🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
65. ‏(‏65‏)‏ بَابُ ذِكْرِ ثَنَاءِ اللَّهِ- عَزَّ وَجَلَّ- عَلَى الْمُتَطَهِّرِينَ بِالْمَاءِ
پانی سے طہارت حاصل کرنے والوں کی اللہ تعالیٰ نے تعریف کی ہے، اس تعریف کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 83
نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عُوَيْمِ بْنِ سَاعِدَةَ الأَنْصَارِيِّ ثُمَّ الْعَجْلانِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لأَهْلِ قُبَاءَ:" إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَحْسَنَ عَلَيْكُمُ الثَّنَاءَ فِي الطُّهُورِ، وَقَالَ: فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا سورة التوبة آية 108 حَتَّى انْقَضَتِ الآيَةُ"، فَقَالَ لَهُمْ:" مَا هَذَا الطُّهُورُ؟"، فَقَالُوا: مَا نَعْلَمُ شَيْئًا إِلا أَنَّهُ كَانَ لَنَا جِيرَانٌ مِنَ الْيَهُودِ، وَكَانُوا يَغْسِلُونَ أَدْبَارَهُمْ مِنَ الْغَائِطِ فَغَسَلْنَا كَمَا غَسَلُوا
سیدنا عویم بن ساعدہ انصاری عجلانی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبا والوں سے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے طہارت کے بارے میں تمہاری بڑی اچھی تعریف کی ہے۔ پھر یہ آیت تلاوت کی «‏‏‏‏فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُوا ۚ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ» ‏‏‏‏ [ سورة التوبة ] اس میں ایسے آدمی ہیں جو خوب پاک ہونے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ خوب پاک ہونے والوں کو پسند کرتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: وہ کیسی طہارت ہے؟ (کہ جس پر اللہ تعالیٰ نے تمہاری اتنی تعریف کی ہے) انہوں نے عرض کیا کہ ہمیں کسی چیز کا علم نہیں سوائے اس کے کچھ یہودی ہمارے ہمسائے تھے جو قضائے حاجت سے اپنی پُشتوں کو دھوتے تھے تو ہم نے بھی (استنجا کرتے وقت پنی پُشتوں کو) دھونا شروع کردیا جیسے وہ دھوتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الاستنجاء بالماء‏.‏/حدیث: 83]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 83، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 557، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15725، والطبراني فى(الكبير) برقم: 348، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 5885، والطبراني فى (الصغير) برقم: 828»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
66. ‏(‏66‏)‏ بَابُ ذِكْرِ اسْتِنْجَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَاءِ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پانی سے استنجا کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 84
نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، نا ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنِي رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، نا عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَبَرَّزَ لِحَاجَةٍ، أَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فَيَتَغَسَّلُ بِهِ"
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لیے باہر نکلتے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی لے کر آتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے استنجا کرتے اور اپنی پُشت دھوتے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الاستنجاء بالماء‏.‏/حدیث: 84]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 150، 151، 152، 217، 500، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 270، وابن الجارود فى "المنتقى"، 44، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 84، 85، 86، 87، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1442، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 45، وأبو داود فى (سننه) برقم: 43، والدارمي فى (مسنده) برقم: 702، 703، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 515، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12283»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 85
نا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خِدَاشٍ الزَّهْرَانِيُّ ، نا سَالِمُ بْنُ قُتَيْبَةَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا ذَهَبَ لِحَاجَتِهِ ذَهَبْتُ مَعَهُ بِعُكَّازٍ وَإِدَاوَةٍ، فَإِذَا خَرَجَ مَسَحَ بِالْمَاءِ، وَتَوَضَّأَ مِنَ الإِدَاوَةِ"
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لئے جاتے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک چھڑی اور پانی کا برتن لے کر جاتا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم (فراغت کے بعد) نکلتے تو پانی سے استنجا کرتے اور پانی کے برتن سے وضو کرتے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الاستنجاء بالماء‏.‏/حدیث: 85]
تخریج الحدیث: «تقدم برقم: 84، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 150، 151، 152، 217، 500، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 270، وابن الجارود فى "المنتقى"، 44، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 84، 85، 86، 87، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1442، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 45، وأبو داود فى (سننه) برقم: 43، والدارمي فى (مسنده) برقم: 702، 703، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 515، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12283»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 86
نا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي مُعَاذٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ لِحَاجَتِهِ اتَّبَعْنَاهُ أَنَا وَغُلامٌ آخَرُ بِإِدَاوَةٍ مِنْ مَاءٍ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَبُو مُعَاذٍ هَذَا هُوَ: عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ
سیدنا ابو معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لیے جاتے تو میں اور ایک لڑکا پانی کا برتن لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے جاتے۔ امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ابو معاذ عطاء بن ابی میمونہ ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الاستنجاء بالماء‏.‏/حدیث: 86]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 150، 151، 152، 217، 500، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 270، وابن الجارود فى "المنتقى"، 44، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 84، 85، 86، 87، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1442، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 45، وأبو داود فى (سننه) برقم: 43، والدارمي فى (مسنده) برقم: 702، 703، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 515، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12283»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 87
نا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، نا شُعْبَةُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ الْخَلاءَ فَأَحْمِلُ أَنَا وَغُلامٌ نَحْوِي إِدَاوَةً مِنْ مَاءٍ وَغَيْرِهِ، فَيَسْتَنْجِي بِالْمَاءِ"
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلا میں داخل ہوتے تو میں اور میرے جیسا ایک اور لڑکا پانی کا برتن اُٹھا کر لے جاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پانی سے استنجا کرتے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الاستنجاء بالماء‏.‏/حدیث: 87]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 150، 151، 152، 217، 500، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 270، وابن الجارود فى "المنتقى"، 44، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 84، 85، 86، 87، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1442، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 45، وأبو داود فى (سننه) برقم: 43، والدارمي فى (مسنده) برقم: 702، 703، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 515، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12283»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
67. ‏(‏67‏)‏ بَابُ تَسْمِيَةِ الِاسْتِنْجَاءِ بِالْمَاءِ فِطْرَةٌ
پانی سے استنجا کرنے کو فطرت کا نام دیا گیا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 88
نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وَحَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا وَهُوَ ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، نا مُصْعَبُ بْنُ شَيْبَةَ ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، حَدَّثَتْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " عَشْرٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: قَصُّ الشَّارِبِ، وَاسْتِنْشَاقُ الْمَاءِ، وَالسِّوَاكُ، وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ، وَنَتْفُ الإِبْطِ، وَحَلْقُ الْعَانَةِ، وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ، وَقَصُّ الأَظْفَارِ، وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ" . قَالَ عَبْدَةُ فِي حَدِيثِهِ: وَالْعَاشِرَةُ لا أَدْرِي مَا هِيَ إِلا أَنْ تَكُونَ الْمَضْمَضَةَ. وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ، قَالَ مُصْعَبٌ: نَسِيتُ الْعَاشِرَةَ إِلا أَنْ تَكُونَ الْمَضْمَضَةَ. قَالَ وَكِيعٌ: انْتِقَاصُ الْمَاءِ إِذَا نَضَحَهُ بِالْمَاءِ نَقَصَ. وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنُ رَافِعٍ الْعَاشِرَةَ، وَلا سُفْيَانُ وَلا شَكَّ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دس کام فطرت سے ہیں، مونچھیں کاٹنا، ناک میں پانی ڈالنا، اور (اُسے صاف کرنا)، مسواک کرنا، داڑھی بڑھانا، بغلوں کے بال اکھیڑنا، زیر ناف بال صاف کرنا، استنجا کرنا، (یا وضو کے بعد شرم گا کو چھینٹے مارنا) ناخن تراشنا اور اُنگلیوں کے جوڑ دھونا۔ عبدہ اپنی روایت میں کہتے ہیں کہ دسویں کام کا مجھے علم نہیں کہ وہ کیا ہے، مگر یہ کہ کُلّی کرنا ہو۔ وکیع کی روایت میں ہے کہ مصعب نے کہا کہ میں دسواں کام بھول گیا ہوں، ممکن ہے کلی کرنا ہو۔ وکیع فرماتے ہیں: «‏‏‏‏اِنتقَاصُ الْمَاءَ» ‏‏‏‏ پانی کا کم ہونا اس کا مطلب یہ ہے کہ جب اپنی شرم گاہ کو پانی سے چھینٹے مارے گا تو پیشاب کے قطرے نکلنے بند ہو جائیں گے۔ (امام صاحب فرماتے ہیں) ابن رافع اور سفیان نے دسواں کام ذکر نہیں کیا اور نہ شک کرتے ہوئے دسواں کام بیان کیا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الاستنجاء بالماء‏.‏/حدیث: 88]
تخریج الحدیث: «خرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 261، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 88، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5055، وأبو داود فى (سننه) برقم: 53، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2757، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 293، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 154، 241، والدارقطني فى (سننه) برقم: 315، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25700»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
68. ‏(‏68‏)‏ بَابُ دَلْكِ الْيَدِ بِالْأَرْضِ وَغَسْلِهِمَا بَعْدَ الْفَرَاغِ مِنَ الِاسْتِنْجَاءِ بِالْمَاءِ
پانی سے استنجا کرنے کے بعد ہاتھوں کو زمین پر رگڑنا اور پانی سے دھونا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 89
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيُّ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَخَلَ الْغَيْضَةَ فَقَضَى حَاجَتَهُ، فَأَتَاهُ جَرِيرٌ بِإِدَاوَةٍ مِنْ مَاءٍ فَاسْتَنْجَى بِهَا، قَالَ: وَمَسَحَ يَدَهُ بِالتُّرَابِ"
حضرت ابراہیم جریر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جھاڑی میں داخل ہوئے اور قضائے حاجت کی، تو سیدنا جریر رضی الله عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی کا برتن لے کر حاضر ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی سے استنجا کیا، وہ کہتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ مٹی سے ملا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الاستنجاء بالماء‏.‏/حدیث: 89]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 387، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 272، وابن الجارود فى "المنتقى"، 89، 90، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 89، 186، 187، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1335، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 608، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 51، وأبو داود فى (سننه) برقم: 154، والترمذي فى (جامعه) برقم: 93، 94، 611، 612، والدارمي فى (مسنده) برقم: 706، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 359، 543، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 526، والدارقطني فى (سننه) برقم: 741، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19475»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
69. ‏(‏69‏)‏ بَابُ الْقَوْلِ عِنْدَ الْخُرُوجِ مِنَ الْمُتَوَضَّأِ
بیت الخلاء سے نکلنے پر دعا پڑھنی چاہیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 90
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، نا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَسَمِعْتُهَا، تَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مِنَ الْغَائِطِ، قَالَ:" غُفْرَانَكَ" . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَسْلَمَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، بِهَذَا مِثْلَهُ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیںکہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا تو میں نے اُنہیں فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء سے باہر نکلتے تو کہتے «‏‏‏‏غُفْرَانَكَ» ‏‏‏‏ اے اللہ، تجھ سے بخشش ما نگتا ہوں۔ (اما م صاحب فرماتے ہیں) ہمیں محمد بن اسلم نے عبید اللہ بن مو سیٰ سے اور اُنہوں نے اسرائیل سے اسی طرح روایت بیان کی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الاستنجاء بالماء‏.‏/حدیث: 90]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن: صحيح ابي داود: 22، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 45، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 90، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1444، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 566، وأبو داود فى (سننه) برقم: 30، والترمذي فى (جامعه) برقم: 7، والدارمي فى (مسنده) برقم: 707، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 300، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 465، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25859»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں