس کے حصے کی نرمی مل گئی اسے دنیا و آخرت میں اپنے حصے کی بھلائی مل گئی۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 446]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه شرح السنة للبغوى: 3491، وأحمد: 159/6»
وضاحت: تشریح: -
مطلب یہ ہے کہ نرم مزاجی میں ہر لحاظ سے خیر ہی خیر ہے، اس قدر خیر کہ جس انسان کو یہ مل گئی اسے دنیا و آخرت کی سب بھلائیاں مل گئیں اور جو اس سے محروم رہا وہ خیر و بھلائی سے یکسر محروم اور خالی ہاتھ ہو گیا۔ گویا نرم مزاجی خیر و بھلائی کی جڑ اور اس کا سرچشمہ ہے کہ جہاں سے ہر وقت خیر ہی خیر پھوٹتی ہے، جس انسان کی طبیعت میں نرمی ہو وہ ہر کسی کے لیے نرم ہوگا، نتیجتاً وہ خود بھی سکون میں رہے گا اور دوسروں کو بھی سکون سے رہنے دے گا اور جس کی طبیعت میں سختی ہو وہ ہر کسی کے لیے سخت ہوگا، نیتجتا وہ اپنی زندگی کو خود ہی اپنے لیے عذاب بنالے گا۔
مومن کے میزان میں روز قیامت سب سے بھاری اور وزنی چیز اس کے اچھے اخلاق ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ انسان کے اخلاق تبھی اچھے ہوں گے جب اس کے اندر نرمی ہوگی گویا نرم مزاجی حسن اخلاق کی بنیاد ہے، جس کے اندر نرمی نہیں اس کے اخلاق کبھی بھی اچھے نہیں ہو سکتے وہ بد اخلاق اور فحش گو ہوگا اور ایسا شخص اللہ کو ہرگز پسند نہیں ہے۔

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
311. مَنْ آثَرَ مَحَبَّةَ اللَّهِ عَلَى مَحَبَّةِ النَّاسِ كَفَاهُ اللَّهُ مُؤْنَةَ النَّاسِ
جس نے اللہ کی محبت کو لوگوں کی محبت پر ترجیح دی اللہ اسے لوگوں کی مشقت سے کفایت کرے گ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 447
447 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الْمُعَدِّلُ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا خَلَّادُ بْنُ عِيسَى، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ الْهَمَذَانِيُّ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ , عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ آثَرَ مَحَبَّةَ اللَّهِ عَلَى مَحَبَّةِ النَّاسِ كَفَاهُ اللَّهُ مُؤْنَةَ النَّاسِ»
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”جس نے اللہ کی محبت کو لوگوں کی محبت پر ترجیح دی اللہ اسے لوگوں کی مشقت سے کفایت کرے گا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 447]
تخریج الحدیث: إسناده ضعیف، ابراہیم بن سلیمان بن حیان شیعہ ہے اسے صرف ابن حبان نے ثقہ کہا ہے۔

الحكم على الحديث:
إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
312. مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا خَلَعَ اللَّهُ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ
جس نے جماعت سے ایک بالشت برابر بھی دور کی اختیار کی اس نے اپنی گردن سے اسلام کا طوق اتار پھینکا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 448
448 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَزَادَ مُرْدَ ثنا الْحَبِيبُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عُمَرَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ، أبنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ حَيَّانَ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي الْأَحْوَصِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، وَمَنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ طَرِيفٍ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ وَهْبَانَ , عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ»
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جماعت سے ایک بالشت برابر بھی دوری اختیار کی اس نے اپنی گردن سے اسلام کا طوق اتار پھینکا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 448]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه أبو داود: 4758، وأحمد: 5 /180» خالد بن و ہبان مجہول الحال ہے۔
وضاحت: فائدہ: -
سیدنا حارث اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ایک لمبی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک جس نے جماعت سے ایک بالشت برابر بھی دوری اختیار کی اس نے اپنی گردن سے اسلام کا طوق اتار پھینکا الا یہ کہ وہ رجوع کرلے یعنی واپس آ جائے۔“ [ترمذي: 2863، صحيح]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
313. مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ وَاسْتَذَلَّ الْإِمَارَةَ لَقِيَ اللَّهَ وَلَا وَجْهَ لَهُ عِنْدَهُ
جس نے جماعت سے دوری اختیار کی اور امارت کی تذلیل کی وہ اللہ کو اس حال میں ملے گا کہ وہاں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 449
449 - أَخْبَرَنَا الْخَصِيبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أبنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَحْمَدَ النَّسَائِيُّ، أبنا أَبِي، أبنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا كَثِيرٌ أَبُو النَّضْرِ، عَنْ رِبْعِيٍّ، قَالَ: انْطَلَقْتُ إِلَى حُذَيْفَةَ بِالْمَدَائِنِ لَيَالِي سَارَ النَّاسُ إِلَى عُثْمَانَ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ وَاسْتَذَلَّ الْإِمَارَةَ لَقِيَ اللَّهَ وَلَا وَجْهَ لَهُ عِنْدَهُ»
ربعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جس دور میں (فتنہ پرور) لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف چل پڑے تھے میں مدائن میں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی طرف گیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: ”جس نے جماعت سے دوری اختیار کی اور امارت کی تذلیل کی وہ اللہ کو اس حال میں ملے گا کہ وہاں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 449]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 408، 409، 4587، وأحمد فى «مسنده» برقم: 23755»
وضاحت: تشریح: -
اس حدیث میں مسلمانوں کی جماعت سے علیحدہ ہونے، خلافت اسلامیہ کی تذلیل کرنے اور اس کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے شخص کی مذمت کی گئی ہے کہ ایسے شخص کی اللہ تعالیٰ ٰ کے ہاں کوئی حیثیت نہیں، جب وہ خالق کا ئنات سے ملاقات کرے گا تو اسے کوئی مقام و مرتبہ نہیں ملے گا۔ ظاہر ہے کہ ایسا شخص اخروی فلاح سے محروم رہے گا۔

الحكم على الحديث:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
314. مَنْ نَزَعَ يَدَهُ مِنَ الطَّاعَةِ لَمْ يَكُنْ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَجَّةٌ، وَمَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ مَاتَ مَيْتَةً جَاهِلِيَّةً
جس نے (امام کی) اطاعت سے اپنا ہاتھ کھینچا روز قیامت اس کے لیے کوئی دلیل و حجت نہیں ہوگی اور جس نے جماعت سے دوری اختیار کی وہ جاہلیت کی موت مرا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 450
450 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الشَّاهِدُ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، أبنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ الْعَلَاءِ الرَّازِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، قَالَ: أَتَى ابْنُ عُمَرَ ابْنَ مُطِيعٍ زَمَنَ الْفِتْنَةِ فَدَعَا لَهُ بِوِسَادَةَ وَرَحَّبَ بِهِ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: إِنَّمَا أَتَيْتُكَ لِأُخْبِرَكَ بِكَلِمَتَيْنِ سَمِعْتُهُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «مَنْ نَزَعَ يَدَهُ مِنَ الطَّاعَةِ لَمْ يَكُنْ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَجَّةٌ، وَمَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ مَاتَ مَيْتَةً جَاهِلِيَّةً»
زید بن اسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ (واقعہ حرہ کے) فتنے کے دور میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ابن مطیع کے پاس آئے، انہوں نے آپ کے لیے تکیہ منگوایا اور آپ کو مرحبا کہا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں تمہارے پاس صرف اس لیے آیا ہوں کہ تمہیں دو ایسی باتیں بتاؤں جنہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”جس نے (امام کی) اطاعت سے اپنا ہاتھ کھینچا روز قیامت اس کے لیے کوئی دلیل و حجت نہیں ہوگی اور جس نے جماعت سے دوری اختیار کی وہ جاہلیت کی موت مرا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 450]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1851، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4578، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 259، 402، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 16709، وأحمد فى «مسنده» برقم: 5486»
وضاحت: تشریح: -
اس حدیث میں بھی جماعت سے دوری اختیار کرنے والے اور خلیفہ وقت کی بیعت توڑنے والے شخص کی مذمت بیان کی گئی ہے۔
”جس نے جماعت سے دوری اختیار کی وہ جاہلیت کی موت مرا۔“ مطلب یہ ہے کہ جو شخص اہل السنہ والجماعہ کے منہج اور طریقے سے ہٹ کر چلا، اہل السنہ والجماعہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو عقیدہ توحید اور تمسک بالسنہ کو دین کی بنیاد مانتے ہیں، جن کا مسلک کتاب وسنت ہے۔ ان کے منہج اور طریقے سے ہٹ کر چلنے والا جاہلیت کی موت مرا یعنی اس کی موت اہل جاہلیت کی طرح گمراہی پر ہوگی۔
ایک حدیث میں ہے کہ ”جس نے جماعت سے ایک بالشت بھی دوری اختیار کی اس نے اپنی گردن سے اسلام کا طوق اتار پھینکا۔“ (دیکھئے حدیث نمبر 448) دوسری حدیث میں ہے کہ ”جماعت (حقہ) کو لازم پکڑو کیونکہ دور رہ جانے والی اکیلی بکری کو بھیڑیا کھا جاتا ہے“۔ [ابن خزيمه: 1386، صحيح]
”جس نے اطاعت سے ہاتھ کھینچا روز قیامت اس کے لیے کوئی حجت نہیں ہوگی۔“ مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کے متفقہ خلیفہ کی ہر حال میں اطاعت کرو، معمولی معمولی باتوں کو بہانا بنا کر قانون شکنی کر کے لاقانونیت پیدا نہ کرو۔
حدیث میں ہے کہ ”جس نے اپنے امیر کے کسی کام کو ناپسند کیا تو اسے چاہیے کہ صبر کرے کیونکہ جو شخص سلطان کی اطاعت سے ایک بال بھی نکلا وہ جاہلیت کی موت مرا“۔ [بخاري: 7053]
دوسری حدیث ہے: ”بے شک عنقریب تم میرے بعد ایسے کام دیکھو گے جو تم کو برے لگیں گے۔“ صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اس سلسلے میں ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں؟ فرمایا: ”انہیں ان کا حق ادا کرو اور اپنا حق اللہ سے مانگو۔“ [بخاري: 7052]
اسی طرح ایک اور حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اللہ کے نبی! یہ بتلائیے کہ اگر ہم پر ایسے حاکم مسلط ہوں جو ہم سے اپنے حقوق کا مطالبہ کریں اور ہمارے حقوق ہمیں نہ دیں تو اس صورت میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے اس سائل سے اعراض کیا، اس نے دوبارہ سوال کیا، آپ نے پھر اعراض کیا، پھر اس نے دوسری یا تیسری بار سوال کیا تو سیدنا اشعث بن قیسی رضی اللہ عنہ نے اسے کھینچ لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو اور اطاعت کرو کیونکہ ان کا بوجھ ان پر ہے اور تمہارا بوجھ تم پر ہے۔“ [مسلم: 1846]
ایک اور حدیث ہے، سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم شر میں مبتلا تھے پھر اللہ ہمارے پاس اس خیر کو لے آیا، کیا اس خیر کے بعد پھر شر ہوگا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔“ میں نے پوچھا: کیا اس شر کے بعد خیر ہوگا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔“ میں نے عرض کیا: کیا اس خیر کے بعد شر ہوگا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔“ میں نے پوچھا: اس کی کیا کیفیت ہوگی؟ آپ نے فرمایا: ”میرے بعد ایسے آئمہ ہوں گے جو میری ہدایت پر عمل نہیں کریں گے اور نہ میری سنت پر چلیں گے اور عنقریب ان میں ایسے لوگ ہوں گے جن کے دل شیطان کی طرح اور بدن انسانوں کی مانند ہوں گے۔“ راوی کہتا ہے: میں نے کہا: اللہ کے رسول! اگر میں ان کو پاؤں تو کیا کروں؟ فرمایا: ”امیر کے احکام سننا اور اس کی اطاعت کرنا خواہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے مارے جائیں اور تمہارا مال چھین لیا جائے پھر بھی (احکام) سننا اور اطاعت کرنا۔“ [مسلم: 1847]

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں