🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1091. (140) بَابُ الْمَسْبُوقِ بِبَعْضِ الصَّلَاةِ، وَالْأَمْرِ بِاقْتِدَائِهِ بِالْإِمَامِ فِيمَا يُدْرِكُ، وَإِتْمَامِهِ مَا سُبِقَ بِهِ بَعْدَ فَرَاغِ الْإِمَامِ مِنَ الصَّلَاةِ.
جس شخص کی کچھ نماز (امام کے ساتھ) فوت ہوجائے وہ باقی نماز میں امام کی اقتدا کرے اور امام کے فارغ ہونے پر فوت شدہ نماز کو مکمّل کرلے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1644
نا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلانِيُّ ، نا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، نا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلامٍ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ سَمِعَ جَلَبَةً، فَقَالَ:" مَا شَأْنُكُمْ"؟ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَعْجَلْنَا إِلَى الصَّلاةِ، قَالَ:" فَلا تَفْعَلُوا، إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاةُ، فَلا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي، وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا، وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا"
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اُنہیں اُن کے والد نے خبر دی کہ اس درمیان کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اچانک شور وغل سنا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہیں کیا ہوا ہے؟“ اُنہوں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، ہم نے نماز کے لئے جلدی کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا مت کیا کرو، جب نماز کھڑی ہو جائے تو تم مجھے دیکھ لینے سے پہلے کھڑے نہ ہوا کرو اور تم سکون واطمینان اختیار کیا کرو، پھر تمہیں جتنی نماز مل جائے وہ پڑھ لو اور جو تم سے چھوٹ جائے اُسے مکمّل کرلو۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1644]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 635، 637، 638، 909، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 603، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1526، 1644، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1755، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 686، وأبو داود فى (سننه) برقم: 539، والترمذي فى (جامعه) برقم: 592، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2323، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22969»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1092. (141) بَابُ الْمَسْبُوقِ بِوِتْرٍ مِنْ صَلَاةِ الْإِمَامِ، وَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ لَا سَجْدَتَيِ السَّهْوِ عَلَيْهِ،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ جس شخص کی وتر رکعات امام کے ساتھ فوت ہو جائیں اس پر سجدہ سہو کرنا لازمی نہیں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1645
ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّهُ عَلَيْهِ سَجْدَتَا السَّهْوِ، عَلَى مَذْهَبِهِمْ فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ تَكُونُ سَجْدَتَا الْعَمْدِ، لَا سَجْدَتَا السَّهْوِ، إِذِ الْمَأْمُومُ إِنَّمَا يَتَعَمَّدُ الْجُلُوسَ فِي الْوِتْرِ مِنْ صَلَاتِهِ اقْتِدَاءً بِإِمَامِهِ إِذْ كَانَ لِلْإِمَامِ شَفْعٌ، وَلَهُ وِتْرٌ، وَتَكُونُ سَجْدَتَا السَّهْوِ عَلَى أَصْلِهِمْ لِمَا يَجِبُ عَلَى الْمَرْءِ فِعْلُهُ، لَا لِمَا يَسْهُو فَيَفْعَلَ مَا لَيْسَ لَهُ فِعْلُهُ عَلَى الْعَمْدِ.

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1645
نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَأَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ الدَّوْرَقِيُّ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، وَقَالَ أَبُو بِشْرٍ: عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةِ بْنَ شُعْبَةَ ، قَالَ:" خَصْلَتَانِ لا أَسْأَلُ عَنْهُمَا أَحَدًا بَعْدَمَا قَدْ شَهِدْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّا كُنَّا مَعَهُ فِي سَفَرٍ، فَبَرَزَ لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ جَاءَ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ وَجَانِبَيْ عِمَامَتِهِ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، قَالَ: وَصَلاةُ الإِمَامِ خَلْفَ الرَّجُلِ مَعَ رَعِيَّتِهِ، وَشَهِدْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ فِي سَفَرٍ، فَحَضَرَتِ الصَّلاةُ، فَاحْتَبَسَ عَلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقَامُوا الصَّلاةَ، وَقَدَّمُوا ابْنَ عَوْفٍ، فَصَلَّى بِهِمْ بَعْضَ الصَّلاةِ، وَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى خَلْفَ ابْنِ عَوْفٍ مَا بَقِيَ مِنَ الصَّلاةِ، فَلَمَّا سَلَّمَ ابْنُ عَوْفٍ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَضَى مَا سُبِقَ بِهِ" . هَذَا حَدِيثُ الدَّوْرَقِيِّ وَقَالَ وَقَالَ أَبُو بِشْرٍ : عَنْ عَمْرِو بْنِ وَهْبٍ الثَّقَفِيِّ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، وَقَالَ: فَبَرَزَ لِحَاجَةٍ، فَدَعَا بِمَاءٍ، فَأَتَيْتُهُ بِإِدَاوَةٍ، أَوْ سَطِيحَةٍ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ، فَأَخْرَجَ يَدَهُ مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ، فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، وَمَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ وَجَانِبَيِ الْعِمَامَةِ، ثُمَّ أَبْطَأَ عَلَى الْقَوْمِ، فَأَقَامُوا الصَّلاةَ . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنْ صَحَّ هَذَا الْخَبَرُ يَعْنِي قَوْلَهُ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ وَهْبٍ، فَإِنَّ حَمَّادَ بْنَ زَيْدٍ رَوَاهُ عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ يُكْنَى أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ وَهْبٍ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو چیزوں کو دیکھنے کے بعد ان کے بارے میں کسی سے سوال نہیں کروں گا۔ ہم ایک سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو آپ قضائے حاجت کے لئے تشریف لے گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے تو وضو کیا، اور اپنی پیشانی اور اپنے عمامہ کے دونوں اطراف کا مسح کیا اور اپنے دونوں موزوں کا بھی مسح کیا ـ (دوسری بات یہ ہے کہ) امام کا اپنی رعایا کے ساتھ کسی آدمی کے پیچھے نماز ادا کرنا (جائز ہے) ـ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے تو نماز کا وقت ہوگیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (قضائے حاجت سے فارغ ہو کر) اُن تک نہ پہنچ سکے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نماز کھڑی کی اور سیدنا عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ کو آگے بڑھا دیا، لہٰذا اُنہوں نے ابھی کچھ نماز ہی پڑھائی تھی کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبدا لرحمان بن عوف رضی اﷲ عنہ کے پیچھے بقیہ نماز ادا کی، پھر جب سیدنا ابن عوف رضی اللہ عنہ نے سلام پھیر لیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہوکر فوت شدہ نماز مکمّل کرلی۔“ یہ جناب الدورقی کی روایت ہے۔ جبکہ جناب ابوبشر کی روایت میں ہے کہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لئے تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا تو میں ایک برتن یا مشکیزے میں پانی لیکر حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تنگ آستینوں والا ایک جبّہ زیب تن کیا ہوا تھا - لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبّے کے نیچے سے اپنے ہاتھ نکال کر وضو کیا اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا اور اپنی پیشانی اور عمامہ کے دونوں جانب مسح کیا - پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے پاس دیر سے تشریف لائے تو اُنہوں نے نماز کھڑی کردی۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں اگر یہ حدیث اس سند سے ثابت ہو یعنی ابوبشر کی سند میں ابن سیرین کہتے ہیں: ”حدثنی عمرو بن وهب“ (کہ مجھے عمرو بن وہب نے بیان کیا۔ اس طرح اُنہوں نے اپنے سماع کی صراحت کر دی ہے) لیکن حماد بن زید کی سند میں ہے، ابن سیرین کہتے ہیں: ”حدثني رجل يكني ابا عبدالله عن عمرو بن وهب“۔ (یعنی اس سند میں ابن سیرین اور عمرو بن وہب کے درمیان ابوعبداللہ نامی مجہول شخص کا واسطہ ہے۔) [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1645]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 182، 203، 206، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 274، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 50، 190، 191، 203، 1064، 1514، 1515، 1642، 1645، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1326، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 489، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1، 149، 150، 151، والترمذي فى (جامعه) برقم: 20، 98، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 331، 389، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 267، والدارقطني فى (سننه) برقم: 737، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18421»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1646
ناه مُحَمَّدُ بْنُ سُفْيَانَ الأَيْلِيُّ ، نا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَاصِمِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، لَفْظًا، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلامٌ أَبُو الْمُنْذِرِ الْقَارِئُ ، نا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاةُ فَأْتُوهَا، وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ، فَصَلُّوا مَا أَدْرَكْتُمْ، وَأَتِمُّوا مَا فَاتَكُمْ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کھڑی ہو جائے تو تم نماز کے لئے اس حالت میں آؤ کہ تم پُر سکون اور وقار ہو۔ پھر جو نماز پالو وہ پڑھ لو اور جو تم سے فوت ہو جائے اُسے مکمّل کرلو۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1646]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 636، 908، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 602، ومالك فى (الموطأ) برقم: 221، وابن الجارود فى "المنتقى"، 334، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1065، 1505، 1646، 1772، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2145، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 860، وأبو داود فى (سننه) برقم: 572، والترمذي فى (جامعه) برقم: 327، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 775، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1947، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7350»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1093. (142) بَابُ تَلْقِينِ الْإِمَامِ إِذَا تَعَايَا، أَوْ تَرَكَ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ.
جب امام قراءت قرآن کے دوران اٹک جائے یا کوئی آیت چھوڑ دے تو اسے یاد دہانی کرانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1647
نا بُنْدَارٌ ، وَأَبُو مُوسَى ، قَالا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَرَكَ آيَةً"، وَفِي الْقَوْمِ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نُسِّيتَ آيَةَ كَذَا وَكَذَا، أَوْ نُسِخَتْ؟ قَالَ:" نُسِّيتُهَا" . هَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ وَقَالَ وَقَالَ أَبُو مُوسَى : عَنْ سَلَمَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُبَيٍّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نُسِّيَ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ" وَفِي الْقَوْمِ أُبَيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ نُسِّيتَ آيَةَ كَذَا وَكَذَا؟ أَوْ نَسِيتَهَا؟ قَالَ:" لا، بَلْ نُسِّيتُهَا"
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی تو (دوران قراءت) ایک آیت چھوڑ دی اور لوگوں میں سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ (نماز کے بعد) اُنہوں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ فلاں فلاں آیت بھول گئے ہیں یا وہ منسوخ ہوگئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں وہ بھول گیا تھا۔“ یہ جناب بندار کی روایت ہے اور جناب ابوموسیٰ کی روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (نماز کے دوران قراءت کرتے ہوئے) قرآن مجید کی ایک آیت بھول گئے، جبکہ نمازیوں میں سیدنا ابی رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ اُنہوں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول، آپ فلاں فلاں آیت بھول گئے ہیں یا آپ کو بھلا دی گئی ہے (منسوخ کر دی گئی ہے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں (منسوخ نہیں ہوئی) بلکہ میں اُسے بھول گیا تھا۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1647]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1647، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 1229، 1230، 1231، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1492، وعبد الله بن أحمد بن حنبل فى زوائده على "مسند أحمد"، 21529، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 6412»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1648
نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ تَمَّامٍ الْمِصْرِيُّ ، نا يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ ، قَالا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ كَثِيرٍ الْكَاهِلِيِّ ، عَنْ مِسْوَرِ بْنِ يَزِيدَ الأُسَيْدِيِّ ، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الأَسَدِيُّ، قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرُبَّمَا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " يَقْرَأُ فِي الصَّلاةِ، فَتَرَكَ شَيْئًا لَمْ يَقْرَأْهُ"، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَرَكْتَ آيَةَ كَذَا وَكَذَا؟ قَالَ:" فَهَلا أَدْرَكْتُمُونِيهَا؟" . زَادَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، فَقَالَ: كُنْتُ أُرَاهَا نُسِخَتْ
سیدنا مسور بن یزید الاسیدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں قراءت کرتے ہوئے سنا تو آپ نے کچھ آیات کی تلاوت چھوڑ دی۔ تو ایک شخص نے آپ سے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول، آپ نے یہ آیات چھوڑ دی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تم نے مجھے یاد کیوں نہ کرا دیا؟“ جناب محمد بن یحیٰی کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ اس صحابی نے جواب دیا کہ میرے خیال میں وہ آیات منسوخ ہو گئی تھیں۔ (اس لئے میں نے آپ کو یاد نہ دلایا۔) [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1648]
تخریج الحدیث: «حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1648، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2240، 2241، وأبو داود فى (سننه) برقم: 907، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5863، وعبد الله بن أحمد بن حنبل فى زوائده على "مسند أحمد"، 16963، والطبراني فى(الكبير) برقم: 34»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1094. (143) بَابُ وَضْعِ الْإِمَامِ نَعْلَيْهِ عَنْ يَسَارِهِ.
امام کا اپنے جوتے انپی بائیں جانب رکھنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1649
نا بُنْدَارٌ ، نا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ:" حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ، فَصَلَّى الصُّبْحَ، فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ، فَوَضَعَهُمَا عَنْ يَسَارِهِ"
حضرت عبداللہ بن سائب کہتے ہیں کہ میں فتح مکّہ والے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز ادا کی تو اپنے جوتے اتار دئیے اور انہیں اپنی بائیں جانب رکھ لیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قيام المأمومين خلف الإمام وما فيه من السنن/حدیث: 1649]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 455، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 546، 1014، 1015، 1649، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1815، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 356، 357، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 959، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 775، وأبو داود فى (سننه) برقم: 648، 649، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 820، 1431، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2500، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15629»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں