مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
857. إِذَا نَصَحَ الْعَبْدُ لِسَيِّدِهِ وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ كَانَ لَهُ الْأَجْرُ مَرَّتَيْنِ
جب غلام اپنے مالک کی خیر خواہی کرے اور اپنے رب کی اچھے طریقے سے عبادت کرے تو اس کے لیے دہرا اجر ہے
حدیث نمبر: 1401
1401 - أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُوسَى السِّمْسَارُ، ثنا أَبُو زَيْدٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَرْوَزِيُّ، أبنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفَرَبْرِيُّ، أبنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَهُ، وَفِيهِ «كَانَ لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ»
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔ اور انہوں نے یہ حدیث بیان کی اور اس میں تھا: ”اس کے لیے اس کا دہرا اجر ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1401]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2550، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1664، بخاري: 2550 ومالك فى «الموطأ» برقم: 1739، وأبو داود فى «سننه» برقم: 5169، وأحمد فى «مسنده» برقم: 4764»
حدیث نمبر: 1402
1402 - حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْفَارِسِيُّ، لَفْظًا مِنْ كِتَابِهِ، أنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصُّوفِيُّ، نا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا فَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا نَصَحَ الْعَبْدُ لِسَيِّدِهِ وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ كَانَ لَهُ الْأَجْرُ مَرَّتَيْنِ»
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب غلام اپنے مالک کی خیر خواہی کرے اور اپنے رب کی اچھے طریقے سے عبادت کرے تو اس کے لیے دہرا اجر ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1402]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2550، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1664، بخاري: 2550 ومالك فى «الموطأ» برقم: 1739، وأبو داود فى «سننه» برقم: 5169، وأحمد فى «مسنده» برقم: 4764»
حدیث نمبر: 1403
1403 - حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ تُرَابُ بْنُ عُمَرَ، أنا الْمُؤَمَّلُ بْنُ يَحْيَى، أنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا نَصَحَ لِسَيِّدِهِ وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ اللَّهِ فَلَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ»
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ جب غلام اپنے مالک کی خیر خواہی کرے اور اچھے طریقے سے اللہ کی عبادت کرے تو اس کے لیے اس کا دہرا اجر ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1403]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2550، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1664، بخاري: 2550 ومالك فى «الموطأ» برقم: 1739، وأبو داود فى «سننه» برقم: 5169، وأحمد فى «مسنده» برقم: 4764»
وضاحت: تشریح: -
ان احادیث میں اس مسلمان غلام کی فضیلت بیان فرمائی گئی ہے جو ہر وقت اپنے مالک کا خیر خواہ رہتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اچھے طریقے سے اپنے رب کی عبادت بھی کرتا ہے۔ مالک کی خیر خواہی کا مطلب ہے کہ پوری دیانت داری کے ساتھ اس کا کام کرے اور اس کے مال و اسباب کی حفاظت کرے۔ اللہ تعالیٰ ٰ کی عبادت سے مراد اسلام کے احکام و فرائض کی پابندی کرنا ہے۔ ایسے نیک اور فرمانبردار غلام ولونڈی کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں دہرا اجر ہے۔ یعنی ایک اجر اپنے مالک کی خیر خواہی کا اور ایک اپنے رب کی عبادت کرنے کا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ”غلام کے لیے کیا ہی خوب ہے کہ اللہ اسے اس حال میں فوت کرے کہ وہ اپنے رب کی اچھے طریقے سے عبادت بھی کرتا ہو اور اپنے مالک کی اطاعت بھی اچھے طریقے سے کرتا ہو، کیا خوب ہے اس کے لیے۔“ [بخاري: 2549]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مملوک غلام کے لیے جو اپنے مالک کی خیر خواہی اور اپنے رب کی عبادت کرنے والا ہو دہرا اجر ہے۔“ اور اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں ابوہریرہ کی جان ہے، اگر اللہ کی راہ میں جہاد، حج اور والدہ کے ساتھ نیکی کرنے کا مسئلہ نہ ہوتا تو میں غلام ہونے کی حالت میں مرنا پسند کرتا۔ [بخاري: 2548] اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ غلام جو اپنے رب کی اچھے طریقے سے عبادت کرتا ہے اور اپنے مالک کے جو اس پر خیر خواہی اور فرمانبرداری کے حقوق ہیں انہیں ادا کرتا ہے تو اس کے لیے وہرا اجر ہے۔“ [بخاري: 2551]
ان احادیث میں اس مسلمان غلام کی فضیلت بیان فرمائی گئی ہے جو ہر وقت اپنے مالک کا خیر خواہ رہتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اچھے طریقے سے اپنے رب کی عبادت بھی کرتا ہے۔ مالک کی خیر خواہی کا مطلب ہے کہ پوری دیانت داری کے ساتھ اس کا کام کرے اور اس کے مال و اسباب کی حفاظت کرے۔ اللہ تعالیٰ ٰ کی عبادت سے مراد اسلام کے احکام و فرائض کی پابندی کرنا ہے۔ ایسے نیک اور فرمانبردار غلام ولونڈی کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں دہرا اجر ہے۔ یعنی ایک اجر اپنے مالک کی خیر خواہی کا اور ایک اپنے رب کی عبادت کرنے کا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ”غلام کے لیے کیا ہی خوب ہے کہ اللہ اسے اس حال میں فوت کرے کہ وہ اپنے رب کی اچھے طریقے سے عبادت بھی کرتا ہو اور اپنے مالک کی اطاعت بھی اچھے طریقے سے کرتا ہو، کیا خوب ہے اس کے لیے۔“ [بخاري: 2549]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مملوک غلام کے لیے جو اپنے مالک کی خیر خواہی اور اپنے رب کی عبادت کرنے والا ہو دہرا اجر ہے۔“ اور اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں ابوہریرہ کی جان ہے، اگر اللہ کی راہ میں جہاد، حج اور والدہ کے ساتھ نیکی کرنے کا مسئلہ نہ ہوتا تو میں غلام ہونے کی حالت میں مرنا پسند کرتا۔ [بخاري: 2548] اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ غلام جو اپنے رب کی اچھے طریقے سے عبادت کرتا ہے اور اپنے مالک کے جو اس پر خیر خواہی اور فرمانبرداری کے حقوق ہیں انہیں ادا کرتا ہے تو اس کے لیے وہرا اجر ہے۔“ [بخاري: 2551]
858. إِذَا تَقَارَبَ الزَّمَانُ انْتَقَى الْمَوْتُ خِيَارَ أُمَّتِي
جب زمانہ (قیامت کے) بالکل قریب ہوگا تو موت میری امت کے بہترین لوگوں کو ختم کر دے گی
حدیث نمبر: 1404
1404 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، أبنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَالِبٍ، أبنا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا تَقَارَبَ الزَّمَانُ انْتَقَى الْمَوْتُ خِيَارَ أُمَّتِي كَمَا يَنْتَقِي أَحَدُكُمْ خِيَارَ الرُّطَبِ مِنَ الطَّبَقِ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب زمانہ (قیامت کے) بالکل قریب ہوگا تو موت میری امت کے بہترین لوگوں کو ختم کر دے گی جس طرح تم میں سے کوئی طست سے پکی ہوئی تازہ کھجوروں کو ختم کرتا ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1404]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدا، وأخرجه امثال الحديث للرامهرمزى: 91»
یحیی ٰبن عبد الله متروک ہے۔
یحیی ٰبن عبد الله متروک ہے۔
حدیث نمبر: 1405
1405 - أنا هِبَةُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْخَوْلَانِيُّ، أنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ طَالِبٍ، إِجَازَةً، نا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَلَّادٍ، نا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَذَكَرَهُ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔۔۔۔ اور انہوں نے یہ حدیث بیان کی۔ [مسند الشهاب/حدیث: 1405]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدا، وأخرجه امثال الحديث للرامهرمزى: 91»
یحیی ٰبن عبد الله متروک ہے۔
یحیی ٰبن عبد الله متروک ہے۔
859. إِذَا اشْتَكَى الْمُؤْمِنُ أَخْلَصَهُ ذَلِكَ مِنَ الذُّنُوبِ
جب مومن کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اسے گناہوں سے صاف کر دیتی ہے
حدیث نمبر: 1406
1406 - أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَحْمَدَ الْمُكْتِبُ، قَالَ: أبنا جَدِّي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ بُنْدَارِ بْنِ خَيْرٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ فِيلٍ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا اشْتَكَى الْمُؤْمِنُ أَخْلَصَهُ ذَلِكَ مِنَ الذُّنُوبِ كَمَا يُخْلِصُ الْكِيرُ الْخَبَثَ مِنَ الْحَدِيدِ»
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مومن کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اسے گناہوں سے صاف کر دیتی ہے جیسے بھٹی لوہے کو میل کچیل سے صاف کرتی ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1406]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه المعجم الاوسط: 5351، الادب المفرد: 497، عبد بن حميد: 1487»
حدیث نمبر: 1407
1407 - وأنا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْمُقْرِئُ، أنا أَبُو أَحْمَدَ الْفَرْضِيُّ، نا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، نا أَبُو عَذْبَةَ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا مَرِضَ نَقَّى اللَّهُ عَنْهُ الْخَطَايَا فِي مَرَضِهِ كَمَا يُنَقِّي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ»
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک بندہ جب بیمار ہوتا ہے تو اس کی بیماری میں اللہ اس سے گناہوں کو اس طرح صاف کر دیتا ہے جس طرح بھٹی لوہے کا میل کچیل صاف کرتی ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1407]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه المعجم الاوسط: 5351، الادب المفرد: 497، عبد بن حميد: 1487»
وضاحت: تشریح: -
حدیث نمبر 825ملاحظہ کیجیے۔
حدیث نمبر 825ملاحظہ کیجیے۔
860. إِذَا أَرَادَ اللَّهُ إِنْفَاذَ قَضَائِهِ وَقَدَرِهِ سَلَبَ ذَوِي الْعُقُولِ عُقُولَهُمْ
اللہ تعالیٰ جب اپنا فیصلہ اور تقدیر نافذ فرمانا چاہتا ہے تو عقل والوں کی عقلیں سلب کر لیتا ہے
حدیث نمبر: 1408
1408 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ التُّسْتَرِيُّ، أبنا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ النُّعَيْمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ الْمُؤَدِّبُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهِزَّانِيُّ، ثنا الرِّيَاشِيُّ، ثنا الْأَصْمَعِيُّ، ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَرَادَ اللَّهُ تَعَالَى إِنْفَاذَ قَضَائِهِ وَقَدَرِهِ سَلَبَ ذَوِي الْعُقُولِ عُقُولَهُمْ حَتَّى يُنَفِّذَ فِيهِمْ قَضَاءَهُ وَقَدَرَهُ»
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جب اپنا فیصلہ اور تقدیر نافذ فرمانا چاہتا ہے تو عقل والوں کی عقلیں سلب کر لیتا ہے یہاں تک کہ ان میں اپنا فیصلہ اور تقدیر نافذ فرما دیتا ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1408]
تخریج الحدیث: «منكر، ميزان الاعدال: 4/ 30»
محمد بن محمد بن سعید مودب مجہول ہے، اس میں اور بھی علتیں ہیں۔
محمد بن محمد بن سعید مودب مجہول ہے، اس میں اور بھی علتیں ہیں۔
861. كَفَى بِالسَّلَامَةِ دَاءً
سلامتی کے لیے بیماری کافی ہے
حدیث نمبر: 1409
1409 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَرْغَانِيُّ، أبنا الْإِمَامُ أَبُو الْقَاسِمِ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ الْخَطِيبُ الْمَيْدَانِيُّ بِزَوْزَنَ، ثنا أَبُو قُرَيْشٍ مُحَمَّدُ بْنُ جُمُعَةَ بْنِ خَلَفٍ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ الْمَكِّيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَفَى بِالسَّلَامَةِ دَاءً»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سلامتی کے لیے بیماری کافی ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1409]
تخریج الحدیث: إسناده ضعیف، ابوالفتح محمد بن اسماعیل فرغانی، ابوالقاسم حسن بن محمد بن حبیب وغیرہ کی توثیق نہیں ملی۔
862. كَفَى بِالْمَوْتِ وَاعِظًا
وعظ و نصیحت کے لیے موت کافی ہے
حدیث نمبر: 1410
1410 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا أُنَيْسٌ أَبُو عَمْرٍو الْمُسْتَمْلِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَمَّارٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «كَفَى بِالْمَوْتِ وَاعِظًا، وَكَفَى بِالْيَقِينِ غِنًى، وَكَفَى بِالْعِبَادَةِ شُغْلًا»
سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”وعظ و نصیحت کے لیے موت کافی ہے، غنی کے لیے یقین کافی ہے اور مشغولیت کے لیے عبادت کافی ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1410]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدا، وأخرجه ابن الاعرابي: 992، شعب الايمان: 10072»
ربیع بن بدر متروک ہے، اس میں اور بھی علتیں ہیں۔
ربیع بن بدر متروک ہے، اس میں اور بھی علتیں ہیں۔