🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
651. (418) بَابُ الصَّلَاةِ فِي النَّعْلَيْنِ
جوتے پہن کر نماز پڑھنے کا بیان،
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1013
نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ ، أنا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ، لا يَدَعَهَا فِي سَفَرٍ وَلا حَضَرٍ" . هَكَذَا حَدَّثَنَا بِهِ الْمُخَرِّمِيُّ مَرْفُوعًا، فَإِنْ كَانَ حَفِظَ فِي هَذَا الإِسْنَادِ وَرَفَعَهُ فَهَذَا خَبَرٌ غَرِيبٌ، كَذَلِكَ خَبَرُ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ غَرِيبٌ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چھوٹی چٹائی پر نماز پڑھا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے سفر و حضر میں اپنے ساتھ رکھتے تھے۔ اسی طرح جناب محزمی نے ہمیں یہ حدیث مرفوع بیان کی ہے اگرچہ انہوں نے اس حدیث کی سند کو یاد رکھا ہے اور اسے مرفوع بیان کیا ہے مگر یہ حدیث غریب ہے اسی طرح جناب زہری کی سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت بھی غریب ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الصلاة على البسط/حدیث: 1013]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 165، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1013، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1100، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5482»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
652. (419) بَابُ وَضْعِ الْمُصَلِّي نَعْلَيْهِ عَنْ يَسَارِهِ إِذَا خَلَعَهُمَا، إِذَا لَمْ يَكُنْ عَنْ يَسَارِهِ مُصَلٍّ،
اس بات کا بیان کہ نماز جب جوتے اتارے تو انہیں اپنی بائیں جانب رکھے جبکہ اس کی بائیں جانب کوئی نمازی نہ ہو،
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1014
فَيَكُونُ نَعْلَاهُ عَنْ يَمِينِ الْمُصَلِّي عَنْ يَسَارِهِ
(کیونکہ) اس طرح اُس کے جوتے اس کے بائیں جانب کھڑے نمازی کے دائیں طرف ہو جائیں گے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الصلاة على البسط/حدیث: Q1014]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1014
نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَقَرَأْتُهُ عَلَى بُنْدَارٍ ، وَهَذَا حَدِيثُ الدَّوْرَقِيِّ، نَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى يَوْمَ الْفَتْحِ وَاضِعًا نَعْلَيْهِ عَنْ يَسَارِهِ"
سیدنا عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکّہ والے دن اپنے جوتے بائیں جانب رکھ کر نماز پڑھی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الصلاة على البسط/حدیث: 1014]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 455، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 546، 1014، 1015، 1649، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1815، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 356، 357، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 959، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 775، وأبو داود فى (سننه) برقم: 648، 649، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 820، 1431، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2500، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15629»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1015
نَا بُنْدَارٌ ، نَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ:" حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ، فَصَلَّى يَوْمَ الْفَتْحِ فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ فَوَضَعَهُمَا عَنْ يَسَارِهِ"
سیدنا عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ فتح مکّہ والے سال، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکّہ والے دن نماز ادا فرمائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جوتے اتار کر اپنی بائیں جانب رکھ لیے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الصلاة على البسط/حدیث: 1015]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 455، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 546، 1014، 1015، 1649، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1815، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 356، 357، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 959، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 775، وأبو داود فى (سننه) برقم: 648، 649، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 820، 1431، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2500، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15629»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
653. (420) بَابُ ذِكْرِ الزَّجْرِ عَنْ وَضْعِ الْمُصَلِّي نَعْلَيْهِ عَنْ يَسَارِهِ إِذَا كَانَ عَنْ يَسَارِهِ مُصَلٍّ،
جب نمازی کی بائیں جانب کوئی نمازی موجود ہو تو نمازی کا اپنی بائیں جانب جوتے رکھنا منع ہے،
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1016
يَكُونُ النَّعْلَانِ عَنْ يَمِينِ الْمُصَلِّي عَنْ يَسَارِهِ
کیونکہ اس طرح جوتے اس کی بائیں جانب کھڑے نمازی کی دائیں جانب ہوجائیں گے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الصلاة على البسط/حدیث: Q1016]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1016
نَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، ح وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلا يَضَعْ نَعْلَيْهِ عَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ يَسَارِهِ إِلا أَنْ لا يَكُونَ عَنْ يَسَارِهِ أَحَدٌ، وَلْيَضَعْهُمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ" . وَقَالَ الدَّوْرَقِيُّ: وَلا يَضَعُ نَعْلَيْهِ عَنْ يَسَارِهِ إِلا أَنْ لا يَكُونَ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْيَمِينَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو وہ اپنے جوتے اپنی دائیں جانب اور اپنی بائیں جانب نہ رکھے، مگر یہ اس کی بائیں جانب کوئی نمازی موجود نہ ہو (تو پھر رکھ لے) اور اُسے چاہیے کہ انہیں اپنی دونوں ٹانگوں کے درمیان رکھ لے۔“ جناب الدورقی کی روایت میں یہ الفاظ ہیں، ”اور وہ اپنی بائیں جانب اپنے جوتے نہ رکھے الا یہ کہ اس جانب کوئی نہ ہو“ اور انہوں نے دائیں جانب کا تذکرہ نہیں کیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الصلاة على البسط/حدیث: 1016]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1009، 1016، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2182، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 958، 960، وأبو داود فى (سننه) برقم: 654، 655، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1432، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4327»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
654. (421) بَابُ الْمُصَلِّي يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ وَقَدْ أَصَابَهُمَا قَذَرٌ لَا يَعْلَمُ بِهِ
اس بات کا بیان کہ نمازی اپنے جوتوں میں نماز پڑھتا ہے جبکہ انہیں گندگی لگی ہوتی ہے جس کا اسے علم نہیں ہوتا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1017
وَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْمُصَلِّيَ إِذَا صَلَّى فِي نَعْلٍ وَثَوْبٍ طَاهِرٍ عِنْدَهُ، ثُمَّ بَانَ عِنْدَهُ أَنَّ النَّعْلَ أَوِ الثَّوْبَ كَانَ غَيْرَ طَاهِرٍ، أَنَّ مَا مَضَى مِنْ صَلَاتِهِ جَائِزٌ عَنْهُ لَا يَجِبُ عَلَيْهِ إِعَادَتَهُ، إِذِ الْمَرْءُ إِنَّمَا أُمِرَ أَنْ يُصَلِّيَ فِي ثَوْبٍ طَاهِرٍ عِنْدَهُ، لَا فِي الْمُغَيَّبِ عِنْدَ اللَّهِ

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1017
نَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، أَيْضًا حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي نُعَامَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي، فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ، فَخَلَعَ النَّاسُ نِعَالَهُمْ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ:" لِمَ خَلَعْتُمْ نِعَالَكُمْ؟"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْنَاكَ خَلَعْتَ فَخَلَعْنَا، فَقَالَ:" إِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي، فَأَخْبَرَنِي أَنَّ بِهِمَا خَبَثًا، فَإِذَا جَاءَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَقْلِبْ نَعْلَهُ، فَلْيَنْظُرْ فِيهِمَا خَبَثٌ فَلْيَمْسَحْهُمَا بِالأَرْضِ، ثُمَّ لَيُصَلِّ فِيهَا" هَذَا حَدِيثُ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى فِي حَدِيثِ أَبِي الْوَلِيدِ، فَقَالَ:" إِنَّ جِبْرِيلَ أَخْبَرَنِي أَنَّ فِيهِمَا قَذَرًا، أَوْ أَذًى"
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھارہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جوتے اتار دیے، توصحابہ کرام نے بھی اپنے جوتے اتار دیے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو فرمایا: ”تم نے اپنے جوتے کیوں اتار دیے؟“ اُنہوں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتے اتار دیے ہیں تو ہم نے بھی اتار دیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک جبرائیل علیہ السلام میرے پاس تشریف لائے تھے تو اُنہوں نے مجھے بتایا کہ جو توں میں گندگی لگی ہوئی ہے (اس لئے میں نے اتار دیے) اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں آئے تو اپنے جوتے کو پلٹ کر دیکھ لے، اگر انہیں گندگی لگی ہو تو انہیں زمین کے ساتھ رگڑ کر صاف کر لے پھر ان میں نماز پڑھ لے۔“ یہ یزید بن ہارون کی روایت ہے، جب کہ ابوالولید کی روایت میں ہے کہ ”بیشک جبرائیل علیہ السلام نے مجھے بتایا تھا کہ ان میں گندگی یا پلیدگی لگی ہوئی ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الصلاة على البسط/حدیث: 1017]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 786، 1017، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2185، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 961، وأبو داود فى (سننه) برقم: 650، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1418، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4153، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11322»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
655. (422) بَابُ الْمُصَلِّي يَشُكُّ فِي الْحَدَثِ، وَالْأَمْرِ بِالْمُضِيِّ فِي صَلَاتِهِ وَتَرْكِ الِانْصِرَافِ عَنِ الصَّلَاةِ
نمازی کو وضو ٹوٹنے کا شک ہوجائے تو اسے اپنی نماز جاری رکھنے اور نماز نہ توڑنے کے حکم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1018
إِذَا خُيِّلَ إِلَيْهِ أَنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ فِيهَا، وَالدَّلِيلِ عَلَى أَنْ يَقِينَ الطَّهَارَةِ لَا يَزُولُ إِلَّا بِيَقِينِ حَدَثٍ وَأَنَّ الصَّلَاةَ لَا تَفْسُدُ بِالشَّكِّ فِي الْحَدَثِ حَتَّى يَسْتَيْقِنَ الْمُصَلِّي بِالْحَدَثِ

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1018
نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، نَا سُفْيَانُ ، نَا الزُّهْرِيُّ ، أَخْبَرَنِي عَبَّادُ بْنُ تَمِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يَجِدُ الشَّيْءَ وَهُوَ فِي الصَّلاةِ، فَقَالَ:" لا يَنْصَرِفُ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا، أَوْ يَجِدَ رِيحًا"
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آدمی کے متعلق سوال کیا جو نماز کی حالت میں کچھ محسوس کرتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس وقت تک نماز نہ توڑے جب تک آواز نہ سن لے یا بو نہ پائے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الصلاة على البسط/حدیث: 1018]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 137، 177، 2056، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 361، وابن الجارود فى "المنتقى"، 3، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 25، 1018، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 160، وأبو داود فى (سننه) برقم: 176، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 513، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 561، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16705»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں