صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
5. باب اسْتِحْبَابِ خَلْطِ الأَزْوَادِ إِذَا قَلَّتْ وَالْمُؤَاسَاةِ فِيهَا:
باب: جب توشے کم ہوں تو سب توشے ملا دینا مستحب ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1729 ترقیم شاملہ: -- 4518
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الْيَمَامِيَّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ، فَأَصَابَنَا جَهْدٌ حَتَّى هَمَمْنَا أَنْ نَنْحَرَ بَعْضَ ظَهْرِنَا، فَأَمَرَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَمَعْنَا مَزَاوِدَنَا، فَبَسَطْنَا لَهُ نِطَعًا فَاجْتَمَعَ زَادُ الْقَوْمِ عَلَى النِّطَعِ، قَالَ: فَتَطَاوَلْتُ لِأَحْزِرَهُ كَمْ هُوَ فَحَزَرْتُهُ كَرَبْضَةِ الْعَنْزِ وَنَحْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً، قَالَ: فَأَكَلْنَا حَتَّى شَبِعْنَا جَمِيعًا، ثُمَّ حَشَوْنَا جُرُبَنَا، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَهَلْ مِنْ وَضُوءٍ؟، قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ بِإِدَاوَةٍ لَهُ فِيهَا نُطْفَةٌ، فَأَفْرَغَهَا، فِي قَدَحٍ فَتَوَضَّأْنَا كُلُّنَا نُدَغْفِقُهُ دَغْفَقَةً أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً، قَالَ: ثُمَّ جَاءَ بَعْدَ ذَلِكَ ثَمَانِيَةٌ، فَقَالُوا: هَلْ مِنْ طَهُورٍ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَرِغَ الْوَضُوءُ ".
ایاس بن سلمہ نے ہمیں اپنے والد حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں نکلے، (راستے میں) تنگی (زاد راہ کی کمی) کا شکار ہو گئے حتی کہ ہم نے ارادہ کر لیا کہ اپنی بعض سواریاں ذبح کر لیں۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو ہم نے اپنا زادراہ اکٹھا کر لیا۔ ہم نے اس کے لیے چمڑے کا دسترخوان بچھایا تو سب لوگوں کا زادراہ اس دسترخوان پر اکٹھا ہو گیا۔ کہا: میں نے نگاہ اٹھائی کہ اندازہ کر سکوں کہ وہ کتنا ہے؟ تو میں نے اندازہ لگایا کہ وہ ایک بکری کے بیٹھنے کی جگہ کے بقدر تھا اور ہم چودہ سو آدمی تھے۔ کہا: تو ہم نے کھایا حتی کہ ہم سب سیر ہو گئے، پھر ہم نے اپنے (خوراک کے) تھیلے (بھی) بھر لیے۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا وضو کے لیے پانی ہے؟“ کہا: تو ایک آدمی اپنا ایک برتن لایا۔ اس میں تھوڑا سا پانی تھا، اس نے وہ ایک کھلے منہ والے پیالے میں انڈیلا تو ہم سب نے وضو کیا، ہم چودہ سو آدمی اسے کھلا استعمال کر رہے تھے۔ کہا: پھر اس کے بعد آٹھ افراد (اور) آئے، انہوں نے کہا: کیا وضو کے لیے پانی ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو کا پانی ختم ہو چکا۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللقطة/حدیث: 4518]
ایاس بن سلمہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تو ہم تنگی اور مشقت سے دوچار ہو گئے، جس کی وجہ سے ہم نے اپنی بعض سواریوں کو نحر کرنے کا ارادہ کر لیا، تو ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اپنے توشے دان جمع کر لیے اور اس کے لیے چمڑے کا دسترخوان بچھا دیا اور لوگوں کا زادِ راہ چمڑے کے دسترخوان پر جمع ہو گیا، حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اوپر اٹھا تاکہ اس کی مقدار کا اندازہ لگاؤں تو میرے اندازے کے مطابق وہ ایک بکری کے بیٹھنے کی جگہ کے برابر تھا اور ہم چودہ سو افراد تھے، ہم سب نے اس سے سیر ہو کر کھایا، پھر ہم نے اپنی تھیلیاں بھر لیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا کچھ پانی ہے؟“ تو ایک آدمی اپنا لوٹا لایا، اس میں تھوڑا سا پانی تھا اور اسے ایک پیالے میں ڈال دیا تو ہم سب نے اس سے وضو کیا اور ہم اسے خوب استعمال کر رہے تھے، یعنی چودہ سو آدمی، اس کے بعد آٹھ آدمی آئے اور کہنے لگے: کیا وضو کے لیے پانی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو کا پانی ختم ہو چکا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللقطة/حدیث: 4518]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1729
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة